اقلیتیں کی جارہی ہیں سیاست سے الگ تھلگ

modi-sonia

یہ سوال یقینا بہت ہی اہم اور غیر معمولی ہے کہ جمہوریت اور میجو ریٹیریانزم میں اقلیتوںکا مستقبل کیا ہے؟ حالانکہ آزادی کے بعد کانگریس تنہا میجوریٹی میں رہی اور لمبے عرصے تک حکومت کی مگر یہ سوال پہلی مرتبہ تقریباً پونے چار برس قبل ملک کے عام انتخابات میں لوک سبھا میں ایک مخصوص فکر و نظریہ کی حامل بی جے پی کے تنہا میجوریٹی میں آجانے کے بعد ہندوستان کے معمر ماہر آئینی قانون اور ایک زمانے میں ایڈیشنل سالیسیٹر جنرل اور پارلیمنٹ کے ایوان بالا کے رکن رہے فالی ایس نریمن (پیدائش 10 جنوری 1929) نے قومی اقلیتی کمیشن کے زیر اہتمام کانسٹی ٹیوشن کلب میںدیے گئے اپنے خصوصی لکچر میںاٹھایا۔ اس وقت سامعین ان کے ذریعے میجوریٹیریانزم کے خطرات کے ممکنہ اندیشوں کو سن کر چونکے تو ضرور لیکن ان کا اٹھایا ہوا یہ ایشو پونے چار برس کے میجوریٹیرین حکومت کے تجربے اور دیگر سیاسی پارٹیوں اور پور ے ملک پر پڑ رہے اثرات کے تناظر میں اب موضوع بحث بنا ہے۔ ان دنوں انگریزی روزنامہ ’انڈین ایکسپریس‘ میںیہ بڑی بحث چھڑی ہوئی ہے کہ جمہور یت اور میجوریٹیریانزم میںاقلیتوںکا کیا مقام ہے اور انھیں کیا اہمیت و حیثیت حاصل ہے؟ نیز ان سوالات کے تناظر میںان کا ہندوستان میںمستقبل کیا ہوگا؟

 

 

 

 

 

 

 

دراصل اس بحث کا آغاز کانگریس قیادت والی یو پی اے کی چیئرپرسن سونیا گاندھی کے اس خوف سے ہواکہ کانگریس ایک مسلم پارٹی بنتی جارہی ہے۔ اس پر معروف سماجی کارکن ہرش مندر جو کہ 2002کے گجرات سانحہ کے بعد آئی اے ایس کے طور پر ایڈمنسٹریٹو عہدہ سے مستعفی ہوکر قومی راجدھانی میںفلاحی و حقوق انسانی کاموںمیںمصروف عمل ہیں اور اخبارات و رسائل میںاپنے بے لاگ تبصروں کے ساتھ کالم اور مثبت و تعمیری کتابیںلکھنے کے لیے جانے جاتے ہیں، نے ’سونیا ، سیڈلی ‘(Sonia, Sadly)عنوان سے ایک مضمون اسی انگریزی روزنامہ میںلکھ دیا جسے ’چوتھی دنیا‘ کے اسی شمارے میں اردو میںپڑھا جا سکتا ہے۔
انھوںنے اپنے اس مضمون میںفی الوقت سماجی- سیاسی میدانوں میں مسلمانوںکی گم ہوتی ہوئی اور حاشیہ پر آتی ہوئی حیثیت پر کھل کر اظہار خیال کیا ہے اور یہ بھی کہا ہے کہ کانگریس اور سونیا گاندھی کی اس فکر عمل کا اثر سیکولر کہی جانے والی دیگر سیاسی پارٹیوںپر بھی پڑ رہا ہے اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس ملک کے 180 ملین مسلمان ہندوستان میں سیاسی و سماجی طور پر بے وقعت اور غیر متعلق بن کر رہ جائیں گے جو کہ اس عظیم ملک کے حق اور مفاد میںکسی بھی طرح نہیںہے۔ لہٰذا بڑھتے ہوئے اس احساس کو فوراً روکنے کی ضرورت ہے۔
ہرش مندر کا یہ مضمون اتنامؤثر اور دل و دماغ کو جھنجھوڑنے والا تھا کہ معروف مؤرخ رام چندر گوہا بھی فارم میںآگئے اور انھوںنے اسی روزنامے میں اس بحث میںحصہ لیتے ہوئے ’لبرلس،سیڈلی‘ (Liberals, Sadly) عنوان سے جوابی مضمون تحریر کیا۔ گوہا نے اپنے جواب میںکہا کہ اصل مسئلہ مسلم سیاسی قیادت کے سرینڈر کیے ہوئے امکانات اور سماجی اصلاح کا ہے۔

 

 

 

 

 

 

 

یہ بحث اس وقت اور معنی خیز اور معروضی ہوگئی جب اس میں معروف دانشور سہاس پلسیکر شریک ہوئے۔ انھوں نے جہاں ایک جانب ہر ش مندر کے موقف سے اتفاق کیا، وہیں دوسری جانب رام چندر گوہا کی اظہار کردہ باتوںکا نوٹس لیتے ہوئے یہ سوال اٹھایا کہ کیا شہری حقوق کو حاصل کرنے کے لیے مسلمانوں میں اصلاح کو شرط بنایا جانا چاہیے؟ یا کیا شہری حقوق کو حاصل کرنے کے لیے مسلمانوں کو اپنے آپ میں اصلاح لانا لازمی ہے؟
سہاس پلسیکر نے مسئلے کی نبض پر صحیح ہاتھ رکھا ہے۔ شہری حقوق ملک کے ہر شہری کے لیے آئین ہند کی رو سے لازمی ہیں۔ اس کے لیے کوئی شرط ہر گز قائم نہیںکی جاسکتی ہے۔ یہ بڑا ہی بنیادی اور اہم ایشو ہے ۔ مسلم کمیونٹی ہی نہیں، ملک کی کوئی مذہبی، لسانی یا کوئی اور کمیونٹی ہو، اسے ملک کے دیگر طبقوںکی مانند آئین ہند کے ذریعے دیے گئے شہری اور بنیادی حقوق ملنے طے ہیں۔ اسے کوئی نہ مشروط کرسکتا ہے اور نہ ہی کوئی ختم کرسکتا ہے۔ یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس سے ہرگز انکار نہیں کیا جاسکتاہے۔ لنگایت کے مذہبی شناخت کا معاملہ بھی اسی زمرے میںہے۔
ویسے معروف اسکالر اپوروانند بھی اس بحث میں جڑ گئے ہیں ۔انہوں نے بڑے ہی سخت اندازمیں کہاکہ موجودہ وقت میں ہی یہ ممکن ہے کہ گوہاجیسے حساس اسکالر گول ٹوپی اوربرقعہ کا تریشول سے موازنہ کریں۔ انہو ںنے لکھاکہ مسلمانوں ا ور عیسائیوں کے خلاف کسی رسمی عمل کا موازنہ کسی متشدد مہم سے کرنا اگربے ایمانداری نہیں ہے تو بے رحمی ہے۔ ان کی نظر میں یہ موازنہ بدبختانہ ہے کیونکہ وہ اس بات سے واقف ہیں کہ برقعہ پوش خواتین کومسلم مخالف جنونی لوگوں کے ذریعہ کھلی سوسائٹی میں خطرے کے طورپر پیش کیا جاتاہے اورانہیں ہندوستان ہی نہیں، دیگر ممالک میں بھی بدتمیزیوں اورتشدد کا سامنا کرنا پڑتاہے۔ وہ کہتے ہیںکہ یہ افسوس کی بات ہے کہ گوہا، ہرش مندر کی بات سننے میںناکام رہے جبکہ ہرش مندر معمولی سی جو بات کہہ رہے ہیں، وہ یہ ہے کہ مسلمان ہماری سیاسی تحریکوں کے ذریعے کہے جارہے ہیںکہ جن میںسے کچھ پروگریسو کاز کی وکالت کرتے ہیں وہ یہ کہتے ہیںکہ ’مسلم نیس‘ یعنی اسلامی شناخت کے لیے ہندوستانی سیاسیات میںکوئی جگہ نہیںہے۔ آخر میںوہ یہ کہتے ہیںکہ لبرل افراد اور آر ایس ایس دونوںہی یہ چاہتے ہیںکہ مسلمان اپنے ’مسلم نیس‘ یعنی اسلامی پہچان کوختم کردیں۔
اپوروانند کا زور اس بات پر ہے کہ شہری حقوق پانے کے لیے لبرل یا پروگریسو بننے کی ضرورت نہیں ہے۔ ایک روایتی فنڈامنٹلسٹ ہندو، عیسائی یا مسلمان کو وہی حقوق حاصل ہیںجوکہ ایک منکر خدا، لبرل یا پروگریسو کے پاس ہیں۔ لہٰذا مسلم خواتین کو ڈیموکریٹک یا جمہوری ہونے کے سرٹیفکیٹ حاصل کرنے کے لیے پہلے برقعوں کو اتار پھینکنے کی ضرورت نہیں ہے ۔

 

 

 

 

 

 

ایسا محسوس ہوتا ہے کہ بزرگ ماہر آئینی قانون فالی ایس نریمن نے اپنی دور رس نگاہوں سے پونے چار برس قبل بی جے پی کے تنہا اکثریت میںآنے سے اس حقیقت کے باوجود کہ اس نے مرکز میںتنہا اپنے بل پر نہیںبلکہ این ڈی اے کی حلیف اتحادی پارٹیوںکے ساتھ مل کر حکومت بنائی تھی، میجوریٹیریانزم کے خطرات کو محسوس کرلیا تھا اور ایک خصوصی لکچرمیںبلاخوف و جھجھک اس کا اظہار کرتے ہوئے اندیشہ کیا تھا۔ لیکن افسوس صد افسوس کہ ان کے اس حکمت بھرے اور دانشمندانہ قبل از وقت اظہار خیال اور اندیشوں کا اس دوران نوٹس نہیںلیا گیا اور پھر گزشتہ پونے چار برسوںکے دوران ملک میںجو کچھ ہوا، وہ سب کے سامنے ہے اور کسی سے مخفی نہیں ہے۔ فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور رواداری کے ساتھ تحمل اور تنوع دم توڑ رہے ہیں، جس کا شکار اقلیتیںخصوصاً مسلمان ہو رہے ہیں اور کوئی کچھ بول نہیںرہا ہے۔ ہر طرف خموشی ہے۔ بھیانک خموشی جس کا انجام کسی ایک کمیونٹی کا اس کے تشخص یا شناخت کی بنیاد پر خاتمہ ہی نہیںبلکہ پورے ملک اور اس کے آئین کی روح کا خاتمہ ہے۔ فکر کیجئے ، اس ملک کے اصل اقدار کو بچانے کی ورنہ وہ سب کچھ ختم ہوجائے گاجس پر ہمیںناز اور فخر رہا ہے۔
دراصل یہ وہ ایشو ہے جو پہلے بھی چند شخصیات کے ذریعے اٹھایا جاتا رہا ہے۔ ان میںمعروف آڈیا لاگ اور سابق ارکان پارلیمنٹ کمل مر ارکا اور سنتوش بھارتیہ کے اسماء مثال کے طور پر لیے جاسکتے ہیں۔ ان شخصیات نے اپنی تحریروں کے ذریعے اکثرو بیشتراس ایشو کو اٹھایا ہے اور ملک اور اس میںموجود سیاسی پارٹیوں کی توجہ اس جانب مبذول کرائی ہے۔ ظاہر سی بات ہے کہ یہ ایشو کسی بھی ملک کی جمہوری و سیکولر قدروںکا عکاس ہوتا ہے۔ لہٰذا اسے ہر حال میںزندہ رہنا چاہیے اور اسے زندہ رکھنے کے لیے اس کا بحث میں رہنا ضروری ہے۔ اس لحاظ سے یہ بہت اچھا ہے کہ یہ بحث اب چل پڑی ہے۔ اسے مختلف سطحوں پر اٹھایاجانا چاہیے۔ اسی میں ہمارے عظیم ملک کی بھلائی ہے اور اس کی عظمت ہے۔ g

 

 

 

 

بی جے پی کے 4 برس میںبڑھی عدم رواداری

ریاست جھارکھنڈ کی ایک فاسٹ ٹریک عدالت نے ملک میں پہلی بار لنچنگ کے معاملے میں مجرموںکو سزا سنائی ہے اور وہ سزائے عمر قید ہے۔ دراصل گزشتہ 16 مارچ 2018 کو مذکورہ عدالت نے ایک درجن ملزمین میںسے مقامی بی جے پی لیڈر نتیا نند مہتو سمیت گئو رکشا سمیتی کے دیگر دس افرادچھوٹو ورما، دیپک مشرا، چھوٹو رانا، سنتوش سنگھ، وکی ماو،سکندررام ، روہت ٹھاکر، وکرم پرساد، راجو کمار اور کپل ٹھاکرکوانڈین پینل کوڈ آئی پی سی کی دفعہ 302 کے تحت قصور وار پایا تھا، جن میںسے تین پر دفعہ 120 کے الزام بھی عدالت کی جانب سے اعلان ہوا۔ عدالت کا کہنا ہے کہ یہ ایک منظم سازش تھی۔

 

 

 

 

 

ویسے ملک میںیہ بھی پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ مبینہ طور پر گئو رکشا کے نام پر ہوئے تشدد سے جڑے کسی معاملے میںملزموںکو سزا ہوئی ہے۔ غورطلب ہے کہ 29 جون 2017 کو ریاست جھارکھنڈ کے رام گڑھ ضلع میںمحمد علیم الدین عرف اصغر انصاری کوماب نے پیٹ پیٹ کر ادھ مرا کردیا تھا، جن کی اسپتال لے جاتے وقت موت ہوگئی۔ علیم الدین ہزاری باغ کے رہنے والے تھے اوران کا گوشت کا کاروبار تھا۔ وہ اس وقت ایک ماروتی وین سے رام گڑھ سے گزرہے تھے کہ اسی دوران کچھ لوگوں نے گاڑی روک کران کی زبردست پٹائی کی اورانہیں موت سے قریب ترکردیا۔سزایافتہ افراد کے وکیل نے فاسٹ ٹریک عدالت کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہاہے کہ اعلیٰ عدالت میں اس فیصلے کوچیلنج کیا جائے گا۔ یہ توکسی کا بنیادی حق ہے۔ اس پرکسی کے اعتراض کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتاہے۔اسی طرح لنچنگ کا معاملہ بلبھ گڑھ کے 17 سالہ حافظ جنید خان کا ہے جن کا گزشتہ برس رمضان کے آخری عشریٰ کے اواخر میںدہلی سے جارہی لوکل ٹرین میںپیٹ پیٹ کر قتل کردیا گیا تھا۔ 20 مارچ کو فریدآباد کی عدالت میںچل رہے مقدمے کی کارروائی پر سپریم کورٹ نے روک لگادی ہے۔ حافظ جنید مرحوم کے والد کی عرضی پر سپریم کورٹ نے مرکز، ہریانہ سرکار اور سی بی آئی کو نوٹس جاری کیے ہیں۔ سپریم کورٹ میں داخل عرضی میںجنید کے والد نے معاملہ کی سی بی آئی جانچ کا مطالبہ کیا ہے۔ عرضی میںکہا گیا ہے کہ ہریانہ پولیس کی جانچ اس طرح سے توڑ مروڑ کر کی گئی جو اسے’ یکطرفہ نفرت کی وجہ سے حملے‘ کے بجائے جھڑپ ہونے کی شکل دے رہی ہے۔
اس طرح توقع ہے کہ ایک درجن سے زائد بشمول یوپی کے اخلاق، راجستھان کے پہلوخاں، جھارکھنڈ کے محمد شالک، آسام کے ابو حنیفہ اور رضی الدین، اتر پردیش کے غلام محمد، راجستھان کے ظفر حسین، مغربی بنگال کے نصیرالحق، محمد سمیر الدین او رمحمد ناصر کی جو لنچنگ ہوئی ہے اور ان کے خلاف عدالتوں میںجو مقدمات چل رہے ہیں،ان میں بھی متاثرین اور ان کے ورثاء کو انصاف ملے گا۔ ویسے یہ حیرت انگیز بات ہے کہ مر کزی وزارت داخلہ کے مطابق این سی آر بی کے پاس لنچنگ کے واقعات کا کوئی ریکارڈ جمع نہیں ہے۔

 

 

 

 

 

جہاںتک گزشتہ چار برس میںفرقہ وارانہ فسادات کا معاملہ ہے، وزارت داخلہ کی فراہم کردہ معلومات کی روشنی میںنفرت آمیز تشدد کے واقعات میں بی جے پی حکومت والی ریاست اترپردیش سرفہرست ہے۔ 2015 اور 2016 میں سماجوادی پارٹی کی حکومت کے زمانے میں155 اور 162 کے مقابلے 2017 میںبی جے پی کے دور میں فرقہ وارانہ تشدد بڑھے اور یہ 195 تک پہنچ گئے۔ بی جے پی حکومت والے مدھیہ پردیش میں بھی 2016 کے 57 کی نسبت یہ تعداد 60 تک چلی گئی۔ یہی حال بی جے پی کے تحت راجستھان میں2015 میں65، 2016 میں68 کے مقابلے 2017 میںرہا ، جہاںاس برس 91 نفرت آمیز پر تشدد واقعات ہوئے۔ بی جے پی کے ہی جھارکھنڈ میں2015 میں 28اور 2016 میں 24 کے مقابلے 49 پرتشدد واقعات دیکھے گئے۔ بی جے پی کا آسام بھی 2015 میں3 اور 2016 میں 12 کے مقابلے16 پر آگیا۔
اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ مرکز میںبی جے پی کی قیادت والے محاذ این ڈی اے کے آنے کے بعد گزشتہ تقریباً چار برس میںفرقہ وارانہ فسادات اور واقعات بڑھے ہیں او رسماجی ماحول خراب ہوا ہے جس کے نتیجے میں رواداری ، تحمل و برداشت اور تنوع کوسخت نقصان پہنچا ہے جو کہ ہندوستان کی روایتی شان ہے۔ g

auasif asif

auasif asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔
auasif asif
Share Article

auasif asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *