گولڈ کوسٹ کامن ویلتھ کھیل:ہندوستان کل 66تمغوں کے ساتھ تیسرے نمبرپررہا

Commonwealth-Games
آسٹریلیا کے گولڈ کوسٹ شہر میں 21 ویں کامن ویلتھ کھیلوں کا اختتام 15 اپریل 2018کوایک پرکشش اور رنگا رنگ تقریب کے ساتھ ہوا۔یہ 4 اپریل 2018سے شروع ہواتھا۔ کامن ویلتھ کھیل کے کامیاب اختتام کی خوشی میں کرارااسٹیڈیم کھیل کے پریمیوں سے بھراہوا تھا۔ہندوستان کا 226رکنی دستہ کامن ویلتھ کھیلوں میں اچھے کھیل کا مظاہرہ کیا۔ ہندوستانی ایتھلٹوں نے اپنے دمدار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے 26طلائی، 20 چاندی اور20کانسہ سمیت 66 تمغے حاصل کئے۔ تمغے زمرے میں ہندوستان تیسرے مقام پرہا جبکہ 198تمغوں کے ساتھ میزبان آسٹریلیا پہلے مقام پر اورانگلینڈ 136 تمغوں کے ساتھ دوسرے مقام پر رہا ۔ اختتامی تقریب میں ہندوستان کے ایتھلیٹ ترنگے کے ساتھ نظر آئے۔ تقریب کے اختتام پرکامن ویلتھ کھیل میں شامل ہوئے سبھی ملکوں کے کھلاڑیوں نے اپنے اپنے ملک کے جھنڈے کے ساتھ مارچ نکالا۔
یوتھ یندی اور دی ٹی ٹی پروجیکٹ آسٹریلیا کا ایک میوزکل گروپ ہے، جس نے تقریب میں سماں باندھا۔ آسٹریلیائی گلوکارہ سامنتھا جاد نے بھی دولت مشترکہ کھیلوں کے اختتام کی خوشی میں اپنے کئی گیت گائے اور لوگوں کوجھومنے پرمجبور کردیا۔ میوزیکل آرٹسٹ ٹونڈی فینکس نے کئی سپورٹنگ ڈانسر کے ساتھ اپنا جلوہ دکھایا۔خوشی میں جھومتے ہوئے دنیا بھرکے کھلاڑیوں نے 21ویں کامن ویلتھ گیمز سے وداع لینے کے موقع پر سیلفی لئے۔
ہندوستان نے گولڈ کوسٹ میں 26 طلائی سمیت کل 66تمغے جیتے جن میں سے تقریباً نصف کی شراکت خواتین کھلاڑیوں کی رہی۔طلائی تمغوں کی بات کی جائے توہندوستان کے 26طلائی میں سے 12خواتین کھلاڑیوں نے دلائے جبکہ 20سلور تمغوں میں 11تمغے خواتین کھلاڑیوں کے حصے میں آئے۔ہندوستان کے 20کانسہ تمغوں میں 7خواتین کھلاڑیو ں نے جیتے۔اس طرح خواتین کھلاڑیوں کے حصے میں کل 66 تمغوں میں سے 30تمغے رہے۔ خاتون گولڈن فاتحین میں بیڈ منٹن اسٹار سائنانہوال، مکے باز ایم سی میریکوم، شوٹر مانو بھاکر، حناسدھو، تیجسونی ساونت اورشریسی سنگھ، ٹیبل ٹینس کھلاڑی منیکا بترا اورخاتون ٹیم ، ویٹ لفٹر میرابائی چانو، سجیتاچانو اور پونم یادو اورپہلوان ونیش پھوگاٹ شامل رہے۔
ہندوستانی شٹلر سائنا نہوال نے اولمپک میں چاندی کا تمغہ حاصل کرنے والی پی وی سندھوکو شکست دے کر بیڈ منٹن خواتین سنگلز میں سونے کا تمغہ جیتا۔ ان کھیلوں میں سونے کے دوتمغے جیتنے والی پہلی ہندوستانی بیڈمنٹن کھلاڑی بھی بن گئی ہیں۔ سائنا کے نام 2010کے دہلی دولت مشترکہ کھیلوں کا سونے کا تمغہ بھی ہے۔
saina-nehwal
ہندوستانی کھیلوں کے گڑھ بن چکے ہریانہ کے کھلاڑیوں نے 21ویں گولڈ کوسٹ کامن ویلتھ کھیلوں میں ہندوستانی تمغے جیتنے والوں میں دبدبہ بناتے ہوئے سب سے زیادہ تمغے جیتے۔ ہندوستان نے ان کھیلوں میں 26طلائی سمیت کل 66تمغے جیتے جس میں ہریانہ کے کھلاڑیوں نے 9طلائی ، 6چاندی اور7کانسے اپنے نام کئے۔ہریانہ کے کھلاڑیوں نے گذشتہ گلاسگودولت مشترکہ کھیلوں سے اس باردوتمغے زیادہ جیتے ۔گلاسگو میں ہریانہ کے کھلاڑیوں نے پانچ طلائی سمیت 20تمغے جیتے تھے۔
ہندوستان کا 226رکنی دستہ ان کھیلوں میں اترا جس میں ہریانہ کی جانب سے 20مرد اور17خواتین کھلاڑیوں سمیت کل 37کھلاڑی شامل تھے۔ ہریانہ کے کھلاڑیوں نے 11مقابلوں میں حصہ لیا۔ ہریانہ کے کھلاڑیوں نے شوٹنگ اورکشتی میں تین تین طلائی ، باکسنگ میں دوسونے اورایتھلیٹکس میں ایک تمغہ جیتا۔
بہرحال کامن ویلتھ کھیل میں ہندوستان نے اپنے کھلاڑیوں کے شاندارکارکردگی بدولت 26طلائی ، 20چاندی اور 20کانسہ سمیت کل 66تمغے جیت کر گولڈ کوسٹ میں 21ویں دولت مشترکہ کھیلوں میں اپنی تاریخ کا تیسربہترین مظاہرہ کیا۔ وہیں ہندوستان نے ان 66تمغوں کے ساتھ کامن ویلتھ کھیلوں کی تاریخ میں 500تمغے بھی پورے کرلئے اوریہ کامیابی کرنے والا وہ پانچواں ملک بن گیا۔
ہندوستان نے 2014کے گلاسگو کامن ویلتھ کھیلوں کی 15طلائی سمیت 64کی کل میڈل کی تعدادکو کہیں پیچھے چھوڑ دیا۔ ہندوستان کا کامن ویلتھ کھیلوں میں بہترین اپنی میزبانی میں 2010دہلی میں دوسرا مقام رہاتھا جہاں اس نے 38طلائی سمیت کل 101تمغے جیتے تھے۔ ہندوستان نے 2002کے مانچسٹر کامن ویلتھ کھیلوں میں 30طلائی سمیت 69تمغے جیتے تپے اوراس وقت وہ چوتھے نمبر پررہاتھا۔کامن ویلتھ کھیلوں کی تاریخ میں ہندوستان کے اب کل 504تمغے ہوگئے ہیں جن میں 181طلائی ، 175چاندی اور 148کانسی شامل ہیں۔بہرکیف گولڈ کوسٹ میں 21ویں کامن ویلتھ کھیلوں میں ہندوستان کے نوجوان کھلاڑیوں نے 2020 کے ٹوکیو اولمپکس کیلئے ابھی سے امیدیں روشن کرلی ہے۔
21ویں دولت مشترکہ کھیلوں کے اختتام پرکئی سینئرشامل ہوئے ۔کھلاڑ یوں اوردیگر لوگوں کے سامنے گولڈ کوسٹ شہر کے میئر تھامس رچرڈ ٹیٹ نے خطاب کیا۔کرارا اسٹیڈیم میں 2018کامن ویلتھ کھیل کے اختتامی تقریب کے دوران برطانیہ کے پرنس ایڈورڈ نے خطاب کیا۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *