اشرف صحرائی کے سامنے چیلنجز

ashraf-sehrai

گیلانی کے بعد کون؟ کئی سال سے کشمیر کے سیاسی حلقوںمیںلگاتار یہ سوال اٹھتا رہا ہے۔ سید علی گیلانی کی صحت کو دیکھتے ہوئے مزاحمتی کیمپ کے لیڈروں کی تشویش یہ ہے کہ گیلانی کا جانشین کون ہوگا؟ ظاہر ہے،تشویش یہ ہے کہ ایک لیڈر کے طور پر کس شخص کی چمک گیلانی کی طرح ہے۔ آج گیلانی ہندوستانی ریاست کی مخالفت کی علامت ہیں،اس لیے جو کوئی بھی ان کی جگہ آئے گا،وہ جانشین کو لے کر ہونے والی بحث کا اہم نکتہ بن جا ئے گا۔
19 مارچ کو گیلانی نے اس تبدیلی کی سمت میںپہلا قدم اٹھانے کافیصلہ کیا۔ انھوں نے آل پارٹی حریت کانفرنس (اے پی ایچ سی) کے ایک جز تحریک حریت کے چیئرمین کے عہدے سے ہٹنے کا فیصلہ لیا۔ انھوں نے اپنے پرانے ساتھی اشرف صحرائی کو نئے چیئرمین کے طور پر نامزد کیا لیکن وہ حریت کانفرنس کے سربراہ بنے رہیںگے۔

 

 

 

حالانکہ رائٹ آف سیلف ڈیٹرمنیشن کے لیے جدوجہد کی نمائندگی کرنے والے تین لیڈر سید علی گیلانی، میر واعظ عمر فاروق اور یاسین ملک جوائنٹ ریزیڈنٹ لیڈر شپ کے نئے بینر کے تحت قریب دو سال سے ساتھ ہیں، وہیںمیر واعظ آل پارٹی حریت کانفرنس کے ایک اور گروپ کی قیادت کررہے ہیں۔ 1994 میںاپنے قیام کے بعد سے، سبھی سازشوںسے بچتے ہوئے یہ گروپ ستمبر 2003 میںمنقسم ہوگیا۔ گیلانی نے پیپلز کانفرنس کے خلاف بغاوت کی قیادت کی تھی۔ پیپلز کانفرنس نے 2002 کے اسمبلی انتخابات کے لیے پراکسی امیدواروں کو میدان میںاتارا تھا۔ پیپلز کانفرنس مرحوم عبدالغنی لون، ان کے دو بیٹوں بلال اور سجاد لون کے ذریعہ قائم کی گئی تھی اور سجاد لون نے ہی امیدوار اتارنے میںاہم کردار نبھایا تھا ۔ چونکہ حریت سجاد کے خلاف کارروائی نہیں کرسکا،اس لیے فورم، پیپلز کانفرنس سے الگ ہوگیا۔
یہ تحریک حریت کے جنم کا سبب بنا، جسے گیلانی نے بنیادی تنظیم جماعت اسلامی کی مخالفت میںقائم کیا تھا۔ کشمیر مدعے پر جماعت کے الگ نقطہ نظر کو لے کر سنگین اختلافات ہونے کے بعد، انھوں نے ہم خیال پارٹیوں کوشامل کیا اور یہ اے پی ایچ سی گروپ کا اہم جز بن گیا۔ انھوںنے بات چیت کے مدعے پر ایک ہارڈ لائن لی اور پوری طرح سے دہلی کے خلاف ہوگئے۔ گیلانی کی مقبولیت نوجوانوں میںبڑھتی گئی اور ان کے لفظ حکم کی طرح کام کرتے تھے۔ نئی دہلی لگاتار اس بات سے انکار کر رہی تھی کہ کشمیر ایک سیاسی مدعا ہے اور عام حالت کو بحال کرنے کے راستے کے طور پر اس نے فوجی نقطہ نظر کو پسند کیا۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ گیلانی کی سیاست پچھلے کچھ سالوں میں لوگوں کے جذبات سے جڑتی چلی گئی۔

 

 

 

سید علی گیلانی ہندوستانی آئین کے تحت الیکشن بھی لڑے اور تین بار رکن اسمبلی بنے۔ وہ جموں و کشمیر کے پاکستان کے ساتھ الحاق کے کٹر حامی تھے لیکن یہ چیزیںان لوگوںکے لیڈر بننے میںرکاوٹ بنیں، جو ہندوستان اور پاکستان دونوںسے الگ ایک آزاد ریاست کے طور پر کشمیر کو دیکھنا چاہتے تھے۔ حالانکہ پچھلے کچھ سالوں میںپرو پاکستان نظریہ میںمضبوطی آنے کے بعد اب یہ احساس کمزور ہوا ہے۔
چونکہ گیلانی ایک ایسے لیڈر کے طور پر ابھرے ہیں، جن کی مین اسٹریم کے لیڈر بھی تعریف کرتے ہیں۔ اس وجہ سے ان کے جانشین پرچرچا کافی تیز رہی۔ ایک وقت یہ پتہ چلا تھا کہ خاندان کے اندر اسے لے کر لڑائی تھی۔ ان کے طویل مدت سے ساتھی رہے اور داماد محمد الطاف شاہ (فنٹوس) کو گیلانی کے بڑے بیٹے نعیم گیلانی کے مقابلے دیکھا گیا تھا۔ فنٹوس کئی بار جیل آئے گئے اور انھیںکافی نقصان اٹھانا پڑا۔ ابھی این آئی اے کے ذریعہ گرفتاری کے بعد اب تہاڑ جیل میں بند ہیں۔ نعیم سادے آدمی ہیں او رکبھی بھی اپنے ارادوں کو عام نہیںکیا ہے۔
گیلانی کے دوسرے بیٹے نسیم گیلانی شیر کشمیر یونیورسٹی آف ایگریکلچرل سائنسیز اینڈ ٹیکنالوجی (ایس کے یو اے ایس ٹی) میںپڑھاتے ہیں اور انھوںنے بھی کبھی اپنے ارادوں کو عام نہیںکیا۔ لیکن ان کی سماجی سرگرمیوںکو باپ کے ساتھ دیکھا جاتا تھا، جو ایمبیشس ہونے کی طرف اشارہ کرتے تھے۔ وہ اہم معاملوں پر بھی اپنے والد کو صلاح دیتے ہیں۔

 

 

فائر برانڈ مسرت عالم جنھوں نے 2010 کے احتجاجی مظاہرے کی قیادت کی تھی اور جنھیں 2015میںمفتی سعید کی سرکار نے جیل سے رہا کردیا تھا، کا نام بھی چرچا میںتھا۔ بہت سے لوگ مانتے ہیںکہ وہ نیچرل جانشین تھے کیونکہانھوں نے گیلانی کی تعریف کی تھی، نوجوان اور تعلیم یافتہ ہیں اور اس جذبہ کی نمائندگی کرتے ہیں جسے ضعیف لیڈر پسند کرتے ہیں ۔ حالانکہ قید میںہونے کی وجہ سے وہ اس ریس سے باہر رہے۔
گیلانی ، اپنی پارٹی کی مجلس شوریٰ یا جنرل کونسل کے ساتھ بات چیت کرکے اپنی پسند کا انتخاب کرچکے ہیں۔ صحرائی چھ دہائی سے گیلانی کے ساتھی رہے ہیں اور اس وجہ سے نیچرل جانشین کے طور پر بھی دیکھے جارہے تھے۔ جماعت اسلامی میںدوسروں کے برعکس صحرائی ہمیشہ گیلانی کو ہر حالت میںدیکھتے رہے۔ صحرائی، گیلانی کی طرح کوئی کرشمائی لیڈر نہیںہیںلیکن نظریاتی اوردانشورانہ طور پر ان کے قریب ہیں۔ اندرونی ذرائع کا کہنا ہے کہ کشمیر کو لے کر صحرائی بھی ہارڈ لائنر ہیں اور اس وجہ سے وہ گیلانی کی وراثت کو جاری رکھیںگے۔ عمر ان کے حق میںنہیںہوسکتی ہے لیکن یقینی طور پر گیلانی کے مقابلے میںان کی صحت بہتر ہے اور وہ روز مرہ کا کام آسانی سے کرسکتے ہیں۔ صحرائی نے اپنی مدت کار کی شروعات ان عناصر کو نشانے پر لے کرکی، جو خود کو آئی ایس آئی ایس سے جوڑتے ہیں۔ ان کا یہ قدم کشمیر کے موجودہ حالات میںپختہ مانا جارہا ہے۔

 

 

 

گیلانی نے اپنا عہدہ چھوڑنے کا سبب بتایا۔ انھوںنے کہا کہ لگاتار آٹھ سال سے ہاؤس اریسٹ،میری پارٹی کے ساتھیوں کے ساتھ بات چیت پر پابندی سے تنظیم کے کام پر اثر پڑا ہے۔ عملی شراکت کے بغیر عہدے پر بنے رہنا عہدے کے ساتھ ناانصافی ہے۔ اس لیے آج میںاپنی مرضی سے چیئرمین کے عہدے سے استعفیٰ دے رہا ہوں۔ انھیں نہ صرف اتنی طویل مدت سے ہاؤس اریسٹ کرکے رکھاگیا ہے بلکہ پچھلے دنوں نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (این آئی اے) نے ان کی تنظیم کے ذریعہ مڈل لائن کے لیڈروں پر بھی پھندہ کس دیا ہے۔ اس میںان کے داماد فنٹوس بھی ہیں۔ ان سب کو جیل میںڈال دیا گیا ہے۔ گیلانی پر زبردست دباؤ تھا اور اس کا ان کی صحت پر بھی برا اثر پڑا ہوگا۔
اگلا قدم صحرائی کو حریت کانفرنس کا چیئرمین بنانے کا ہوسکتا ہے۔ ایسے اشارے ہیںکہ اگلے سال صحرائی چیئرمین ہوسکتے ہیں۔ صحرائی کے سامنے سب سے بڑا چیلنج یہ ہوگاکہ وہ کسیے مزاحمت قیادت کو ستمبر 2003 سے پہلے والی شکل میںلاتے ہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *