اسرائیل بنائے گا ڈیفنس کاریڈور

جلدی ہی بندیل کھنڈ ’اسرائیلی کاریڈور ‘ بن جائے گا۔ ابھی بندیل کے 7 اضلاع اس ’ کاریڈور ‘ میں شامل ہوں گے، لیکن آگرہ، علی گڑھ، کانپور، اور لکھنو کے بھی اس کاریڈور کے دائرے میں آنے میں زیادہ وقت نہیں ہے۔ یہ کاریڈور اتر پردیش ، مدھیہ پردیش اور چھتیس گڑھ کو سیکورٹی نقطہ نظر سے متحد کرے گا۔مرکزی سرکاری پوری سوچ سمجھ کے ساتھ اترپردیش کے بالمقابل بندیل کھنڈ کو ’ڈیفنس کاریڈور ‘ بنانے جا رہی ہے۔ اس کی اصلی باگ ڈوراسرائیل کے ہاتھ میں ہوگی۔ بندیل کھنڈ خطہ کو ’ ڈیفنس کاریڈور ‘ میں تبدیل کرنے کا منصوبہ کافی عرصے سے چل رہا تھا،جس نے 2016 سے رفتار پکڑی۔
کاریڈور کے پیچھے اسرائیل
’ڈیفنس کاریڈور ‘ میں فوج کے جنگی آلات اور ہتھیاروں سے لے کر سارے سازو سامان بنیں گے۔ اس ڈیفنس کاریڈور کا فیصلہ اسرائیل کی مدد سے ہوگا اور فوجی سازو سامان بنانے میں بھی اسرائیل کا مرکزی کردار رہے گا۔ ڈیفنس کاریڈور کی تعمیر کے منصوبے کے عوامی ہونے کے پہلے ہی 2016 میں بندیل کھنڈ میں پانی کے مسائل دور کرنے کے لئے اسرائیل کے ساتھ ’ واٹر یوٹیلیٹی ریفارم ‘ کرا کر کرلیا گیا تھا۔ اس طرح 2016 میں ہی بندیل کھنڈ میں اسرائیل کے داخلے کا بندوبست ہو گیا تھا۔ اس کے بعد سے اسرائیلی سفیر ،وہاں کے فوجی تکنیکی افسروں اور ماہرین کا اترپردیش آنا جانا شروع ہو گیا۔ اس بیچ اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کی اسرائیل کے سفیر سے دو دو بار ملاقات بھی ہوئی اور اسرائیل کے وزیر اعظم بنیامین نتین یاہو سے یوگی نے آگرہ جاکر بھی بات چیت کی۔ یو پی کے گورنر رام نائک نے بھی اسرائیل کے سفیر سے لکھنو میں ملاقات کی۔
پورا بیک گرائونڈ بنانے کے بعد اس سال فروری میں لکھنو میں منعقد ’ انوسٹرس سمیٹ ‘ میں وزیر اعظم نریندر مودی نے بندیل کھنڈ علاقے میں ’ ڈیفنس کاریڈور ‘ قائم کرنے کے منصوبے کا باضابطہ اعلان کیا اور اس کے بعد اس منصوبے نے زمین پر رفتار پکڑ لی۔ اس بیچ وزیر دفاع نرملا سیتا رمن کی لکھنو دورہ، وزیر اعظم یوگی آدتیہ ناتھ سے ان کی بات چیت ،پھر خصوصی اجلاس اور سیاسی سطح کی ملاقاتوں کا سلسلہ چلتا رہا اور ڈیفنس کاریڈور منصوبہ پر کام بڑھتا رہا۔
اس کی تفصیل میں ہم آگے چلیں گے۔ ابھی 16 اپریل کو بندیل کھنڈ کے جھانسی میں ڈیفنس کاریڈور کے مسئلے پر ہوئی اعلیٰ سطحی میٹنگ کی چرچا کرلیں۔اس میٹنگ میں مرکز سے وزیر دفاع نرملا سیتارمن تو آئیں ہی،پانی اور صفائی کی وزیر اوما بھارتی بھی اس میٹنگ میں شریک رہیں۔ بندیل کھنڈ ڈرنکنگ واٹر پروجیکٹ پر اسرائیل کے ساتھ ہوئے معاہدے کو دھیان میں رکھتے چلیں۔ اس اعلیٰ سطحی میٹنگ میں ’سوسائٹی آف انڈین ڈیفنس مینوفیکچرس ‘( ایس آئی ڈی ایم ) کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل سبرتو ساہا نے ویڈیو کانفرنسنگ کیذریعہ بندیل کھنڈمیں بننے جارہے ’ ڈیفنس کاریڈور ‘ کے تکنیکی پہلو پیش کئے اور صاف صاف کہا کہ ڈیفنس کاریڈور بننے کے بعد یو پی ’انتہائی محفوظ ریاست ‘ بن جائے گا۔
یوگی کو توقعات
میٹنگ میں موجود وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے کہا کہ ڈیفنس کاریڈور ریاست کی ترقی اور روزگار پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا اور یہ ترقی کے لئے میل کا پتھر ثابت ہوگا۔یوگی نے یو پی میں ڈیفنس کاریڈور بنانے کا فیصلہ لینے کے لئے وزیراعظم نریندر مودی کے تئیں شکریہ کا اظہار کیا اور کہا کہ اس مشن کو پورا کرنے کے لئے میں پوری طرح پابند ہوں ‘۔ وزیر دفاع نرملا سیتا رمن نے حال میں چنئی میں منعقد ہوئے ’ڈیفنس ایکسپو ‘ کی کامیابی اور اس کے نتیجے پر خوب مسرت کا اظہار کیا۔حالانکہ انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ ’ڈیفنس ایکسپو ‘ میں اسرائیل کی موثر حصہ داری رہی لیکن یہ کہا کہ چنئی سے بنگلورو تک بھی ایسا ہی ڈیفنس کاریڈور بنایا جائیگا۔ وزیر دفاع نے یہ بات ضرور عوامی کی کہ یو پی میں ڈیفنس کاریڈور کی تعمیر کے وزیر اعظم نریندر مودی کے اعلان کے بعد سے وزارت دفاع اور اترپردیش سرکار کے افسروں کی سطح پر لگاتار میٹنگیں چل رہی ہیںاور اسکے ٹھوس نتیجے نکل رہے ہیں۔
وزیر دفاع نے صاف کہا کہ یوپی میں ’ڈیفنس کاریڈور ‘ کی تعمیر کی نگرانی وزیر اعظم خود کر رہے ہیں۔ وزیر دفاع نے کہا کہ ملک میں جس طرح سیکورٹی کا چیلنج ہے، اس لحاظ سے دفاعی آلات تیار کرنے والی غیر ملکی کمپنیوں کی طرح گھریلو کاروباری اداروں کو بھی برابر کا موقع ملے گا۔تمل ناڈو،کرناٹک اور اترپردیش میں ڈیفنس کاریڈور تعمیر کرنے کا یہی مقصد ہے۔ وزیر دفاع نے اس سے بڑے پیمانے پر روزگار ملنے کی امید ظاہر کی اور کہا کہ ڈیفنس کاریڈور میں بننے والے فوج کی مصنوعات کو وزارت دفاع خریدے گی۔ اس سے بندیل کھنڈ کے نوجوانوں کو روزگار ملے گا۔ وزیر دفاع نے بھروسہ دلایا کہ اب سیکورٹی سے متعلق 30فیصد پیداوار ملک کے اندر ہی ہوںگی اور اگلے 25 برسوں میں فوج کی سبھی ضرورتیں ملک میں ہی پوری ہوں گی۔ وزیر دفاع یہ بھی بولیں کہ فکی، ایسوچیم، سی آئی آئی جیسے مالیاتی اداروں کو بندیل کھنڈ لاکر یہاں کے صنعت کاروں سے بات کرائی جائے گی۔ کاریڈور میں کام کرنے والی کمپنیوںکو وزارت دفاع کی طرف سے فوج کے سامانوں کی لسٹ دی جائے گی۔ جو سامان کمپنیاںبنا سکتی ہیں، ان کا آرڈر دیا جائے گا۔ بندیل کھنڈ ایکسپریس وے پر ٹیسٹنگ لیب بنائی جائے گی جس کے ذریعے بھی روزگار کے مواقع کھلیںگے۔
وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے کہا کہ اسی وجہ سے بندیل کھنڈ ایکسپریس وے کو تیزی سے آخری شکل دی جارہی ہے۔ ڈیفنس کاریڈور کی تعمیر کے بعد وزارت دفاع گھریلو ہتھیاروں کو خریدنے پر زیادہ زور دے گا۔ مرکزی وزیر برائے شفاف پانی و صفائی اوما بھارتی نے بغیر لاگ لپیٹ کے اسرائیل کا نام لے ہی لیا۔ اوما بھارتی نے کہا کہ بندیل کھنڈ کی صورت حال اور جغرافیائی پوزیشن اسرائیل جیسی ہے۔ یہاں اسرائیل کے طرز پر ہی ترقی ممکن ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈیفنس کاریڈور کی تعمیر بندیل کھنڈ کی ترقی میں اہم کردار ادا کرے گا۔ مرکزی وزیر اور حلقہ کے پارلیمانی رکن اوما بھارتی نے دوہرایا کہ ڈیفنس کاریڈور کے لئے 20ہزار کروڑ کی سرمایہ کاری ہوگی اور 50لاکھ نوجوانوں کو روزگار ملے گا۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

تیاری زوروں پر
ڈیفنس کاریڈور کی تعمیر کو آگے بڑھانے کے ارادے سے 16اپریل کو جھانسی میںبلائی گئی اس اعلیٰ سطحی میٹنگ میں مرکزی وزیر دفاع نرملا سیتا رمن ، مرکزی وزیر برائے شفاف پانی و صفائی اوما بھارتی اور ریاست کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کے علاوہ دفاعی ماہرین اور سرمایہ کاروں کے ساتھ ساتھ یو پی کے کمشنر آف انڈسٹریل ڈیولپمنٹ اینڈامپلانٹیشن ڈاکٹر انوپ چندر پانڈے، انفارمیشن ڈپارٹمنٹ کے چیف سکریٹری اونیش اوستھی، مائیکرو، اسمال اینڈ میڈیم انڈسٹری محکمہ کے سکریٹری بھونیش کمار اور بندیل کھنڈ کے ساتوں اضلاع کے کلکٹر شامل تھے۔ میٹنگ کے پہلے ریاستی سرکار نے ڈیفنس کاریڈور کی پری فیزیبلیٹی اسٹڈی کے لئے صلاح کار کی تقرری کرلی، جس کی رپورٹ پیش ہونے کے بعد زمین ایکوائر کرنے کی کارروائی کی جائے گی۔ ڈیفنس کاریڈور 6مقامات پر کلسٹر کی شکل میں ڈیولپ ہوگا۔ کلسٹر کے سینٹر علی گڑھ، آگرہ، کانپور، لکھنو، جھانسی اور چِتر کوٹ میں ہوں گے۔ کمپنیاں سیکورٹی آلات اور سازو سامان کے لئے اسی کاریڈور میں اپنی اپنی یونٹ لگائیں گی۔کاریڈور کے کام کو آگے بڑھانے کے لئے آئی آئی ٹی کانپور سے خاص طور پر ایروناٹکس کے لئے اور بی ایچ یو آئی آئی ٹی سے گولہ بارود سے جڑے پروجیکٹ میں تکنیکی مدد لی جائے گی۔ ڈیفنس کاریڈور کے لئے جو کمپنیاں شامل کی جارہی ہیں، ان میں ہندوستان ایروناٹکس (ایچ اے ایل ) کی تین یونٹ ، یو پی 9اورڈننس فیکٹری اور دو درجن پرائیویٹ فیکٹریوں کے ساتھ ساتھ بھارت الکٹرانکس لمیٹیڈ بھی شامل ہیں۔ ڈیفنس کاریڈور کے تناظر میں اترپردیش سرکار الگ سے ایک دفاعی پالیسی کا مسودہ بھی تیار کر رہی ہے، جس کا اعلان جلد ہی کیا جائے گا۔
مارچ سے کام شروع
بندیل کھنڈ میں قائم ہونے جارہے اسرائیل متاثرہ ’ ڈیفنس کاریڈور ‘ کے کچھ سرکاری حقائق کی بھی جانکاری لیتے چلیں۔بندیل میں ڈیفنس کاریڈور کا کام مارچ مہینے سے شروع ہو گیا۔ جھانسی کے ساتھ ساتھ علی گڑھ، چِتر کوٹ، آگرہ اور کانپور میں بھی اس کاریڈور کے ذریعہ سرمایہ کاری ہوگی۔ سبھی جگہ وزارت دفاع کے افسروں کی الگ الگ ٹیم جا رہی ہے۔ 50 سال کے لئے ماسٹر پلان بنایا گیا ہے۔ ڈیفنس کاریڈور میں بندیل کھنڈ کے ساتوں اضلاع جھانسی، جالون، للت پور ، چتر کوٹ، حمیر پور، باندہ اور مہوبہ شامل ہیں۔ یو پی سرکار نے وزارت دفاع سے کہا ہے کہ ڈیفنس کاریڈور کے لئے زمین کی کوئی کمی نہیں ہے۔ساتھ ہی کافی ٹیسٹنگ رینج بھی دستیاب ہیں۔کاریڈور کے لئے تین ہزار ہیکٹیئر سے زیادہ زمین نشان زد کر لی گئی ہے۔ زمین کے لئے جلد ہی نوٹیفکیشن بھی ہونے جارہا ہے۔ کاریڈور کے لئے ایسے علاقے کا انتخاب کیا گیاہے جسے آگرہ – لکھنو، ایکسپریس وے اور بندیل کھنڈ ایکسپریس وے کے ذریعہ آمدو رفت کی سہولت مہیا ہو سکے۔ ڈیفنس کاریڈور کے لئے یو پی کی آرڈننس فیکٹریوں کی توسیع کا کام تیز کر دیا گیاہے۔ جھانسی ڈیفنس کاریڈور میں ایئر کرافٹ مینوفیکچرنگ انڈسٹری اور ڈرون مینو فیکچرنگ انڈسٹری ڈیولپ کیا جائے گا۔ کانپور میں انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹکنالوجی ( آئی آئی ٹی ) کو خاص طور پر ڈیفنس کاریڈور میں تکنیکی تعاون کے لئے لگایا گیاہے۔ ’سوسائٹی آف انڈین ڈیفنس مینوفیکچرنگ ‘‘( ایس آئی ڈی ایم ) کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل سبرتو ساہا ڈیفنس کاریڈور کے ذریعہ اتر پردیش کو انتہائی محفوظ ریاست بنانے میں لگے ہوئے ہیں اور اس کام میں بندیل کھنڈ کے سابق فوجیوں کی بھی مدد لینے جا رہے ہیں۔بندیل کھنڈ کے ’ڈیفنس کاریڈور ‘ کی تعمیر کی شروعات جھانسی سے ہو رہی ہے۔ جھانسی ہی مرکز میں رہے گا۔ جھانسی کے بعد بندیل کھنڈ کے دیگر ااضلاع میں کاریڈورکی توسیع ہوگی۔ جھانسی ضلع کے قریب ڈیڑھ درجن گائوں کی زمین نشان زد کی گئی ہے۔ کاریڈور میں پہلے اَوریا کو بھی شامل کیا گیا تھا لیکن بعد میں اسے الگ کر دیا گیا۔ جھانسی میں ڈیفنس کاریڈور کی تعمیر کا پہلا مرحلہ شروع کرنے کے لئے گورنر کی طرف سے باقاعدہ گزٹ جاری کیا جا چکا ہے۔ جھانسی میں ڈیفنس کاریڈور کے لئے گروٹھا تحصیل کے گائوں ایرچ، گیندا کبولا، کٹھری، گورا، جوجھار پورا، ٹیہرکا، ہردوا، روتان پورا، لبھیرا، جھبرا اور ٹہرولی تحصیل کے شمشیر پورا، بیندا، پتھریڑی ، سُروئی اور دیورا راسن کی زمینیں لی جارہی ہیں۔
بندیل کھنڈ کیوں بنی پسند
ڈیفنس کاریڈور کے لئے بندیل کھنڈ کو چنے جانے کے پیچھے وجہ یہ ہے کہ یہ اترپردیش کے ساتھ ساتھ گریٹر بندیل کھنڈ کو بھی اپنے اثر میں لے گا۔ گریٹر بندیل کھنڈ میں اترپردیش کے سات اضلاع جھانسی ، جالون، للت پور، چتر کوٹ، حمیر پور، باندہ، مہوبہ اور مدھیہ پردیش کے 6 اضلاع ساگر، دموہ، ٹیکم گڑھ ،چھترپور، پنا اور دتیا آتے ہیں۔ اس کے علاوہ مدھیہ پردیش کے بھینڈ ضلع کی لہار تحصیل اور گوالیار ضلع کی مانڈیر تحصیل کے ساتھ ساتھ رائے سین اور ویدیشا ضلع کا کچھ حصہ بھی گریٹر بندیل کھنڈ میں آتا ہے۔ بندیل کھنڈ کے جھانسی میں آرمی کا بڑا اڈہ ہے تو دوسری طرف بندیل کھنڈ کو چھوتا ہوا کانپور اور آگرہ فضائیہ کا بڑا اڈہ ہے۔ آگرہ، متھرا ، کانپور، الٰہ آباد، فتح گڑھ آرمی کا گڑھ ہے۔ادھر مدھیہ پردیش کا گوالیار بھی فضائیہ کا حساس اڈہ ہے۔ گوالیار بننے سے یہ سبھی فوجی علاقے ایک کاریڈور میں کورڈینیٹ ہو جائیں گے۔
ڈیفنس کاریڈور کے اشارے تبھی سے ملنے لگے تھے ،جب ہندوستانی فضائیہ کے لڑاکوں طیاروں نے آگرہ لکھنو ایکسپریس وے پر اترنے کی مہم شروع کر دی تھی۔ پچھلے سال 2017 میں بانگرا مئو کے پاس ایکسپروے پر ایئر فورس نے بڑا مشن کیا تھا۔ اس میں سوکھوئی اور میراج جیسے لڑاکو طیارے شریک ہوئے تھے۔ آپ یہ دھیان دیتے چلیں کہ اسرائیل نے گوالیار میں ایک ہندوستانی کمپنی کے ساتھ مشترکہ ڈیفنس انٹرپرائز حال میں ہی شروع کیا ہے۔یہاں تیار ہونے والے ہتھیار سرجیکل اسٹرائک جیسے خفیہ آپریشن میں کارگر ثابت ہوں گے۔ ہندوستان میں اسرائیل کے تعاون سے پرائیویٹ سیکٹر میں آرمس بنانے کی بنیاد چنبل گھاٹی میں رکھی گئی ہے۔یہاں ہلکے دفاعی مصنوعات تیار کی جائے گی۔
گوالیار سے 20 کلو میٹر دور مالن پور صنعتی علاقے میں بھی غیر ملکی سرمایہ کاری سے ایک مشترکہ ڈیفنس انٹر پرائز قائم کیا گیا ہے۔ مشترکہ انٹر پرائز میں اسرائیلی کمپنی ’ ایس کے گروپ ‘ اور انڈین ڈیفنس سیکٹر کی پرائیویٹ کمپنی ’ پونجلائڈ ‘ چھوٹے ہتھیاروں کو تیار کررہی ہے۔ ڈیفنس پروڈکٹ میں اسرائیل کی یہ ہندوستان میں پہلی شراکت داری ہے۔ مالن پور میں بننے والے ہتھیاروں کی خصوصیت یہ ہے کہ انہیں سرجیکل اسٹرائک ، دہشت گردانہ مڈبھیڑ یا اینٹی ٹیریرسٹ آپریشن کے لئے خاص طور پر تیار کیا جا رہاہے۔
ڈیفنس کاریڈور کو لے کر ملک و بیرون ملک کی کئی کمپنیوں کے ساتھ معاہدہ ہوگا۔ لیکن وزارت دفاع کے ذرائع بتاتے ہیں کہ اس میں سب سے اہم کردار اسرائیل کا ہوگا۔ کاریڈور میں کئی شہر شامل ہوں گے جہاں فوج کے استعمال میں آنے والے تمام سازو سامان بنیں گے۔ الگ الگ قسم کی مصنوعات کے لئے الگ الگ فیکٹریاں قائم ہوںگی۔ جس میں پبلک سیکٹر ، پرائیویٹ سیکٹر اور ملٹی نیشنل کمپنیاں حصہ لیں گی۔اس کاریڈور میں وہ سبھی صنعتی ادارے شریک ہو سکتے ہیں جو فوج کے سازو سامان بتاتے ہیں۔ دیفنس کاریڈور کی تعمیر کے بعد فوج کے ہتھیار سے لے کر گاڑی اور وردی سے لے کر کَل پُرزے تک سارے سامان ایک ہی کاریڈور میں بننے لگیں گے۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

اسرائیل کا کردار
ملک کے دو الگ الگ سیکٹروں میں بننے جارہے ڈیفنس کاریڈور میں اسرائیل کا کردار اہم ہے۔ فروری 2016 میں ہی اس کی شروعات ہو گئی تھی جب اسرائیلی وزارت دفاع کے انٹرنیشنل ڈیفنس کو آپریشن ڈائریکٹریٹ (سی باٹ ) اور فیڈریشن آف انڈین چیمبر آف کامرس (فکی ) نے اسرائیل میں چوتھے مشترکہ سمینار کا انعقاد کیا تھا۔ یہ سمینار ہند- اسرائیل کے بیچ دفاعی اداروں اور صنعتوں کی شراکت داری کو لے کر ہی ہوا تھا۔ جس میں ہندوستان کی 25 کمپنیاں اور اسرائیل کی سو دفاعی کمپنیاں شامل ہوئی تھیں۔ اس سمینار میںپانچ سو سے زیادہ میٹنگیں ہوئیں اور تبھی ہندوستان اور اسرائیل کے نیشنل سیکورٹی رجحان اور آپسی مثالی تعاون طے کر لئے گئے تھے۔تبھی یہ بھی طے ہو گیا تھاکہ اگلی میٹنگ چنئی میں ہوگی اور ڈیفنس کاریڈور کے منصوبے پر کام بڑھے گا۔
اسرائیل کے سفیر ڈینیل کارمن نے صاف صاف کہا تھا کہ ہندوستان اور اسرائیل نے کئی برسوں سے دونوں ملکوں کے حق کا باہم تحفظ کیا ہے۔اسرائیل سرکار اور اسرائیلی کمپنیاں پہلے سے ہی ہندوستان میں منصوبے لاگو کررہے ہیں۔ اسرائیل کے انٹرنیشنل دیفنس کو آپریشن ڈائرکیٹریٹ اور اسرائیلی ڈیفنس کمپنیوں کے بیچ تعاون بڑھ رہاہے، جو دونوں ملکوں کے رشتوں میں گرم جوشی کو دکھاتاہے۔اسرائیل ہندوستان کے بے حدبھروسہ مند دفاعی معاونوں کے درجے میں جڑنے کی پوری تیاری کر چکا ہے۔ بڑھتے دہشت گردی کے خلاف اسرائیل کے عزم سے ہندوستان اور اسرائیل کے متعلق اور بھی مضبوط ہوئے ہیں۔ دونوں ہی ملک آپسی تعاون کو کامیاب بنانے کی پرزور کوشش میں لگے ہوئے ہیں۔ ہندوستان اب تک اسرائیل کے قریب ایک درجن فوجی مصنوعی سیارے کو ہندوستانی خلا ئی ریسرچ آرگنائزیشن کے ذریعہ سے پروجیکٹ کرچکا ہے۔
بندیل کھنڈمیں ڈیفنس کاریڈور کی تعمیر کو لے کر اسرائیلی سفیر ڈینئل کارمین کی یوپی کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ سے بھی ملاقات ہو چکی ہے۔ وزیر اعلیٰ کے ساتھ اسرائیلی سفیر کی بات چیت میں ڈیفنس کاریڈور کے ساتھ ساتھ پانی کی بہتری کو لے کر ہوئے معاہدے بھی شامل رہے ہیں۔ اترپردیش ہندوستان کی پہلی ریاست ہے جو واٹر یوٹیلیٹی ریفارم پر اسرائیل کا پارٹنر بنا ہے ۔اترپردیش واٹر کارپوریشن اور اسرائیل کے درمیان ہوئے معاہدے میں اسرائیل کی مدد سے پینے کے صاف پانی کی فراہمی کے ساتھ ساتھ گنگا آلودگی اور بندیل کھنڈ کے زیر زمین پانی کے مسائل پر قابو پانے کا ہدف بھی شامل ہے۔ اسرائیل یو پی میں گنگا کی صفائی کے لئے چلائے جارہے مشن کا بھی حصہ ہے۔ اسرائیل نے اس کے لئے یوپی کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کو مالی اور تکنیکی مدد دینے کی یقین دہانی کی ہے۔بندیل کھنڈ جیسے خشک علاقے میں سینچائی کے پروجیکٹوں میں تکنیکی مدد کے ذریعہ اسرائیل کی رسائی ہوئی ہے۔بندیل کھنڈ میں اسرائیل کی مدد سے کئی منصوبے چل رہے ہیں۔ سماج وادی پارٹی کی سرکار کے دور کار میں جس باندھ کی بنیاد رکھی گئی تھی،وہاں 10ایکٹر کے تین فارم اسرائیل کی مدد سے بنے ہیں۔ ان زرعی فارموں میں پوری تکنیک اسرائیل کی لگی ہے۔ کم پانی میںزیادہ زرعی پیداوار کرنے میں بھی اسرائیل کو مہارت حاصل ہے۔ ہوا سے پانی بنانے کی اسرائیلی تکنیک کا استعمال سماج وادی پارٹی سرکار کے دور کار میں بھی کیا گیا تھا لیکن اسے آگے نہیں بڑھایا جاسکا۔
اسرائیل سے مل رہا ہے استحکام
سچائی یہ ہے کہ اسرائیل کے لئے ہندوستان ہتھیاروں کا اہم خریدار ہے۔ 2012 سے 2016 کے بیچ اسرائیل کے ذریعہ کئے گئے کل ہتھیار ایکسپورٹ میں 41 فیصد حصہ داری ہندوستان کی تھی۔ ہندوستان اسرائیل ہتھیاروں کا تیسرا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔ 2012 سے 2016 کے بیچ اسرائیل کی 7.2 فیصد کی حصہ داری رہی ہے۔ ہندوستان اور اسرائیل کے بیچ تعاون کی شروعات 1962 میں چین – ہند جنگ کے دوران ہی ہوئی تھی۔ اس جنگ کے دوران اسرائیل نے ہندوستان کو فوجی مدد کی تھی۔ 1965اور 1971 میں پاکستان کے ساتھ ہوئی جنگوں کے دوران بھی اسرائیل نے ہندوستان کی مدد کی ۔ اسرائیل کے ساتھ شراکت داری کی ٹھوس مثال 1999 میں کارگل جنگ کے دوران ملی۔جنگ کے دوران جب توپ کے گولے کی کمی ہو گئی تب اسرائیل سے ہی گولوں کی سپلائی ہوئی تھی۔
ہندوستان کے سویلین ہوائی وہائیکل ( یواے وی ) کا ایکسپورٹ بھی اسرائیل سے ہوتاہے۔ اسرائیل سے خریدے گئے 176 یو اے وی میں سے 108 کھوجی یو اے وی ہیں اور 68 ہیرون یو اے وی ہیں۔ اپریل 2017 میں ہندوستان اور اسرائیل نے ایڈوانس میڈیم دوری کی سطح سے ہوا میں مار کرنے والی میزائیل سسٹم کے دو بلین ڈالر (12,878کروڑ روپے ) کے سودے پر دستخط کئے۔ وہ ہندوستانی فوج کو 70 کلو میٹر تک کی حد کے اندر طیارہ ،میزائیل اور ڈرون کو مار گرانے کی صلاحیت دیتا ہے۔ 2016 کے ستمبر میں مشترکہ طور سے ڈیولپڈ سرفیس سے لمبی دوری تک مار کرنے والے ہوائی میزائیل کا بھی تجربہ کیا گیا تھا۔
ہندوستان نے اسرائیل کے ذریعہ بنائی گئی اسپائڈر اسپیڈ والی سطح سے ہوا میں مار کرنے والے میزائیل کا کامیاب تجربہ کیا ۔ہندوستانی فضائیہ اس سسٹم کو اپنی مغربی سرحد پر ت تعینات کرنے کی اسکیم بنا رہا ہے۔ دہشت گردوں کے خلاف ایک مشترکہ پروگرام کے ذریعہ بھی ہندوستان اور اسرائیل دہشت گردوں کے ایشو پر ایک دوسرے کا تعاون کرتے ہیں۔ دونوں ملکوں کے بیچ ڈپلومیٹ رشتوں کے 25 سال کی علامت کے طور پر تین ہندوستانی بحریہ جہازوں، ڈسٹرویار آئی این ایس ممبئی، جنگی توپ آئی این ایس ترشول اور ٹینکر آئی این ایس وغیرہ نے 2017 کے مئی میں اسرائیل کے ھائفہ بندرگاہ تک سدھ بھائونا یاترا کیا تھا۔
اسرائیلی اسپرے سے فسادیوں سے نمٹا جائے گا۔
اترپردیش میں فسادیوں سے نمٹنے کے لئے اسرائیلی ’ اسکنک اسپرے ‘ سے یو پی پولیس کو لیس کرنے کے منصوبے پر تیزی سے کام ہورہا ہے۔ کشمیر کے پتھر بازوں سے سیکھ کر اب یو پی میں بھی بدمعاش اور فسادی پتھر بازی کررہے ہیں۔ کشمیر میں پیلیٹ گن کا استعمال متنازع ہوگیا ہے۔ایسے میں اتر پردیش پولیس اسرائیل میں بنے ’ اسکنک اسپرے ‘ کے استعمال پر غور کر رہی ہے۔ اسرائیلی فوج اپنے ملک میں فسادیوں کو منتشر کرنے کے لئے ’ اسکنک اسپرے ‘ کا استعمال کرتی ہے۔ یو پی کے پروسی ریاست اترا کھنڈ نے اسرائیل سے ’اسکنک اسپرے ‘ ایکسپورٹ کیا ہے۔اس طرح اتر کھنڈ سرکار نے اس کے استعمال کا راستہ کھول دیاہے۔ اترا کھنڈ ’اسکنک اسپرے ‘ کا استعمال کرنے والی ملک کی پہلی ریاست بن گیا ہے۔ اتراکھنڈ پولیس کو اسرائیل سے ابھی دو سو لیٹر ’ اسکنک اسپرے ‘ کی ڈلیوری ملی ہے۔ جبکہ اترا کھنڈ پولیس نے اسرائیل کو 500 لیٹر ’ اسکنک اسپرے ‘ کا آرڈر دے رکھا ہے۔ ’اسکنک اسپرے ‘ کو ہری دوار اور اودھم سنگھ نگر بھی بھیجا گیاہے۔ کشمیر میں فسادیوں اور شدت پسندوں پر پیلیٹ گن کے استعمال کی حقوق انسانی تنظیموں کی طرف سے مخالفت کئے جانے کے سبب اترا کھنڈ سرکار نے ’ اسکنک اسپرے ‘ کا متبادل چنا۔ اسکنک اسپرے آرگینک ہے اور یہ صحت کے لئے نقصان دہ نہیں ہے۔ اس سے اعضاء اور جلد پر کوئی نقصان بھی نہیں پہنچتا۔
دراصل’ اسکنک اسپرے ‘سے مرے ہوئے جانور کی لاش جیسی تیز بدبو نکلتی ہے۔’ اسکنک اسپرے‘ کی ایک بوند بھی جسم پر پڑ جائے تو تین دن تک اس کی بدبو نہیں جاتی۔’ اسکنک اسپرے‘ کا استعمال کرنے والے پولیس اہلکاروں کو اس کے بدبو دار اثر سے بچنے کے لئے ایک خاص طرح کا صابن دیا جاتاہے۔یہ صابن اسکنک اسپرے کے ساتھ ہی ملتا ہے۔یہ صابن بازار میں نہیں ملتا ہے۔’اسکنک‘ امریکہ کے جنگلوں میں پایا جانے والا گلہری جیسا جانور ہے جو شکاری جانوروں سے بچنے کے لئے اپنے جسم سے تیز بدبو چھوڑتا ہے۔ اس کی بدبو اتنی بھیانک ہوتی ہے کہ شکاری جانور اسے برداشت نہیں کر پاتا ہے اور وہاں سے بھاگ کھڑا ہوتا ہے۔ اسرائیل نے فسادیوں سے نمٹنے کے لئے ایسا آرگینک اسپرے تیار کیا ، جس کی بدبو بالکل اسکنک جانور کے جسم سے نکلنے والی بدبو جیسی ہے۔ ’اسکنک اسپرے ‘کا استعمال پانی کے ساتھ کیا جاتاہے۔ بھیڑ کو منتشر کرنے کے لئے پولیس پانی کی بوچھار کرتی ہے یا آنسو گیس کے گولے داغتی ہے لیکن اب بھیڑ اس کی عادی ہو گئی ہے۔’ اسکنک اسپرے‘ سے بے قابو بھیڑ کو آسانی سے بھگایا جاسکتاہے۔ اترا کھنڈ کے بعد اب جموں و کشمیر پولیس نے بھی’ اسکنک اسپرے‘ کا آرڈر ہے۔
موساد کی ٹریننگ
’ڈیفنس کاریڈور‘ بنانے کے منصوبے کے پہلے ہی ہندوستانی فوج کے کمانڈوز کو اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد سے ٹریننگ دلانے کا کام شروع کیا جاچکا تھا۔ اب پولیس کو بھی موساد کے ایکسپرٹ سے ٹریننگ دلانے کی تیاری ہے۔ نیم فوجی دستوں کے کمانڈوز کو بھی موساد ٹریننگ دے گی۔ ابھی تک کوبرا کمانڈوز اور کچھ خاص چنیدہ جوانوں کو ہی موساد سے ٹریننگ دلوائی جاتی تھی۔ اسرائیل کی مرکزی خفیہ ایجنسی موساد کو انسٹی ٹیوت فار انٹلی جینس اینڈ اسپیشل آپریشن کے نام سے بھی جانا جاتاہے۔
ہندوستانی خفیہ ایجنسی ’ را ‘ ( ریسرچ اینڈ انالائسس ونگ ) اور’ موساد‘ کے ساتھ مل کر معلومات کے تبادلے کی خبریں تو ملتی رہی ہیں لیکن اسپیشل کمانڈوز کو موساد سے ٹریننگ دلانے کی خبریں اب چھن کر آرہی ہیں۔ کچھ عرصہ پہلے ’ موساد ‘کے انوسٹی گیشن ونگ نے دہلی پولیس کے کچھ خاص افسروں کو دو ہفتے کی خصوصی ٹریننگ دی تھی۔ اس ٹریننگ کے لئے دہلی پولیس کی الگ الگ برانچوں مثلاً ، اسپیشل سیل، بم ڈسپوزل اسکواڈ،فارنسک سائنس لیبارٹی اور ٹریننگ برانچ کے 31 پولیس افسروں کو چنا گیا تھا۔ اسرائیلی خفیہ ایجنسی کے ماہرین ہندوستانی سیکورٹی دستے کے کمانڈوز کے دہشت گردوں اور دہشت گر دگروہوں کے سلیپر سیل سے نمٹنے کی خاص ٹریننگ دے رہے ہیں۔
’موساد‘ کے ذریعہ ہندوستانی سیکورٹی فورس کو ٹریننگ دیئے جانے کے بعد ہی کئی نکسلی تنظیموں نے بھی یہ خبر اڑائی کہ نکسل مخالف آپریشن میں اسرائیل کا تعاون لیا جارہاہے۔ کچھ نکسلی تنظیموں نے باقاعدہ تحریری بیان جاری کر کے کہا کہ نکسل مخالف آپریشن میں لگے پولیس اہلکاروں کو اسرائیلی ہتھیار مل رہے ہیں اور انہیں اسرائیلی ماہرین کے ذریعہ ٹریننگ دی جارہی ہے۔ نکسلی تنظیموں کے الزامات کو وزارت داخلہ نے مسترد کردیا لیکن دہشت گردی مخالف کارروائیوں میں اسرائیلی ماہرین کی مدد لینے کے بارے میں وزارت داخلہ کے آفیسر حامی بھرتے ہیں۔وزارت داخلہ کے مذکورہ آفیسر نے بتایا کہ کچھ چنے ہوئے آئی پی ایس افسروں کو اسرائیل بھیج کر خصوصی ٹریننگ دلوائی جاچکی ہے۔ ان آئی پی ایس افسروں کو سیدھے نیشنل پولیس اکیڈمی سے چن کر اسرائیل بھیجا گیا تھا جہاں انہیں دہشت گردوں سے نمٹنے کے لئے خاص ہنر سکھائے گئے۔ دو الگ الگ کھیپ میں آئی پی ایس افسروں کی دو ٹیمیں اسرائیل بھیجی گئی تھیں۔ ٹریننگ پائے ہندوستانی افسروں کو اسرائیلی وزارت دفاع کے انٹرنیشل ڈیفنس کو آپریشن ڈائریکٹریٹ (سی باٹ ) بھی لے جایا گیا تھا اور انہیں مشکل صورت حال سے نمٹنے کی خاص ٹریننگ دی گئی تھی۔
قابل ذکر ہے کہ اترپردیش میں ڈیفنس کاریڈور کی تعمیر میں سی باٹ اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ ادھر مدھیہ پردیش سرکار بھی دہشت گردوں کا صفایا کرنے کے لئے اسرائیلی فوج سے مدد لینے کے بارے میں غور کر رہی ہے۔ اسرائیل کے ساتھ مدھیہ پردیش سرکار کا اتفاق ہوگیا ہے۔ اس اتفاق رائے کے تحت اسرائیلی فوج اب مدھیہ پردیش پولیس کو دہشت گردوں سے نمٹنے کے لئے خاص ٹریننگ دے گی۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *