برقع اور گول ٹوپی کے ترشول سے موازنہ پر مورخ گوہا کا اعتراف سہو

بڑوں کی باتیں بڑی ہوتی ہیں۔ مشہور و معروف مؤرخ رام چندر گوہا نے ایک انگریزی روزنامہ (انڈین ایکسپریس) میں 24 مارچ کو شائع ہوئے اپنے ایک مضمون میں برقع اور گول ٹوپی کے ترشول کے ساتھ موازنہ پر زبردست رد عمل کے بعد اسی اخبار میں 10اپریل کو ایک اور مضمون لکھ کر اعتراف سہو کرلیا ہے۔یہ یقینا بڑی بات ہے۔ اس سے گوہا کا بڑپّن مزید بڑھ جاتا ہے۔ عام طور سے کوئی بھی شخص جلدی اپنا سہو تسلیم نہیں کرتا ہے مگر گوہا جیسے پایہ کے عظیم مؤرخ نے ایسا کرکے اپنی عظمت بڑھائی ہے۔
عیاں رہے کہ سیکولر اور لبرل مورخ رام چندر گوہا نے اپنے پہلے مضمون میں اظہار خیال کیا تھا کہ ’’اس مضمون نگار سمیت بہت سے لوگ ریلیوں میں ہندئوں کے ذریعے بھگوا لباس پہننے اور ترشولوں کے استعمال پر اعتراض کرتے ہیں۔ برقع ایک ہتھیار نہیں ہوسکتا ہے مگر علامتی طورپر یہ ایک ترشول کی طرح ہے۔ یہ ایمان کے بہت ہی ’ ری ایکشنری‘ اور’ اینٹی ڈیلووین ‘ پہلو کی نمائندگی کرتاہے۔ عوامی طور پر اس کا استعمال عدم رواداری کی نہیں بلکہ لبرلزم اور نجات کی پہچان ہے‘‘۔
رام چندر گوہا کا یہ مضمون دراصل معروف سماجی کارکن ہرش مندر کے اسی انگریزی روزنامہ میں چھپے اس مضمون کا جواب تھا جس میں انہوں نے کانگریس قیادت والے ایلائنس یو پی اے کی چیئر پرسن سونیا گاندھی کی مسلم اقلیتی کمیونٹی سے اکثریتی ووٹ کے پیش نظر پلہ جھاڑنے پر سخت اعتراض کیا تھا اور اسے ٹریجڈی بتایا تھا جبکہ گوہا نے ان سے اختلاف کرتے ہوئے کہا تھا کہ مین اسٹریم میں شامل ہونے سے پہلے مسلم کمیونٹی کو اپنے اندر اصلاح پیدا کرنی ہوگی جس میں برقع اور گول ٹوپی کو ترک کرنا ضروری ہے۔کیونکہ اس کے بغیر یہ کمیونٹی ترقی کی دوڑ میں شامل نہیں ہوسکتی ہے۔ انہوں نے اسی تناظر میں برقع اور گول ٹوپی کا موازنہ ترشول سے کردیا تھا۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 

گوہا کو اپنے اس موازنہ کے سبب اپوروانند ودیگر سیکولر و لبرل رفقاء کار کی سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ میڈیا اور سوشل میڈیا نے ان کے خلاف جم کر آواز بلند کی۔ مشہور انگریزی ہفتہ وار ’آئوٹ لوک ‘ نے تو رام چندر گوہا کے اس موقف کو ان کے اب تک کے فکر ونظریہ کا یوٹرن بتایا۔ اس طرح ان کا یہ موقف موضوع بحث بن گیا۔ دانشوروں ، مصنفین ، صحافیوں اور کالم نویسوں نے خوب جم کر اظہار خیال کیا۔ ’چوتھی دنیا‘نے بھی ہرش مندر کے مضمون سے اٹھی بحث کو موضوع بحث بنا کر اپنی لیڈ اسٹوری کی اور اس میں گوہا کے موقف کا بھی جائزہ لیا۔ اسی طرح سوشل میڈیا بھی گوہا کے اس موقف پر چیخ پڑا۔
میڈیا اور سوشل میڈیا کا یہ رد عمل اتنا زبردست اور شدید تھا کہ رام چندر گوہا جو بہت ہی مخلص اور ایماندار مؤرخ ہیں، بے چین ہو اٹھے اور پھر انہوں نے اسی روزنامے کے 10 اپریل کے شمارہ میں اپنے نئے مضمون میں اپنے سہو کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ ’برقع کو ’ری ایکشنری ‘ اور ’ اینٹی ڈیلووین ‘ قرار دینے اور ترشول سے اس کا موازنہ (برابری نہیں ) کرنے سے کنٹرورسی پید اہوئی۔ 9اپریل تک اس اخبار میں 14رسپانس آئے اور اس کے علاوہ سوشل میڈیا اور دیگر اخبارات اور ویب سائٹس میں تنقیدی جائزے آئے۔
لہٰذا میں اعتراف کرتا ہوں کہ (برقع اور ترشول کے درمیان)میرا موازنہ غلط تھا اور اس کے لئے میری جو خبر لی گئی وہ بے وجہ نہیں تھی اور معقول تھی۔ میں اس سے بھی اتفاق کرتاہوں کہ ہیڈ اسکارف اور گول ٹوپی ٹربن اور وبھوتی کی طرح کی مذہبی شناخت کی علامتیں ہیں جس کے عوامی طور پر استعمال کرنے پر کسی کو کوئی پریشانی نہیں ہونی چاہئے‘‘۔
عظیم مورخ کا اعتراف حقیقت یقینا قابل تعریف ہے مگر عجیب بات تو یہ ہے کہ 10اپریل کے اپنے مضمون میں انہوں نے کچھ ایسی باتیں بھی کہہ دی ہیں جس سے یہ محسوس ہوتاہے کہ انہوں نے ترشول سے اس کے موازنہ پر تو اپنی سوچ کی غلطی کو مان لیا ہے مگر وہ وپورے زور کے ساتھ اب بھی کہہ رہے ہیں کہ ’’ میں ڈاکٹر بھیم رائو امبیڈکر سے پورے طور پر اتفاق کرتاہوں کہ برقع مردوں کے ذریعے عورتوں کو دبانے اور غیر مسلموں سے مسلموں کو الگ کرنے کا بھی نشان (مارک ) ہے۔اگر آپ اپنے چہرہ کو مجھ سے چھپاتے ہیں تو پھر ہم لوگ ساجھے داری (شیئرڈ) کے سیاسی پروجیکٹ میں کیسے حصہ دار بن سکتے ہیں؟برقع اس اخوت کے عین مخالف ہے جسے امبیڈکر نے زور دیتے ہوئے جمہوری سماج کی تشکیل کرنے میںکلیدی اور اہم بتایا تھا‘‘۔
یہ بات حیرت انگیز اور ناقابل فہم ہے کہ گوہا کس طرح برقع کو اس اخوت یا فریٹرینٹی کے عین مخالف بتارہے ہیں جسے ڈاکٹر امبیڈکر نے جمہوریت کے لئے کلیدی اور اہم بتایا تھا۔ ایسی ایک نہیں متعدد مثالیں خود ہندوستان میں ہیں جن سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ برقع ترقی کے دوڑ میں قطعی مانع نہیں ہے۔ ہندوستان سے باہر بھی مسلم ممالک بشمول ایران و ترکی اور غیر ممالک میں امریکہ و یوروپ کے ممالک ہیں جہاں عورتیں حجاب میں بغیر برقع والی خواتین کی طرح فعال اور متحرک ہیں۔ بعض ممالک میں تو عورتیں حجاب یا برقع میں پارلیمنٹ میں ارکان کے طور پر بھی سرگرم عمل ہیں اور جمہوری عمل کو مضبوط و مستحکم کررہی ہیں۔

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔
Share Article

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *