اسلام خواتین کو پورے جسم کے ساتھ چہرہ کو بھی ڈھانپنے کا حکم دیتا ہے: مولانا محمد رحمانی مدنی

muhammad-rahmani
اللہ رب العالمین نے سورۂ احزاب کی آیت نمبر 59 میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا کہ اپنی بیویوں، بیٹیوں اور تمام مسلمان عورتوں کو حکم دے دیں کہ وہ اپنے جسم پر چادریں اور حجاب ڈال کر رکھیں۔اس کا فائدہ یہ ہوگا کہ لوگ ان کی شرافت اور حیا کو پہچان لیں گے اور انہیں ہر طرح کی اذیت سے بچے رہنے کا موقع نصیب ہوگا۔اس عظیم آیت کریمہ میں دنیا کی مقدس ترین خواتین رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں اور ہماری ماؤں کو باپردہ رہنے کا حکم دیا گیا ہے۔اسی طرح رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹیوں کو بھی باپردہ رہنے کی تلقین کی گئی ہے۔ظاہر سی بات ہے کہ جب اتنی مقدس ترین ہستیوں کے لئے یہ حکم نازل ہوا جن کا احترام دنیا کا ہر ایمان والا کرتا ہے اور جن کی شرافت کی کوئی مثال نہیں مل سکتی تو آج کے اس پرفتن دور میں ان کمزورعقیدہ وعمل والی خواتین کو پردہ نہ کرنے کی اجازت کیسے دی جاسکتی ہے؟اسلام نے مسلم خواتین کو مکمل پردہ کرنے کا حکم دیا ہے اور بے پردگی اور بے حیائی کو حرام قرار دیا ہے۔ اورحقیقت یہ ہے کہ اسلام کے اسی قانون کے سبب آج آبروریزی کے واقعات کی روک تھام ممکن ہے۔سورۂ احزاب کی آیت نمبر ۳۳ کے مطابق خواتین کو گھر میں رہنے اور جاہلی دور کے انداز سے زیب وزینت اور بے پردگی اختیار کرنے سے روکا ہے۔ سورۂ نور میں خواتین کو نگاہیں نیچی رکھنے اور شرمگاہوں کی حفاظت کرنے نیز زیب وزینت کے بے جا اظہار سے منع کیا گیا ہے جب کہ سورۂ نور ہی میں رب کائنات نے گریبان پر چادر ڈال کر پورے جسم کا پردہ کرنے کا حکم دیا ہے۔ان خیالات کا اظہار ابوالکلام آزاد اسلامک اویکننگ سنٹر، نئی دہلی کے صدر جناب مولانا محمد رحمانی سنابلی مدنی نے سنٹر کی جامع مسجد ابوبکر صدیق، جوگابائی میں خطبۂ جمعہ کے دوران کیا ۔مولانا نے مزید فرمایا کہ سورۂ احزاب کی آیت کے مطابق عورت کو اپنی آواز کا بھی پردہ کرنا چاہئے یعنی جب وہ کسی غیرمحرم سے گفتگو کرے تو اس کی آواز میں لچک نہ پائی جائے ورنہ بیمار دلوں کو شرارت کا موقع ملے گا۔اسی طرح عورت سفر پر بھی تنہا یا کسی غیر محرم کے ساتھ نہیں جاسکتی اور نہ کسی اجنبی کے ساتھ خلوت میں ہوسکتی ہے جیسا کہ صحیح مسلم اور ترمذی میں اس کی صراحت موجود ہے۔عورتوں کو اگر لین دین کرنی ہے تو اس میں پردہ کا خیال رکھنا بے انتہا ضروری ہے کیونکہ اس میں فتنہ کے امکانات ہیں۔
مولانا موصوف نے پردہ کا مفہوم ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ سر سے لے کر پیر تک پورے جسم کا پردہ ہونا چاہئے صرف دیکھنے کے لئے ایک آنگھ کھولے رکھنے کی اجازت ہے اور حجاب والے لباس میں زیب وزینت کا اختیار کرنا درست نہیں ہے، عورت کا پورا بدن وسیع اور کشادہ کپڑے سے مکمل طور پر ڈھکا ہونا چاہئے یعنی اسے بڑی چادر یا عبایا کا استعمال کرنا چاہئے، کھنکنے والے زیورات پہن کر اور خوشبو لگا کرنکلنا بھی اس کے لئے جائز نہیں ہے، اسی طرح کفار اور مردوں کے لباس کی مشابہت اختیار کرنا بھی ناجائز ہے اور حجاب ونقاب میں شہرت والا لباس پہننا بھی ناجائز ہے۔ بعض علما ء نے مذکورہ بالا شرائط کے ساتھ صرف چہرہ کھولنے کی اجازت دی ہے ،جب کہ صحیح بات یہ ہے کہ ان کی رائے درست نہیں ہے کیونکہ دراصل فتنہ چہرہ ہی سے اٹھتا ہے، اسی لئے امت کے بڑے علماء نے چہرہ کھولنے کی رائے کو غلط قرار دیا ہے اور اس بات پر زور دیا ہے کہ حجاب کے لئے جو لباس پہنا جائے وہ چست اور تنگ نہ ہو بلکہ کشادہ اور ڈھیلا ڈھالا ہونا چاہئے تاکہ جسم کے اعضاء ظاہر نہ ہوں۔خطیب محترم نے خواتین سے پر زوراپیل کی کہ وہ اسلامی لباس کا خیال رکھیں ورنہ آج کے دور میں ہر طرف واقع ہونے والے حادثات پر کنٹرول ممکن نہیں ہوگا۔اخیر میں دعائیہ کلمات پر خطبہ ختم ہوا۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *