کٹھوعہ معاملہ اور محبوبہ مفتی

جموں و کشمیر میں مارچ 2015 میں پی ڈی پی اور بی جے پی کے بے میل اتحاد کی سرکار بننے کے بعد سے پی ڈی پی لگاتار نقصان اٹھاتی رہی ہے۔ جموںکے کٹھوعہ ضلع میںآٹھ سالہ لڑکی کی عصمت دری اور قتل کے حالیہ معاملے نے اس صورت حال کو بدل دیا ہے۔ اس واقعہ نے کشمیر اور جموں کے علاقوں کو آمنے سامنے کھڑا کر دیاہے لیکن اس بے حد غیر یقینی صورت حال سے نمٹنے اور اپنا راستہ بنانے میںوزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کامیاب رہی ہیں۔
بی جے پی کے دو وزیروں چندر پرکاش گنگا اور لال سنگھ کو استعفیٰ دینے کے لیے مجبور کرنا، ان کے کام کرنے کے انداز میں آئی تبدیلی کی علامت ہے۔ ان دونوں بی جے پی وزیروں نے سخت محنت کی۔ غور طلب ہے کہ ان دو وزیروں نے کٹھوعہ کے ملزموںکو بچانے کے لیے تحریک چلارہے نو تشکیل شدہ ’ہندو ایکتا منچ‘ کی حمایت کی تھی۔ چونکہ متاثرہ مسلم تھی اور سبھی ملزم ہندو، لہٰذا اس واقعہ نے لوگوں کو مذہب کی بنیاد پر تقسیم کردیا۔ چندر پرکاش گنگا اور لال سنگھ یکم مارچ کو ’ہندو ایکتا منچ‘ کی ریلی میں شامل ہوئے تھے اور منچ کی دیگر مانگوں کے ساتھ ساتھ اس معاملے کی جانچ سی بی آئی کو سونپنے کی مانگ کی بھی حمایت کی تھی۔
دراصل جموں و کشمیر پولیس کی کرائم برانچ (سی بی) کے ذریعہ اس معاملے کی جانچ پہلے سے ہی چل رہی تھی۔ 9اپریل کو کٹھوعہ کی عدالت کے سامنے وکیلوں کے ہنگامے کے بیچ جب سی بی نے چارج شیٹ دائر کی تو یہ وزراء بھی لوگوںکی نظروںمیں آگئے۔ ’ہندو ایکتا منچ‘ کے احتجاجی مظاہروںمیںان وزیروںکی موجودگی یہ ثابت کرتی تھی کہ بی جے پی بھی اس خوفناک جرم پر منچ کے رخ کی حامی ہے۔
چونکہ ریاست اس مدعے پر منقسم تھی، اس لیے محبوبہ کے لیے اپنے رخ پر قائم رہنا ایک بڑا چیلنج تھا۔ انھوںنے بار بار یہ جتایا کہ کسی بھی حالت میںوہ انصاف سے کوئی سمجھوتہ نہیںکریں گی۔ انھوں نے سی بی کی جانچ میںاپنے یقین کا اظہار کیا۔ یہ جانچ سینئر پولیس سپرنٹنڈنٹ رمیش کمار جلّا (جو ایک کشمیری ہندو ہیں) کی قیادت میںماہر افسروں کی ایک ٹیم کر رہی تھی۔ محبوبہ لگاتار وزیر اعظم نریندر مودی، وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ اور بی جے پی صدر امت شاہ کے رابطے میںرہیں اور دونوں وزیروں کا استعفیٰ کرانے میں کامیاب رہیں۔ وکیلوں کے ذریعہ سی بی کی ٹیم کو چارج شیٹ داخل کرنے سے روکنے اور 11 اپریل کو جموں بند کی اپیل کرکے عدالتی عمل کو ناکام بنانے کی کوشش کی مخالفت میںملک میں کافی ہنگامہ ہوا تھا۔ لہٰذا محبوبہ، بی جے پی قیادت کو یہ سمجھانے میںکامیاب رہیںکہ وہ ایسا پیغام دے رہے ہیںجیسے پارٹی زانیوںکا بچاؤ کر رہی ہے۔
اترپردیش کے اناؤ میںاسی طرح کے مدعے پر گھری بی جے پی پر محبوبہ کا دباؤ کام کرگیا۔ اس واقعے نے انھیںمضبوطی فراہم کی۔ ایک ایسے معاملے پر جسے لے کر ریاست میںپہلے سے ہی مذہبی پولرائزیشن ہو گئی ہو، محبوبہ کے لیے کوئی اسٹینڈ لینا ایک مشکل کام تھا۔کیونکہ اس وجہ سے ان کے اتحاد کی کشتی ڈگمگا سکتی تھی لیکن وہ اپنے رخ پر قائم رہیں۔ اس معاملے کی حساسیت نے بھی ان کا کام آسان کردیا۔ اس کے علاوہ میڈیا اور سوشل میڈیا کے دباؤ کے بعد بی جے پی کے لیے اپنے وزیروںکا بچاؤ کرنا مشکل ہوگیااور اسے محبوبہ کی بات ماننی پڑی۔ چونکہ جموں و کشمیر میںبی جے پی ہندو اکثریتی جموںکی اپنی سبھی 25 سیٹیں جیت کر اقتدار میںآئی تھی، لہٰذا یہ علاقہ اس کا ووٹ بینک ہے۔ اسی ووٹ بینک کے ’جذبوں‘ کے مطابق ان دو وزیروںکے علاوہ وزیر اعظم آفس میںوزیر مملکت جتندر سنگھ نے سی بی آئی جانچ کی حمایت کی ۔حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ سی بی، پی ڈی پی -بی جے پی کی اتحادی سرکار کے تحت کام کرتی ہے۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 

کٹھوعہ معاملے پر محبوبہ کا رخ اس لیے بھی اہم ہے کیونکہ جس دن سے پی ڈی پی نے بی جے پی سے اتحاد کرکے سرکار بنائی ہے، کسی بھی اہم مدعے پر اسے بی جے پی کی کوئی حمایت نہیںملی ہے۔ 7 نومبر 2015 کو جب وزیر اعظم نریندر مودی نے سری نگر کی ایک عام سبھا میںاس دور کے وزیر اعلیٰ مفتی محمد سعید کو پاکستان سے بات چیت شروع کرنے کی وکالت پر جھڑکی دی تھی۔ غور طلب ہے کہ مرکز کی بی جے پی سرکار، پی ڈی پی کی خواہشوںکے برعکس (پی ڈی پی کا ایک نرم علیحدگی پسند نقطہ نظر رہاہے) کشمیر کے لیے ایک مشکل بلکہ فوجی پالیسی اپنائے ہوئے ہے۔
گزشتہ تین سالوں میںپی ڈی پی- بی جے پی اتحاد کی بنیاد رہے ایجنڈا آف الائنز (اے او اے) کو نظرانداز کیا گیا ہے۔ پاکستان اور حریت کیساتھ بات چیت ، اعتماد بحالی کے طریقوں کو فروغ دینا اور اسی طرح کے کئی دیگر مدعوںکا حصہ ہے لیکن اس کو نظرانداز کرکے بی جے پی نے زمینی سطح پر پی ڈی پی کی مشکلیں بڑھا دیں۔ پی ڈی پی کی تجاویز پر رضامندی بی جے پی کے لیے اس کے ’’اصل نظریہ‘‘ (جو پاکستان مخالف اور حریت مخالف رخ پر مبنی ہے) سے الگ ہٹناہے۔دراصل اسی نظریہ کی بنیاد پر وہ جموں علاقے اور ملک کے دیگر حصوں میںاپنی انتخابی سیاست چلا رہی ہے۔
بہرحال سی بی آئی جانچ کے لیے محبوبہ کو مجبور کرنے کے بجائے اپنے وزیروں کا استعفیٰ کرانا، بی جے پی کے لیے مہنگا سودا تھا لیکن اس کے باوجود پارٹی نے اتحاد میںبنے رہنے کو ترجیح دی ہے۔ بی جے پی پہلی بار جموں و کشمیر میںاقتدار میںآئی ہے اور اگلے سال ہونے والے عام انتخابات سے قبل ریاست کو اور غیر مستحکم کرنے کا رسک نہیںاٹھاسکتی ہے۔ اگر اس نے آنا کانی کی کوشش کی ہوتی یا اپنے وزیروں کو بچایا ہوتا تو یہ اتحاد خطرے میںپڑ سکتا تھا۔ ذرائع کے مطابق بی جے پی ابھی یہ خطرہ نہیںاٹھا سکتی تھی، اس لیے اس نے اس مسئلے میںمحبوبہ کو جیتنے دیا۔ محبوبہ مفتی نے اپنے وزیر خزانہ حسیب درابو کو برخاست کرکے پہلے ہی اپنی پارٹی میںایک بڑا اشارہ دے دیا تھا۔ دربو کی برخاستگی بھی اہم ہے کیونکہ انھوں نے یہ خوش فہمی پال رکھی تھی کہ بی جے پی پی – ڈی پی اتحاد ان ہی پر ٹکا ہوا ہے، کیونکہ انھوں نے ہی بی جے پی کے رام مادھو کے ساتھ مل کر’ اے او اے‘ کا مسودہ تیار کیا تھا لیکن محبوبہ نے ان کی اس خوش فہمی کو دور کردیا۔ بہرحال محبوبہ مفتی کا اصل چیلنج کشمیر میںسیکورٹی کا ہے۔ مستقبل میںاپنی شرطوںپر وہ اور کتنی دور آگے جاتی ہیں، یہ دیکھنا ابھی باقی ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *