کیا داعش افغانستان میں دوبارہ فعال ہو رہا ہے؟

شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ داعش کو عراق اور شام میں بڑی حد تک شکست دی جا چکی ہے اور اب اس کے بچے کھچے جنگجو دور دراز کے علاقوں میں چھپ گئے ہیں، لیکن حال ہی میں آنے والی خبروں سے لگتا ہے کہ وہ افغانستان میں پھر سے فعال ہونے کی کوشش کر رہی ہے۔
پاکستان کے قومی ادارہ برائے انسداد دہشت گردی (نیکٹا) کے قومی رابطہ کار احسان غنی کا ایک بیان آیا ہے کہ پاکستان کو داعش کی طرف سے خطرہ ابھی تک لاحق ہے تاہم فی الحال داعش افغانستان تک محدود ہے۔ کچھ دنوں قبل افغانستان کے بارے روس کے نمائندہ خصوصی ضمیر کابلوف نے بھی یہی بات دہراتے ہوئے کہا تھا کہ افغانستان میں داعش کے کم از کم 7 ہزار جنگجو موجود ہیں۔دوسری طرف معروف دفاعی تجزیہ کار بریگیڈیئر سعد محمد کہتے ہیں کہ داعش پاکستانی سرحد کے قریب افغانستان کے دو صوبوں ننگرہار اور کنٹر میں مرکوز ہے۔اس کے علاوہ ان صوبوں میں دو پاکستانی تنظیمیں بھی سرگرمِ عمل ہیں، جماعت الاحرار اور دوسری لشکرِ اسلامی۔ یہ تنظیمیں داعش کو قدم جمانے میں مدد دے رہی ہیں۔
افغانستان کی وزارتِ دفاع کے عوامی امور کے قائم مقام سربراہ جنرل محمد رادمنش نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ داعش کے اہلکار چھوٹے چھوٹے گروپوں میں کارروائیاں کرتے ہیں اور صرف تین صوبوں، ننگرہار، کنڑ اور جزوان تک محدود ہیں اور وہ اس پوزیشن میں نہیں ہیں کہ افغانستان یا خطے کے لیے خطرہ بن سکیں۔ ہم یقینی طور پر جانتے ہیں کہ یہ تنظیم اتنی مضبوط اور فعال نہیں ہے جتنا افواہوں میں بیان کیا جاتا ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ امریکہ نے پہلے ہی داعش کے اہم رہنماؤں پر حملے کر کے ان کے چند رہنماؤں کو ٹھکانے لگا دیا ہے جس کے بعد یہ اس طرح فعال نہیں ہیں جس طرح تین چار سال قبل تھے، لیکن پھر بھی دو صوبوں میں ان کا اچھا خاصا اثر رسوخ موجود ہے۔
جنرل محمد نے مزید کہا کہ شروع میں عراق اور شام سے کچھ عرب افغانستان آئے تھے جنھوں نے یہاں کے مقامی جنگجوؤں کو ٹریننگ دی تھی اور انھوں نے افغانستان اور پاکستان کو اپنی خلافت کا خراسان صوبہ قرار دیا تھا۔ لیکن اب افغان داعش کا اصل تنظیم سے تعلق نہیں ہے اور یہ خود مختاری سے کام کر رہی ہے اور اس میں افغانوں کے علاوہ پاکستانی بھی شامل ہیں۔یہ افغانستان کے مخصوص علاقوں میں رہ کر اپنی کارروائی انجام دے رہے ہیں۔

 

 

 

 

 

 

 

 

دوسری طرف پاکستانی حکام داعش کی پاکستان میں موجودگی سے مکمل انکار کرتے رہے تھے لیکن پھر خود ہی فوجی حکام نے کئی مرتبہ اپنے بیانات میں اس شدت پسند تنظیم کے مراکز ختم کرنے اور مشتبہ افراد گرفتار یا ہلاک کرنے کے اعلانات بھی کیے۔قارئین کو یاد ہوگا کہ گذشتہ سال ستمبر میں پاکستان، افغانستان اور امریکہ کے سینئر فوجی حکام نے کابل میں ملاقات کر کے یہ عزم کیا تھا کہ مزید تعاون اور معلومات کے زیادہ تبادلے کے ذریعے داعش کا اس خطے میں مکمل خاتمہ کیا جائے گا۔سندھ اور بلوچستان میں صوفی مزاروں پر خودکش حملوں کے علاوہ بلوچستان میں گذشتہ برس پاکستانی سیینٹ کے ڈپٹی چیئرمین اور جمعیت علمائے اسلام کے رہنما عبدالغفور حیدری پر حملے کی ذمہ داری بھی داعش ہی نے قبول کی تھی۔یہ اس بات کے شواہد ہیں کہ افغانستان سے داعش کا خاتمہ کلی طور پر نہیں ہوا ہے۔
اس سے یہ بات صاف ہوجاتی ہے کہ داعش مستقل طورپر خطہ کے لئے خطرہ بنے ہوئے ہیں۔خاص طورپر انہوں نے خطہ کی کئی دہشت گرد تنظیموں سے اتحاد بنالیا ہے جس سے ان کی قوت میں کافی اضافہ ہوا ہے اور یہ امن و امان کے لئے سنگین خطرہ بنے ہوئے ہیں۔خاص طور پر القاعدہ کے ساتھ اس کا ممکنہ اتحاد زیادہ تباہ کن ثابت ہوگا ۔نیز طالبان کے رابطے میں حقانی نیٹ ورک، لشکر طیبہ اور القاعدہ بھی ہیں۔ ان پانچ تنظیموں کا ایک غیر رسمی اتحاد ہے اور یہ ایک دوسرے کی مدد کرتی ہیں۔چنانچہ امریکی فوجی جنرل نکلسن نے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ دولتِ اسلامیہ، ازبکستان اسلامی موومنٹ اور تحریک طالبان پاکستان نے بھی ایک غیر رسمی اتحاد بنا لیا ہے۔
وہ مزید کہتے ہیں کہ القاعدہ اور دولت اسلامیہ کے مقاصد کسی ملک تک محدود نہیں ہیں۔وہ امریکہ اور امریکی اتحادیوں کے خلاف کارروائی کرنے کے مقاصد رکھتے ہیں۔ اسی لیے وہ ہماری فہرست میں سب سے اوپر ہیں۔ دیگر تنظیموں پر بھی ہمیں تشویش ہے مگر یہ تنظیمیں مخصوص خطے تک محدود ہیں۔ مثال کے طور پر القاعدہ برصغیر میںاپنی کارروائیاں خطے تک محدود رکھتی ہے۔ بہت سی تنظیمیں پاکستان میں موجود ہیں اور کچھ افغانستان میں کارروائیاں کرتی ہیں۔ جیش محمد، لشکر طیبہ کے جنگجو افغانستان میں آ کر لڑتے ہیں۔اان کا کہنا ہے کہ پاکستان اور افغانستان اس لیے اہم ہے کہ امریکہ کی جانب سے 98 تنظیموں کو دہشت گرد قرار دیا گیا ہے اور ان دہشت گرد تنظیموں میں سے 20 تنظیمیں اس خطے میں موجود ہیں۔ ایسا دنیا کے کسی خطے میں نہیں ہے۔بہر کیف طالبان تو افغانستان میں موجود ہے ہی،اس کے علاوہ دیگر کئی تنظیمیں بھی ہیں جو خطہ کے امن کے لئے خطرہ بنی ہوئی ہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *