مرکزی سرکار اور بی جے پی اپنی زمین کھوتی جارہی ہے

ملک کی سیاست صحیح سمت میں نہیں چل رہی ہے ،یہ بدقسمتی کی بات ہے۔ زیادہ زور انتخابات اور انتخابی نتائج پر دیا جارہا ہے۔کرناٹک انتخاب بس نزدیک ہی ہے، تو سارا دھیان وہیں جارہاہے۔یہ غلط ہے۔ ایک ریاست کا انتخاب ہے، ہوتا رہے گا۔ اس بیچ ارون جیٹلی کی صحت خراب ہو گئی ہے۔ ان کا کڈنی ٹرانس پلانٹ ہونا ہے۔ جیتلی نے کہا ہے کہ وہ ابھی گھر سے ہی کام کررہے ہیں۔ تو ایسی حالت میں کیا ہوتا ہے؟کیا وزیراعظم خود پورٹ فولیولے لیں اور وزارت خزانہ کی ذمہ داری سنبھالیں؟ایسا کرنا بھی مشکل ہے ،کیونکہ وزیر اعظم کے پاس بہت کام ہوتا ہے۔
سرکار دوسرے کو وزیر بنا نہیں رہی ہے، تو لب لباب یہ ہے کہ حکومت کو نقصان ہو رہا ہے۔ آپ بیوروکریٹس سے اپنا کام کروا لیں گے،لیکن سیاسی سمت تو دینی پڑے گی، جو دی نہیں جارہی ہے۔جو پرانے مسائل چلے آرہے ہیں،وہ اپنی جگہ ہیں۔ جیسے سپریم کورٹ کے چار ججوں نے 12جنوری کو جس ایشو پر پریس کانفرنس بلائی تھی، وہ معاملہ ابھی تک حل نہیں ہوا ہے۔ کچھ دن پہلے چیف جسٹس کے سامنے عرضی پیش ہوئی۔ انہوں نے کوئی نوٹس نہیں لیا اور دس منٹ میں سن کر فیصلہ بھی دے دیا۔ اس کا لب لباب یہ ہے کہ سی جے آئی ماسٹر آف روسٹر ہیں لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آپ ایسا کام کریں جو آئین کے دائرے کے باہر ہو۔
اندرا گاندھی کی ایمرجینسی بھی آئین کے چار کھمبوں کے اندر تھی۔ آرٹیکل 352 کا استعمال کیا گیا، بعد میں لوگوں کو لگا کہ اس کا بے جا استعمال کیا گیا ہے۔ سی جے آئی فرسٹ ہیں۔ لیکن حساس معاملوں میں انہیں سوچ کر فیصلہ کرنا چاہئے۔ لوگوں کو جمہوریت کے ایک اہم کھمبے ، عدلیہ پر بھروسہ ہے۔ اب وہ بھی نہیں رہے گا تو پھر کیا صورت حال ہوگی۔ کل ملا کر کوئی دور رس سوچ نہ سرکار کے پاس ہے ،نہ سپریم کورٹ کے پاس ہے۔ پارلیمنٹ تو چلتا ہی نہیں ہے۔ اب کی بار جو پارلیمنٹ نہیں چلا ،اس میں اپوزیشن کی کوئی غلطی نہیں ہے ۔
سرکار خود چاہتی تھی کہ ٹی ڈی پی والے اور انا ڈی ایم کے کے لوگ جھگڑا کریں اور پارلیمنٹ نہ چلے، کیونکہ سرکار کو اپوزیشن کی بات نہیں سننی تھی۔حزب اختلاف کے لوگ اپنی باتیں رکھنے والے تھے۔نو کنفیڈنس موشن آنا تھا،کیوں نہیں آیا؟یہ تو اچھا موقع ہوتا ہے ،لیکن اسے آنے ہی نہیں دیا گیا۔ سمترا مہاجن نے بھی ایک خراب مثال پیش کی۔شورو غل کے درمیان فائننس بل پیش ہوا اور اسے پاس بھی کرا دیا گیا۔ کسی بھی سرکار کو پارلیمنٹ سوٹ نہیں کرتا ہے، کیونکہ وہاں جوابدہی طے ہوتی ہے ۔سرکار کمرے میں بیٹھ کر اپنا حکم چلانا چاہتی ہے۔ اس سرکار کے پاس لوک سبھا میں مکمل اکثریت ہے۔ راجیہ سبھا میں قریب قریب برابر ہے۔ پارلیمنٹ کی اندیکھی کرنے کی سرکار کے پاس کوئی وجہ نہیں ہے۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

اب لوک سبھا کا انتخاب ایک سال دور ہے۔ایسے میں ہر سیاسی پارٹی اپنی سیاست کریں گی۔اس کا مطلب یہ تو نہیں کہ پارلیمنٹ ہی ٹھپ ہو جائے۔ اب وزیر اعظم اس لئے دن بھر کا’ اپواس‘ کررہے ہیں کہ پارلیمنٹ نہیں چلا۔ یہ بات کسی کو بھی منطقی نہیں لگے گی۔ اپواس بھی اخلاقی دبائو ہوتا ہے۔ بی جے پی کو قاعدے سے اسے لے کر اپوزیش پر اخلاقی دبائو ڈالنا چاہئے کہ پارلیمنٹ چلے۔ اسے پارلیمنٹ میں بیٹھ جانا چاہئے تھا کہ اگر شور و غل کروگے تو ہم بھوکے مر جائیںگے ۔لیکن نہیں، برسراقتدار پارٹی خود شور کروا رہی تھی۔ اب اپواس رکھنے کا کوئی مطلب نہیں ہے، بیکار ہے۔کیونکہ راہل گاندھی نے کچھ دن پہلے اپواس رکھ لیا تو ان کو بھی رکھنا ہے۔ جب آپ راہل گاندھی کی نقل کرنے میں پیچھے نہیں ہٹے تو اس کا مطلب ہے کہ راہل گاندھی آگے آگے اور آپ پیچھے پیچھے۔ سرکار عوام کو یہ بہت غلط اشارے دے رہی ہے۔ ایک طرف بی جے پی والے ہنسی اڑاتے ہیں کہ راہل گاندھی مندر میں جارہے ہیں،کیونکہ نریندر مودی مندر میں جارہے ہیں، امیت شاہ مندر میں جارہے ہیں۔اب الٹا ہو گیا کہ راہل گاندھی اپواس کئے تو اس کے بعد یہ اپواس کررہے ہیں۔ اشارے کیا دے رہے ہیں آپ لوگوں کو۔ اشارے یہ دے رہے ہیں کہ سرکار کنفیوژ ہو گئی ہے۔ سرکار بھرم کی حالت میں ہے۔ نوٹ بندی بھی ایسا ہی کنفیوژ ن تھا۔ سرکار اور بی جے پی اپنی زمین کھوتی جارہی ہے۔ نوٹ بندی ہوئی، جی ایس ٹی ہوا، اس کے بعد ہندو مسلم فسادات ہورہے ہیں،دلتوںکو دبایا جارہاہے،یوپی میں پولیس کچھ کرتی نہیں ہے۔ وزیر اعظم کو چاہئے کہ وہ اپواس چھوڑیں اور اپنے متعلقہ لوگوں کے ساتھ مل کر پالیسی بنائیں کہ اگلے الیکشن میں 12مہینے ہیں اور تب تک کیا کرنا ہے، کیسے حالات کو ٹھیک کرنا ہے۔
وزیر اعظم نے کہا ہے کہ تیل کی قیمت جو اوپر جارہی ہے، اسے فیئر ہونا چاہئے۔یہ تو اتنے خو ش قسمت وزیراعظم رہے ہیں کہ جب اقتدار میں آئے تھے تب سرکار کو تیل سے لاکھوں کروڑوں روپے کا سالانہ فائدہ ہو رہا تھا۔یہ روپے کہاں گئے؟اس کا کوئی حساب ہے کیا سرکار کے پاس؟سرکار کے پاس ایک سنہریٰ موقع تھا ملک کی معیشت کو ایک نئی سمت دینے کا۔ وہ موقع بھی گیا۔
پی این بی بینک کا گھوٹالہ ہوا۔ اخبار کی سرخیوں میں یہی بات ہے کہ سرکار کا معیشت پر کوئی دور رس اثر ہی نہیں ہے۔ سرکار ایئر انڈیا کو جس شرط پر بیچنا چاہتی ہے، کوئی خریدنا ہی نہیں چاہتاہے۔ سرکار کو چاہئے کہ وہ اس نیشنل کیریئر کو چلائے۔ کوئی پرائیویٹ سیکٹر والا زیادہ قیمت دیکھ کر اسے نہیں لے گا۔ ایئر انڈیا آج بھی اچھی ایئر لائن ہے۔ اس کے ملازمین بھی بہتر ہیں۔ اگر اس کے لئے تھوڑی سختی کرنی پڑے، تو کیجئے لیکن اسے اچھے ڈھنگ سے چلائیے۔ اندرا گاندھی نے سیل جیسے پبلک سیکٹر کے سینئر منیجر کرشن مورتی کو ماروتی سونپ دی۔ انہوں نے ماروتی کو کامیاب بنا دیا۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 

آج بھی پبلک سیکٹر میں ایسے لوگ ہوں گے ،ایسے لوگوں کو ایئر انڈیا کا بوجھ دیجئے۔ ایسے لوگ اسے ریسٹرکچر کرکے پوری دنیامیں بہتر بنا دیں گے۔ہم اپنی کمپنی نہیں چلا پارہے ہیں اور چلے ہیں ورلڈ ماسٹر بننے۔آج کل دشواری یہ ہو گئی ہے کہ سرکار جیسا چاہتی ہے ،مینجمنٹ اسی طرح کی رپورٹ دے دیتا ہے۔ اس رپورٹ کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔ سرکار سیاسی لوگوں سے بنتی ہے۔ ان کا دماغ بزنس چلانے کا نہیں ہوتا ہے۔
وجے مالیہ ایک اچھی انڈسٹری اور اچھی ایئر لائن چلاتے تھے۔ پٹرول کی قیمت بڑھ گئی، تو کمپنی گھاٹے میں چلی گئی۔ آجپٹرول کی جو قیمت ہے، اس میں تو وجے مالیہ جیسے لوگ انڈسٹری چلا ہی لیتے،لیکن آپ نے انہیں بھگا دیا۔ نیرو مودی جیسے لوگ بھاگ گئے۔ انٹرپرائز ہندوستان کی ایک اہم قابلیت ہے ۔افریقی ملکوں میں انٹرپرائز نہیں ہے۔ان کے پاس وسائل ہیں لیکن وہاں انڈسٹری لگانے والاکوئی نہیں ہے۔ ان میں وہ مہارت نہیں ہے لیکن ہمارے پاس تو ہے۔ ہم بالکل کم پیسے میں آر اینڈ ڈی بھی کرلیتے ہیں،سٹارٹ اپ بھی کرلیتے ہیں ۔حال میں چنئی میں دفاعی نمائش لگی جس میں وزیراعظم خود گئے۔ پھر ایئر انڈیا نہیں چلا پانے کی بات ہضم نہیں ہوتی۔ سرکار کو چاہئے کہ وہ ایئر انڈیا چلائے۔ اس کو بیچنے کا فیصلہ رد کرے۔
سرکار نے نیتی آیوگ بنا رکھا ہے۔ اس میں سرکار کے تھینک ٹینک ہیں۔وزیراعظم جسے پسند کرتے ہیں، ایسے کچھ اچھے لوگوں کو بیٹھا کر ملک کے مفاد میں کام کر سکتے ہیں۔ دشواری یہ ہے کہ بی جے پی کو صرف الیکشن ہی نظر آرہا ہے۔ کل ملا کر یہ چار سال تو برباد ہو ہی گئے، اب ایک سال میں یہ سرکار کیا کر پائے گی؟کچھ کر نہیں پائے گی۔ افسوس کی بات ہے کہ جب سب کچھ سرکار کے فیور میں تھا، مہنگائی ریٹ کم تھی تیل کے دام شروع میں کم تھے، پچھلا مانسون بھی ٹھیک تھا،تب بھی سرکار کچھ نہیں کر پائی۔ پھر سوال ہے کہ یہ سرکار کب کام کرے گی؟سرکار بی جے پی کی ہے۔ ہم لوگ صرف صلاح دے سکتے ہیں۔کام کرنا یا نہ کرنا سرکار کے ہاتھ میں ہے۔ دیکھئے، سرکار کیا کرتی ہے؟

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *