ورلڈ بینک کا مودی سرکار کو جھٹکا:ترقی پذیر ملکوں کی فہرست سے ہندوستان خارج

GST

سریش تریویدی

دنیا کی پانچ بڑی اقتصادیات میں شامل ہونے کا دعویٰ کرنے والی مودی سرکار کو ورلڈ بینک نے ایک اور سخت جھٹکا دے دیاہے۔ ورلڈ بینک نے ہندوستان کو ترقی پذیر ملکوں کی لسٹ سے ہٹا کر گھانا، زمبیا اور پاکستان جیسی بدحال اقتصادیات والے ملکوں کی کٹیگری میں ڈال دیا ہے۔ ورلڈ بینک کے ذریعہ جاری نئی ڈاٹا رپورٹ کے مطابق ہندوستان کو ’لووَر مڈل انکم گروپ ‘ میں رکھا گیا ہے۔ اس گروپ میں زمبیا، گھانا، گواٹے مالا، بنگلہ دیش، پاکستان اور سری لنکا جیسے ملک شامل ہیں۔ تشویش کی بات یہ ہے کہ برکس ملکوں میں ہندوستان کو چھوڑ کر روس ،چین، جنوبی افریقہ اور برازیل سبھی ملک ’’ اَپر مڈل انکم گروپ ‘‘ میں آتے ہیں۔ امریکہ ، برطانیہ، فرانس، جاپان ،جرمنی، سوئٹزرلینڈ جیسے ترقی یافتہ ملک ورلڈ بینک کی فہرست میں ہائی انکم گروپ میں ہیں،جبکہ ہندوستان یہاں بھی پھسڈی ثابت ہو گیا ہے اور اسے لووَر مڈل انکم والے ملکوں کے زمرے میں رکھا گیا ہے۔

 

 

 

 

 

ورلڈ بینک نے ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ملکوں کی نئی درجہ بندی کا تعین کئی معیاروں کی بنیاد پر کیا ہے۔ان میں زچگی کی شرح اموات ،ٹیکس کلیکشن، اسٹاک مارکیٹنگ،صنعتی پیداوار، صفائی اور بزنس شروع کرنے میں لگنے والے وقت کا تخمینہ کیا گیا ہے۔ غور طلب ہے کہ ان سبھی شعبوں میں مودی سرکار خاص پروگرام چلا کر حصولیابوں کے لمبے چوڑے دعوے کر رہی ہے۔ مثال کے لئے ٹیکس کلیکشن کے لئے سرکار نے جی ایس ٹی لاگو کیا جسے دنیا کا سب سے بڑا ’’ ٹیکس ریفارم ‘‘ بتایا جارہا ہے۔ سرکار سینہ ٹھونک کر یہ بھی کہہ رہی ہے کہ ہندوستان ’’ از آف ڈوئنگ بزنس ‘‘ میں لمبی چھلانگ لگا کر 100ویں مقام پر آگیا ہے۔ نان کنوینشنل انرجی کے ذریعہ ہم توانائی کے متبادل شعبے بڑھا رہے ہیں۔ سولر انرجی کی پیداوار میں ہم دنیامیں دوسرے نمبر پر ہیں۔ وزیر اعظم کی پہل پر ملک بھر میں سوچھتا ابھیان چل رہا ہے وغیرہ وغیرہ۔پھر بھی انہی شعبوں کی حصولیابیوں کی بنیاد پر ہوئے سروے میں ہندوستان اتنا نیچے کیسے چلا گیا ہے کہ ہم ترقی پذیر ملک بھی نہیں رہے؟کیا اس سوال کا جواب عوام کو کبھی ملے گا؟

 

 

 

جس جی ایس ٹی کو گڈ اینڈ سمپل ٹیکس بتا کر بڑا ریفارم بتایا گیا، اسے لے کر بھی ورلڈ بینک کی جو رپورٹ آئی ہے، وہ ہمارے لئے افسوسناک ہے۔ جی ایس ٹی کو لے کر ملک کے کروڑوں کاروباریوں اور سیاسی پارٹیوں نے مخالفت درج کرایا ہی تھا لیکن اب تو ورلڈ بینک نے بھی اس پر سنگین سوال اٹھائے ہیں۔ ورلڈ بینک کا کہنا ہے کہ مودی سرکار کی سب سے اہم ٹیکس سدھار یوجنا ’جی ایس ٹی ‘ دنیا کی سب سے مشکل ٹیکس طریقہ کار میں سے ایک ہے۔ ورلڈ بینک کے ذریعہ جاری اپنی چھ ماہی رپورٹ ’’ انڈیا ڈیولپمنٹ اپ ڈیٹ ‘‘ میں کہا گیا ہے کہ دنیا کے 115 ملکوں میں ہندوستان کا جی ایس ٹی ٹیکس ریٹ، دوسرا سب سے اونچا ٹیکس ریٹ ہے۔ ان 115 ملکوں میں زیادہ تر وہی ملک ہیں جہاں ہندوستان کی ہی طرح انڈائریکٹ ٹیکس سسٹم لاگو ہیں۔
یکم جولائی 2017 سے لاگو جی ایس ٹی کے ڈھانچے میں 5,12,18اور 28فیصد کے ٹیکس اسلیب بنائے گئے ہیں۔سونے پر 3فیصد تو قیمتی پتھروں پر 0.25 فیصد ٹیکس لگایا گیا ہے۔ ریئل اسٹیٹ، پٹرولیم ، اسٹامپ ڈیوٹی ، الکحل، بجلی کو تو جی ایس ٹی کے دائرے سے ہی باہر رکھا گیا ہے۔ تقریباً 50 چیزوں پر ابھی بھی جی ایس ٹی کا 28فیصد ٹیکس ریٹ لاگو ہے ،جو شاید دنیا کے کسی بھی ملک میں نہیں ہے۔ ورلڈ بینک کی رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ہندوستان جی ایس ٹی کے تحت سب سے زیادہ ٹیکس اسلیب والا ملک ہے۔ دنیا کے 49 ملکوں میں جی ایس ٹی کا صرف ایک ٹیکس اسلیب ہے۔ 28 ملکوں میں دو ٹیکس اسلیب ہیں جبکہ اٹلی، پاکستان ، گھانا، لکسیمبرگ سمیت ہندوستان میں جی ایس ٹی کے پانچ ٹیکس اسلیب ہیں۔ ہندوستان کے علاوہ یہ چاروں ملک آج کے وقت میں کمزور اقتصادیات والے ملک مانے جاتے ہیں۔

 

 

 

 

ورلڈ بینک کی رپورٹ کے ساتھ ساتھ ملک کے کاروباریوں کا بھی ماننا ہے کہ جی ایس ٹی آسان نہیں ،انتہائی مشکل ٹیکس سسٹم ہے۔ اس کے ریٹرن کی تعداد اتنی زیادہ ہے کہ چھوٹا کاروباری اس میں چکرا کر رہ گیا ہے۔دوسرا یہ کہ جی ایس ٹی میں ٹیکس ریفنڈ کی رفتار بے حد سست ہے۔ ریفنڈ کی رفتار سست ہونے کی وجہ سے کاروباریوں کی کل پونجی کا ایک بڑا حصہ ریفنڈ پروسیس میں ہی لٹک گیا ہے۔ لہٰذا کاروباری افراد کو پونجی ’’ روٹیٹ ‘‘ کرانا اور بزنس سائیکل پورا کر پانا ناممکن ہو گیاہے۔ سرکاری اعدادو شمار بتاتے ہیں کہ جولائی سے دسمبر چھ ماہی کے درمیان داخل ہوئے کل جی ایس ٹی ریٹرنس میں سے صرف 16فیصد ریٹرنس کا ہی ابھی تک جی ایس ٹی آر 3 سے ملاپ ہو پایاہے۔ اسی وجہ سے جی ایس ٹی ریفنڈ کی رفتار کافی سست ہے۔

 

 

 

فائل کئے گئے ریٹرنس کی جانچ میں چونکانے والی بات یہ سامنے آئی ہے کہ 34فیصد کاروباریوں نے ٹیکس کی شکل میں 34 ہزار کروڑ کم رقم جمع کئے ہیں۔ ان کاروباریوں کو 8.50 لاکھ کروڑ ٹیکس جمع کرنا تھا۔ جبکہ کاروباریوںنے 8.16 لاکھ کروڑ ہی جمع کئے ہیں۔ تازہ اعدادوشمار بتاتے ہیں کہ وزیر خزانہ ارون جیٹلی کے ذریعہ جی ایس ٹی لاگو کرتے وقت ٹیکس کلیکشن میں بے تحاشہ اضافہ کے جو لمبے چوڑے وعدے کئے گئے تھے ،وہ سب جھوٹے ثابت ہوئے ہیں ۔پچھلے مہینے جی ایس ٹی کا کل ٹیکس کلیکشن 86 ہزار کروڑ ہوا ہے۔ اس میں ریفنڈ ہونے والی رقم بھی شامل ہے ۔اگر ریفنڈ کی جانے والی رقم کم کر دیں تو جی ایس ٹی سے ہونے والی خالص آمدنی اس کی آدھی ہی رہ جائے گی۔ مطلب صاف ہے کہ جی ایس ٹی کو لے کر مرکز اور ریاستوں کی آمدنی میں بھاری اضافہ ہونے کے جو دعوے کئے گئے تھے ،وہ سب جھوٹے تھے اور عوام کو بیوقوف بنانے کے لئے کئے گئے تھے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *