سعودی شہزادہ محمد بن سلمان ’’میں گاندھی یا منڈیلا نہیں ‘‘

mohammad-bin-salman

سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے ایک عجیب و غریب بیان دیا ہے ۔ان کاکہنا ہے کہااگر زندہ رہا اور حالات صحیح رہے تو پھر توقع یہی ہے کہ اگلے 50 سال تک سعودی عرب کی باگ ڈور میرے ہاتھ میں ہی رہے گی، اور پھر صرف موت ہی مجھ سے تخت چھین سکتی ہے۔سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان گزشتہ دنوں امریکہ کے دورہ پر تھے اورایک امریکی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے مختلف موضوعات پر گفتگو کی۔

 

 

 

ایران کے تعلق سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایران کے حوالے سے شہزادہ محمد بن سلمان نے کہا کہ ایران کا سعودی عرب کے ساتھ کوئی مقابلہ نہیں، ایران نہ تو دنیا کی بڑی فوجی قوتوں میں شامل ہے اور نہ ہی اقتصادی میدان میں سعودی عرب کا ہم پلہ ہے۔جہاں تک سعودی عرب میں انتہا پسندی کی بات ہے تو ایک سوال کے جواب میں شہزادہ محمد بن سلمان نے کہا یہ سچ ہے کہ 1979 میں مسجد الحرام میں ہونے والی خونریزی اور انقلاب ایران کے بعد پیش آنے والے حالات سے میری نسل کے لوگ بہت متاثر ہوئے اور انتہا پسندی میں اضافہ ہوا۔لیکن سعودی عرب کی یہ حقیقی تصویر نہیںہے پہلیہمارا ملک ایسا نہیں تھا۔آپ 1960 اور 1970 کے سعودیہ کی تصاویر دیکھ لیں جب ہم باقی دنیا کے ملکوں جیسی نارمل زندگی گزارتے تھے، عورتیں گاڑیاں چلاتی تھیں اور ملازمت کرتی تھیں، سینما گھر ہوتے تھے لیکن 1979 میں پیش آنے والے واقعات سے سب کچھ بدل گیا، لیکن اب ہم عورتوں کو حقوق دے رہے ہیں، ان کے لیے کاروبار کرنا، فوج میں شمولیت، کنسرٹ اور موسیقی و کھیلوں کے مقابلوں میں جانا آسان بنادیا ہے۔

 

 

 

 

سعودی عرب میں مرد و عورت میں تفریق برتی جاتی ہے ۔اس پر انہوں نے کہا کہ بالکل عورت مرد برابر ہوتے ہیں، دونوں میں کوئی فرق نہیں ہوتا، ہمارے ہاں کچھ ایسے انتہا پسند ہیں جو عورتوں مردوں کے اختلاط سے منع کرتے ہیں، لیکن یہ لوگ اسلام کی حقیقی تعلیمات سے واقف نہیں۔قابل ذکر ہے کہ شہزادہ محمد نے سعودی مذہبی پولیس کے وسیع اختیارات بھی ختم کردیے ہیں جو پردہ نہ کرنے پر خواتین کو گرفتار کرنے کا اختیار رکھتی تھی۔ اس حوالے سے سعودی ولی عہد نے کہا کہ اسلام میں عورتوں کے شائستہ لباس پہننے کا ذکر ہے لیکن مخصوص سیاہ برقعہ یا حجاب پہننے پر زور نہیں، اس حوالے سے عورتوں کو پوری آزادی ہے کہ وہ کس طرح کا معزز اور شائستہ لباس پہننا پسند کرتی ہیں۔
سعودی عرب میں انسانی حقوق کی پامالی پر بات کرتے ہوئے ولی عہد نے کہا کہ سعودی حکومت انسانی حقوق کے کئی اصولوں پر یقین رکھتی ہے، لیکن یقینا سعودی معیارات امریکی معیارات جیسے تو نہیں ہوسکتے، ہمارے اندر خامیاں ہیں جن پر قابو پانے کی کوشش کررہے ہیں۔جب ان سے ملک میں بدعنوانی کے بارے میں سوال پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ یہ کام بہت ضروری تھا جو سعودی قوانین کے مطابق کیا گیا۔ گرفتار شدگان سے متعلق معلومات جلد سامنے لائیں گے اور دنیا کو بتائیں گے کہ ہم انتہا پسندی سے لڑنے کے لیے کتنا کام کررہے ہیں۔سعودی ولی عہد نے اس حوالے سے اقتدار پر گرفت مضبوط کرنے کا الزام مسترد کرتے ہوئے کہا کہ کرپشن کے خلاف کریک ڈاؤن کے ذریعے ہم نے 100 ارب ڈالر کی رقم واپس وصول کی ہے تاہم ہمارا مقصد لوٹی گئی دولت کی وصولی نہیں بلکہ بدعنوان عناصر کو سزا دینا اور یہ پیغام دینا تھا کہ اب نئی حکومت آگئی ہے۔

 

 

ابھی حال ہی میں ایک امریکی اخبار نے سعودی ولی عہد کی جانب سے حال ہی میں 500 ملین ڈالر کی فرانسیسی کشتی خریدنے کی خبر دی تھی۔ اس بارے میں ولی عہد سے پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ میں اپنی ذاتی زندگی کو اپنے تک محدود رکھتا ہوں اور ڈھنڈورا نہیں پیٹتا۔ اگر بعض اخبارات کو اس بارے میں خبر دینے کا شوق ہے تو ان کی مرضی۔ جہاں تک میرے اخراجات کی بات ہے تو میں کوئی غریب نہیں بلکہ امیر شخص ہوں، میں کوئی مہاتما گاندھی یا نیلسن منڈیلا نہیں۔ میرا شاہی خاندان سے تعلق ہے جو سعودی عرب کے قیام سے بھی پہلے سینکڑوں سال سے قائم دائم ہے۔ ہماری بڑی جاگیریں ہیں، میری ذاتی زندگی جیسی پہلے تھی، اب بھی ویسی ہی ہے، میں اپنی آمدنی کا 51 فیصد خیرات اور 49 فیصد اپنے اوپر خرچ کرتا ہوں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *