دنیش کارتک کرکٹ شائقین کے ہیروبن گئے

dinesh-karthik

ا س وقت دنیش کارتک کی الیکٹرانک ، پرنٹ اورخصوصی طورپرسوشل میڈیا میں دھوم مچی ہوئی ہے۔دراصل نداہاس ٹرافی کے خطابی مقابلے میں بنگلہ دیش کے خلاف آخری گیند پر چھکا لگا کر اورناقابل یقین جیت دلا کر ہندوستانی کرکیٹراوروکٹ کیپردنیش کارتک نے کرکٹ شائقین کا دل جیت لیاہے۔کیونکہ سری لنکاکے پریم داسا اسٹیڈیم میں سہ ملکی سیریز کے فائنل میں 8گیندوں پر29رنو ںکی اننگ کھیل کرپورے ہندوستان کوناگن ڈانس کرانے والے وکٹ کیپر دنیش کارتک اس وقت کرکٹ شائقین کے ہیروبن گئے ہیں۔دنیش کارتک پچھلے 14سال کے بین الاقوامی کرکٹ کریئر میں وہ کبھی بھی اس طرح لوگوں کے دل میں جگہ نہیں بناپائے۔گویادنیش کارتک نے 14 سال کے لمبے بین الاقوامی کرکٹ کریئر میں ناقابل یقین سرخیاں محض ایک رات میں بٹوری ہیں۔بہرکیف ہندوستان نے بنگلہ دیش کواعصاب شکن میچ میں18مارچ 2018کو4 وکٹ سے ہراکرسہ فریقی ٹوئنٹی 20 سیریز نداہاس ٹرافی کا خطاب جیت لیا۔

 

 

 

 

نداس ٹرافی کے فائنل میں جس طرح ہندوستانی کرکیٹردنیش کارتک نے طوفانی پاری کھیلی کرکٹ شائقین کو مہندرسنگھ کی یادآگئی ۔میچ کے بعدانہو ںنے اس جارحانہ بلے بازی کرنے کا کریڈٹ دھونی کوہی دیا۔کارتک نے بتایاکہ کیسے انہو ںنے دھونی سے آخری اوور میں کھیلنے کی ٹپس سیکھا۔دباؤ میں بھی میں انہوں نے شاندارپرفارم کیا اورجیت دلائی۔ دھونی اورکارتک دونوں ہی وکٹ کیپرہیں۔
منیش پانڈے بھی جب 27گیندوں پر تین چوکوں کے ساتھ28رنز بنا کر آؤٹ ہوگئے توہندوستان کو12 گیندوں پر34رنز کی ضرورت تھی۔ جو کہ ممکن نظر نہیں آرہا تھا۔لیکن اس موقع پر دنیش کارتک نے ہوش برقرار رکھاور بڑے بڑے شاٹ لگاناشروع کردیا۔ اور 19ویں اوور میںدو چھکوں اور ایک چوکے اور ایک دکے کی مدد سے 22رنز بناڈالے۔اور آخری اوور کی آخری گیند پر چھکا لگا کر میچ کو اور یادگار بنا دیا۔یعنی دنیش کارتک نے شاندارچھکالگاکرٹیم انڈیا کوچمپئن بنادیا۔دنیش کارتک کو مین آف دی میچ قرار دیا گیا۔آف اسپنر واشنگٹن سندر کو مین آف دی سریز ایوارڈ سے سرفراز کیا گیا۔
ہندستان کیلئے 23 ٹیسٹ، 79 ون ڈے اور 14 ٹوئنٹی 20 بین الاقوامی میچ کھیل چکے کارتک آئی پی ایل میں 2008 کے ابتدائی سیزن کے بعد سے اب تک 5 ٹیموں کیلئے کھیل چکے ہیں ۔کولکاتہ سے جڑنے سے پہلے وہ دہلی ڈئیر ڈیولس،کنگز الیون پنجاب، ممبئی انڈینس، رائل چیلنجرس بنگلور اور گجرات لائنز کی طرف سے کھیل چکے تھے۔اس کے علاوہ وہ اپنی گھریلو ٹیم تمل ناڈو کی بھی کمان سنبھال چکے ہیں۔کارتک نے اپنی کپتانی میں تمل ناڈو کو 2009-10 میں وجے ہزارے ٹرافی کا خطاب دلایا تھا۔اس کے علاوہ وہ انڈیا ریڈ کی طرف سے بھی کپتانی کر چکے ہیں جس نے کارتک کی کپتانی میں ہی گزشتہ سال دلیپ ٹرافی کا خطاب جیتا تھا۔ٹوئنٹی 20 فارمیٹ میں تمل ناڈو کی کپتانی کے طور پر ان کا جیت کا ریکارڈ 72 فیصد رہا ہے۔

 

 

 

 

 

انڈین پریمئر لیگ (آئی پی ایل) میں دو بارچمپئن کولکاتا نائٹ رائڈرس (کے کے آر) نے اس بارلیگ کے 11 ویں ایڈیشن کے لئے وکٹ کیپر بلے باز دنیش کارتک کو نیا کپتان بنایا ہے۔32 سال کے کارتک کو کولکاتہ نے جنوری میں ہوئی نیلامی میں 7.4 کروڑ روپے کی رقم میں خریدا تھا اور وہ ٹیم کے کپتان بننے کی دوڑ میں سب سے آگے چل رہے تھے۔کپتان کی ریس میں ایک اور وکٹ کیپر رابن اتھپا بھی شامل تھے جنہیں ٹیم کا نائب کپتان بنایا گیا ہے۔کارتک آئی پی ایل کی تاریخ میں کولکاتہ کے چوتھے کپتان ہوں گے۔ان سے پہلے سوربھ گنگولی، برینڈن میک کلم اور گوتم گمبھیر ٹیم کی کمان سنبھال چکے ہیں۔ گمبھیر 7 سال تک کولکتہ کے کپتان رہے۔گمبھیر نے اپنی کپتانی میں کولکاتہ کو دو بار چمپئن بنایا ۔
کولکاتہ ٹیم کے نئے کپتان بنائے جانے کے بعد کارتک نے کہاکہ آئی پی ایل کی سب سے کامیاب ٹیم کولکاتہ کی قیادت کرنا میرے لئے اعزاز کی بات ہے اور میں اس نئے چیلنج کے لئے تیار ہوں۔ میں اس ٹیم کی قیادت کرنے کیلئے انتہائی پرجوش ہوں جس میں تجربے اور نوجوانوں کا مرکب ہے۔کروڑوں لوگوں کے من پسند کے کے آر کیلئے میں بہترین کارکردگی کامظاہرہ کروں گا۔

 

 

 

 

بہرحال نداہاس ٹرافی کے خطابی مقابلے میں بنگلہ دیش کے خلاف آخری گیندپرچھکالگاکر ناقابل یقین جیت دلانے والے ہندوستانی کرکیٹر اور وکٹ کیپردنیش کارتک کوکرکٹ شائقین کا بہت پیاراورسپورٹ مل رہاہے۔کارتک نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہاہے کہ ٹیم انڈیا میں کھیلنے کا موقع ملناہی بہت مشکل ہے لیکن جب یہ ہاتھ آئے تواس کا پورا فائدہ اٹھانا چاہئے۔عیاں رہے دنیش کارتک کے آخری گیندپرلگائے گئے شاندارچھکے کے کمال سے ہندوستان نے جیت حاصل کی ۔کارتک نے کمال کی جارحانہ بلے بازی کی اور ہندوستان کوچمپئن بنا دیا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *