آسنسول میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کا اعلیٰ نمونہ

ایک ایسے وقت میں جب ہر طرف سے نفرت انگیزبیانات ، زہریلی تقریریں اور منافرت پر مبنی اقدامات کی گونج سے فضاء مکدر بنی ہوئی ہے ایسے میں ایک ایسے شخص سے جس کے 16سالہ بیٹے کو فسادیوں نے بے رحمی اور برتریت سے ہلاک کردیا ہو اور وہ سامنے آکر امن و امان کی نہ صرف اپیل کرے بلکہ پوری قوت کے ساتھ اپنے بیٹے کے خون کا بدلہ لینے والوں کے جذبے اور محبت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہے کہ’’ اگر آپ لوگ مجھ سے محبت کرتے ہیں تو میں میرے بیٹے کے خون کا بدلہ لینے کی نیت ترک کردیں ،یہ شہر ہمارا ہے اور ہم اس شہر کو آگ میں جھونک نہیں سکتے ہیں ۔میرے بیٹے کی زندگی اتنی ہی مختصر تھی ۔وہ نیک بچہ تھا مجھے اس کا اجر اللہ کے یہاں ملے گا،اس لیے ہم نہیں چاہتے ہیں کہ آج جو غم مجھے اور میر ے خاندان کو جھیلنا پڑرہا ہے وہ کسی اور گھر میں بھی ہو۔اور اگر آپ میری بات نہیں مانیں گے ، بدلہ لینے کا ارادہ ترک نہیں کریں گے تومیں یہ شہر چھوڑ کر چلاجائوں گا‘‘۔سے اس طرح کی باتیں سننے کو ملے تو ورطہ حیرت ہونا فطری بات ہے۔ امام صاحب کا جذبہ خیر اپنے آپ میںایک مثال ہے اور ان لوگوں کیلئے تازیا نہ عبرت ہے جو نفرت کی روزی روٹی کھاتے ہیں ، جو اشتعال انگیز تقریر وں کے ذریعہ ہندوستانی عوام کو دو حصوں میں تقسیم کرکے اقتدار کو دائمی طور پر اپنے ہاتھ میں رکھنا چاہتے ہیں ۔امام موصوف کی اس تقریر اور ان کے نیک جذبے اور معاف کرنے کے حوصلے، ماحول کو ٹھنڈا کرنے کی کوشش کونہ صرف مدتوں تک یاد رکھا جائے گا بلکہ فسادات میں اپنے عزیز وںکو کھونے والوں کیلئے صبر کا کا ذریعہ بھی بنے گا ۔امام صاحب کے اس جذبے کو آفریں ہی نہیں صد آفریں ہے کہ انہوں نے آسنسول شہر اور ریاست کو جلنے سے بچالیا ۔

 

 

 

 

 

 

 

 

نورانی مسجد کے امام و خطیب مولانا امداداللہ رشیدی نے اپنے اس جذبے کے ذریعہ مسلمانوں کے کردار کو دنیا کے سامنے پیش کیاہے بلکہ مولانا نے دنیا کو یہ بتادیا ہے کہ اسلام کے صحیح پیروکارو کا وطیرہ کیا ہوتا ہے ۔اگر مولانا چاہتے تو اپنے بیٹے کے خون کا بدلہ لینے کیلئے جذبات سے لبریز نوجوانوں کا استعمال کرلیتے ۔مگر اس سے کیا ہوتا نفرت میں اضافہ ہوتا ، گھر جلتے ، چند لوگوں کی جانیں ضایع ہوتی تھی لیکن اس میں نہ کسی کی جیت ہوتی اور نہ کسی کی ہار بس لوگوں کا خون بہتا ۔مولانا کی تقریر نے فتح مکہ کا عظیم الشان واقعہ کی یاد دلادی جب آقا صلی اللہ علیہ وسلم مکہ کو فتح کرلیا تھا۔پوار مکہ آپ کے قدموں کے نیچے تھا ، آپ چاہتے تھے تو 21سالہ مظالم کا ایک ایک کرکے بدلہ لیتے مگر اس وقت جب آپ قادر تھے مگر آپ نے مکہ والوں کے سامنے ’’لاتثریب علیم الیوم‘‘ کا مژدہ جانفزا سنا کر سبھو ں کو معاف کرکے قیامت تک کیلئے ایک مثال قائم کردی ۔معافی حاصل کرنے والو ں میں وہ خاتون بھی تھی جس نے آپ کے محبوب چچا حضرت حمزہ ؓکا سینہ چاک کیا تھا وہ شخص بھی تھا جس کے ہاتھوں حضرت حمزہ نے جام شہادت نوش کیا تھا۔آپ کے سب سے بڑے دشمن ابو جہل کا بیٹا عکرمہ بن جہل بھی تھا مگر آپ نے سبھوں کو معاف کرکے دنیا کو پیغام دیا کہ نفرتوں کا جواب نفرت نہیں ہوتا ہے اور محبتوں کے ذریعہ دنیا کو فتح کیا جاتا ہے ۔قرآن و حدیث میں متعدد مقامات پر معاف کرنے کی تلقین کی گئی ہے۔قرآن میں ایک جگہ کہا گیا ہے کہ’’غصہ کو پی جانے والے اور لوگوں کو معاف کردینے والوں کو اللہ پسند کرتے ہیں ‘‘۔اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ’’ صل من قطعک و اعف عمن ظلمک و احسن الی من اساء الیک‘‘۔جورشتہ توڑے اس رشہ جوڑو، جو ظلم کرے اسے معاف کردواور جو برائی کرے اس کے ساتھ اچھا ئی کا معاملہ کرو ۔امام صاحب نے یقینا سیرت نبوی کا عملی نمونہ پیش کرکے مسلمانوں کا کردار پیش کیا ہے جس کیلئے وہ ہم سب کی طرف سے شکریہ کے مستحق ہیں ۔
مسلمانوں کے کردار و شبیہ کو مسخ اور مدارس اسلامیہ پر انگلی اٹھانے والوں کے چہرے پر مولانا امداداللہ کی یہ تقریر زوردار طمانچہ ہے کہ مدارس کے فضلا ء اپنے دین سے محبت کرنے کے ساتھ اس ملک سے محبت کرتے ہیں اور اس ملک کو کسی بھی قیمت پر برباد نہیں ہونے دیکھنا چاہتے ہیں ۔آسنسول شہر میں ہی وزیر اعظم نریندر مودی کے کابینہ کے وزیر و مقامی ممبر پارلیمنٹ بابل سپریہ بھی تھے جو اپنی تمام ذمہ داریوں کو فراموش کرکے شہر کو آگ میں جھونکنے کے لئے بے تاب بنے ہوئے تھے ۔آئین کے تحفظ کا حلف لے کر امن وا مان کے قیام کیلئے کوشش کررہے پولس عملے کی چمڑی ادھیڑنے کی دھمکی دے رہے تھے ۔تعجب خیر بات ہے کہ نئے ہندوستان کی تعمیر کا خواب دیکھانے والے وزیر اعظم مودی پورے معاملے میں خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں ۔بہار سے لے بنگال تک ہر جگہ آگ ان کے لوگ لگارہے ہیں ،آئین و ملک کے تحفظ کی قسم کھانے والے ہی آج ملک کو آگ میں جھونک رہے ہیں تو اس سے بڑھ کر ہندوستان کی بدنصیبی کیا ہوگی ۔مگر اطمینان کی بات یہ ہے کہ اس ملک میں مولانا امداداللہ رشیدی جیسے لوگ بھی موجود ہیں جو آگ کا آگ سے ، نفرت کا جواب نفرت ، گولی کا جواب گولی سے دینے کے بجائے بھائی چارہ، امن و محبت سے دیتے ہیں ۔آج اس ملک کو اسی چیز کی ضرورت ہے ۔اگر اس جذبے کو فروغ نہیں دیا گیا تو ہماری بربادیوں کے چرچے آسمانوں پر تو ہے ہی ۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *