تحریک حریت کی قیادت گیلانی سے صحرائی تک :عمر کا تقاضہ یا کچھ اور ؟

Geelani-and-Sehraie

ہارون ریشی

کشمیر میں جاری علاحدگی پسند تحریک کے سب سے بڑے لیڈرمانے جانے والے 88سالہ سید علی گیلانی نے اپنی عمر کے تقاضے کے پیش نظر اپنی تنظیم ’’تحریک حریت‘‘ کی سربراہی چھوڑ دی۔ انہوں نے تحریک حریت کی چیئر مین شپ کا عہدہ اپنے نصف صدی کے ساتھی محمد اشرف صحرائی کو تفویض کیا۔کیا یہ واقعی اتنی سادہ سی بات ہے؟ یہ سوال فی الوقت کشمیر کے سیاسی حلقوں میں موضوع بحث بنا ہوا ہے۔ کیونکہ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر گیلانی کو اپنی طویل عمری کی وجہ سے اپنی تنظیم کی سربراہی سے دست بردار ہو نا پڑا ہے توآنے والے دنوں میں وہ اسی وجہ سے حریت کانفرنس کی قیادت سے بھی دست بردار ہوسکتے ہیں اور اگر ایسا ہوا تو گیلانی ، محمد یٰسین ملک اور میر واعظ عمر فاروق پر مشتمل ’’مشترکہ مزاحمتی قیادت‘‘ جو گزشتہ دو سال سے کشمیر کی علاحدگی پسند تحریک کی لگام سنبھالے ہوئے ہے، خود بخود ٹوٹ جائے گی۔
یہ بات قابل ذکر ہے کہ انٹیلی جنس بیرو(آئی بی ) کی جانب سے گیلانی کو حکومت ہند کے ساتھ بات چیت کرنے پر مائل کرنے کی ایک ناکام کوشش کے محض چار دن بعد ہی گیلانی نے تحریک حریت کی قیادت سے خود کو فارغ کردیا۔ گیلانی کا کہنا ہے کہ آئی بی کا کوئی عہدیدار ان سے ملنے کے لئے آیا تھا اور انہیں حکومت ہند کے ساتھ بات چیت شروع کرنے کے لئے کہا ۔ لیکن بقول گیلانی ، انہوں نے نئی دہلی کے ساتھ بات چیت کو ’’وقت ضائع کرنے کے مترادف‘‘ قرار دیتے ہوئے ، آئی بی کی پیش کش مسترد کردی۔یہاں پر سوال یہ ہے کہ اگر گیلانی اپنی عمر کے تقاضے کے بہانے تحریک حریت کے بعد حریت کانفرنس کی قیادت سے بھی دست بردار ہونگے تو کیا ان کی جگہ لینے والی حریت کا نیا لیڈرحکومت ہند سے بات چیت شروع کرنے پر آمادہ ہوگا؟ بعض مبصرین شروع سے ہی کہتے آئے ہیں کہ گیلانی اپنی سخت گیر پالیسی کو تاحیات برقرار رکھنا چاہتے ہیں کیونکہ اس پالیسی کی وجہ سے ہی انہیں عوام کے ایک بڑے طبقے میں مقبولیت حاصل ہوئی ہے اور وہ اسے کسی صورت میں کھونا نہیں چاہیں گے بلکہ اُن کی خواہش ہے کہ تاریخ اُنہیں کشمیر کے ایک ایسے لیڈر کے بطور یاد رکھے جس نے کبھی بھی اپنے موقف کو نہیں بدلا اور نہ ہی نئی دہلی کے آگے سرخم کیا۔

 

 

 

 

 

 

اصل وجہ کیا ہے؟

یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ سید علی گیلانی گزشتہ کئی سال سے انتہائی پریشان کن حالات سے دوچار ہیں۔ ریاستی حکومت نے گزشتہ 8سال سے انہیں عملاًانکے گھر میں محصور کرکے رکھ دیا ہے۔ انہیں گھر سے باہر قدم رکھنے کی بھی اجازت نہیں دی جارہی ہے، جس کی وجہ سے عوام کے ساتھ ان کا آمنے سامنے کا رابطہ مکمل طور ختم ہوچکا ہے۔ دوسری جانب گیلانی کے اقرباء کو مختلف بہانوں سے نشانہ بنایا جارہا ہے۔ کشمیر میں ’’ ٹرر فنڈنگ‘‘ کیس کی تحقیق کررہی این آئی اے نے اب تک متعدد بار گیلانی کے دونوں صاحبزادوں نسیم گیلانی اور نعیم گیلانی کو پوچھ تاچھ کے لئے نئی دہلی طلب کیا۔ اتنا ہی نہیں این آئی اے نے دیگر کئی حریت لیڈوروں سمیت سید علی گیلانی کے داماد محمد الطاف شاہ کو گزشتہ سال جون میں گرفتار کیا ہے۔ یہ حریت لیڈر جن میں بعض گیلانی کے قریبی ساتھی ہیں فی الوقت دلی کے تہاڑ جیل میں ہیں۔گیلانی کے ایک قریبی ساتھی نے اُن کا نام شائع نہ کرنے کی گزارش کرتے ہوئے ’’چوتھی دُنیا ‘‘ کو ایک بات چیت میں بتایا،’’ گیلانی صاحب علیل ہیں۔ وہ عمر رسیدہ ہوگئے ہیں۔ پچھلے کئی سال سے اپنے گھر کی چہار دیواری تک ہی محدود ہیں۔ ان کی عملی سیاست بس ایک کمرے تک محدود ہے۔ ان کے قریبی رشتہ داروں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ میرے خیال سے اس قدر غیر موافق حالات میں تحریک اور گیلانی دونوں کے لئے یہی مناسب ہے کہ وہ ریٹائرمنٹ لے لیں۔گیلانی صاحب نے تحریک کے تئیں ایک ناقابل فراموش کردار نبھایا ہے۔ ان کی عمر درازی اب اس سے زیادہ قربانیوں کی اجازت نہیں دے سکتی ہے۔ میرے خیال سے تحریک حریت کی قیادت چھوڑنا گیلانی کی سیاست سے ریٹائرمنٹ کے جانب پہلا قدم ہے۔‘‘

 

 

 

 

کون ہیں اشرف صحرائی ؟

شمالی کشمیر کے کپوارہ سے تعلق رکھنے والے 74سالہ محمد اشرف صحرائی اور سید علی شاہ گیلانی کا 1960سے چولی دامن کا ساتھ ہے۔ دونوں لیڈران جماعت اسلامی جموں کشمیر کے اراکین تھے ، لیکن سال 2004میں کشمیر کی علاحدگی پسند تحریک کیلئے زیادہ موثر کردار نبھانے کے لئے دونوں نے جماعت اسلامی چھوڑ کر’’تحریک حریت ‘‘ کی بنیاد ڈالی۔گیلانی اسکے چیئر مین اور صحرائی اسکے جنرل سکریٹری بن گئے ۔یہ وہی وقت تھا جب آل پارٹیز حریت کانفرنس دو لخت ہوگئی تھی ۔ ایک دھڑے کی قیادت میر واعظ عمر فاروق نے سنبھالی اور دوسرے کی سید علی گیلانی نے ۔ گیلانی کی سربراہی والی حریت کانفرنس 18چھوٹی چھوٹی تنظیموں پر مشتمل پلیٹ فارم ہے۔ تحریت حریت اس کی سب سے بڑی اکائی ہے۔گیلانی اور صحرائی کو ہمیشہ ایک دوسرے کا ’’ہم پیالہ و ہم نوالہ ‘‘ سمجھا جاتا رہا ۔ بلکہ صحرائی خو د کو گیلانی کا’’سایہ ‘‘ مانتے ہیں۔ یہ افواہیں بہت پہلے سے گردش کرتی رہی ہیں کہ گیلانی بالآخر اپنی سیاسی میراث صحرائی کے سپرد کریں گے ۔ تاہم گیلانی نے تحریک حریت کی باگ ڈور صحرائی کے سپرد کرنے کا فیصلہ ایک ایسے وقت میں کیا ہے ، جب وادی میں حالات انتہائی نازک ہیں۔

 

 

 

 

ملی ٹینسی میں تیزی

گزشتہ دو سال کے دوران یہاں ملی ٹنسی میں کافی تیزی آئی ہے بلکہ کچھ عرصہ سے بین الاقوامی دہشت گرد تنظیم داعش کی ایک ذیلی تنظیم غزوۃ الہند بھی یہاں سرگرم ہے۔ اس تنظیم کی سربراہی ذاکر موسیٰ نامی حزب المجاہدین کا ایک باغی جنگجو کررہا ہے۔ذاکر موسی نے گزشتہ سال حریت لیڈروں کو بھی ہلاک کرنے کی دھکمیاں دی ہیں۔12مارچ کو جنوبی کشمیر کے ایک گائوں میں اس تنظیم کے تین ارکان فوج کے ساتھ تصادم میں مارے گئے۔ مارے جانے والے تین جنگجوئوں میں سے دو مقامی تھے اور ایک جنوبی بھارت کے آندھرا پردیش سے تعلق رکھتا تھا۔ دو مقامی جنگجومیں سرینگر کے مضافات میں رہنے والے عیسیٰ فاضلی نامی جنگجو کی لاش جب اس کے گھر پہنچا دی گئی تو یہاں دس سے پندرہ کی تعداد میں نقاب پوش نوجوان نمودار ہوئے ، جن کے ہاتھوں میں داعش کے جھنڈے تھے اور وہ اس تنظیم کے سربراہ ابوبکر بغدادی اور ذاکر موسیٰ کے حق میں نعرے بلند کررہے تھے ۔ان نقاب پوش افرد نے عیسیٰ فاضلی کی لاش کو داعش کے جھنڈے میں لپیٹ دیا اور اس موقع پر انہوں نے کہا کہ اس جنگجو نے ’’آزادی ‘‘ کے لئے نہیں بلکہ ’’اسلام ‘‘ کے لئے قربانی دی ہے۔ بعض میڈیا رپورٹس میں یہ بتایا گیا کہ اس موقعے پر ان نقاب پوش افراد نے گیلانی کی حریت سے وابستہ ایک کارکن کی مارپیٹ بھی کی ۔یہ وہ صورتحال ہے جو کشمیر میں ابھرتی ہوئی نظر آرہی ہے۔مبصرین کا ماننا ہے کہ ایسے حالات میں حریت قیادت پر انتہائی اہم ذمہ داری عائد ہوتی ہے، جو گیلانی جیسے لوگ اپنی ضعیفی اور دیگر مصلحتوں کی وجہ سے پورا کرنے سے قاصر ہیں۔

 

 

 

 

صحرائی کی داعش پر تنقید

گیلانی کی جگہ تحریک حریت کی قیادت سنبھالنے کے بعد اپنے اولین انٹرویو میں صحرائی نے عالمی دہشت گرد تنظیم داعش کو شدید الفاظ میں ہدف تنقید بنایا ۔ انہوں نے کہا ،’’ ہم کشمیر کی آزادی کے لئے لڑرہے ہیں۔ ہمارا کوئی عالمی ایجنڈا نہیں اور نہ ہی داعش یا القاعدہ جیسی تنظیموں کے ساتھ ہمارا کوئی لینا دینا ہوسکتا ہے۔‘‘انہوں نے کہا کہ کشمیر کی تحرک کو داعش کے ساتھ جوڑ کر بدنام کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ اتنا ہی نہیں صحرائی نے کشمیری نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ انتہا پسندانہ آئیڈیالوجی سے دور رہیں۔
ایسا لگ رہا ہے کہ گیلانی جان بوجھ کر کسی حکمت عملی کے تحت خود کو دور رکھنے کی کوشش کرتے ہوئے دوسرے علاحدگی پسند لیڈروں کو موجودہ حالات میں رول نبھانے کا موقع دے رہے ہیں تاکہ ان کی سخت گیریت کا امیج ، جس پر انہیں فخر ہے، بھی محفوظ رہے اور نئی قیادت کو قدرے اعتدال پسندی کے ساتھ کشمیر کے معاملے کے حل کے لئے کوشش کرنے کا موقع ملے۔ممکن ہے کہ کشمیر میں علاحدگی پسند سیاسی منظر نامے سے گیلانی کے دور ر ہنے کے نتیجے میں مستقبل میں نئی دہلی کے ساتھ سلسلہ جنبانی کی بحالی کے لئے بھی راہ ہموار ہوگی ۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *