مودی کے پہلے انتخابی حلقے کا گاؤں ہر ی پور

سب سے پہلے گجرات کے’وکاس ماڈل‘ کی ایک ایسی سچائی پر بات کرتے ہیں، جسے جان کر آپ یقیناً حیران رہ جائیں گے۔ غورطلب ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی پہلی بار گجرات کے راجکوٹ سے اسمبلی کا انتخاب جیت کر گجرات کے وزیر اعلیٰ بنے تھے۔ اسی راجکوٹ ضلع کے ہری پور گاؤں کے سیکڑوں گاؤں والوں نے پانی کی قلت سے ناراض ہوکر اجتماعی خود کشی کرنے کا اعلا ن کیا ہے۔گاؤں والوں نے اس بارے میں راجکوٹ کے کلکٹر کونوٹس بھیجا ہے۔ جی ہاں، یہ اسی گجرات کے فخر کی کہانی ہے، جس کے ’وکاس ماڈل‘ کو وزیر اعظم ملک بھر میںگاتے گھومتے ہیں۔
راجکوٹ کے ہری پور گاؤں کے باشندے گزشتہ 20 سال سے بوند بوند پانی کے محتاج بنے ہوئے ہیں۔ گاؤںکی عورتوںکو پانی لینے کے لیے گھنٹوں لائن میں لگنا پڑتا ہے۔گاؤں کے سرپنچ رجاک ٹھیبا کا کہنا ہے کہ گاؤں میںانسانوں کے ساتھ ہی جانوروںکے پینے کے پانی کی بھی شدید قلت ہے۔ گاؤں کے لوگ 3000 روپے میں پانی کا ایک ٹینکر خرید کر اپنی اور جانوروں کی زندگی کی حفاظت کر رہے ہیں۔ ہری پور کے باشندوں کا کہنا ہے کہ گاؤں میں برسوں پہلے پانی کی ایک ٹنکی بنی تھی،واٹرلائن بھی پڑی تھی لیکن اس میںمہینے میںایک دو بار ہی پانی آتا ہے۔
وجہ یہ بتائی جارہی ہے کہ ہری پور گاؤں واٹر لائن کے ’ٹریل -اینڈ‘ میں ہے، اسی لیے عام دنوں میں وہاںپانی پہنچ ہی نہیں پاتا ہے ۔ گجرات اسمبلی انتخابات سے قبل یہ کہا گیا تھا کہ ہری پور گاؤں کو نرمدا سے پانی دیا جائے گا۔ وزیر اعظم کے نرمدا میں’سی -پلین‘ سے اڑان بھرنے کے بعد ہری پور کے لوگوںکو کچھ امید جاگی تھی لیکن اب وہ پوری طرح سے مایوس ہوچکے ہیں۔ گزشتہ 3 مہینوں میںنرمدا سے ایک بوند بھی پانی کی سپلائی نہیںہونے کی وجہ سے اب گاؤں والوںکی امیدیں ٹوٹ چکی ہیں۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 

آبی بحران ملک گیر
ہری پور اکیلا ایسا گاؤں نہیں ہے جہاں لوگ پانی کے مسئلے سے نبردآزما ہیں۔ ملک کے ہزاروں گاؤںسالوںسے پانی کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔ یونیسکو کی تازہ رپورٹ کے مطابق، 2050 تک ہندوستان میںپانی کا مثالی بحران پیدا ہونے والا ہے۔ 2050 تک ملک میںپانی کی مانگ 32 فیصد بڑھ جائے گی،جسے پورا کرنے کا کوئی پلان ملک کے پاس نہیں ہے۔
سرکاری اعداد وشمار بھی بتاتے ہیںکہ ملک میں13 ریاستوں کے 300 ضلعوں میںتقریباً 33کروڑ لوگ پانی کے مسئلے سے نبردآزما ہیں۔ ان میںمہاراشٹر، آندھرا پردیش، اوڈیشہ، مدھیہ پردیش، راجستھان، گجرات اور جھارکھنڈ جیسی اہم ریاستیں ہیں۔
دنیا کی کل آبادی کے 18 فیصد لوگ ہندوستان میںرہتے ہیںلیکن ہمارے پاس دنیا کے صرف 4 فیصد آبی ذرائع ہی دستیاب ہیں۔ یہی نہیں، ہمار ے ملک میں استعمال کیا گیا 90 فیصد پانی ندیوں، تالابوں اور جھیلوں میں بنا ٹریٹمنٹ کے یا ’پیور‘ کیے بغیر چلا جاتا ہے۔ یہ پانی بری طرح آلودہ ہوتا ہے، جس سے طرح طرح کی بیماریاں پیدا ہوتی ہیں۔ ایک سروے کے مطابق ملک میں ہر سال تقریباً 1.40 لاکھ بچے یہی آلودہ پانی پینے کی وجہ سے موت کے شکار ہورہے ہیں۔
’سینٹر فار سائنس اینڈ انوائرنمنٹ‘ کے مطابق پانی کی قلت کا سب سے بڑا شکار آئی ٹی سٹی بنگلورو ہے، جہاں گزشتہ 4 دہائی میں 79 فیصد واٹر باڈیز یعنی آبی ذرائع منصوبے کے بغیر اربنائزیشن کرنے کی وجہ سے خشک ہوچکے ہیں۔ بنگلورو میںکنکریٹ کا جنگل کھڑا ہوگیاہے۔ گزشتہ 20 سال میںوہاں کا بلٹ اَپ ایریا 8 فیصد سے بڑھ کر 77 فیصد ہوگیا ہے۔ بنگلورو کے پانی کی سطح 12 میٹر سے گھٹ کر 91 میٹر چلی گئی ہے۔ کاویری ندی سے صرف ضرورت کا 40 فیصد پانی ہی بنگلورو کو مل پارہا ہے۔ کل ملا کر صورت حال ایسی ہے کہ بنگلورو اگلے 10-15 سالوں میںہی جنوبی افریقہ کے ’کیپ ٹاؤن‘ شہر جیسا بن جائے گا، جہاں لوگ پانی کے شدید بحران سے تباہ ہو رہے ہیں۔
سچائی یہ ہے کہ پانی اس صدی کا سب سے بڑا بحران ہونے والا ہے۔ گزشتہ کچھ دہائیوں میںسرکاروں اور سماج دونوں کے نظرانداز کرنے کی وجہ سے ملک میںآبی ذرائع رفتہ رفتہ ختم ہورہے ہیں۔ جنوب کے مندروں سے سٹے ہوئے وسیع تالاب، مغربی ریاستوں کی باولیاں اور شمالی ہند کے گاؤں میںپھیلے تالاب اور جھیلیں یا تو خشک ہوگئی ہیں یاان پر ناجائز قبضے ہوگئے ہیں۔
سپریم کورٹ نے پانی کے اس بحران کو دیکھتے ہوئے گاؤں، شہروں میںتالابوں سے ناجائز قبضے ہٹانے کے احکامات بھی دیے تھے لیکن نہ تو کانگریس سرکار اور نہ ہی اس کے بعد مودی سرکار نے عدالت کے اس حکم پر کوئی عمل کیا۔ حالت یہ ہے کہ ملک میں1947میںپانی کی جو فی شخص دستیابی 6042کیوبک میٹر تھی، وہ 2011 میںگھٹ کر 1545 کیوبک میٹر رہ گئی ہے۔ اندازہ ہے کہ پانی کی یہ دستیابی 2025 میںاور گھٹ کر صرف 1341 کیوبک میٹر فی شخص رہ جائے گی۔ خدشہ یہ ہے کہ آگے آنے والے سالوں میں لوگ پانی کی کمی کی وجہ سے پیاس سے تڑپ تڑپ کر مرنے کو مجبور ہوں گے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *