دلتوں کو قرض دینے کے نام پر ہورہی ہے لوٹ

dalit

صوفی یایاور / ایم افضل خاں
سرمایہ دار سے لے کر لیڈر، دلال اور اعلیٰ نوکر شاہ تک ملک کو لوٹنے میں لگے ہوئے ہیں تو پھر باقی سرکاری ملازم پیچھے کیوں رہیں؟ سرمایہ دار بینکوں کے قرض لے کر فرار ہو رہے ہیں تو سرکاری ملازمین دلتوں کی مدد کے لئے ملنے والے قرض ہڑپ رہے ہیں۔ شیڈولڈ کاسٹ ڈیولپمنٹ کارپوریشن سے شیڈولڈ کاسٹ کے لوگوں کو قرض دینے کے نام پر گورکھپور میں کروڑوں روپے کا فرضی واڑہ اجاگر ہوا ہے۔یہ گورکھ دھندہ صرف گورکھپور میں نہیں ،بلکہ ریاست کے دیگر اضلاع میں بھی چل رہا ہے لیکن سرکاری سسٹم کا اس پر کوئی کنٹرول نہیں ہے۔ سرکاری سسٹم نے معاملے کی لیپا پوتی کرنے کے تمام ہتھکنڈے اپنائے لیکن آر ٹی آئی (قانون حقِ اطلاعات ) کے تحت مانگی گئی جانکاری نے آخر کار ساری پول کھول ہی دی۔

 

 

 

مُردوں اور بے ناموں کو بھی قرض

اب یہ سرکاری طور پر خلاصہ ہوا ہے کہ جن دلتوں کو قرض سے فائدہ اٹھانے والا دکھایا گیا، ان میں ایک آدمی مرا ہوا ہے اور 77لوگ بے نامی ہیں۔ یعنی سرکاری دستاویزوں پر جن فائدہ اٹھانے والوں کا نام درج ہے، وہ سب فرضی ہیں، دیئے گئے پتے پر رہتے ہی نہیں ہیں۔ معاملے کی شکایت پہلے ضلع اور محکمہ جاتی سطح پر کی گئی لیکن اس پر کوئی سنوائی نہیں ہوئی۔ آخر کار وزیر اعلیٰ کے ’جن سنوائی پورٹل‘ کے ذریعہ معاملے کی جانکاری وزیر اعلیٰ کو ہوئی اور وزیر اعلیٰ کی ہدایت پر معاملے کی جانچ شروع کی گئی۔ جانچ کا حکم ہونے کے باوجود پورا بدعنوان سسٹم اس سنگین معاملے کو رفع دفع کرنے میں لگا ہوا ہے۔
قابل ذکر ہے کہ سوشل ویلفیئر ڈپارٹمنٹ کے تحت شیڈولڈ کاسٹ فنانس اینڈ ڈیولپمنٹ کارپوریشن کے ذریعہ شیڈولڈ کاسٹ کے لوگوں کو قرض فراہم کرنے کی اسکیم چلائی جاتی ہے۔ سرکار (محکمہ ) کی طرف سے ہی اس کی سبسڈی بینکوں کو بھیجی جاتی ہے۔ 2017 کی شروعات میں گورکھپور کے رہنے والے لوک جن شکتی پارٹی (یوتھ ) کے نیشنل سکریٹری سنجے مشر نے گورکھپور کوآپریٹیو بینک سے
20 ہزار روپے تک کے قرض کے بارے میں جانکاری مانگی ۔ آر ٹی آئی کے تحت سنجے نے یہ جانکاری مانگی کہ 2011-12 سے 2015-16 تک کتنے دلتوں کو قرض دیا گیا۔ کوآپریٹیو بینک نے اگست 2017 میں جانکاری دی کہ اس عرصہ میں صرف 15دلتوں کو قرض دیا گیا۔
سنجے نے دوسری طرف یہی جانکاری شیڈولڈ کاسٹ فنانس اینڈ ڈیولپمنٹ کارپوریشن سے بھی الگ سے مانگ لی۔ اترپردیش شیڈولڈ کاسٹ فنانس اینڈ ڈیولپمنٹ کارپوریشن ستمبر 2017 میں یہ جانکاری دی کہ مذکورہ عرصے میں 107 دلتوں کو قرض دیا گیا۔ جب چھان بین کی گئی تب پایا گیا کہ فائدہ اٹھانے والوں میں سے 86 لوگ دیئے گئے پتے پر رہتے ہی نہیں اور ان کے نام غلط ہیں۔ ایک آدمی جسے فائدہ اٹھانے والا بتایا گیا، وہ زندہ ہی نہیں ہے۔

 

 

 

ستم ظریفی یہ ہے کہ کوآپریٹیو بینک کی الگ الگ شاخوں سے الگ الگ متضاد قسم کے جواب ملے۔کسی نے کچھ کہا تو کسی نے کچھ۔ کوآپریٹیو بینک کی بانس گائوں برانچ نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ مذکورہ عرصہ میں ایک بھی آدمی کو قرض نہیں دیا گیا ۔ کوآپریٹیو بینک کی کھجنی برانچ نے 14 دلتوں کی کارپوریشن سے سبسڈی ملنے کی بات قبول کی۔ گورکھپور کے اترپردیش کوآپریٹیو گرام وکاس بینک نے تو کہہ دیا کہ متعلقہ عرصہ میں کوئی قرض منظور ہی نہیں کیا گیا۔ جبکہ سچ یہی ہے کہ مذکورہ عرصہ میں اترپردیش شیڈولڈ کاسٹ فنانس اینڈ ڈیولپمنٹ کارپوریشن لمیٹیڈ نے کئی دلتوں کو قرض الاٹ کرکے سبسڈی کا پیسہ بینک کو بھیجا، جبکہ بینک اسے قبول نہیں کررہا ہے۔ کارپوریشن کے ذریعہ قرض لینے والے دلتوں کی کھوج کی گئی تو متعلقہ آدمی متعلقہ گائوں میں ملے ہی نہیں ۔
دلتوں کے قرض کے نام پر چل رہے اس فرضی واڑے کی شکایت گورکھپور ضلع کے ڈپٹی ڈائریکٹر سے کی گئی لیکن وہاں شکایت سنی ہی نہیں گئی۔ آخرکار وزیر اعلیٰ کے’ جن سنوائی پورٹل‘ پر شکایت درج کی گئی اور وہاں سے معاملہ سرکاری طور پر سرکار کے نوٹس میں آیا۔ جانکار بتاتے ہیں کہ یہ معاملہ بہت ہی سنگین اور بڑا ہے۔ ابھی تو اس کا ایک سرا ہی پکڑ میں آیا ہے۔ اس معاملے کی اگر سی بی آئی سے جانچ ہو گئی تو ایک بڑا گھوٹالہ سامنے آئے گا اور کئی سفید پوش چہرے بے نقاب ہوں گے لیکن معاملے کی سی بی آئی سے جانچ کرانے میں سرکار کوئی دلچسپی نہیں لے رہی ہے۔ سوشل ویلفیئر ڈپارٹمنٹ کے چیف سکریٹری منوج سنگھ رسمی طور پر ڈائیلاگ دوہراتے ہیں کہ معاملہ اب جانکاری میں آیا ہے۔ جانچ کے بعد ہی پتہ چل سکے گا کہ قصوروار کون ہے۔جبکہ گورکھپور کے لوگوں سے پوچھئے تو اس گھپلے کے بارے میں اور گھپلہ کرنے والے سرکاری ملازموں کے بارے میں عام لوگوں کو بھی پتہ ہے۔

 

 

کروڑوں کا گول مال

سرکاری ملازمین ،سرکاری اسکیموں کا غلط استعمال کس حد تک کررہے ہیں،یہ وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کے اپنے ضلع میں قرض لوٹ سے دیکھنے کو مل رہا ہے۔ غریب طبقے کے شیڈولڈ کاسٹ کے لوگوں کو روزگار سے جوڑنے کے لئے سرکاری سطح پر دی جانے والی مدد کا بدعنوان سرکار ی سسٹم نے مسخ ہی کرڈالا ہے۔ دلتوں تک مدد پہنچی ہی نہیں اور سارا پیسہ بڑے لوگ ہی کھاگئے۔اب معاملہ اجاگر ہو گیا تو سارے آفیسر ایک دوسرے کے اوپر ٹوپی پہنانے میں لگے ہوئے ہیں۔ اس بڑے گھپلے کی جانچ سی بی آئی سے کرانے کی مانگ عوامی طور پر اٹھنے لگی ہے۔ ضلع کے کچھ کوآپریٹیو بینکوں کے مضحکہ خیز رویے بھی سامنے آرہے ہیں۔ یہ صاف ہو گیا ہے کہ سرکاری آفیسر اور ملازم ہی اترپردیش سوشل ویلفیئر ڈپارٹمنٹ کے تحت چلنے والی ’دلت کلیان یوجنا ‘کا کچومر نکالنے پر آمادہ ہیں۔
اترپردیش شیدولڈ کاسٹ فنانس ڈیولپمنٹ کارپوریشن لمیٹیڈ کے ذریعہ دلت طبقہ کے غریب لوگوںکو ان کی اقتصادی حالت سدھارنے اور سیلف امپلائمنٹ سے جوڑنے کے لئے 20 ہزار روپے سے لے کر 15 لاکھ روپے تک کی سبسڈی بطور قرض دینے کی تجویز ہے۔ اس قرض کو بے حد کم سود پر دیا جاتا ہے۔ اس پر سالانہ سود محض چار فیصد مقرر ہے۔ اس پر 10ہزار کی سبسڈی ہے۔ یعنی قرض حاصل کرنے والے افراد کا 10ہزار کا قرض معاف۔ اس سبسڈی کے کھیل میں محکمہ کے آفیسر اس حد تک ملوث ہو گئے کہ دلتوں کو ترقی دینے کی اسکیم کو طاق پر رکھ دیا اور اپنی ترقی کرنے میں لگ گئے ۔
اسپیشل کمپونینٹ پلان کے تحت ویلیج ڈیولپمنٹ آفیسر کے ذریعہ نشان زد اور اہل شخص کا ہی قرض کے لئے فارم بھرا جاتا ہے۔ پھر اے ڈی او اس کی جانچ کرتا ہے۔ اس کے بعد ڈویژنل ڈیولپمنٹ آفیسر کے ذریعہ جانچ کی رسم پوری کی جاتی ہے۔ اس کے بعد دو کاپیوں میں منتخب شدہ فارم کو متعلقہ بینک کو بھیج دیا جاتاہے۔ مقررہ عمل کے تحت قرض منظور ہونے کے بعد منظوری کی ایک کاپی بینک کے ذریعہ بی ڈی او کو واپس کردیا جاتاہے۔ آخر میں جانچ کے تمام عمل مکمل ہونے کے بعد منتخب شخص کو چیک جاری کرنے کے لئے اکائونٹ کو بھیج دیا جاتاہے۔ اکائونٹ سے اہل شخصکے نام پر چیک جاری ہوتا ہے لیکن دلتوں کے قرض کے اس عمل میں ڈسٹرکٹ سوشل ویلفیئر آفیسر نے تمام تجاویز کی اندیکھی کی، تاکہ قرض کے اس کھیل میں گول مال ہو سکے۔ لون لوٹ کی پوری اسکیم بنا کر محکمہ جاتی افسروں نے بڑا کھیل رچا۔ ایسے ایسے لوگوں کو الگ الگ گائوں کا باشندہ بتایا گیا جن کا ان گائوں میں کوئی وجود ہی نہیں تھا۔ ویلیج ڈیولپمنٹ آفیسر ، اے ڈی او، بی ڈی او، اکائونٹینٹ اور ڈسٹرکٹ مینیجر نے گروپ بنا کر آپس میں مل بیٹھ کر انہی فرضی ناموں کو سبسڈی کی رقم بانٹ دی۔
دلتوں اور اقلیتوں سمیت دیگر پچھڑے طبقہ کے لوگوں کی ترقی کے لئے سرکاری اسکیمیں بھی ہیں اور افسروں اور ملازموں کی لمبی چوڑی ٹیم بھی ہے لیکن یہ سب مل کر سرکاری اسکیموں کو لوٹ کا ذریعہ بنائے ہوئے ہیں۔

 

 

 

 

ابھی ہی دیکھئے کہ دلتوں کے نام پر قرض لوٹ کا جیسے ہی خلاصہ ہوا، ویسے ہی گورکھپور میں آفیسر سے لے کر ملازمین تک معاملے کی لیپا پوتی میں لگ گئے۔ 1975 میں ہی دلتوں کو اکانومی سمبل دینے کے لئے سوشل ویلفیئر ڈپارٹمنٹ کے تحت اترپردیش شیدولڈ کاسٹ فنانس ڈیولپمنٹ کارپوریشن لمیٹیڈ قائم کیا گیا تھا لیکن 43 سال بعد بھی یہ ڈھکوسلہ ہی ثابت ہو رہا ہے۔ گورکھپور کے اس قرض لوٹ کی تھوڑی تفصیل میں جائیں تو آپ کو حیرت ہوگی ۔ایک طرف محکمہ کہہ رہا ہے کہ 2012-13 میں گائوں مادھو پور پوسٹ لوہسی کے رام رتن کو 20 ہزار روپے کا قرض دیا گیا جس میں 10 ہزار بطور گرانٹ دیا گیا۔ دوسری طرف کوآپریٹیو بینک کی شہہ جنوا برانچ کے مینیجر کہتے ہیں کہ برانچ سے رام رتن کے نام پر 20 ہزار روپے کا کوئی قرض منظور نہیں ہے۔ محکمہ جن شیڈولڈ کاسٹ کو اسپیشل کمپونینٹ پلان کے تحت 2011 سے لے کر اب تک 14 لوگوں کو قرض دینے کی بات کررہا ہے اورگنتی کررہا ہے، اسی قرض کے معاملے کو کوآپریٹیو بینک کی بانس گائوں برانچ بے ساختہ خارج کردیتا ہے۔ بانس گائوں برانچ کہتا ہے کہ اس عرصے میں ان لوگوں کو بینک کے ذریعہ نہ تو کسی طرح کا قرض دیا گیا ہے اور نہ ہی کوئی قرض یا گرانٹ منظور ہوا ہے۔ صاف ہے کہ گرانٹ اور قرض کے اس کھیل میں اوپر سے لے کر نیچے تک کے افسروں اور ملازموں کی ملی بھگت ہے۔ معاملے کی جانچ پڑتال میں ایسے درجنوں فائدہ اٹھانے والوں کے نام سامنے آئے جن کی یا تو برسوں پہلے موت ہو چکی ہے یا پھر اس نام کے کسی شخص کا کوئی وجود ہی نہیں ہے۔ لیکن اس کے نام پر گرانٹ بھی ملا اور قرض بھی دے دیا گیا۔ یہ گھوٹالہ پچھلے لمبے عرصے سے چل رہاہے۔ ابھی معاملہ اجاگر ہونے کے بعد افسروں نے اپنی گردن بچانے کے لئے دستاویزوں میں ہیر پھیر کا کام تیز کردیا ہے۔

 

 

 

 

یو پی میں دلتوں کا قرض کھا گئے تو مرکز میں دلتوں کا حق

ایک طرف اترپردیش میں اقتصادی طور پر پریشان حال دلتوں کو مدد دینے کی اسکیم بدعنوانی میں پھنسی ہوئی ہے تو دوسری طرف مرکزی سرکار کی تشہیر کردہ ’ اسٹینڈ اپ انڈیا ‘ اسکیم کے تحت دلتوں کو قرض دینے میں بھید بھائو برتا جارہا ہے۔ ایک طرف دلتوں کا قرض ہڑپ لیا جارہاہے تو دوسری طرف دلتوں کو قرض دینے سے انکار کیا جارہا ہے۔’ اسٹینڈ اپ انڈیا‘ اسکیم کے تحت دلتوں کو قرض دینے سے زیادہ تر بینکوں نے منع کردیا۔ وزیر اعظم نریندر مودی کی اس اہم اسکیم کے تحت اب تک بہ مشکل 6سے 7 فیصد بینکوں نے شیڈولڈ کاسٹ اور شیڈولڈ ٹرائب کے امیدواروں کو قرض دیا ہے۔ اس اسکیم کو 2015 میں ہی لاگو کیا گیا تھا۔ سرکاری دستاویز ہی بتاتے ہیں کہ پبلک سیکٹر کے 21کمرشیل بینکوں نے ، 42 ریجنل رورل بینکوں اور 9 پرائیویٹ سیکٹر کے بینکوں نے 5852 شیڈولڈ کاسٹ کی درخواستوں اور 1761 شیڈولڈ ٹرائب کے امیدواروں کو قرض دیا۔ جبکہ جنرل طبقہ کی 33321 عورتوں کو ’اسٹینڈ اپ انڈیا‘ اسکیم کے تحت قرض دیا گیا۔ اعدادو شمار بتاتے ہیں کہ 21 پبلک سیکٹر کے کمرشیل بینکوں نے 38111 لوگوں کو یہ قرض دیا۔ ان میں سے 5559 امیدوار شیڈولڈ کاسٹ کے اور 1653 امیدوار شیڈولڈ ٹرائب کے ہیں۔جبکہ 30899جنرل کلاس والی عورتیں ہیں۔ شیدولڈ کاسٹ اور شیڈولڈ ٹرائب کے درخواست دہندوں کو دیئے گئے اوسط قرض کی رقم 10 لاکھ روپے ہے جبکہ عورتوں کو دیئے گئے قرض کی اوسط رقم 12.27 لاکھ روپے ہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *