ایس نہال سنگھ اور ٹی وی آرشنوئے کے بعد جسٹس سچر کی رحلت بڑا سانحہ

ابھی چند دنوں قبل معروف انگریزی صحافیوں سریندر نہال سنگھ اور ٹی وی آر شنوئے کے انتقال پُرملال سے صحافتی و علمی دنیا پوری طرح اُبر نہیں پائی تھی کہ ایک صدی سے 6برس کم عرصہ تک ملکی منظر نامے پر چھائی ہوئی جسٹس راجندر سچر کی معروف قانونی اور سماجی شخصیت بھی20 اپریل کو دنیائے فانی سے رخصت ہوگئی ۔ یہ سچ ہے کہ اگر نہال سنگھ اور شنوئے نے جہاں ایک طرف صحافت میں معروضیت اور مقصدیت کو اپنی فکروسوچ کے مطابق لانے میں فعال کردار ادا کیا، وہیں دوسری طرف جسٹس سچر نے قانون اور انصاف کی بات کرکے زبردست خدمات انجام دیں۔ ان کے انتقال سے تاریخ کا ایک باب بند ہوگیا ہے۔
یا دآتا ہے کہ 2006 میں نجی ملاقات میں ان کے ہم عمر برادر نسبتی اور معروف صحافی 94سالہ کلدیپ نیر نے سچر رپورٹ آنے کے چند دنوں کے بعد راقم الحروف سے کہا کہ ’’ مجھے ایسا لگتا ہے کہ سچر رپورٹ اور مسلمان اس ملک میں اتنا لازم و ملزوم ہوگئے ہیں کہ شاید پیغمبر محمد کے بعد مسلمان ان کا سب سے زیادہ نام لے رہے ہیں‘‘۔ان کی اس بات سے کسی کو اتفاق کرنا ضروری نہیں مگر اتنا ضرور ہے کہ جسٹس سچر ہندوستانی مسلم کمیونیٹی میں ایک مقبول عام اور ہردلعزیز نام بن گئے تھے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ 403 صفحات پر مشتمل سچر رپورٹ میں اقلیتنہیں بلکہ مسلم کمیونیٹی کی مجموعی صورت حال کا جائزہ لیا گیا تھا اور یہ بتایا گیا تھا کہ بعض لحاظ سے اور بعض علاقوں میں یہ نیو بدھسٹوں سے زیادہ بری حالت میں ہے۔ اس تعلق سے ان کے امپاورمنٹ کی راہوں کو بھی سجھایا گیا تھا۔ مگر 12برس بعد بھی ہندوستانی مسلم کمیونیٹی کی مجموعی صورت حال میں کوئی بڑی مثبت تبدیلی نہیں دکھائی دیتی ہے۔ جسٹس سچر تو اس تبدیلی کی تمنا کے ساتھ دنیا سے رخصت بھی ہوگئے۔
اسی زمانے میں سچر رپورٹ کے حکومت کو سپرد کئے جانے کے ایک برس بعد جسٹس رنگ ناتھ مشرا کی سربراہی میں قومی و لسانی کمیشن برائے اقلیتی و مذہبی کمیونیٹیز کی 2007 میں جو رپورٹ آئی، وہ ابھی اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی تھی۔ اس میں مسلمانوں کو دس فیصد تعلیم و نوکری میں ریزرویشن دینے کی بات کی گئی تھی۔’چوتھی دنیا ‘ کے ذریعے اس رپورٹ کو آشکارہ کئے جانے کے بعد جب پارلیمنٹ میں اس اخبار کی کاپیوں کو لہرایا گیا تب دو برس بعد یہ رپورٹ پارلیمنٹ میں پیش کی گئی مگر یہ ٹھنڈے بستے کا ہنوز شکار ہے۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

جسٹس راجندر سچر 22 دسمبر 1923 کو پیدا ہوئے ۔طالب علمی کے دور سے ہی یہ فکری طور پر سوشلسٹ بن چکے تھے۔ لاہور کے کالج میں طلباء یونین میں ان کی زبردست سرگرمی رہا کرتی تھی۔ دہلی کے لودھی روڈ پر وقع بجلی کے کریمے ٹوریم میں نذر آتش کئے جانے کے بعد کلدیپ نیر نے کہا کہ ’’جسٹس سچر مجھ سے6 ماہ بڑے تھے اور ہم دونوں نے ایک ساتھ لاہور کے کالج سے لاء گریجویشن کیا۔ ا؛نہوں نے پریکٹس کی اور جج بھی بنے مگر میں تقسیم کے بعد ہندوستان آگیا اور اردو اخبارات سے شروعات کے صحافت کو اپنا کیریئر بنایا ۔وہ ہندی اور سنسکرت والے تھے جبکہ میں فارسی اور اردو والا۔ وہ منکر خدا تھے جبکہ میں ایسا نہیں ہوا اور ابھی بھی میں ایک نجی واقعہ کے سبب الحاد اور ایمان کے درمیان معلق ہوں ‘‘۔
جسٹس راجندر سچر کی حقوق انسانی رہنما کے طورپر بھی ایک خاص پہچان بن گئی تھی۔ معروف انسانی تنظیم پی یو سی ایل ان کی وہلی ہائی کورٹ میں چیف جسٹس کے طورپر سبکدوشی کے بعد ان کا اوڑھنا بچھونا بن گئی تھی۔ اس کے یہ صدر بھی رہے۔ 1989 میں کشمیر اینی شی ایٹیو کے تحت ریاست کی صورت حال کا جو جائزہ لیا گیا، اس کے وفد کی سربراہی بھی انہوں نے کی جس میں کلدیپ نیر اور اندر موہن بھی شامل تھے۔ اس کی رپورٹ منظر عام پر آئی تو اس سے وہاں کی صورت حال کو سمجھنے میں بڑی مدد ملی اور پھر افسپا کی واپسی کا مطالبہ کرتے ہوئے ان کے رفیق آنجہانی اندر موہن نے پدم ایوارڈ صدر جمہوریہ کو واپس بھی کردیا۔ یہ یونائٹیڈ نیشنز سب کمیشن آن دی پروموشن اینڈ پروٹیکشن آف ہیومن رائٹس کے رکن رکین بھی رہے۔ فورم فار ڈیموکریٹک اینڈ کمیونل ایمیٹی کے بھی صدر رہے۔
اس میں کوئی شبہ نہیں ہے کہ ملک کے مسلمانوں کو ان میں بڑا اعتماد تھااور ان کی مختلف محفلوں ، جلسوں اور سمینار و سمپوزیم میں یہ بلائے جاتے تھے۔ منکرخدا ہونے کے باوجود یہ رسول اکرم کے خطبہ حج الوداع سے بے حد متاثر تھے اور اپنی تقریروں میں اس کا حوالہ دیا کرتے تھے۔ یہ کہتے تھے کہ اس خطبہ کو بہترین ہیومن چارٹر کہا جاسکتاہے۔یہ پیغمبر اسلام کے میثاق مدینہ کا بھی حوالہ دیتے تھے جس کے تحت مختلف مذاہب اور مکاتب فکر کے حاملین نے مدینہ کا انتظام سنبھال رکھا تھا اور خود رسول اللہ اسکے سربراہ تھے۔
جسٹس سچر ہر بات دلیل کے ساتھ کرتے تھے اور ان کے اندر انسانی دل تھا۔ 1987 میں میرٹھ کے فسادات اور ہاشم پورہ سانحہ کے فوراً بعدیہ اندر کمار گجرال، محمد یونس سلیم اور پروفیسر علی محمد خسرو کے ساتھ جب راقم الحروف کی تحریک پر متاثرہ علاقوں میں گئے تو روپڑے اور پھر جو رپورٹ تیار ہوئی، اس میں ان کا بڑا اہم کردار تھا ۔
جسٹس سچر کے منظر نامے سے رخصت ہوجانے کے بعد یقینا ایک ایسی شخصیت کی کمی شدت سے محسوس کی جائے گی جسے خصوصی طور پر مسلم کمیونیٹی کے ہر بڑے اور اہم پروگرام میں بلایا جاتا تھا اور وہ ان تمام پروگراموں میں بڑی ہی دلچسپی سے شرکت کرتے تھے اور حق وانصاف پر مبنی سماج کی تعمیر نو کی بات بڑے زور و شور سے کرتے تھے۔ گزشتہ دنوں قاری احمر فائونڈیشن کے تحت کولکاتہ میں اپریل کے اواخر میں ہورہے پروگرام میں انہیں راقم الحروف نے مہمان خصوصی کے طور پر شرکت کی دعوت دی تو وہ کہنے لگے کہ ’’میں تو ابھی اسپتال میں داخل ہوں، صحت مند ہوکر گھر آتاہوں تو ضرور پروگرام بنائوں گا‘‘۔ مگر جب ان کی بیٹی مادھوری سے بات ہوئی تو وہ کہنے لگیں کہ ارے وہ تو موت و حیات کی جنگ لڑرہے ہیں اور ان کی حالت اچھی نہیں ہے۔انہوں نے یہ بات کیسے کہہ دی؟دراصل جسٹس سچر کے یہاں ’ نہ ‘ لفظ تھا ہی نہیں۔اس حال میں بھی وہ پُرامید یعنی آپٹی مسٹ تھے۔سچ تو یہ ہے کہ وہ انسانی سماج کے اس کمیاب گروپ سے تعلق رکھتے تھے جسے زمین کا نمک کہا جاسکتا ہے جو بہت ہی کم مقدار میں کھانے میں استعمال ہوتا ہے مگر جس کے بغیر کھانا ادھوراہوتا ہے۔

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔
Share Article

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *