دیش بھکتی فلموں کا نشان ہیں 81سالہ منوج کمار

manoj-kumar
بالی ووڈ میں منوج کمار ایک ایسا نام ہے جنہیں بھارت کمارکے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ بالی ووڈ میں 1961سے 1970 کی دہائی کو ایک طرف رومانی فلموں کے سنہرے دور کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔ایک ایسے وقت میں جب لوگ اداکاروں کو رومانٹک کے طور پردیکھناپسندکرتے تھے مگراس وقت رومانٹک فلموں کے بعد منوج کمار دیش بھکتی فلموں کی جانب اپنا رخ کیا۔انہیں فلموں میں دیش بھکتی سے لبریزاورہدایت کار کیلئے جاناجاتاہے اور اسی کے باعث انہیں بھارت کمارنام دے دیاگیا۔

 

مزید پڑھیں  ایک بارپھرسلمان -پرینکاایک ساتھ

 

دیش بھکت اداکارکے طورپر منوج کمارکی شبیہ 1965میں فلم ’شہید‘ سے آئی۔اس فلم میں انہو ں نے جوان اور کسان دونوں کے ہی کردار ادا کئے۔ ساتھ ہی فلم کی گیت ’میرے دیش کی دھرتی‘ بھی سپرہٹ گیت ثابت ہوئی ۔یہ فلم ’اپکار‘ پردے پرہٹ بھی ہوئی اوراس فلم کیلئے منوج کمارکو پہلا بیسٹ ڈائرکٹر کا فلم فیئرایوارڈ ملا۔دیش بھکتی زمرے میں’ پورب اورپچھم‘ اور’روٹی کپڑا اورمکان‘ وغیرہ ہیں۔یہ وہ دور تھا جب منوج کمار ،بھارت کپور، راج کمار کو مکالمے ادائیگی کے بے تاج بادشاہ کہا گیا۔
بالی ووڈ کے سینئراداکاربھارت کمار کے نام سے معروف ومشہورمنوج کمار یہ دیکھ کرخوش ہیں کہ 45سال سے قبل جوکام انہو ں نے شروع کیاتھا، اسے آج کے دورکے سپراسٹار اکشے کمار اور سلمان خان آگے بڑھارہے ہیں۔ دراصل اکشے کمار ان دنوں جوفلمیں کررہے ہیں ، اسے 81سال کے منوج کمار سماج میں بدلاؤ لانے والا سنیمامانتے ہیں۔وہیں سلمان خان ’بھارت‘ نام کی فلم میں کام کررہے ہیں۔نیزفلم ’بھارت‘ کی شوٹنگ شروع ہوگئی ہے۔عیاں رہے کہ 1970کے دہائی کی کلاسک فلموں ’اپکار‘ ’ پورب اورپچھم‘ اور’روٹی کپڑا اورمکان‘ میں منوج کمارکے کرداروں کانام بھارت تھا۔
منوج کمارنے کہاکہ’ ایسا نہیں ہے کہ بھارت نام میرے پاس کاپی رائٹ کا دعویٰ ہے، ہرکوئی بھارت ہے۔انہو ں نے کہاکہ مجھے خوشی ہے کہ سلمان اوراکشے جیسے سپراسٹار ان ادا کاروں کا کرداراداکررہے ہیں جوایک سماجی بیداری ، ایک نئی صبح، نیابھارت لاسکتے ہیں‘‘۔
یقیناًمنوج کمار 1970کی دہائی کے آخر ی دہائی میں راجیش کھنہ کے ساتھ ’ نیابھارت‘ نام کی فلم بناچاہتے تھے۔ ان کا مانناہے کہ آج ’نیابھارت‘ سلمان اوراکشے کولیکربناسکتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ’’ اگرآپ اپنے کام کے تئیں ایماندارہیں اورسماج میں بدلاؤ لانے کی خواہش کے تئیں ایماندارہیں، عوام آپ کے کوششوں کواپنائیں گے۔ میں سلمان اوراکشے کے کام میں ایمانداری دیکھتاہوں، جورائیگاں نہیں جائے گا‘‘۔منوج کمار جلدہی ایک اورفلم ڈائریکٹ کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ’میں اپناچپل پہنے مرناچاہتاہوں ۔ میں جلدسے جلد ڈائریکشن میں واپسی کرنے کا پلان بنارہاہوں۔‘‘
منوج کمارنے 1957میں فلم ’فیشن‘ کے ذریعہ بالی ووڈ میں انٹری لی۔ اس فلم میں انہیں ایک بہت چھوٹے بھکاری کارول ملاتھا۔ 1960میں آئی فلم ’کانچ کی گڑیا‘ میں منوج کمار کوپہلی بار مرکزی کردارملا ۔اس فلم میں وہ سعیدہ خان کے ساتھ دکھائی پڑے ۔ پہلی ہی فلم کے بعد منوج کمار کو اتناپسندکیا گیاکہ انہیں لگاتارکئی فلموں میں دیکھا گیا۔1960کی دہائی میں ان کی رومانٹک فلموں میں ’ ہنی مون، اپنابناکے دیکھو، نقلی نواب، پتھرکے صنم، ساجن، ساون کی گھٹا ‘اوران کے علاوہ سماج سے متعلق فلموں میں ’شادی ‘ ، گرہستی‘، ’اپنے ہوئے پرائے‘، ’پہچان‘، ’آدمی‘ اور‘’ گمنام‘، ’ انیتا‘ اور’ وہ کون تھی؟‘ جیسی تھریلرفلمیں شامل تھیں۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *