جامعہ ملیہ اسلامیہ کا سالانہ جلسہ تقسیم اسناد

jamia
جامعہ ملیہ اسلامیہ میں 16اپریل کو سالانہ جلسہ تقریب اسناد کا انعقاد عمل میں آیا،جس میں مہمان خصوصی کی حیثیت سے مرکزی وزیر ڈاکٹر ہرش وردھن نے 4694 کو ڈگریاں تفویض کیں۔ اس موقع پر ڈاکٹر ہرش وردھن نے کہا کہ اس ادارہ کا تحریک آزادی میں نمایاں کردار رہا ہے جس نے قومیت اور ملک کی تعمیر و ترقی میں بیش بہا خدمات انجام دی ہیں۔ حکومت ہند میں سائنس،ٹیکنالوجی، جنگلات وماحولیات ، موسمیاتی تبدیلی اور زمینی سائنس کے وزیرڈاکٹر ہرش وردھن نے کہا کہ اس یونیورسٹی کے بانیان با بصیرت اور عظیم لوگ تھے جنہوں نے آزادی کی لڑائی میں حصہ لینے کے علاوہ اس کے گیسو کو سنوارنے کے لئے جامعہ ملیہ جیسی عظیم دانش گاہ کی بنیاد رکھی اور اس کو اپنے خون جگر سے سینچا۔انہوں نے کہا کہ شاندار اور متاثر کن تاریخ سے لیس جامعہ ملیہ اسلامیہ آج ملک ہی نہیں بلکہ بیرون ممالک کی دانش گاہوں میں بھی اعلی مقام رکھتی ہے، یہ ہم سب کے لئے فخر کی بات ہے کہ اس ادارہ نے صرف ملک میں ہی نہیں بلکہ بیرون ممالک میں بھی اہم جگہ بنانے اور اپنی حیثیت کو منوانے میں کامیابی حاصل کی ہے۔
فلم اور کھیل کے میدان میں بھی اس ادارہ کے فارغین جن میں شاہ رخ خان، کبیرخان، کرن راؤ اور وریندر سہواگ جیسے ستاروں کے نام شامل ہیں نے پوری دنیا میں اپنے ملک او ر اپنی مادر علمی کا نام روشن کیا ہے۔اس اجلاس میں، 2017 میں کامیاب ہونے والے 4372 طلباء کو ڈگری، ڈپلومہ اور 322 کو پی ایچ ڈی کی ڈگری سے نوازا گیا ۔ اس موقع پر، 165 طلباء کو اپنے متعلقہ مضامین مین نمایاں مقام حاصل کرنے پر طمغہ دیا گیا۔
جامعہ ملیہ اسلامیہ کے چانسلر اور منی پور کے گورنر ڈاکٹر نجمہ ہیپت اللہ نے اپنے خطاب کے دوران کہا کہ اس یونیورسٹی کی خدمات بہت منفرد اور لازاول ہین، اس کے بانیان نے برطانوی حکمرانوں کے خلاف آزادی کا بگل بجا کر ان کی نیندیں حرام کر دی تھیں۔انہوں نے کہا کہ گاندھی جی، پنڈت جواہر لال نہرو، سروجنی نائیڈو ،روندرناتھ ٹیگور اورمولانا ابوالکلام آزاد جیسی کتنی ہی عظیم ہستیوں نے جامعہ کو ایک قومی ادارہ بنانے کے لئے کوششیں کیں، ہم ان تمام ہستیوں کو سلام کرتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ جامعہ جب بہت مشکل دور سے گزر رہا تھا اور لگنے لگا تھا کہ یہ بند ہو جائے گا گا تب گاندھی جی نے کہا تھا، ” جامعہ ملیہ اسلامیہ کو بچائے رکھنے کے لئے اگر مجھے بھیک کا کاسہ لے کر بھی چلنا پڑا تو میں اس سے گریز نہیں کروں گا ۔ نجمہ ہیپت اللہ نے کہا کہ جامعہ نے وزیراعظم نریندر مودی کے ‘ڈیجیٹل بھارت’ اور ‘اسکل بھارت’ کے خواب کو پورا کرنے کے لئے کافی تعاون دیا ہے، یہ ایک قابل ستائش عمل ہے۔ انھوں نے بتایا اس نے اسکیم کے تحت جامعہ نے اپنی لائبریری کو ڈیجیٹل کیا ہے تاکہ ملک کے کسی بھی حصہ میں طلبہ لائبریری سے استفادہ کر سکیں۔ اسی طرح کئی کوتاہ مدتی کورسز جس میں الیکٹرانکس، بیکری، سلائی، وغیر ہ شامل ہے، جامعہ نے غریب اور کمزور طبقاء جات کو اپنے پاوں پر کھڑا ہونے کا موقع فراہم کیا ہے ۔
جامعہ ملیہ اسلامیہ کے وائس چانسلر پروفیسر طلعت احمد نے کہا، یہ ہم سب کے لئے فخر کی بات ہے کہ جامعہ ملک کی واحد ایسی یونیورسٹی ہے جو ملک کی تینوں افواج، بری ، فضائی اور بحری کے جوانوں اور افسروں کے لیے آن لا ئن گریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ کے پروگرام کا انعقاد کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مشکل حالات میں رہ کرملک کی حفاظت کر نے والے سپاہیوں کے لئے یہ ہمارافرض تھا کہ ہم بھی ان کے لئے کچھ کریں، پروفیسر احمد نے کہا کہ فوج کے اہلکار 16۔17 سال کی عمر میں فوج جوائن کرتے ہیں اور 35۔40 سال کی عمر میں ریٹائرڈ ہو جاتے ہیں ایسے میں جامعہ نے اس میدان میں اپنی سی کوشش کرکے ان کو بھی تعلیم و تعلم کے میدان میں آگے آنے کا موقع فراہم کیا ہے جس کے مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ماسٹر آف لاء (ایل ایل ایم)کی تاپر طالبہ سمیرا امتیاز کو ڈاکٹر غلام ای واہن متی گولڈ میڈل اور پچاس ہزار روپئے نقد سے نوازا گیا ۔ یہ انعام ہندوستان کے سابق اٹارنی جنرل غلام ای واہن متی کے اہل خانہ نے ان کے نام سے شروع کیا ہے ۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *