کتنا ممکن ہے سوچھا گرہ چمپارن میں ؟

مرکزی حکومت چمپارن ستیہ گرہ صدی تقریبات کو ستیہ گرہ سے سوچھاگرہ کے طور پر منا رہی ہے۔ملک بھر سے ہزاروں سوچھا گرہیوں کو چمپارن میں جمع کیا گیا تاکہ گاندھی جی کے ستیہ گرہ تحریک کی طرز پر سوچھاگرہ کی مہم ملک بھر میں چلائی جا سکے۔ صدی تقریبات کا آغاز بابائے قوم مہاتما گاندھی کے چمپارن ستیہ گرہ کے سو سال مکمل ہونے پر ایک سال پہلے ہوا تھا۔ چمپارن کے لوگوں کی حالت زار دیکھ کر گاندھی جی بہت پریشان ہوئے۔ انہوں نے ستیہ گرہ ختم ہونے پر یہاں تعلیم، صحت، خواتین کو بااختیار بنانے اور صفائی کا کام شروع کیا۔ اس کام میں گجرات ، مہاراشٹر کے سوشل ورکرز نے اہم رول ادا کیا۔ شاید اس واقعے سے متاثر ہو کر ہی حکومت نے صدی تقریبات کے اختتام پر’’ستیہ گرہ سے سوچھاگرہ‘‘ پروگرام کا اہتمام کیا ہے۔
اس موقع پر 10 اپریل کو وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا کہ تاریخ اپنے آپ کو دوہرا رہی ہے۔ سو سال پہلے گاندھی جی کی سربراہی میں چمپارن کے لوگوں نے گلی گلی جا کر ستیہ گرہ کو کامیاب کیا تھا۔آج یہیں سے ملک کو کھلے میں رفع حاجت سے نجات دلانے کی مہم شروع ہوئی ہے، جسے عوامی تحریک بنانا ہے۔ وہ بہار کے چمپارن میں’’کھلے میں رفع حاجت سے نجات‘‘ کے لئے کام کرنے والے چار لاکھ’’سوچھا گرہی‘‘کارکنوں کو خطاب کر رہے تھے۔ ان میں سے 20 ہزار’’سوچھاگرہی‘‘ پروگراموں میں موجود رہے، جبکہ دوسرے ملک کے مختلف حصوں سے الیکٹرانک ذرائع کے ذریعے جڑے۔ پروگرام کو کامیاب بنانے کے لئے کھلاڑیوں، فلمی ستاروں اور سماجی شخصیات نے ٹی وی پر چمپارن چلو کا نعرہ دیا تھا۔
کامیابی کا دعویٰ
پینے کے پانی اور حفظان صحت کے سیکرٹری پرمیشورن ایئر نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا’سوچھ بھارت مہم‘ کی شروعات کے وقت اکتوبر 2014 میں دیہی بھارت میں کھلے میں رفع حاجت کرنے والوں کی تعداد 55 کروڑ تھی جو مارچ 2018 میں گھٹ کر 25 کروڑ رہ گئی ہے۔ اس دوران حفظان صحت کا دائرہ 38.7 فیصد سے بڑھ کر 80.53 فیصد پر پہنچ چکا ہے۔ اس نے عوامی تحریک کی شکل اختیار کر لی ہے۔ انہوں نے بتایا، 26 مارچ 2018 تک ملک کے 3.83 لاکھ گاؤں، 338 ضلع ، 12 ریاستیں اور تین مرکز کے تابع صوبہ کھلے میں رفع حاجت سے مکمل طور پر نجات پا چکے ہیں۔ ایک آزاد سروے ایجنسی کی رپورٹ بتاتی ہے کہ 6000 سے زائد گاؤں کے 90000 خاندان دیہی ٹوائلٹ استعمال کر رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ٹوائلٹ کوریج 77 فیصد اور ان کا استعمال 93.4 فیصد ہے۔ اس پیش رفت کو دیکھتے ہوئے مانا جا رہا ہے کہ ملک 2 اکتوبر 2019 تک کھلے میں رفع حاجت سے سوفیصد نجات کا ہدف حاصل کر لے گا۔
بہار کو کھلے میں رفع حاجت سے نجات دلانے کے لئے 3 اپریل سے 9 اپریل’ستیہ گرہ سے سوچھاگرہ‘ ہفتہ کے دوران بہار کے دس ہزار اور دیگر ریاستوں کے دس ہزار سوچھاگرہیوں نے بہار کے لوگوں کی گھروں میں بیت الخلا بنانے کے لئے حوصلہ افزائی کی۔ انہوں نے ریاست کے تمام 38 اضلاع کے لوگوں کا رویہ تبدیل کرنے اور انہیں کھلے میں رفع حاجت سے نجات دلانے کی مہم کے ساتھ جوڑنے کی کوشش کی۔
سوچھا گرہ ہفتہ میں بہار، یوپی، اڑیسہ اور جمووکشمیر میں لگ بھگ 26 لاکھ بیت الخلا تعمیر کئے گئے۔ اب تک، 4،لاکھ20،ہزار افراد نے خود کو سوچھا گرہی کے طور پر رجسٹر کیا ہے۔ کھلے میں رفع حاجت سے نجات کی مہم کا مقصد ہے کہ ہر گاؤں میں ایک سوچھاگرہیوں، اس کے لئے مارچ 2019 تک 6.5 لاکھ سوچھاگرہی کو جوڑا جائے گا۔ اس پروگرام کے خصوصی افسر اکشے راوت نے بتایا ہر ضلع، ہر گاؤں میں یہ دیکھا جاتا ہے کہ کونسی بات لوگوں کے جذبات کو چھوتی ہے اور ان کی بیت الخلا استعمال کرنے کیلئے حوصلہ افزائی کرتی ہے۔ کوئی شرم سے ، کو ئی صحت لئے، کوئی تحفظ کے لئے، کوئی پیسہ کے لالچ میں تو کوئی سماج میں عزت کی خاطر، اس مہم میں شامل ہوتا ہے اور اپنے گھر میں بیت الخلا کی تعمیر کراتا ہے۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

چمپارن کی صورت حال
چمپارن بہار ریاست کا پسماندہ علاقہ ہے۔ زمانے تک شام کے دھندھلکے میں جب کوئی بس یہاں سے گزرتی تو سڑک کے کنارے گارڈ آف آنر میں خواتین کھڑی ہو جاتی تھیں۔ ستیہ گرہ سے سوچھاگرہ پروگرام کے مد نظر حکومت نے ٹوائلٹ بنوانے پر خصوصی توجہ دی ہے۔ حکومت کی جانب سے 4 اپریل کو بتایا گیا، 39 فیصد ٹوائلٹ اب تک ضلع میں بن گئے ہیں۔ دس تاریخ کو پی ایم مودی موتیہاری پہنچیں گے۔ اس وقت تک انہیں مشرقی چمپارن میں 50 فیصد ٹوائلٹ تیارملنے کی کوشش کی گئی، یعنی پانچ دن میں گیارہ فیصد ٹوائلٹ چمپارن میں بنائے جانے کا عزم کیا گیا۔ حکومت اگر اس رفتار سے کام کرے تو دیہی بھارت 2019 سے پہلے ہی کھلے میں رفع حاجت کی پریشانی سے آزاد ہو جائے گا، لیکن کیا چمپارن میں یہ ممکن ہے جہاں 60 فیصد سے زیادہ آبادی کے پاس زمین نہیں ہے۔ یہاں نو شوگر مل ہیں زمین کے بڑے حصے پر ان کا قبضہ ہے۔ بے زمین والوں کو ٹوائلٹ بنانے کے لئے کیا حکومت زمین دستیاب کرائے گی؟ بیت الخلا بنانے کے لئے مالی مدد نہ ملنے پر بنے ہوئے ٹوائلیٹ توڑے جانے کے خبریں بھی بہار سے ملتی رہی ہیں۔ اس پر سنجیدگی سے توجہ دینے کہ ضرورت ہے۔
کھلے میں رفع حاجت کی جڑ بھارت کے سماجی، ثقافتی اور روایتی طریقوں میں مضمر ہے۔ جہاں بچے کے سٹول کو نقصان دہ نہیں سمجھا جاتا ہے، یہ وشواش قدیم زمانے سے سوچ کا حصہ بنا ہوا ہے۔ لوگ کھلے میدان، جنگل، بہتے پانی یا تالاب کے کنارے اور جھاڑیوں کے آس پاس حاجت سے فراغت حاصل کرتے ہیں ٹوائلٹ کا استعمال نہیں کرتے۔ کھلے میں رفع حاجت کی بنیادی وجہ غربت اور عدم مساوات ہے، کھلے میں فراغت حاصل کرنے والوں میں زیادہ تر کا تعلق انتہائی غریب، کمزور اور حاشیہ پر ڈھکیلے ہوئے طبقہ سے ہوتا ہے، خاص طور پر بچوں کا۔
یونیسیف کی رپورٹ کے مطابق کھلے میں رفع حاجت کرنے والے طبقات میں ہر سال 26 ملین بچے پیدا ہوتے ہیں۔ کھلے میں پڑا انسانی فضلہ بچوں کی صحت کے لئے سنگین خطرہ ہے، اسہال، ہیضہ، ٹائیفائیڈ، ہیپاٹائٹس، پولیو، کیڑوں کا انفیکشن اور غذائیت کی کمی کا یہ بڑا سبب ہے۔ ایک گرام انسان کے پاخانہ میں 10 ملین وائرس، ایک ملین بیکٹیریا، پیراسائٹ اور ان کے انڈے ہوتے ہیں۔ صرف ڈائریا سے ہندستان میں پانچ سال سے کم عمر کے 117000 بچے ہر سال مر جاتے ہیں جو عالمی برڈن کا 22 فیصد ہے۔
غذائی قلت سے منسلک ایشو
غذائی قلت کا بھی کھلے میں رفع حاجت سے براہ راست تعلق ہے۔ بچوں کے ساتھ خواتین اس سے سب سے زیادہ متاثر ہوتی ہیں۔ ملک میں بڑی تعداد میں حاملہ خواتین اور نئی مائیں قابل علاج بیماریوں کا شکار ہو کر مر جاتی ہیں۔ ان میں نکسیر، اسقاط حمل، سیپسس- خون کا تھکا خون اور غذائیت کی کمی اور غیر مناسب حفظان صحت شامل ہے۔ خواتین کا تحفظ بھی اس سے خطرے میں پڑتا ہے انہیں رفع حاجت کے لئے اندھیرا ہونے کا انتظار کرنا پڑتا ہے۔ دن کے وقت وہ باہر نہیں جا سکتیں اس لئے پانی کم پیتی ہیں جس سے خون کی کمی ہو جاتی ہے جو بچے کی پیدائش کے وقت موت کا سبب بنتی ہے۔ اندھیرے میں سانپ اور جنگلی جانوروں کے علاوہ جسمانی اور جنسی حملوں کا خطرہ رہتا ہے۔ زیادہ تر ریپسٹ اندھیرے کا فائدہ اٹھا کر خواتین کو اپنی حوس کا شکار بناتے ہیں۔ ٹوائلٹ کی تعمیر اور استعمال سے خواتین اور بچوں کو عزت، تحفظ اور حفظان صحت کے ساتھ انہیں درپیش خطرات سے بھی بچایا جا سکے گا۔
ملک کو کھلے میں رفع حاجت سے آزاد کرانے کا قدم قابل ستائش ہے لیکن روئیے کو بدلے اور تمام طبقات کو ساتھ لے کر سماجی تحریک بنائے بغیر اس میں کامیابی نہیں مل سکتی۔ اس کے لئے ضروری ہے کے ایسا ماحول بنایا جائے کہ عام آدمی ٹوائلٹ بنانے اور اس کے استعمال کو لازمی سمجھے، جن کے پاس زمین نہیں ہے ان کیلئے حکومت کمیونٹی ٹوائلٹ کا انتظام کرے، اس کی صفائی کا مناسب انتظام کیا جائے۔ بچوں، لڑکیوں، خواتین، کمیونٹی تنظیموں اور سماجی بہبود کیلئے کام کرنے والے افراد کو اس مہم میں شریک کیا جائے۔ سیاستداں وسائل فراہم کرنے پر دھیان دیں نہ کہ تصاویر بنوا کر اخباروں میں چھپوانے پر۔روایتیں معاشرے کی بنائی ہوئی ہیں وہی انہیں بدل سکتا ہے۔ اس کیلئے مذہبی رہنماؤں کو خاص طور پر آگے آنا ہوگا۔ یہ کام آج سے شروع ہو سکتا ہے بولئے کیا آپ اس کیلئے تیار ہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *