صحرائی کے بیٹے جنید کے ملی ٹینٹ بننے کے معنی ؟

علاحدگی پسند کیمپ میں سیاسی اتھل پتھل کے بیچ ،ایک غیر معمولی سانحہ اس وقت ہوا، جب تحریک حریت کے حالیہ منتخب صدر کا بیٹا ملی ٹینٹ تنظیم حزب المجاہدین میں شامل ہو گیا۔ یہ ایک ہلچل پیدا کرنے والی خبر تھی،کیونکہ حال کے برسوں میں پہلی بار ایسا ہائی پروفائل سانحہ سامنے آیا ہے۔ علاحدگی پسند لیڈر سید علی شاہ گیلانی کے لمبے وقت سے معاون رہے اشرف صحرائی کو 18 مارچ کو تحریک حریت کے چیف کی شکل میں نامزد کیا گیا تھا اور 25مارچ کو صحرائی کے بیٹے جنید کی اے کے 47 رائفل لئے ہوئے تصویر وائرل ہو گئی۔ وہ حزب المجاہدین میں شامل ہو گیا تھا۔ جنید نے کشمیر یونیورسٹی سے ایم بی اے کیا ہے، اس لئے اس کا تشدد کے راستے پر جانا کئی اشارے دیتا ہے۔ پچھلے کچھ برسوں میں کشمیر میں ایک انتہائی پیچیدہ صورت حال بنی ہے،ایسے میں تشدد کا راستہ ایک اہم موڑ لے سکتاہے۔
صحرائی کا تحریک حریت کا صدر بننا اپنے آپ میں ایک اہم واقعہ تھا اور بہت سے لوگ انہیں حریت کانفرنس میں گیلانی کے جانشیں کے طور پر بھی دیکھتے ہیں۔ ادھر کئی کشمیری نوجوان پچھلے کچھ سالوں میں دہشت گرد کیمپوں میں شامل ہوئے ہیں۔ ملی ٹینسی کا پوسٹر بوائے بنے برہان وانی کے قتل نے نوجوانوں کو اس طرف جانے کے لئے اور زیادہ متوجہ کیا ہے۔ ماں باپ اپنے بچوں پر سے کنٹرول کھو رہے ہیں۔ حال کے دنوں میں ماں باپ کے ذریعہ اپیل کئے جانے کے بعد کچھ نوجوان گھر واپس بھی آئے ہیں ۔حالانکہ ملی ٹینٹ کیمپ میں شامل لوگوں کی بڑھتی ہوئی تعداد تشویش کا موضوع ہے۔ رپورٹ کے مطابق 2018 کے پہلے تین مہینوں میں 27 لڑکے ملی ٹینٹ کیمپ میں شامل ہوگئے اور اب وہ باقاعدہ اے کے 47 کے ساتھ لی گئی اپنی تصویروں کے ذریعہ لوگوں کے سامنے خود کو پیش کررہے ہیں۔
شمولیت کا وقت اہم
صحرائی کا بیٹا ایسے وقت میں ملی ٹینٹ کیمپ میں شامل ہوا ہے ،جب اس کے والد کو ایک نیا کردار نبھانا ہے۔ جنید نے چار مہینے پہلے ای پیمنٹ کمپنی پے ٹی ایم کی اپنی نوکری چھوڑ دی تھی اور شاید یہ مشکل قدم اٹھانے کی تیاری کر رہا تھا۔ کیا یہ ایک اتفاق تھا کہ اس نے اپنے والد کے تحریک حریت کا صدر بننے کے فوری بعد یہ قدم اٹھایا؟اس سوال کا جواب تو صرف وہی دے سکتاہے لیکن صحرائی کے مطابق یہ متبادل خود جنید نے اپنے لئے چنا ہے۔ ان کاکہنا ہے کہ ’وہ اپنے راستے پر خود گیا ہے۔خدا کے حوالے، اس کو وہی سمجھ میں آیا کہ مجھے ایسا کام کرنا چاہئے۔ ہم بہت ظلم و ستم میں ہیں‘۔انہوں نے کوئی تأسف ظاہر نہیں کیا۔
حال ہی میں ایک انٹرویو میں انہوں نے ’ ہندوستانی قبضے کو ختم کرنے ‘ کی جدو جہد کی شکل میں تشدد کے راستے کو مناسب ٹھہرایا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ ’بندوق اور ہماری سیاسی جدو جہد ‘ دونوں اہم ہیں اور دونوں ہی اپنا کردار نبھا رہے ہیں۔ ہمارے نوجوان آزادی کے لئے اپنا خون بہا رہے ہیں۔ وہ تانا شاہ کے خلاف ہتھیار اٹھاتے ہیں اور اسلام ہمیں تانا شاہ کے خلاف ایسا کرنے کے لئے کہتاہے۔ میرا ماننا ہے کہ مسلح مزاحمت دنیا کی ہر تحریکِ آزادی کا ایک اٹوٹ حصہ ہے‘۔
بہت سے لوگ مانتے ہیں کہ صحرائی اپنے لیڈر (گیلانی ) سے کہیں زیادہ شدت پسند ہیں، اگرچہ بولنے میں وہ نرم ہیں، لیکن پھر بھی کشمیر ایشو پر ان کے نظریہ نے ہی انہیں گیلانی کا جانشیں بنایا۔حالانکہ کشمیر ایشو کے حل کے لئے وہ سیاسی جدو جہد کا سہارا لیتے ہیں لیکن انہوں نے ان سرکاری افسروں سے بات کرنے سے انکار کر دیا، جنہوں نے انہیں اپنے بیٹے کو واپس آنے کے لئے اپیل کرنے کو کہا تھا۔ حالانکہ ان کے لئے ایسا کرنا ممکن نہیں ہے۔ ایک لیڈر کی شکل میں ، ان کے لئے تشدد میں شامل دوسرے نوجوانوں کی شرکت کو جائز ٹھہرانا مشکل ہوگا۔
حالانکہ جنید کے فیصلے نے کثیر الجہات بحث کو جنم دیاہے۔ بہت سے لوگ اسے اس سوال کا جواب بھی مانتے ہیں کہ حریت لیڈروں کے بیٹے کوئی دیگر کیریئر چننے کی جگہ بندوق کیوں نہیں اٹھائے؟سرکاری ملازم اور زیادہ تر ٹی وی چینل اس کا استعمال اپنی سہولت کے حساب سے کریں گے، کیا یہ واقعہ انہیں خاموش رکھ سکے گا؟پریشانی والی بات یہ ہے کہ کشمیر تحریک کا رنگ پھر سے بدل گیاہے۔ تشدد سے امن کی طرف جانے کی بات اب ماضی کا حصہ بن چکی ہے۔ تشدد کے راستے کا انتخاب کرنے والے نوجوانوں کو اب سماجی قبولیت مل رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جنید کے ملی ٹینٹ کیمپ کی طرف بڑھنے کے بعد کسی نے کوئی سنگین سوال نہیں اٹھایا۔
دوسری طرف حزب المجاہدین کے لئے جنید کی انٹری ایک بوسٹر کی طرح ہے۔ برہان کے قتل کے بعد حزبل میں قیادت کا بحران تھا۔ اس کے علاوہ اس تنظیم کو آئی ایس یا داعش کے نظریات سے بھی چیلنج مل رہاہے۔ تحریک حزب المجاہدین کے ایک ملی ٹینٹ عیسیٰ فضیلی کے آخری رسومات کے وقت کچھ لوگوں نے اسے آئی ایس کے جھنڈے میں لپیٹ دیا تھا۔حالانکہ اس نظریہ کے لوگ تعداد میں کم تھے، لیکن ان کی پالیسی یہ رہی ہے کہ وہ دکھائیں کہ وہ سبھی جگہ موجود ہیں۔ حزب المجاہدین کے توسط سے چلائے جارہے جماعت اسلامی کے نظریہ کو ان حقائق کے ذریعہ چیلنج ملا ہے۔ یہاں تک کہ افسروں کا بھی کہنا ہے کہ کشمیر کا آئی ایس ایک فرنج ایلی منٹ ہے۔ ایسے نظریہ والے لوگ کم ہی جگہوں پر، لیکن وہ اپنی موجودگی محسوس کراتے رہتے ہیں۔
بہت سے لوگ مانتے ہیں کہ جنید حزب (حزب المجاہدین ) کے لئے ایک مضبوط سیاسی سرمایہ کاری کی شکل میں قیادت دے سکتاہے اور اس سے جماعت کو کھویا میدان حاصل کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔سڑک پر یہ کہا جارہاہے کہ جنید ہمارا اپنا لڑکا ہے۔ حالانکہ جماعت باضابطہ طور سے 90 کی دہائی کی شروعات والی حزب کو نہیں اپناتی ہے۔ بہر حال ملی ٹینٹ کیمپ میں جنید کے آنے کے بعد سے اور زیادہ نوجوان ادھر آنے کے لئے راغب ہو سکتے ہیں۔ ویسے ایک بات صاف ہے کہ صحرائی اور ان کے بیٹے کا نیا کردار ایک بہت ہی اہم وقت پر سامنے آیا ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *