مودی حکومت کے چار برس مایوس کن رہے

modi

چار سال اس سرکار کو ہو گئے۔ بہت احتیاط سے بھی کوئی کہے تو چار سال کا یہ عرصہ مایوس کن رہا۔ جو وعدے کئے تھے مودی جی نے ، اس میں بہت زیادہ مبالغہ آرائی تھی۔ انہوں نے کروڑوں نوکریوں کی بات کی تھی، کیا وہ ممکن تھا؟لیکن ملک میں بے روزگارنوجوان نسل نے مودی جی کو ایک چانس دے دیا۔ شروع میں مودی جی نے کچھ کرنے کی کوشش بھی کی۔یہ دکھانے کی بھی کوشش کی کہ دیکھئے، میں کوشش کررہا ہوں۔ ظاہر ہے اتنے بڑے ملک میں وہ کوئی کرشمہ نہیں کرسکے۔ مودی جی میں اتائولا پن بہت ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ بہت جلد نتائج آجائیں، جو اتنے بڑے ملک میں آتے نہیں ہیں۔ اس کے لئے وہ نوکرشاہی کو ذمہ دار سمجھتے ہیں جو کہ ایک سسٹم چلا رہا ہے۔ انہوں نے کیا یہ کہ اپنے پسند یدہ بیوروکریٹ جوکہ زیادہ تر گجرات کیڈر کے یا گجراتی زبان سمجھنے والے، بولنے والے تھے ،ان کو پروموٹ کر دیااور ایسی ایسی جگہوں پر لگا دیاجہاں وہ نتیجہ چاہتے تھے۔فطری بات ہے کہ وہ تو ہوتا نہیں ہے اتنے بڑے ملک میں ۔آپ ریاستوں کے حساب سے نہیں کرسکتے۔یہ سمجھتے ہیں کہ سب جگہ گجرات کیڈر کے لوگوں کو لگا دیں گے تو وہ نتیجے لا دیں گے تو دیکھ لیا اور منہ کی کھانی پڑی ۔ ڈھائی سال بعد سمجھ گئے کہ یہ چلا نہیں۔ اس کے بعد انہوں نے 8نومبر 2016 کو اچانک نوٹ بندی کا اعلان کردیا بغیر کسی بیوروکریٹ کی رائے لئے ۔ ریزرو بینک جو کرنسی کنٹرول کرتا ہے ،یہ ان کا کام ہے۔ انہوں نے تویہ تجویز دی نہیں ،بلکہ رگھو رام راجن جو پہلے گورنر تھے ، انہوں نے منع کیا تھا کہ اسے غلطی سے بھی کرنا نہیں چاہئے لیکن انہوں نے نوٹ بندی کا اعلان کردیا۔اس کا نتیجہ ہم پچھلے پندرہ ،سولہ مہینے سے بھگت رہے ہیں۔کوئی بھی بزنس جو اتھل پتھل ہو گیا وہ واپس پٹری پر نہیں آیا۔ ایک یہ ہوتا کہ غلطی ہو گئی،مگر اس کو سننا مودی جی کا مزاج نہیں ہے۔ اس لئے انہوں نے جلد ی سے جی ایس ٹی کو لاگو کر دیا جو 20سال سے زیر غور ہے۔ کسی بھی ملک میں جہاں جی ایس ٹی لگتا ہے ،پانچ سال لگتا ہے اس کو نارمل ہونے میں۔ انہوں نے سوچا کہ فوراً ہو جائے گا لیکن ایسا نہیں ہوا۔

 

 

 

لب لباب یہ ہے کہ 16 مہینے سے اقتصادیات چرمرا گئی ۔چدمبرم آرٹیکل لکھتے ہیں اور اس میں جی ڈی پی کا فیگر دیتے ہیں ،اس میں کوئی اختلاف کی بات نہیں ہے۔ اقتصادیات کافی نیچے آگئی ہے۔اگر ہم وہ فیگر بدل دیں تو دکھانے کے لئے گروتھ 7.5 فیصد ہے ،مگر یہ وہ 7.5فیصد نہیں ہے جو اٹل بہاری باجپئی کے زمانے میں تھا۔ وہ 7.5 فیصد کا مطلب آج کا 10فیصد ہو جائے گا۔لیکن ٹھیک ہے اعدادو شمار تو اعدادوشمار ہوتے ہیں۔ اعدادوشمار سے کیا ہوتا ہے؟ کچھ آپ اور ہم جیسے لوگ انگریزی ،ہندی جملہ بول کر سمجھا دیں گے مگر اس سے بات بنتی نہیں ہے۔ غریب کے پیٹ میں اناج تو جائے گا نہیں، نوکری تو ملے گی نہیں، کسان کے کھیت میں پانی تو آئے گا نہیں ،مسائل وہیں کے وہیں ہیں۔
پتہ نہیں مودی جی کے کون صلاح کار ہیں ،یہ تو پالیسی انائونس کرتے ہی نہیں ۔جو فوری فائدے کا ہوتاہے اس کا اعلان کردیتے ہیں۔اچانک بلیک منی بہت اہم ہو گیا ان کے لئے، غیر ملکی پیسہ اہم تھا اس کا کہیں ذکر ہی نہیں ہے کیونکہ سوئٹزر لینڈ سے غیر ملکی پیسہ غائب ہو گیا ہے۔یہ انڈیا نہیں آیا ہے ،کہاں گیا ،پتہ نہیں۔ تو ان کی ترجیحات کہاں ہیں، پتہ نہیں چلتا۔ پہلے فارن منی کی فکر تھی۔ بابا رام دیو بھی لگے ہوئے تھے اس پر پہلے بلیک منی کی فکر تھی اب بینکوں کے لون کے پیچھے پڑ گئے ہیں۔ ہندوستان میں سب سے بڑا فائدہ ہے صنعت کاری میں۔ہمارے یہاں ایک موچی بھی انٹرپرائزر ہے۔ وہ اپنی موچی گری کا طریقہ سدھار لے گا ،ٹیکنالوجی لے آئے گا۔یہاں بہت ہنر والے لوگ ہیں۔ لیکن یہ سرکار کچھ عجیب ہے۔یہ جتنے انٹرپرائز ہیں ،انہوں نے 50 سال محنت کرکے ایک صنعت کھڑی کی ہے ، مگر آج گردش ایسی ہے کہ وہ صنعت ٹھیک نہیں چل رہی ہے۔ ایسی بات کہہ دیتے ہیں جیسے وہ چور ہے ،بے ایمان ہے، ملک کا پیسہ لوٹ لیا ہے۔

 

 

ہندوستان کا بزنس مین یا صنعتکار بے ایمان نہیں ہے۔ یہ ماحول آپ نے پیدا کیا ہے چار سال میں۔یہ میری انتخابی تقریر نہیں ہے ۔اسلئے میں یہ الزام نہیں لگانے جارہا ہوں کہ آپ ان سے پیسہ اینٹھنا چاہتے ہیں ڈرا کر۔ لیکن آپ جو کر رہے ہیں،یہ غلط ہے۔ اس سے ملک کا کوئی فائدہنہیں ہونے والا ہے۔ ملک کا فائدہ صنعتی کاروبار بڑھانے میں ہے،لوگوںکو نوکری دینے میں ہے، انڈسٹری بند کر کے نیلام کرنے میں کسی کا فائدہ نہیں ہے۔ ایئر انڈیا کو نیلام کرنا چاہتے ہیں ۔کوئی ملک اپنا نیشنل کیریئر نہیں بیچتا اور غیر ملکیوںکو تو قطعی نہیں ،لیکن آپ جلد باز ہیں۔ اخبار میں چھپا ہے کہ 76 فیصد شیئر ایئر انڈیا کو بیچیں گے۔76فیصد کیوں بیچیں گے ،100فیصد کیوں نہیں؟76 فیصد میں تو آپ کے ہاتھ میں کچھ رہے گا نہیں۔ سب سے اچھا طیارہ ان کے پاس ہے۔ سب سے اچھا تجربہ کار پائلٹ ان کے پاس ہے ،سب کچھ ہے ،اس کے باوجود چل نہیں پاتا ہے ،اس کے کئی وجوہات ہوسکتی ہیں۔
ایک ہی سال رہ گئے ہیں الیکشن کے ہونے میں اور ہر سیاسی پارٹی الیکشن جیتنا چاہتی ہے،الیکشن جیتنے کے لئے کئی کام ایسے کرنے پڑتے ہیں جو ملک کے حق میں ہوتے ہیں، ان میں کچھ کام ایسے ہوتے ہیں جوملک کے دوررس مفاد کے خلاف ہوتے ہیں،مگر فوری فائدے کے لئے ہوتے ہیں مگر یہ تو دونوں کام نہیں کررہے ہیں۔

 

 

 

اگر فیزیکل ڈیفسٹ میں تھوڑی ڈھیل دے کر روپے ڈال دیتے تو اکانومی میں فٹا فٹ ان کو نوکری مل جاتی۔ چدمبرم صاحب بہت آبجکٹیو کرتیتو کچھ تو فائدہ ہوتا لیکن وہ بھی آپ نہیں کرپائے۔ آج کوئی نئی انڈسٹری لگانے نہیں جارہاہے۔ نیلام کی بات سن رہاہوں ۔این سی اے ٹی ایک باڈی ہے جو نیلام کررہی ہے۔ کچھ دستخط ہورہے ہیں بینانی کا،ٹاٹا کا ،بڑلا خرید رہا ہے بھوشن کا ٹاٹا ،اس سے کیا حاصل ہوگا؟
نئی انڈسٹری لگائیے ،پرانی کیوں خرید رہے ہیں۔ آپ کو نیا لگانیسے کس نے منع کیا ہے؟ نئے لوگوں کو نوکری دیجئے لیکن یہ کام بالکل نہیں ہو رہاہے ۔ آج پنجاب نیشنل بینک نے لون دے دیا ،صحیح یا غلط وہ اس کا مینیجنگ ڈائریکٹر طے کرے گا ،اس کو سزا دیجئے لیکن اس کی غلطی نہیں ہے کیونکہ آپ کے ٹیلی فون کال پر اس نے دیا لون۔ آپ کا مطلب سرکار کا چاہے وہ یو پی اے کی سرکار ہو ،چاہے وہ این ڈی اے کی سرکار ہو لیکن اگر آپ چاہتے ہیں کہ بینک بینکوں کی طرح چلے تو ریزرو بینک کو چلانے دیجئے ان بینکوں کو سپروائزکرکے۔ڈپارٹمنٹ آف بینکنگ آپ نے بنالی ،اس کو اویل یوز کیجئے۔ ایک جوائنٹ سکریٹری دہلی میں بیٹھ کر بولتا ہے کہ ان کو لون دینا ہی ہے تو اپنی نوکری رکھنی ہے بیچارے کو اور لون دے دیتا ہے۔ گلے میں گھنٹی اس کے آجاتی ہے۔ اگر بنیادی سدھار کرنی ہے تو پہلے ڈپارٹمنٹ آف بینکنگ کو اویل یوز کیجئے ، ختم کیجئے، بند کیجئے۔ ریزرو بینک کو امپاور کیجئے کہ وہ آپ بینکوںکو ٹھیک کرے۔اگر آپ کو لگے کہ وہ چور ہے، بے ایمان ہے تو اس پر آپ کیس چلائیے۔میری اس سے کوئی ہمدردی نہیں ہے لیکن 99فیصد ایماندار ہیں اس ملک میں۔ ایک فیصد کاروباری گڑبڑ ہوگا ان کے لئے میری کوئی ہمدردی نہیں ہے لیکن آپ تو 99فیصد کو چور سمجھ رہے ہیں ۔جو آدمی کام کر رہاہے اس میں بڑے بڑے ہائوسیز کا کہنا ہے کہ اس ملک میں سرمایہ کاری کرنے میں کوئی فائدہ نہیں ہے ،باہری ملک میں سرمایہ کاری کرنی چاہئے ۔ این آر آئی بن جائیے۔ ہم ان لوگوں میں سے ہیں جو اس ملک سے اتنا پیار کرتے ہیں کہ ہم کبھی این آر آئی بننے کی سوچ ہی نہیں سکتے ہیں۔

 

 

 

یہ سرکار زراعت کے خلاف ہے، کسانوں کے خلاف ہے، صنعت کاری کے خلاف ہے اور کاروباریوں کے خلاف ہے۔ جی ایس ٹی کرکے ان کی کمر کو توڑ دیا ۔آخرکس کے فیور میں آپ ہیں۔ ورکر کے فیور کا تو سوال ہی نہیں ہے۔کیونکہ انڈسٹری لگے گی نہیں تو نوکری کہاں سے ملے گی؟ ہاں آپ کی دو تین پالیسیاں کلیئر ہیں۔ایک یہ کہ گائے کا نام لے کر ہریک آدمی کو دبا دو اور دوسرا ہندو -مسلمان کرو۔اس ملک کے سب سے بڑے دشمن کون ہیں ؟ 15 کروڑ مسلمان جنہوں نے بھروسہ کیا اس ملک پر، جو پاکستان جا سکتے تھے لیکن نہیں گئے ۔وہ آپ کے دشمن ہیں۔آپ کی سوچ اتنی تنگ ہے ،اتنی چھوٹی ہے ۔ اس سے کیا عظیم بنے گا ہمارا ملک جو بنا بنایا کام ہے 70سال کا ،وہ بھی ملیا میٹ ہو جائے گا۔چار سال میں آپ نے کافی محنت کی ہے70 سال کے کام کو ختم کرنے کے لئے۔ اس میں آپ کامیاب نہیں ہوئے ہیں لیکن آپ کوشش میں ہیں۔ میں کوئی کمی نہیں بتا سکتا ہوں۔ مگر آپ کو ٹھیک کرنا ہے اور کرنا چاہئے۔ مودی جی آپ اتنے گڈول کے ساتھ پاور میں آئے تھے ،اتنی جلدی اس کو گنوانے کی ضرورت نہیں ہے ۔ابھی بھی ٹھیک کیجئے۔ کوئی شرم کی بات نہیں ہوتی ہے سیاست میں۔ اپوزیشن کو بلائیے ،آل پارٹی میٹنگ کیجئے کہ کیا کرنا چاہئے ملک سنگین صورت حال میں ہے اور سب کی رائے لے کر کچھ کیجئے۔ ایک سال ابھی ہے آپ کے پاس۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *