مدنی دارالعلوم دیوبندمیں اجلاس عام ودستاربندی

jalsa
دینی ادارہ مدنی دارالعلوم دیوبند میں سالانہ اجلاس عام کاانعقاد کیاگیا، جس میں علماء کے ہاتھوں حفاظ وقراء کی دستار بندی عمل میں آئی ۔ پروگرام کا آغاز دارالعلوم وقف کے استاد قاری محمد واصف کی تلاوت کلام پاک سے ہوا ۔ اس موقع پر مہمان خصوصی مولانا سید حبیب اللہ مدنی نے کہاکہ مدارس ہمارے ایمان واسلام کی بقا وتحفظ کی ضامن ہیں۔ انہو ں نے کہا کہ مدارس ہی کی بدولت آج ہمارا وجود اور ایمانی پہچان باقی ہے۔ اسلام نہ مٹنے والا ابدی نظام ہے جو کسی کے مٹانے سے کبھی نہیں مٹ سکتا ۔ مولانا نے مدارس عربیہ کی مفصل تاریخ پر روشنی ڈالتے ہوئے حضرت نانوتویؒ ، حضرت شیخ الاسلامؒ ، حضرت شیخ الہندؒ ، علامہ کشمیریؒ کی روح کو ایصال ثواب پیش کرتے ہوئے ہندوستان کے مسلمانوں پر احسان عظیم بتلایا اور کہا کہ ان مدارس کی بقا وتحفظ ہمارا اور تمام ہندوستان کے مسلمانوں کااہم فریضہ ہے ۔
دارالعلوم وقف کے استاد قاری واصف نے کہا کہ تمام کاموں کا دارومدار حسن نیت اور اخلاص پر ہے ۔ انہوں نے کہاکہ اس امت کو خیر امت کیوں کہا گیا ہے اس وجہ سے کہ اس امت کا بنیادی کام اچھی باتوں کی نصیحت کرنا اور بری باتوں سے روکنا ہے اور ساتھ ہی خالق کی ذات پر مکمل ایمان رکھناہے، ادارہ سے فارغ ہورہے طلبہ کو نصیحت کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ وہ لوگ یہاں سے جاکر دوسروں کے سامنے تعلیم کو عام کریں۔
علاوہ ازیں مولانا الیاس ،مفتی محمد شعیب اور مولانا اسرائیل نے اپنے خطاب میں کہا کہ تعلیم سے ہی ترقی کے راستے کھلتے ہیں اور جو طلبہ یہاں سے فارغ ہوکر جائیں وہ تعلیم کے فروغ کے لئے بہترین کارنامہ انجام دیں اور اپنے اپنے علاقو ں میں جاکر دینی تعلیم کی شمع روشن کریں۔دریں اثناء ادارہ کے ناظم تعلیمات قاری محمد دلشاد نے مدرسہ کی سالانہ تعلیمی رپورٹ پیش کی ، اس دوران طلبہ نے مختلف تقاریریں پیش کیں ۔ آخر میں ادارہ کے مہتمم مولانا عبدالحنان نے سبھی مہمانوں کا شکریہ اداکیا۔ ادارہ کے بانی قاری ولی اللہ کی دعا پر اجلاس اختتام پذیر ہوا۔ شرکاء میں مولانا مستقیم احمد، مولانا ناظر حسین، مولانا اسرائیل، مولانا سکندر، مفتی منور، مولانا ابراہیم قاسمی، مولانا محمد اسماعیل، اری محمد صغیر، قاری سلیم، قاری محمد جواد، قاری محمد تراب الدین، قاری محمد اطہر، مولانا عبدالقیوم، چودھری لیاقت، چودھری منفعت، ڈاکٹر محمد واجد، مولانا عبدالحنان، مفتی محمد حسین، قاری دین محمدوغیرہ کے نام شامل ہیں۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *