اردو اکادمی کے زیر اہتمام پانچ روزہ سالانہ ’’نئے پرانے چراغ‘‘ کا افتتاح

naye-puran-charag
اردو اکادمی، دہلی کی جانب سے دہلی کے بزرگ اور جواں عمر قلمکاروں کا پانچ روزہ ادبی اجتماع نئے پرانے چراغ کا افتتاحی اجلاس ،قمررئیس سلورجوبلی آڈیٹوریم، اردو اکادمی، کشمیری گیٹ میں منعقد ہوا۔ اپنے استقبالیہ خطاب میں اردو اکادمی کے وائس چیرمین پروفیسر شہپر رسول نے کہا کہ نئے پرانے چراغ کاسلسلہ مسلسل بائیس سال سے جاری ہے،نئے پرانے چراغ ضرورت کے مطابق پانچ روزہ ہوگیا ہے اور ادبا وشعرا کی کثرت کی وجہ سے یہ پروگرام اب پانچ دنوں تک ہوگا ۔ اس بار چار سو سے زائد نئے پرانے ادبا وشعرا شریک ہوں گے اور اپنی تخلیقات پیش کریں گے۔ اردو اکادمی کو اب بھی محسوس ہورہاہے کہ دہلی کے تمام شعرا وادبا کا احاطہ نہیں ہوسکا ہے۔انھوں نے اس موقع پر مدعو مہمانوں اور سامعین کا استقبال کیا۔
مہمان خصوصی کی حیثیت سے پروفیسر شمیم حنفی، پروفیسر ایمرٹس، جامعہ ملیہ اسلامیہ نے کہا کہ نئے پرانے چراغ کی اہمیت وافادیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ ہماری زبان میں جو الفاظ علامت، استعارہ اور تشبیہ کے طور پر استعمال ہوتے ہیں ان میں ایک لفظ چراغ بھی ہے۔انہوں نے اپنی تقریر کے دوران حالیہ دنوں میں انتقال کرجانے والے اردو وہندی کے ادبا وشعرا کو یاد بھی کیا اور کہا کہ پرانے چراغ اٹھتے جاتے ہیں اور ان کی جگہ نئے چراغ آتے جاتے ہیں۔ فلسفے اور سماجی علوم پر لکھنے والے کم ہوتے جارہے ہیں۔اردو میں بھی پبلشنگ کا کام غیر منافع بخش نہیں ہے۔ میرا دل کرتاہے کہ اردو اکادمی، دہلی سے پبلشنگ کا کام بھی اعلیٰ درجے کا ہوتا رہے۔ ایک وقت تھا جب ریڈیو اور ٹی وی اردو سے پہچانے جاتے تھے۔ اگر فلموں سے اردو ختم کردی جائے تو فلمیں خراب ہوجائیں گی۔ کوئی زبان اداروں کی سرپرستی سے جاری نہیں رہتی اور فروغ نہیں پاتی، جب تک اس کے بولنے والے اس کے فروغ میں دلچسپی نہ لیں۔ ہمیں اپنے بچوں کو اردو پڑھانا چاہیے اوردوسروں سے شکوے سے زیادہ بہتر ہے کہ ہم اپنی ذمہ داری ادا کریں۔نئی نسل میں تعصبات نہیں ہیں ۔
پروفیسر وہاج الدین علوی، ڈین فیکلٹی آف ہیومنیٹیز، جامعہ ملیہ اسلامیہ نے مہمان اعزازی کی حیثیت سے شرکت کی اور کہا کہ جب پرانے چراغ سے نئے چراغ روشن ہوں گے تو ظاہر ہے کہ پرانے چراغ کے اوصاف ہی نئے چراغ میں ہوں گے۔ تخلیقیت غائب ہورہی ہے۔ ہندی میں شعر لکھ کر آواز کی پٹری پر غزل دوڑانے سے ادب کا فروغ نہیں ہوگا۔ نوجوانوں سے کہوں گا کہ وہ وقت سے پہلے علامہ نہ بنیں۔زبان لکھنا سیکھیے ادبلکھیے، جو بے ادبیاں اس زمانے میں ہورہی ہیں اس سے وہ احتراز کریں۔ نئے پرانے چراغ پروگرام نئے لوگوں کی تربیت کے لیے ہوتا ہے اور اس میں پرانے چراغ آپ کو تربیت دینے کیلیے ہوتے ہیں۔ اب چراغوں کی لویں تیز کرنا ہے ۔
اپنی صدارتی تقریر میں پروفیسر الطاف احمد اعظمی،سابق وائس چیئرمین اردو اکادمی، دہلی نے کہا کہ مجھے نئے پرانے چراغ سب سے زیادہ پسند ہے،ہوائے تند اور شب تاریک چراغ کی سب سے بڑی دشمن ہوتی ہیں۔ جب ہم نئے پرانے چراغ کا ذکر کرتے ہیں تو دو اذہان، دو عہد، دو عمر کی بات کرتے ہیں۔ شعر و ادب کی دنیا میں جو چراغ ماضی میں روشن ہوئے، جن سے ادب کا فروغ ہوا ،انہی کی طرح نئی نسل کو بھی کوشش کرنی چاہیے۔ انہوں نے گفتگو میں نوجوانوں کی حوصلہ افزائی بھی کی اور انہیں مطالعے کی وسعت،الفاظ میں اضافے اور اسلوب بیان کی تشکیل پر ابھارا۔انھوں نے کہا کہ سائنسی موضوعات اور دیگر علوم کو بھی اس پروگرام میں شامل کرنا چاہیے۔انھوں نے کہا کہ میں اس نسل سے بھی پر امید ہوں،نئی نسل میں بھی چند ایسے چراغ ہیں، جن کی تابناکی سے میں مطمئن ہوں۔ اس افتتاحی اجلاس کی نظامت خان محمد رضوان نے کی۔
اردو اکادمی، دہلی کے وائس چیرمین پروفیسر شہپر رسول اور اردو اکادمی کے اسسٹنٹ سکریٹری مستحسن احمد نے مہمانوں کی خدمت میں گلدستے پیش کئے ۔خیال رہے کہ اس افتتاحی اجلاس کے بعد نئے پرانے چراغ کا پہلا مشاعرہ منعقد ہوا ،جس کی صدارت معروف ماہرتعلیم ڈاکٹر جی آر کنول اور نظامت معروف ناظمِ مشاعرہ معین شاداب نے کی ۔اس مشاعرے میں دہلی کے تقریباً 55شعرانے شرکت کی اور اپنے کلام پیش کیے ۔اس نئے پرانے چراغ کی ہر شام میں تقریبا اتنے ہی شعرا شرکت کریں گے ۔اس افتتاحی اجلاس کے بعد جمعہ کو صبح دس بجے نئے پرانے چراغ کے اجلاس شروع ہوں گے ،جو پیرتک ہر روز منعقدہوں گے ۔خیال رہے کہ روزانہ صبح دس بجے تحقیقی وتنقیدی اجلاس ہوگا جس میں دہلی کی دانش گاہوں کے ریسرچ اسکالرز دیے گئے عنوانات پر اپنے مقالے پیش کریں گے ۔ظہرانے کے بعد تخلیقی اجلاس منعقد ہوگا جس میں تخلیق کارافسانے ،انشائیے اورخاکے وغیرہ پیش کریں گے اور شام ساڑھے چھ بجے روزانہ محفلِ شعروسخن منعقد ہوگی ۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *