فرقہ وارانہ فساد کی آگ ایک بار پھر بہار میں

امن اور عدم تشدد کا پیغام ساری دنیا کو دینے والا گوتم ،مہا ویر اور مخدوم بہاریؒ کا بہار ان دنوں نفرت کی آگ میں جل رہا ہے ۔ فرقہ پرست طاقتیں نام نہاد رام بھکتی کی آڑ میں ریاست کے مختلف حصوں میں نفرت کی آگ بھڑکا کے اپنی سیاست چمکانے میں مصروف ہیںاور بی جے پی کی حمایت سے حکومت چلا رہے وزیر اعلیٰ نتیش کمارپوری طرح بے بس دکھائی دے رہے ہیں ۔ آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت کے بہار دورے کے بعد گذشتہ 17 مارچ (ہندی نئے سال کے آغاز ) سے شروع ہوا نفرت کا یہ کھیل اب تک ریاست کے نصف درجن سے زائد اضلاع میں پھیل چکا ہے ۔ فرقہ پرستوں کی اشتعال انگیزی اور حکومت و انتظامیہ کی بے بسی کے پیش نظر اس کے مزید پھیلنے او ر دھماکہ خیز صورت اختیار کر نے کا اندیشہ بڑھتا جا رہا ہے ۔

فساد کی آگ ریاست گیر
اب تک جو اضلاع فرقہ وارانہ تشدد کی آگ میں جل چکے ہیں ، ان میں بھاگل پور ، دربھنگہ، اورنگ آباد، مونگیر ، نالندہ ، نوادہ اور روسڑا(سمستی پور) شامل ہیں ۔ ماحول بگاڑنے کی کوشش تو گیا ، شیخ پورہ اور حاجی پور کے علاوہ راجدھانی پٹنہ میں بھی ہوئی مگر انتظامیہ اور امن پسندوں کی مشترکہ کوششوں سے ان پر قابو پا لیا گیا۔ حالانکہ اشتعال انگیزی اب بھی قائم ہے۔ اس لئے کب کہاں پر کیا ہو جائے ، کہنا مشکل ہے ۔ بھاگلپور ، دربھنگہ اور نوادہ میں مرکزی وزیر گری راج سنگھ اور اشونی چوبے نیز ان کے حامیوں کا رول نمایاں نظر آیا ہے۔ بھاگلپور میں تو اشونی کمار چوبے کا بیٹا ارجت شاشوت ہی ہنگامے کا مرکزی کر دار ہے۔ اسی میں نئے سال کے آغاز کے موقع پر انتظامیہ کی اجازت کے بغیر جلوس نکالا اور اسی کی قیادت والے جلوس میں اشتعال انگیزی کے بعد شہر کا ماحول ایک بار پھر خراب ہو گیا۔ یہ وہی بھاگلپور ہے جہاں تقریباً 3 دہائی قبل بدترین فرقہ وارانہ فساد ہوا تھا ۔ جس میں سرکاری رپورٹ کے مطابق 1 ہزار اور غیر سرکاری رپورٹ کے مطابق ڈھائی ہزار افراد موت کے گھاٹ اتار دیئے گئے تھے۔ مسلمانوں کی بستی کی بستی تہہ تیغ کر کے لاشیں کنویں میں ڈال دی گئیں تھیں یا کھیتوں میں دبا کر ان پر گوبھی اور سرسوں اگا دیئے گئے تھے۔ اس وقت فساد بھڑکانے میں اس وقت کے سینئر ایس پی کے ایس دویدی نے اہم کر دار ادا کیا تھا ، وہ اب مسلمانوں ، دلتوں اور اپو زیشن کے اعتراض کے با وجود ریاستی پولس کے سر براہ ہیں۔ اور محض ڈیڑھ ماہ قبل ہی وہ بہار کے ڈی جی پی کے عہدے پر فائز کئے گئے ہیں۔
بھاگلپور میں موجودہ فساد کی جڑ ارجت شاشوت کو کل تک کوئی نہیں جانتاتھا ۔ مگر 15 دن کے اندر وہ اپنے اسی کالے کارنامے کی بدولت ریاست اور ملک کا بدنام زمانہ چہرا اور نام بن گیا ہے ۔ اور اس کے شر پسند حامیوں کے خلاف گرفتاری وارنٹ ہو تے ہوئے بھی کھلے عام حکومت اور انتظامیہ کو چیلنج کر تا ہوا ٹی وی چینلوں پر نظر آتا رہا ۔ اس کے والد اور مرکزی وزیر اشونی چوبے اس کی حمایت کر تے اور اس کی بے گناہی کی سند جاری کر تے ہوئے دکھائی دیتے رہے۔ نتیش کمار کی پارٹی جے ڈی یو کے تر جمان کے سی تیاگی اور دوسرے رہنما اسے خود سپردگی کا مشورہ ضرور دیتے رہے مگر حکومت و انتظامیہ اس کی مشکیں کسنے میں ناکام رہیں ۔اس نے موقع کا فائدہ اٹھا کر عدالت میں پیشگی ضمانت کی عرضی بھی دائر کی، مگر عدالت سے وہ بھی خارج ہو گئی۔ تب جا کر اس نے خود سپردگی کی ہے۔پولس کے ریکارڈ میں وہ فرار ملزم تھا مگر وہ ٹی وی چینلوں کے لئے ہر وقت اور ہر جگہ دستیاب تھا۔ اس کی پبلسٹی اور مارکیٹنگ اسی بنیاد پر مفت میں ہو تی رہی۔ اور وہ راتوں رات ہندوتو کا ایک پسندیدہ چہرہ بن گیا۔ عجب نہیں کہ کل اسی بنیاد پر وہ قانون ساز ادارے کی رکنیت حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ وہ بی جے پی کے تر جمان سید شاہنواز حسین سے بھاگلپور سیٹ چھیننے میں بھی کامیاب ہو جائے۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

نیتش کو پہلے سے خوف تھا
ایسا نہیں ہے کہ حکومت یا اس کے سر براہ نتیش کمار حالات کی سنگینی کو نہیں سمجھ رہے ہیں۔ انہیں شاید پہلے سے ہی اس بات کا اندازہ تھا ۔ اسی لئے انہوں نے یوم بہار کے موقع پر اسٹیج سے نائب صدر جمہوریہ وینکیا نائڈو اور گورنر ستیہ پال ملک کی موجودگی میں ریاست کے عوام سے ہاتھ جوڑ کر اپیل کی تھی کہ رام نومی کے موقع پر انہیں ورغلانے اور گمراہ کر نے کی کوشش کی جائے گی مگر آپ لوگ گمراہ نہ ہوں اور امن و بھائی چارے کے ماحول میں رام نومی منائیں گے۔ بہار امن اور عدم تشدد کا مرکزرہا ہے ۔ اس کی شناخت گم نہ ہونے دیں گے اور ہر حال میں امن قائم رکھیںگے۔ اگر ان کی یہ دردمندانہ اپیل صدا بہ صحرا ثابت ہوئی ۔ کیوں کہ وہ تنہا اور کمزور تھے اور ا ن کے مقابلے میں فرقہ پرست طاقتیں بہت زیادہ منظم ، مضبوط اور سر گرم عمل تھیں ۔نتیش نے صرف اپیل نہیں کی تھی بلکہ اپنی حلیف بھارتی جنتا پارٹی کو کھلے الفاظ میں دھمکی بھی دی تھی کہ جس طرح میں نے بد عنوانی سے سمجھوتہ نہیں کیا ، اسی طرح نفرت اور اشتعال انگیزی کی سیاست سے بھی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔کیوں کہ یہ ہماری پالیسی ہے اور ہم اپنی پالیسی سے کبھی انحراف نہیں کریں گے۔ ہم بد عنوانی کی طرح نفرت کوو بھی بر داشت نہیں کریں گے۔ ہم نے آر جے ڈی سے بھی کہا تھا کہ ان کے خلاف جو الزاما ت ہیں ، اس پر وہ خود اپنی پوزیشن صاف کریں۔ مگر وہ ایسا نہیں کر سکے تو ہمیں اپنا راستہ چننا پڑا۔ حکومت کی پارٹنر بی جے پی کیلئے مسیج باالکل صاف تھا کہ آپ نفرت کی سیاست سے باز آ جائیں ۔ یہ ہماری پالیسی کے خلا ف ہے۔ورنہ جس طرح ہم نے بد عنوانی کے معاملے میں آر جے ڈی سے علیحدگی اختیار کر لی ، اسی طرح ہم بی جے پی سے بھی علیحدگی اختیار کر لیں گے۔ مگر اس کھلی دھمکی کا بی جے پی پر کوئی اثر نہیں پڑا ۔ بلکہ اس میں شدت پیدا ہو گئی۔ حالات یہاں تک پہنچ گئے کہ جے ڈی یو کے رہنمائو ںکی سخت وارننگ کے جواب میں بی جے پی کی طرف سے انہیں اوقات میں رہنے اور بی جے پی کو ہدایت نہ دینے کا فرمان جاری کیا جانے لگا۔ اس کی وجہ صرف یہ رہی کہ بی جے پی کو اچھی طرح معلوم ہے کہ اب نتیش کمار کے پاس کوئی متبادل نہیں ہے ۔ انہوں نے آر جے ڈی سے کنارہ کشی تو بڑی آسانی سے کر لی۔ کیوں کہ ان کے پاس بی جے پی کی طرف لوٹنے کا متبادل موجود تھا۔ مگر اب ان کے پاس کوئی متبادل نہیں ہے۔ وہ چاہیں بھی تو لوٹ کر آر جے ڈی یا مہا گٹھبندھن کی طرف نہیں جا سکتے ہیں۔ وہ اپنی کشتی جلا چکے ہیں ۔ اپو زیشن لیڈر تیجسوی یادو نے صاف کہہ دیا ہے کہ نتیش کو چھوڑ کر سب کا خیر مقدم ہے ۔ بی جے پی اور سنگھ پریوار بہار میں نتیش کی اسی کمزوری اور سیاسی مجبوری کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بہار کے ماحول کو زہریلا بنانے پر آمادہ ہیں ۔ تا کہ ا سکا فائدہ 2019 کے لوک سبھا انتخاب اور اس کے بعد 2020 کے اسمبلی انتخابات میں اٹھایا جا سکے۔
نتیش اگر حکومت کو بچانے کے لئے یہ سب خاموشی سے بر داشت کر تے ہیں تو انہیں اس کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا ۔ اور اگر وہ استعفیٰ د ے کر اسمبلی تحلیل کر نے اور دوبارہ انتخاب کرانے کا فیصلہ کر تے ہیں تب بھی وہ ہندوتو کی طاقت سے تنہا مقابلہ نہیں کر پائیں گے اور اس طرح بی جے پی نتیش کو سیاسی اعتبار سے بر باد کر کے اپنی بے عزتی کا بدلہ لینے میں کامیاب ہو جائے گی۔ بی جے پی نے سوچی سمجھی سازش کے تحت نتیش سے دوبارہ ہاتھ ملایا ہے ۔ اس کا مقصد نتیش اور ان کی حکومت کو بچانا یا مضبوط کر نا نہیں بلکہ اپنی زمین کو بچانا اور بہار میں ہندوتو کی جڑوں کو مضبوط کر نا تھا۔ اور جو کام مہا گٹھبندھن کی وجہ سے 2015 میں نہیں ہو سکا تھا اسے اگلی بار انجام دینا تھا۔ بی جے پی کو بہار پر قابض ہو نے کا یہ آخری موقع نظر آر ہا ہے ۔ اسے ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ اس بار نہیں تو پھر کبھی نہیں۔ اس لئے وہ اس موقع کو کسی قیمت پر ہاتھ سے جانے دینا نہیں چاہتی ہے۔ سارا فساد اسی لئے ہو رہا ہے۔ ورنہ رام بھکتوں کی ہاتھ میں تلواریں اور دیگر روایتی اسلحے نہیں ہو تے۔ وہ رام بھکتی کے نعروں کے بجائے اسلام اور مسلم مخالف نعرے نہیں لگاتے ۔ وہ اپنا گھر سجاتے، کسی کا گھر یا دکان نہیں جلاتے۔ وہ مندروں اور اپنے گھروں پر بھگوا جھنڈا لہراتے مگر مسجد پر بھگوا جھنڈے لہرانے، قر آن مقدس کی بے حرمتی کر نے اور انہیں نذر آتش کر نے کی حماقت نہیں کر تے۔ جیسا کہ انہوں نے روسڑا (سمستی پور ) کی جامع مسجد اور قریب کے ایک مدرسے میں کیا۔
حکومت کی کوششیں بے اثر کیوں ؟
حکومت اور انتظامیہ کو جو کچھ کرنا تھا کر چکی ہے اور کر بھی رہی ہے مگر ان سب کوششوں کے بے اثر ہو نے کی وجہ یہی ہے کہ حکومت اور انتظامیہ کا حصہ بنے لوگ ہی اسے کامیاب ہونے دینا نہیں چاہتے ہیں۔ بی جے پی چاہتی تو ارجت کو ایف آئی آر کے بعد بھی خود سپردگی پر آمادہ کر کے ایک مثال قائم کر تی یا وارنٹ جاری ہونے کے بعد تو ضرور ایسا کر تی مگر اسے تو انتظار ہے اس دن کا جب پولس اسے گرفتار کرے تا کہ اسے بنیاد بنا کر ہنگامہ کھڑا کیا جائے۔ 1989 کے بھاگلپور فساد نے بہار سے کانگریس کا صفایہ کر دیا تھا۔ اب اگر فساد ہوا تو نتیش حکومت ختم ہوجائے گی۔ اسی لئے بی جے پی مست ہے، نتیش اور ان کی حکومت پست ہے۔ وہ چاہتے ہوئے بھی کچھ نہیں کر پا رہے ہیں۔ اپو زیشن کی طرح میڈیا بھی ان سے روز نئے نئے سوال کر رہا ہے۔ مگر کوئی جواب نہیں مل پا رہا ہے ۔ اپوزیشن کے علاوہ ان کی پارٹی کے بھی کئی رہنما اب نتیش پر طنز کے تیر چلا رہے ہیںاور کہہ رہے ہیں جب روم جل رہا تھا تو نیرو بانسری بجا رہا تھا ، آج بہار جل رہا ہے تو نتیش بانسری بجا رہے ہیں۔ اسی بے بسی کے عالم میں نتیش جب گذشتہ دنوں حضرت مخدوم منعم پاک ؒ کے عرس کے موقع پر ان کے مزار پر چادر پوشی اور امن کی دعا کے لئے پہنچے تو بی جے پی اور آر ایس ایس نواز میڈیا نے اس کی منفی رپورٹنگ کر تے ہوئے سوال اٹھایا کہ ہنومان جینتی کے موقع پر نتیش مندر نہ جا کر مزار پر گئے۔ شاید وہ موجودہ ماحول میں خود کو سیکولر ثابت کر نے اور مسلمانوں کی ہمدردی حاصل کر نے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن اگر وہ یہ سمجھتے ہیں کہ ٹوپی پہن کر اور مزار پر چادر پوشی کر نے اور دعا مانگنے سے مسئلہ حل ہو جائے گا تو یہ ان کی بڑی بھول ہے۔
خلاصہ کلام یہ کہ بہار کا ماحول انتہائی خراب ہے۔ امن اور عدم تشدد کا مرکز کہی جانے والی ریاست بارود کے ڈھیر پر ٹکی ہے۔ کسی بھی وقت کوئی بڑ ا دھماکہ ہو سکتا ہے۔ وزیر اعلیٰ نتیش کمار کوئی فیصلہ کن وار کرنے کی فراق میں نظر آ رہے ہیں ۔ ان کی خاموشی بہت کچھ کہہ رہی ہے ۔ حالانکہ وہ خود اب کچھ نہیں بول رہے ہیں۔ حکومت میں شامل بی جے پی کے بڑے رہنما بھی مصلحتاً خاموش ہیں ۔ پارٹی میں دوسرے اور تیسرے درجے کے لوگ یا زر خرید میڈیا کے اہلکار ہی اچھل کود کر رہے ہیں۔ غیر جانبدار اور امن پسند عوام دم سادھے کسی انہونی کا انتظار کر رہے ہیں۔ ایسے میں ٹک ٹک کر تا بہار کب اورکیسا منظر دکھائے گا ، کہنا مشکل ہے ۔
٭٭٭

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *