مسلم خاتون ہاتھ نہ ملانے کی پاداش میں فرانسیسی شہریت سے محروم

muslim-women
photo by facebook al-arabia urdu
فرانس کی اعلیٰ ترین انتظامی عدالت نے مرد افسر سے مصافحے سے انکار کرنے والی مسلم خاتون کو شہریت دینے سے انکار کردیا۔دراصل ، الجزائر سے تعلق رکھنے والی ایک مسلمان خاتون نے فرانسیسی شہریت ملنے کی تقریب کے دوران عہدیدار سے ہاتھ ملانے سے انکار کر دیا تھا۔فرانس کی حکومت نے خاتون کو شہریت نہ دینے کا فیصلہ کیا تھا جسے فرانس کی اعلیٰ انتظامی عدالت نے برقرار رکھا۔جون 2016ء میں فرانس کے جنوب مشرقی علاقے ایسرے میں ایک تقریب کے دوان کے مسلم خاتون کو ملک کی شہریت دی جا رہی تھی۔
مقامی ودیگرمیڈیارپورٹسکے مطابق، اس موقع پر تقریب کے صدر اور ایک مقامی سیاسی رہنما نے خاتون سے ہاتھ ملانا چاہا تو اْس نے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ میرے مذہبی عقائد اس بات کی اجازت نہیں دیتے۔حکومت نے واقعہ پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ خاتون کا رویہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ ’فرانسیسی معاشرے میں ضم ہونا نہیں چاہتی‘، ایسا عمل سول کوڈ کے تحت کسی بھی فرانسیسی شہری کے شریک حیات کو ملک کی شہریت دینے سے روکتا ہے۔مسلم خاتون نے فرانسیسی شہری سے 2010ء میں شادی کے بعد اپریل 2017 میں شہریت کے لئے درخواست دی۔ خاتون نے فیصلے کو’اختیارات کا غلط استعمال‘ قرار دیا ہے۔ تاہم ایسے معاملات کی حتمی سماعت کرنے والی عدالت کونسل آف اسٹیٹ کا موقف ہے کہ حکومت نے ’’قانون کا غلط استعمال‘‘ نہیں کیا۔خیال رہے کہ فرانسیسی حکومت کو قانون کے مطابق یہ اختیار حاصل ہے کہ اگر وہ سمجھتی ہے کہ کوئی شخص فرانسیسی معاشرے سے ہم آہنگ نہیں ہے تو وہ اسے شہریت دینے سے انکار کرسکتی ہے۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *