تعلیمی اہلیت کا قانون ویمن امپاورمنٹ میں رکاوٹ بن رہا ہے

پنچایتی راج الیکشن میں عورتوں کے لئے ریزرویشن سے ایک طرف جہاں مقامی انتظامیہ میں عورتوں کی حصہ داری کو زور ملا،وہیں الگ الگ ریاستوں میں سرپنچ اور پنچایت ممبروں کے الیکشن کے لئے مجوزہ و منظور شدہ اہلیت کے قوانین سے مقامی انتظامیہ میں عورتوں کی حصہ داری بھی یقینی طور پر متاثر ہوئی ہے۔ سرپنچ عہدہ کے لئے تعلیمی اہلیت کا قانون الیکشن میں خواہش مند امیدوار عورتوں کے لئے سب سے زیادہ رکاوٹ بن رہاہے۔ الگ الگ ریاستوں میں سرپنچ عہدہ کی امیدواری کے لئے تعلیمی اہلیت کے الگ الگ قانون ہیں۔
متعدد پنچایتوں کا معاملہ
اگر ہم چھتیس گڑھ ریاست کی بات کریں تو یہاں ایسی عورتوں کی ایک لمبی فہرست ہے جو اگلے پنچایتی الیکشن میں تعلیمی اہلیت کے قانون کی وجہ سے پنچایت کا الیکشن نہیں لڑ سکتی ہیں۔ ریاست میں اگلے پنچایتی راج الیکشن میں سرپنچ عہدہ کے کے لئے آٹھویں پاس ہونے کی بات چل رہی ہے۔ اگر یہ قانون پاس ہوتا ہے تو یقینی طور پر آٹھویں پاس نہ ہونے والی الیکشن کی خواہش مند بہت سی عورتیں الیکشن لڑنے سے محروم رہ جائیں گی۔ ان میں سے کچھ عورتیں ایسی بھی ہیں جو موجودہ سرپنچ ہیں۔
انہی میں سے ایک نام بلرام پور ،رامانوج گنج کے راجپور بلاک کی کرجی پنچایت کی سرپنچ کملا کوجور کا بھی آتا ہے۔ انہوں نے پانچویں تک کی تعلیم ’تعلیم بالغاں ‘ کے تحت حاصل کی ہیں۔ سرپنچ کے طور پر یہ کملا کا تیسرادور ہے۔ اس کے پہلے وہ دو دور میں سرپنچ رہ چکی ہیں۔ کرجی پنچایت کی سیٹ 1995-96 سے ہی عورتوں کے لئے ریزرو ہے۔ کملا نے 1995-96 میں پہلی بار گائوں والوں کے کہنے پر سرپنچ کا الیکشن لڑا اور جیت گئیں۔ 2004-2005 میں کملا نے پھر سرپنچ کے عہدہ پر الیکشن لڑا اور جیت گئیں۔ لیکن 2010 کے الیکشن میں سرپنچ کے عہدہ پر کملا کو ہار کا سامنا کرنا پڑا۔ 2015 کے الیکشن میں کملا نے پھر سرپنچ کے عہدہ پر جیت درج کی۔ شاید اگلے پنچایتی راج الیکشن میں کملا سرپنچ کے عہدہ پر الیکشن نہیں لڑ سکیںگی کیونکہ وہ آٹھویں پاس نہیں ہیں۔
پرمیلا سنگھ کی کہانی بھی کچھ اسی طرح کی ہے۔ پرمیلا سنگھ سورج پور ضلع کے بلاک سورج پور کے لٹوری گرام پنچایت کی سرپنچ ہیں۔ سرپنچ کے طور پر یہ ان کا دوسرا دور کار ہے۔ پرمیلا سنگھ پہلی بار 2004-2005 کے پنچایتی الیکشن میں سرپنچ چنی گئی تھیں۔ 2015 کے پنچایتی الیکشن میں یہ سیٹ عورت کے لئے ریزرو ہونے پر پرمیلا سنگھ اس سیٹ سے پھر امیدوار بنیں اور جیت گئیں۔ پرمیلا سنگھ نے’ تعلیم بالغاں ‘کے ذریعہ سے پانچویں تک کی تعلیم حاصل کی ہیں۔ پرمیلا سنگھ کا خاندان بھی اگلی بار انہیں سرپنچ کے عہدہ پر امیدوار بنانا چاہتاہے ۔لیکن کملا کی طرح پرمیلا بھی تعلیمی اہلیت نہ ہونے کی وجہ سے سرپنچ کا الیکشن نہیں لڑ پائیںگی۔
رنجیتا مونڈا بھی اگلے پنچایتی الیکشن میں تعلیمی اہلیت نہ ہونے کا درد جھیل سکتی ہیں۔رنجیتا مونڈا سرگوجا ضلع کے امبیکا پور بلاک کے اسولا گرام پنچایت کی سرپنچ ہیں۔پچھلی بار چھٹی پاس ہونے کے باوجود رنجیتا پنچایت کا الیکشن لڑیں اور جیتیں ۔رنجیتا کے گائوں والے ایک سرپنچ کے طور پر انہیں پسند بھی کرتے ہیں۔وہ اپنے گائوں میں مقبول ہیں۔ مگر اگلے پنچایت راج الیکشن میں سرپنچ کے لئے آٹھویں پاس ہونے کی بات چل رہی ہے۔یہ قانون رنجیتا جیسی بہت سی عورتوں کو آٹھویں پاس نہ ہونے کی وجہ سے الیکشن لڑنے سے روک دے گا۔یہ بات رنجیتا کو مایوس کرتی ہے۔ وہ کہتی ہیںکہ تعلیمی اہلیت کی حد بندی کی وجہ سے شاید میں اور میری جیسی بہت سی عورتیں الیکشن میں حصہ نہیں لے پائیں گی۔ رنجیتا کا ماننا ہے کہ اس قانون میں ترمیم کرنا چاہئے۔ اس کی وجہ سے بہت سی کم پڑھی لکھی لیکن اہل خواتین پنچایت میں آسکیں گی اور شاید پھر پنچایتوں کی صورت بھی بدل سکیں گی۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

کچھ ایسی ہی داستان ونس پتی سنگھ کی ہے۔ ونس پتی سنگھ بھی آٹھویں پاس تعلیمی اہلیت کی شرط وجہ سے شاید اگلا پنچایت الیکشن نہ لڑ سکیں۔ ونس پتی سنگھ کی تعلیمی اہلیت پانچویں پاس ہے۔ ونس پتی سنگھ سورج پور ضلع کے سورج پوربلاک کے سونواہی گرام پنچایت کی سرپنچ ہیں۔ ونس پتی سنگھ بھی آٹھویں پاس تعلیمی اہلیت کے قانون کی وجہ سے پنچایت کا الیکشن نہیں لڑ سکیں گی۔
اگر ہم راجستھان کا رخ کریں تو وہاں بھی تعلیمی اہلیت کے قانون نے بہت سی عورتوں کو سرپنچ کا الیکشن لڑنے سے روکا ہے۔ یہاں بھی صورت حال کم و بیش چھتیس گڑھ جیسی ہی ہے، بس فرق اتنا ہے کہ راجستھان میں سرپنچ عہدہ کے لئے تعلیمی اہلیت کا قانون منظور ہے جبکہ چھتیس گڑھ میں اس کو منظور کرنے کی بات چل رہی ہے۔ ایک ایسی ہی عورت ہیں گولی بائی۔ گولی بائی راجستھان کے سیروہی ضلع کے ریودر بلاک کی پادر پنچایت کی وارڈ پنچ ہیں۔ گولی بائی نے تیسری جماعت تک تعلیم حاصل کی ہے۔ پنچ کے عہدہ پر سارا کام سمجھنے کے بعد اب وہ سرپنچ عہدہ کے لئے الیکشن میں حصہ لینے کی خواہش مند ہیں۔ لیکن ایسے میں ایک پنچ کے طور پر کامیاب ہونے کے بعد بھی شاید وہ سرپنچ نہ بن پائیں۔ کیونکہ وہ الیکشن میں حصہ لینے کے لئے تعلیم کی لازمی شرط کو پورا نہیں کرتی ہیں۔ریاست میں سرپنچ عہدہ کی امیدواری کے لئے آٹھویں پاس تعلیمی اہلیت لازمی ہے۔ آٹھویں پاس نہ ہونے کی وجہ سے پنچایت کو ایک تجربہ کار امیدوار سے محروم ہونا پڑے گا اور گولی کو اپنے اختیار سے۔ گولی بائی گزشتہ ایک دہائی سے سماجی کاموں میں دلچسپی لے کر کافی مقبول ہوئی ہیں۔ نہ صرف چائلڈ میریج بلکہ تعلیم جیسے سماجی ایشوز پر اپنے طبقے کے لوگوں کی سمجھ کو صاف کرنے میں وہ سرگرم ہیں بلکہ اپنے وارڈ کے مسائل پر بھی ان کی لگاتار نظر رہتی ہے۔ گولی بائی کی گنتی بلاک کے سرگرم پنچایت ممبروں میں ہوتا ہے۔انہوں نے ہمیشہ سے عورتوں اور بچوں کے حق کے لئے کام کیا ہے۔ گولی بائی نے ہمت کے ساتھ کام لیتے ہوئے پادر اور بھٹانا پنچایت کی 7 غیر قانونی شراب کی دکانوں کو بند کرا دیا تھا۔
کملا دیوی بھی آٹھویں پاس نہ ہونے کی وجہ سے 2015 کے پنچایتی الیکشن میں سرپنچ کے عہدہ پر انتخاب نہیں لڑ سکیں۔ کملا سیروہی ضلع کے پنڈواڑا تحصیل کی برجا پنچایت کی سابق سرپنچ ہیں۔ 2005 میں جب برجا پنچایت میں سرپنچ کی سیٹ عورتوں کے لئے ریزرو ہوئی تو کملا نے سرپنچ کے عہدہ پر الیکشن لڑا اور جیت حاصل کی۔ کملا کو اس بات کا افسوس ہے کہ وہ 2015 کے الیکشن میں حصہ نہیں لے پائیں۔ انہیں لگتا ہے کہ ایک دور کار کے تجربہ کے بعد ان کی سمجھ پکی ہوئی ہے۔ ان کا خواب اپنے گائوں کو ’اسمارٹ ویلیج ‘ بنانا تھا۔ ان کی اسکیموں میں یہ کام انہوں نے اپنے الگے دور کے لئے طے کررکھا تھا۔ لیکن پنچایتی الیکشن میں تعلیمی اہلیت کی لازمیت نے صرف ان سے الیکشن میںشامل ہونے کا موقع چھینا ہے بلکہ گائوں کے نمونہ کو بدلنے کی ان کی خواہش کو بھی خاموش کر دیا ہے۔ کملا صرف اکیلی ایسی عورت نہیں ہیں ،بلکہ ایسی بہت سی عورتیں راجستھان کے مختلف گائوں میں مل جائیں گی،جو تعلیمی اہلیت نہ ہونے کی وجہ سے اب اس جمہوری نظام کی سیاست میں کبھی شامل نہیں ہو سکتیں۔
اسی طرح رمیا دیوی بھی تعلیمی اہلیت کی لازمیت کی وجہ سے اگلی بار سرپنچ کا الیکشن نہیں لڑ سکتیں۔ رمیا دیوی سیروہی ضلع کے پنڈواڑا تحصیل کی اپچورا پنچایت کی رہنے والی ہیں۔ رمیا نے درجہ پانچ تک تعلیم حاصل کی۔ 2015 کے الیکشن میں اپچورا پنچایت کی سیٹ عورتوں کے لئے ریزرو ہونے کے بعد رمیا اور ان کے خاندان نے سوچا کہ اب رمیا کے شوہر کی جگہ رمیا کو الیکشن میں حصہ لینے کا موقع دیا جائے لیکن راجستھان کے پنچایتی انتخابات کے قوانین کی وجہ سے وہ ان انتخابات میں حصہ نہیں لے سکیں۔ تعلیمی اہلیت کے قانون کے سبب رمیا کو یہ موقع شاید اب کبھی نہیں ملے گا کہ وہ الیکشن میں حصہ لے کر گائوں کی ترقی کی سمت میں اپنے خواب کو شرمندہ تعبیر کرسکیں۔ حالانکہ رمیا کے لئے شاید یہ پہلا موقع ہوگا،جب وہ پنچایت کی پردھان بننے کا خواب دیکھ رہی ہیں۔ دیہی عورتوں کی آنکھوں میں یہ خواب 73 ویں آئینی ترمیم کے بعد آئے ریزرویشن سے جاگا ہے۔ عورتیں اب گھرسے باہر آکر گائوں کے کام کاج میں جڑنے کا خواب دیکھ رہی تھیں کہ نئے قانون نے ان کے خوابوں پر پانی پھیر دیا۔
کملا کوجور، پرمیلا سنگھ، رنجیتا مونڈا، ونس پتی سنگھ، گولی بائی ، کملا دیوی ہی ایسی عورت نہیں ہیںجو تعلیمی اہلیت نہ ہونے کی وجہ سے سرپنچ کا الیکشن نہیں لڑ سکتیں۔ چھتیس گڑھ اور راجستھان کی طرح ملک کی دوسری ریاستوں میں بھی ایسی عورتوں کی ایک لمبی فہرست ہے جو تعلیمی اہلیت نہ ہونے کی وجہ سے اب کبھی سرپنچ کا الیکشن نہیں لڑ سکیں گی۔ پنچایتی الیکشن میں ریزرویشن سے بھلے ہی عورتوں کی حصہ داری کو زور ملا ،لیکن یہ بھی سچ ہے کہ نئے انتخابی قانون میں تعلیمی اہلیت نہ رکھنے والی بہت سی خواہش مند عورتوں کے خواب پر پانی بھی پھیر دیاگیا ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *