کٹھوعہ معاملہ:فورنسک لیب کی رپورٹ میں ملے اہم ثبوت

rape-victim
کٹھوعہ اجتماعی عصمت دری وقتل معاملے میں ایک بڑا خلاصہ ہواہے۔دراصل، اس معاملے میں دہلی کی ایک فورنسک رپورٹ آئی ہے، جس میں یہ بات ثابت ہوگئی ہے کہ بچی کے ساتھ مندرکے اندر ریپ کیا گیاتھا۔فارنسک لیب ایف ایس ایل نے اپنی رپورٹ میں تمام ثبوتوں کی جانچ کے بعدانہیں صحیح پایاہے۔
رپورٹ میں اس بات کی تصدیق ہوگئی ہے کہ مندرکے اندر جوخون کے دھبے ملے تھے وہ متاثرہ کے ہی تھے۔ اس سے یہ پتہ چلتاہے کہ مندرکے اندر ہی 8سالہ معصوم بچی سے ریپ کیاگیاتھا۔ جانکاری کے مطابق، دہلی ایف ایس ایل نے اپنی رپورٹ اپریل کے پہلے ہفتے میں ہی دی تھی۔اس کے علاوہ مندرسے کچھ بالوں کا گچھا ملاتھا، جس کی جانچ میں یہ پتاچلاہے کہ وہ ملزم شوبھم سانگرا کے ہی بال تھے۔
اس رپورٹ میں اس بات کی بھی تصدیق ہوئی ہے کہ متاثرہ کے کپڑوں پرملے خون کے دھبے اس کے ڈی این اے سے میچ کرتے ہیں، اس کے ساتھ ہی متاثرہ کے پرائیویٹ پارٹ میں بھی خون پائے جانے تصدیق کی ہے۔
عیاں رہے کہ 10سے 17جنوری کے بیچ میں کٹھوعہ کے رساناگاؤ ں میں 8سال کی معصوم سے گینگ ریپ کیاگیاتھا۔ پچھلے کچھ دنوں میں اس معاملے میں چارج شیٹ داخل کی گئی، جس میں چار پولس والوں سمیت 8لوگوں کوملزم ٹھہرایاگیاہے۔
خیال رہے کہ کٹھوعہ معاملے کی جانچ کررہی جموں وکشمیر کی خصوصی جانچ ٹیم (ایس آئی ٹی) کوجانچ میں دقتوں کا سامنا کرناپڑرہاتھا کیونکہ اسے جوثبوت ملے تھے ، وہ ملزموں کوقصوروارثابت کرنے کیلئے حاصل نہیں تھے ۔ملزموں نے مبینہ طورسے کچھ مقامی پولس اہلکاروں کے ساتھ مل کرمتاثرہ کے کپڑے دھلے تھے تاکہ ثبوت کوختم کیاجاسکے۔
جموں -کشمیرکی فارینسک لیب بھی کپڑوں پرخون کے دھبے تلاشنے میں ناکام رہی تھی۔اس کی وجہ سے ایس آئی ٹی ملزموں کے خلاف معاملہ درج نہیں کرپارہی تھی۔اس کے بعدریاست کے ڈی جی پی نے وزارت داخلہ سے مددمانگی تھی کہ ثبوتوں کی جانچ دہلی فارینسک لیب کے ذریعے کی جائے۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *