ہندوستان تنوع والا ملک ہے

ہنگامے کے بیچ فنانس بل منظور کرنے اور راجیہ سبھا کے نئے اراکین کے حلف کے علاوہ پارلیمنٹ کے اس سیشن میںکوئی کام نہیںہوا۔ 2014 میںجب یہ سرکار آئی ، تب سے پارلیمنٹ کا کام ٹھیک سے نہیںچل رہا ہے۔ دراصل، پارلیمنٹ ایک دو طرفہ نظام ہے۔ ایک کہاوت ہے۔’اپوزیشن اپنی بات کہتا ہے، سرکار اپنا کام کرتی ہے۔‘ لیکن یہاںسرکار،اپوزیشن کو سننا ہی نہیںچاہتی ہے کیونکہ اپوزیشن مشکل سوال پوچھ رہا ہے۔پارلیمنٹ سے چشم پوشی کرکے سرکار عوام کے بیچ اپنی ساکھ کو بچاسکتی ہے لیکن یہ جمہوریت کے لیے ٹھیک نہیںہے۔ پارلیمانی نظام میںتحریری سوال کا جواب تحریر میںدیے جانے کا پروویژن ہے۔ حال ہی میںترنمول کانگریس کے رکن پارلیمنٹ نے ایک سوال پوچھاکہ 2014 کے بعد بینکوںکا کتنا لون رائٹ آف (جو قرض وصول کرنا ناممکن ہوگیا ہو) کیا گیا ہے۔ وزیر مملکت برائے مالیاتی امور نے جواب دیا کہ اپریل 2014 سے ستمبر 2017 کے بیچ 2 لاکھ 41 ہزار کروڑ روپے کا لون رائٹ آف کیا گیا ہے۔ ظاہر ہے ، اس کے لیے سرکار عمل اور ضابطوںکا حوالہ دے گی لیکن سچائی یہ ہے کہ وزیر اعظم، وزیر مالیات اور بی جے پی کے صدر امت شاہ ہر پبلک فورم سے کہتے رہے ہیںکہ ہم نے کارپوریٹ سیکٹر کا کوئی لون معاف نہیں کیا ہے۔ چونکہ پارلیمنٹ میںسرکار جھوٹ نہیں بول سکتی،اس لیے یہ حقیقت سامنے آگئی۔
میں یہ نہیںکہتا کہ لون رائٹ آف کرنا صحیح ہے یا غلط۔ میںصرف بھونڈے طریقہ کار کی بات کر رہا ہوں۔ سرکار پارلیمنٹ اور پارلیمنٹ سے باہر ایک ہی حقیقت کے الگ الگ اعداد وشمار نہیںپیش کرسکتی ہے۔ جمہوریت ایسے نہیںچلتی ہے۔ پارلیمنٹ میںکام نہ ہونا افسوسناک ہے۔ بے شک بی جے پی کے اپنے ہتھکنڈے ہیں۔ ان کی طرف سے یہ اعلان ہوا کہ این ڈی اے کے اراکین پارلیمنٹ 22 دن کی تنخواہ نہیںلیںگے۔اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا اس سے مسئلہ حل ہوجائے گا؟ کیا ملک کا بجٹ اس پر انحصار کرتا ہے کہ 700اراکین پارلیمنٹ اپنی تنخواہ لیتے ہیںیا نہیں؟ سرکار اپنے آپ کو بے وقوف بنا رہی ہے۔ اس طرح کی چیزوں کا عوام پر کوئی اثر نہیںپڑتا۔ ایک سرمایہ دار سرکار کے ایک بینک سے 11 ہزار کروڑ روپے لے کر ملک سے باہر چلا جاتا ہے اور یہاں یہ جتانے کی کوشش کی جارہی ہے کہ این ڈی اے کے اراکین پارلیمنٹ کچھ کروڑ روپے نہیںلیںگے۔ اگر سرکار 2 لاکھ 41 ہزار کروڑ روپے کا لون رائٹ آف کرسکتی ہے تو پھر کسی کو صرف 11 ہزار کروڑ کے لیے غیر ملک بھاگنے پر کیسے مجبور کرسکتی ہے؟ ایسے لوگوں کے ساتھ بھی بیٹھ کر لون کا سیٹلمنٹ کیا جاسکتا ہے۔ میری جانکاری میںیہ پہلی سرکار ہے جو منمانے طریقے سے کسی کو پکڑتی ہے یا چھوڑتی ہے۔ سرکار کے پاس کوئی ایک یکساں معیار نہیںہے۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 

ایمرجنسی میںبھی پریس اور سیاسی حریفوںکے علاوہ کسی اور چیز سے چھیڑ چھاڑ نہیںکی گئی تھی۔ موجودہ سرکار اپنے دور کے آخر تک سماج کے ہر طبقے میں ناراضگی پیدا کردے گی۔ پریس حالانکہ سینسرڈ ہے،پھر بھی پیسے سے اور خوف سے متاثر کیا جا رہا ہے۔۔ ایڈیٹر اور صحافی مایوس ہیں۔میںبنانا ریپبلک کی تعریف نہیںجانتا لیکن مجھے لگتا ہے کہ شاید بنانا ریپبلک ایسی ہی حالت کو کہتے ہیں۔ لوگوںسے کچھ کہا جارہا ہے،ہوکچھ رہا ہے۔ ان سب کے بیچ سچائی کا پتہ نہیں۔ کیا یہ سرکار آنے والی سرکاروںکے لیے کوئی نیا معیار تیارکر رہی ہے؟ پہلے بھی میںنے فوج کے سربراہ کے بارے میںکہا تھا کہ وہ ہر معاملے میںایسے بولتے ہیں گویا سرکار کے وزیر ہوں۔ یہ اچھا اشارہ نہیں ہے۔ آنے والی سرکاروں کے لیے کام کرنا مشکل ہوجائے گا۔ ظاہر ہے، کوئی مضبوط وزیر اعظم ہوتا تو ان حالات کو ایک ہفتے میںٹھیک کرسکتا تھا۔
اب سرکار اور عدلیہ کے بیچ کے نازک تعلق کی بات کرتے ہیں۔ سپریم کورٹ کے چار جج پہلے ہی بتا چکے ہیںکہ چیف جسٹس کیسے کام کررہے ہیں۔ کانگریس چیف جسٹس کے خلاف مواخذے کی تجویز لانا چاہتی ہے۔ حالانکہ یہ تجویز منظور نہیں ہوسکتی، کیونکہ کانگریس کے پاس وافر تعداد نہیںہے۔ لیکن سرکار کا کہنا ہے کہ کانگریس اجودھیا پر آنے والے فیصلے کو ٹلوانا چاہتی ہے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ سرکار کو پہلے سے معلوم ہے کہ اجودھیا کا فیصلہ کیا آنے والا ہے۔ یہ بات صاف ہوجانی چاہیے کہ کوئی بھی جج یہ فیصلہ نہیںدے سکتا کہ وہاں مندر بنے گایا مسجد؟ ملک کے ہندو اور مسلمان آپس میںبیٹھ کر فیصلہ کریں گے کہ دونوں فریقوں کے لیے پر امن حل کیا ہے؟ عدالتی فیصلے سے صرف بد امنی پھیلے گی جیسی کہ پچھلے دنوں ایس سی، ایس ٹی ایکٹ کے معاملے میںدیکھنے کو ملی۔ اس فیصلے میںصرف گرفتاری کی لازمیت ختم کی گئی تھی۔ اس پر ایسا ردعمل ہوا جیسے ریزرویشن ہی ختم کردیا گیا ہو۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ عدلیہ سماجی تبدیلی کا نہیں بلکہ جوںکی توںحالت بنائے رکھنے کا ذریعہ ہے۔ اگر اگزیکٹو اپنی حدکو پھلانگتی ہے تو عدلیہ عام شہریوں کو راحت دینے کے لیے سامنے آتی ہے۔ اگر سرکار عدالت کے ذریعہ سماجی تبدیلی لانا چاہتی ہے تو وہ خود کا نااہل ثابت کررہی ہے۔سرکار کو سماجی تبدیلی لانے لیے بھی چنا جاتا ہے۔ اگر وہ یہ کام نہیںکرنا چاہتی تو اسے استعفیٰ دے دینا چاہیے۔ یہ کام کوئی اور کرے گا۔ چیف جسٹس کے خلاف مواخذہ لانے کے کانگریس کے فیصلے پر سرکار کے رخ سے اشارہ ملتا ہے کہ چیف جسٹس یہ فیصلہ دیں کہ اجودھیا میںمندر بنے۔ کیا آپ کو لگتا ہے کہ تب سماج میںاس طرح کا ردعمل نہیںہوگا جیسا ردعمل ابھی ایس سی، ایس ٹی ایکٹ معاملے میںدیکھنے کو ملا ہے۔
ہندوستان تنوع والا ملک ہے۔ہندوتو کی سیاست کے رہنما مسلمانوں کے خلاف ماحول بنانے کی کوشش کررہے ہیں۔ مسلمانوں کے خلاف کون ہے؟ صرف 18 فیصد ہندو بی جے پی اور آر ایس ایس کے ہندوتو کے نظریہ سے متفق ہیں۔ اگر آر ایس ایس اور وی ایچ پی کی چلتی تو یہ ملک ٹوٹ چکا ہوتا۔ ملک کے ٹکڑے کرنے جیسے نعرے لگانے کا الزام جے این یو کے طلبہ پر لگایا گیا لیکن ملک کے ٹکڑے کرنے کاکام آر ایس ایس اور وی ایچ پی جیسی تنظیمیںکررہی ہیں۔

 

 

 

 

 

 

 

 

کشمیر پر ان کے رخ نے کشمیر کو خطرے میںڈال دیا ہے۔ آج کشمیر کی جو حالت ہے، اتنی خراب کبھی بھی نہیںتھی۔ ان کے اتحاد کی ساتھی محبوبہ مفتی عوامی طور پر پاکستان سے بات چیت کرنے کی فریاد کر رہی ہیں اور بی جے پی کے وزیر اس کی مخالفت کر رہے ہیں۔ جموں نے بی جے پی کو اس امید میںبھاری اکثریت سے جتایا کہ بی جے پی، کانگریس سے کچھ الگ کرے گی لیکن نتیجہ صفر رہا۔ ایسا اس لیے ہوا کیونکہ کشمیر کے انچارج رام مادھو ہیں۔ وزیر اعلیٰ سے کشمیر مسئلے کے حل کی امید رکھنا غلط ہے۔ اس مسئلے کو حل مرکزی سرکارکرسکتی ہے۔ مرکزی سرکار کو پاکستان کے ساتھ بات چیت کا عمل شروع کرنا چاہیے۔ لیکن ایسا چار سال میںکبھی نہیں ہوا۔ کل ملاکر کہا جائے تو اس سرکار نے الیکشن کے دوران جو وعدے کیے، وہ پورے نہیں ہوئے۔ بے روزگاری اور غریبی دور کرنے کے لیے اس سرکار کو جو کام کرنا چاہیے تھا،اس سمت میںکچھ نہیںکیا گیا۔ اس کی جگہ گائے کے تحفظ اور بیف کھانے کے شک میںکسی شخص کے قتل کرنے جیسے کام ہوئے۔ چار سال میںملک کا ماحول خراب ہوا ہے۔ اس کے لیے بی جے پی اور آر ایس ایس کو قیمت ادا کرنی پڑے گی۔
بہار، راجستھان،مدھیہ پردیش اور اترپردیش کے ضمنی انتخابو ں میںبی جے پی کی ہار یہ ثابت کرتی ہے کہ سرکار عوام کا بھروسہ کھوتی جارہی ہے۔ سرکار کے پاس وقت نہیں ہے۔ضابطہ اخلاق وغیرہ کا وقت نکال دیا جائے تو الیکشن میںصرف دس مہینے بچے ہیں۔ بی جے پی کو جیت اور ہار بھلا کر لوگوںکے زخموں کو بھرنا چاہیے۔ صرف الیکشن جیتنے کے لیے ملک کے سماجی تانے بانے کو ختم نہیںکرنا چاہیے۔ ہو سکتا ہے کہ بی جے پی پھر جیت جائے۔ ایسی حالت میںانھیں اپنے لیے مشکلیںپیدا نہیںکرنی چاہئیں۔ مان لیا جائے کہ 2019 میںبی جے پی کو اکثریت نہیںملی تو 2024 میںاکثریت مل سکتی ہے۔ ملک تو ہمیشہ رہے گا ۔ سرکاریںآتی جاتی رہیںگی لیکن کوئی ایسا کام مت کیجئے جس سے ملک کا نقصان ہو۔ ہندوستان کو فسادات اور مظاہروں کا ملک مت بنائیے۔ ابھی وزیر اعظم نے کہا کہ ساری سیاسی پارٹیاں امبیڈکر کے نام پر سیاست کرتی ہیں، صرف بی جے پی نے انھیںسب سے زیادہ احترام دیا ہے۔ کیا یہ سیاسی مقصد کے لیے دیا گیا بیان نہیں ہے؟ یہ مضحکہ خیز بیان ہے۔ جتنی جلدی وزیر اعظم صحیح صلاح لے کر کام کریں، اتنا ہی ملک کے لیے بہتر ہوگا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *