نائب صدرنائیڈو نے چیف جسٹس کے خلاف مواخذے کی تحریک کا نوٹس کیا نامنظور،کانگریس سپریم جانے کیلئے تیار

CJI
نائب صدر جمہوریہ اور راجیہ سبھا کے چیئرمین ایم وینکیا نائیڈو نے آج سپریم کورٹ کے چیف جسٹس دیپک مشرا کے خلاف کانگریس سمیت سات اپوزیشن پارٹیوں کے ممبران پارلیمنٹ کے مواخذے کی تحریک کے نوٹس کونامنظور کر دیاہے۔دوسری جانب وینکیا نائیڈوکے ذریعہ نامنظورکئے جانے کے بعد کانگریس نے سپریم کورٹ میں عرضی داخل کرنے کی بات کہی ہے۔کانگریس کے سینئرلیڈر کپل سبل نے کہاکہ’ اس کے خلاف ہم سپریم کورٹ میں عرضی دائر کریں گے ‘۔
بہرکیف نائیڈو نے یہاں جاری ایک بیان کہا کہ ممبران پارلیمنٹ کا چیف جسٹس کے طرزعمل پر میڈیا کے سامنے بات کرنا پارلیمانی وقار اور جواز کے خلاف ہے کیونکہ اس سے چیف جسٹس کے عہدہ کا وقار گرتا ہے۔نائب صدر نے کہا کہ اس تحریک کو رد کرتے ہوئے کہا کہ تجویز کو پڑھنے اور آئین کے ماہرین سے تفصیلی صلاح ومشورہ کے بعد میں مطمئن ہوں کہ سی جے آئی کے خلاف مواخذہ کی تجویز نہ تو ضروری ہے اور نہ ہی صحیح۔ ذرائع نے بتایا کہ قانونی ماہرین سے مشورے کے بعد مواخذے کی تحریک کو نامنظور کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
واضح رہے کہ کانگریس سمیت سات اپوزیشن پارٹیوں کے ممبران پارلیمنٹ نے جمعہ کو سپریم کورٹ کے چیف جسٹس دیپک مشرا پر عہدے کا غلط استعمال اور امتیازی سلوک کے پانچ سنگین الزام لگاتے ہوئے وینکیا نائیڈو کو ان کے خلاف مواخذے کی تحریک کا نوٹس دیا تھا۔ نائیڈو کو نوٹس سونپنے کے بعد راجیہ سبھا میں حزب اختلاف کے رہنما غلام نبی آزاد اور کانگریس کے سینئر لیڈر کپل سبل نے پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ چیف جسٹس نے عہدہ کے عزت و وقارکی خلاف ورزی کی ہے اور ان کے خلاف مواخذے کا نوٹس دینے کے علاوہ اپوزیشن پارٹیوں کے پاس کوئی متبادل نہیں بچا تھا۔ انہوں نے اس سلسلے میں میڈیا کے سامنے بڑے پیمانے پر تفصیلات بھی پیش کی تھیں۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *