کتنا حقیقی بی جے پی کا امبیڈکر پریم ؟

کچھ دنوںپہلے امبیڈکر نوازوں کی بھاری مخالفت کے باوجود بابا صاحب ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر کے نام میں رام جی‘ جوڑ کر امبیڈکر پریم کازبردست مظاہرہ کرنے والی بی جے پی دلتوں کے تاریخی ’بھارت بند‘ کے بعد ایک بار پھر’ امبیڈکر پریم‘ کے مقابلے میں باقی پارٹیوں کو بہت پیچھے چھوڑتی نظر آرہی ہے۔ اس کی شروعات خود وزیر اعظم نریندر مودی نے کی ہے۔ ایک ایسے وقت میںجبکہ بی جے پی کی اہم حریف کانگریس سمیت باقی اپوزیشن ایس سی / ایس ٹی ایکٹ پر بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو گھیرنے میں زور شور سے جٹ گیا ہے۔
مودی کی للکار
مودی نے دہلی میں 4 اپریل کو دلتوں کے مدعے پر سیاست کر رہی پارٹیوں کو للکارتے ہوئے کہا ہے کہ کسی دیگر سرکار نے باباصاحب کا اس طرح احترام نہیںکیا، جیسا انھوں نے کیا ہے۔ بھیم راؤ امبیڈکر کی وراثت کی سیاست کے لیے سیاسی پارٹیوں پر نشانہ سادھتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ان کی سرکار کی طرح دلت فکرمندی پر کسی بھی سرکار نے کام نہیںکیا ہے۔ بابا صاحب کی یاد میں متعدد پروجیکٹس کو پورا کرکے ہماری سرکار نے انھیں مناسب مقام دلایا ہے۔ 26 اے علی پور وڈ ہاؤس ،جہاں امبیڈکر کا انتقال ہواتھا، اسے 13اپریل کو ان کے یوم پیدائش سے پہلی شام کو ملک کے سپردکردیا گیا۔
انھوںنے کہا کہ ہر کسی نے سیاسی فائدے کے لیے امبیڈکر کے نام کو اپنے ساتھ جوڑالیکن ان کی سرکار نے امبیڈکر ’انتر راشٹریہ کیندر‘ کو پورا کیا۔ حالانکہ اس کا تصور تب کیاگیا تھا، جب اٹل بہاری واجپئی وزیر اعظم تھے۔ پچھلی یو پی اے سرکار نے اس پروجیکٹ کو سالوں تک کھینچا لیکن پورا نہیںکیا۔ جس دن وزیر اعظم دہلی سے اپوزیشن کے امبیڈکر پریم کو چیلنج کر رہے تھے،اسی دن اوڑیسہ کے کالا ہانڈی میںبی جے پی کے صدر امت شاہ نے کہا کہ ریزرویشن پالیسی کو کوئی بھی بدلنے کی ہمت نہیںکرسکتا جیسا کہ آئین میں امبیڈکر نے طے کیا ہے ۔ مرکزی سرکار تعلیم اور نوکریوں میںایس سی اور ایس ٹی کمیونٹی کے ریزرویشن کی پالیسی کو نہ تو رد کرے گی اور نہ ہی کسی کو ایسا کرنے دے گی۔ اس بیچ دلتوں کے ’بھارت بند‘ سے پیدا ہوئے نئے حالات میں امبیڈکر کے تئیں احترام ظاہر کرنے کے لیے پی ایم مودی کی طرف سے بی جے پی کے اراکین پارلیمنٹ کو ہدایت جاری کی گئی ہے کہ وہ پھلے – امبیڈکر جینتی منانے کے ساتھ ان گاؤں میں قیام کریں گے جہاں دلتوںکی آبادی 50 فیصد سے زیادہ ہے۔ وزیر اعظم اور بی جے پی صدر کے بیانوں سے کیا ایسا نہیںلگتا کہ بی جے پی نے امبیڈکر اور دلت پریم کے مظاہرے کے معاملے میں باقی پارٹیوں کو بہت پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ لیکن کیا ایسا پہلی بار ہو رہا ہے؟نہیں۔ اگر 2014 میںمودی سرکار کے مرکزمیں آنے کے بعد کی تاریخ کا جائزہ لیں تو پائیںگے کہ تھوڑے تھوڑے وقفے سے ایسا لگاتار ہو رہا ہے۔
لوگ بھولے نہیںہوںگے کہ مودی راج میںہی ڈاکٹر امبیڈکر کو بی جے پی کی مادری تنظیم ’سنگھ‘ کی طرف سے ’بھارتیہ پنروتتھان ‘ کے پانچویں مرحلے کی قیادت کے روپ میں عزت دی گئی۔ مودی راج میںہی ممبئی کے دادر میںواقع اندو مل کو امبیڈکر اسمارک بنانے کی دلتوں کی سالوں پرانی مانگ کو منظوری ملی، بات یہیں تک محدود نہیں رہی ، اندو مل میں بابا صاحب کا اسمارک بنانے کے لیے 425 کروڑ کا فنڈ بھی مودی راج میں مہیا کرائے گا ۔لندن کے جس تین منزلہ مکان میں بابا صاحب امبیڈکر نے دو سال رہ کر پڑھائی کی تھی، اسے چار ملین پاؤنڈ میں خریدنے کا بڑا کام مودی راج میں ہی ہوا۔ ان کے علاوہ بھی بابا صاحب کی 125 ویںجینتی میںبی جے پی کی طرف سے ڈھیروں ایسے کام کیے گئے، جس کے سامنے امبیڈکر پریم کے مقابلے میںاتری باقی پارٹیاں بونی پڑ گئیں۔ ان میں ایک بے حد اہم کام تھا 26 نومبر کو ’یوم آئین‘ ڈکلیئر کرنااور اس میںموجود باتوں کو عوام تک پہنچانے کی اپیل۔اس کے لیے انھوںنے 2015 میں پارلیمنٹ کے سرمائی سیشن کے شروعاتی دو دن آئین پر چرچا کے بہانے بابا صاحب کو خراج عقیدت دیتے ہوئے جو ’ادگار ‘ظاہر کیا تھا،اس سے لگنے لگا تھا کہ آزاد ہندوستان میں امبیڈکر لوگوں کا درد سمجھنے اور اس سے نجات کا طریقہ کرنے والا کوئی وزیر اعظم پہلی بار سامنے آیا ہے۔
تب مودی نے کہا تھا ’اگر بابا صاحب امبیڈکر نے اس ریزرویشن کے نظام کو بل نہیںدیا ہوتا تو کوئی بتائے کہ میرے دلت،پیڑت،شوشت سماج کی حالت کیا ہوتی؟ پرماتما نے اسے وہ سب دیا ہے جو مجھے اور آپ کو دیا ہے لیکن اسے موقع نہیںملا اور اس کی وجہ سے اس کی حالت زار ہے۔ انھیںموقع دینے کی ہماری ذمہ داری بنتی ہے۔‘ مودی کے اس بیان کے بعد لوگوں نے مان لیا تھا کہ امبیڈکر کے لوگوںکی زندگی میں بے مثال خوش حالی آجائے گی لیکن کیاایسا ہوا؟ سچ تو یہ ہے کہ مودی راج میں بے مثال خوش حالی کی جگہ دلت بے مثال بد حالی کی طرف بڑھے۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

تمام حدود پار
یوم آئین کے اعلان کے موقع پر مودی کے اس سبز باغ دکھانے والے بھاشن کے بعدبڑی تیزی سے بابا صاحب کے کروڑوںپیرو کاروں کو ملک میں ناانصافی،ظلم و استحصال کا شکار بنانے اور ان کے حقوق کو ایک ایک کرکے چھیننے کا بے مثال سلسلہ شروع ہوا۔’ چمپئن سورن وادی سنگھ‘ سے تربیت یافتہ مودی نے منڈلوادی ریزرویشن کا بدلہ لینے کے لیے نہ صرف دلتوں، بلکہ تمام ریزرویشن طبقوںکی زندگی بدحال بنانے میںساری حدیں پار کرلیں۔ ایسا لگتا ہے کہ مودی نے تہیہ کرلیا ہے کہ ملک کی ساری دولت جائیداد اعلیٰ ذات کے ہاتھوں میںسونپ دینی ہے۔
اس منصوبے کے تحت ہی انھوںنے ایئر انڈیا ، ریل، ہاسپٹل وغیرہ سرکاری انٹرپرائزز کو نجی ہاتھوںمیںسونپنے کی جنگی سطح پر مہم چھیڑی۔ یہ جانتے ہوئے کہ ضرورت سے زیادہ ایف ڈی آئی ملک کو غیر ملکیوں کا غلام بنا سکتی ہے۔ مودی نے سیکورٹی تک سے جڑی انٹرپرائزز میں100 فیصد ایف ڈی آئی نافذ کرنے کا فیصلہ کیا۔ اور یہ سب ریزرویشن طبقوں کا صفایا کرنے کے لیے کیا۔ مودی نے ریزروڈ کٹیگریز کا صفایا کرنے کے تحت جو اقتصادی پالیسیاں اپنائیں،اس کا نتیجہ جنوری 2018 میں آئی آکسفام کی رپورٹ میں دکھائی دے گیا۔ اس رپورٹ نے بتایا کہ 2016 سے 2017 کے بیچ ٹاپ کی ایک فیصدآبادی کی دولت میں عام طور پر 15 فیصد اضافہ ہوگیا ہے۔ دنیا کی تاریخ میںایسا پہلی بار ہواہے کہ روایتی سہولیتیں حاصل کرنے والی کلاس کی دولت و جائیداد میں 15فیصد کا اضافہ ہوگا۔ اگر ایک فیصد ٹاپ کی آبادی سے آگے بڑھ کر ٹاپ کی 10 فیصد آبادی کی دھن دولت کا جائزہ لیا جائے تو پتہ چلے گا کہ ملک کی 90 فیصد سے زیادہ دولت و جائیداد اس کے ہاتھ میںچلی گئی ہے۔
موجودہ صورت حال کے لیے بی جے پی ذمہ دار
ویسے تو اس صورت حال کے لیے 24 جولائی 1991 کے بعد اقتدار میں آئی سبھی سرکاریں ہی ذمہ دار ہیں، یقینا خاص طو ر سے ذمہ دار مودی سرکار ہی ہے۔ اس کی پالیسیوںکے سبب ہی ہندوستان میںاس اقتصادی اور سماجی عدم مساوات کی بے مثال توسیع ہوئی ہے، جس کے خاتمے کے لیے خود ڈاکٹر امبیڈکر نے بار بار اصرار کیا تھا۔لیکن مودی راج میںنہ صرف آئین ساز کی اقتصادی اور سماجی عدم مساوات کے خاتمے کی چاہ کا مذاق اڑایا گیا ہے بلکہ امبیڈکر کے لوگوں کو اقتصادی طور پر پوری طرح کھوکھلا کرنے کے ساتھ اور دو ایسے کام کیے گئے ہیںجو بی جے پی کے امبیڈکر پریم پر بڑا سوالیہ نشان لگاتے ہیں۔
ان میںپہلا ہے امبیڈکر کے لوگوںکو اعلیٰ تعلیم سے دور دھکیلنے کی سازش۔ گاندھی جی کہا کرتے تھے کہ شودروں کو اتنی ہی تعلیم دینی چاہیے جس سے وہ اپنی شدرتو یعنی تیسرے چوتھے درجے کا کام مؤثر طریقے سے کرسکیں۔ ویسے تو 24 جولائی 1991 کے بعد سے سبھی سرکاروں نے اس سمت میںسازش کی ہے۔ لیکن مودی راج میں یہ کام بڑی بے رحمی سے ہورہا ہے۔ اس سرکار کا ہدف بتلا رہا ہے کہ دلت – بہوجن اعلیٰ تعلیم کا منہ نہ دیکھ سکیں۔ اس سمت میں جتنا جلدی ہو سکے، مودی سرکار پختہ کرگزرنا چاہتی ہے۔ ملک کی ٹاپ کی 62 یونیورسٹیوں کو خود مختاری فراہم کرنا اور اساتذہ کی بھرتی میںیونیورسٹیوں کو یونٹ نہ مان کر سیکشن وار خالی جگہیں نکالنا، مودی سرکار کے دو ایسے خاص کام ہیں، جس سے مستقبل میں دلتوں کو پروفیسر کے طور پر دیکھنا ایک خواب بن کر رہ جائے گا۔ اعلیٰ تعلیم سے دور دھکیلنے کے ساتھ مودی راج میں امبیڈکر کے لوگوں کے تحفظ کے لیے جو ایس سی ، ایس ٹی سیکورٹی ایکٹ بنا تھا، اسے بھی سپریم کورٹ کی ملی بھگت سے غیر مؤثر بنا دیا گیا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ رام وادی مودی امبیڈکر کے لوگوں کے تئیں’ مکھ میں رام، بغل میںچھری والی‘ کہاوت کا سچ ثابت کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ ایسے میں ان کے امبیڈکر پریم کو خالص دکھاوے سے الگ کچھ کہا ہی نہیں جاسکتا۔
(مصنف بہوجن ڈائیورسٹی مشن کے قومی صدر ہیں)

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *