بنگال میں فرقہ وارانہ فسادات منصوبہ بند سازش

ملک میں بنگال کو ایک سیکولر ریاست ہونے کا اعزاز حاصل ہے لیکن چند برسوں سے اس کو کسی کی نظر سی لگ گئی ہے۔ فرقہ پرست طاقتیں اس پرامن اور سیکولر مزاج ریاست میں مذہب کے نام پر منافرت کا بازار گرم کرتے ہوئے اس کے سیکولر کردار پر سوالیہ نشان لگانے کی جو سازش رچ رہی ہیں وہ حد درجہ افسوسناک ہے۔ گذشتہ دو تین برسوں میںجس منصوبہ بند طریقے سے اس ریاست میں فرقہ وارانہ تصادم رونما ہوئے ہیں وہ بیحد تشویشناک ہیں۔ ماضی میں ہوئے حاجی نگر، دھلاگڑھ ، بشیر ہاٹ اور کھڑگ پور، کے تشدد سے ملے زخم ابھی بھرے ہی نہیں تھے کہ کانکی نارہ ، چاکولیہ ، پرولیا، رانی گنج اور آسنسول میں فرقہ وارانہ تشدد کے با الترتیب واقعات نے ان زخموں کو پھر ہرے کر دئے ہیں۔ حالانکہ یہ زخم اہلِ بنگال کو رام نومی کے مبارک موقعے پر دیئے گئے ہیں اور رام نومی کا تیوہار اچھائی کی برائی پر فتح کی علامت کے طور پر منایا جاتا ہے۔ لیکن رام نام جپنے والوں میں بھگوان رام کے نام پر نفرت اور دہشت کی جو چنگاری بھڑکائی ہے وہ اہلِ بنگالہ کی تشویش میں مزید اضافہ کرتی ہے۔
حالیہ تشدد کے واردات سے ایسا لگتا ہے کہ ریاست کی دو اہم سیاسی پارٹیاں ایک دوسرے کو زیر کرنے کے لئے سرگرمِ عمل ہو گئی ہیں۔ ورنہ کیا وجہ ہے کہ رام نومی کے دن دونوں پارٹیوں کی جانب سے سینکڑوں جلوس نکالے گئے جس میں شرکا ء کی تعداد آٹھ سو سے آٹھ ہزار تک تھی ۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ حکومت نے کسی بھی جلوس میں ہتھیار وں کی نمائش پر پابندی عائد کر رکھی تھی ۔ اس کے باوجود کئی جلوس میں تلوار، ترشول اور بھالے برہنہ لہراتے رہے ۔ حتی کہ کسی کسی میں پستول بھی نظر آئے ۔ اطلاعات کے مطابق کچھ جلوس کے منتظمین نے عین وقت پر روایتی راستوں سے گزرنے کی بجائے اقلیتی علاقوں سے گزرنے پر اصرا ر بھی کیا جسے ضلع انتظامیہ نے روکنے کی کوشش بھی کی لیکن شرکائے جلوس نے ان کی ایک نہ سنی اور انتظامیہ کی کاوشوں نیز سرکاری حکم ناموں کو بالائے طاق رکھ کر خوب من مانی کی۔ جس میں کچھ لو گ جاں بحق ہوگئے اور کئی پولیس والے زخمی۔

 

 

 

 

 

 

 

 

اس تانڈو کے پیچھے جو مقاصد ہیں وہ آئینے کی طرح صاف ہے کہ فرقہ پرست طاقتیں یہ اچھی طرح سمجھ چکی ہیں کہ بنگال کے تقریباً 30 فیصد مسلمانوں کے ووٹ اپنے موافق کرنا قدرے دشوار کن ہے ۔ ایسے میں ہندو ووٹ متحد کرکے ہی اس ریاست میں اپنی کامیابی کے جھنڈے گاڑے جاسکتے ہیں ۔شاید یہی سبب ہے کہ بھاجپائی ’’شناخت کی سیاست ‘‘ اور ’’ووٹوں کی گول بندی ‘‘کے ذریعہ ہی زعفرانی ماحول تیار کرنے میں لگے ہوئے ہیں تاکہ بی جے پی کو ر یاست میں کامیابی سے ہمکنار کیاجاسکے ۔اب یہ الگ بات کہ کچھ سیاسی تجزیہ نگار ان چھوٹے واردات کو ایک بڑے فساد کا پیش خیمہ بتاکر مستقبل کے بنگال کا بھگوا کرن کیے جانے کے خدشات کا اظہار کررہے ہیں تو کچھ تجزیہ نگار یہاں کے صلح پسند اور روشن خیال عوام پر اپنا اعتماد بحال کررہے ہیں۔ ان قبیل کے تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ بنگال میں ہندو ووٹ محض اس لئے متحد نہیں ہوسکتے کہ اس ریاست کے ووٹروں کی اکثریت اپنی رائے دہندگی کا استعمال کبھی مذہب کے نام پر نہیں کرتی بلکہ ترجیحات اور نظر یات کو پیش نظر رکھتی ہے ۔ لہٰذا بی جے پی کا مذہبی کارڈ ان ووٹوں کو اپنے حق میں تبدیل کرنے میں قطعی ناکام ثابت ہوگی۔ اس کا سبب یہ ہے کہ یہ ریاست تین دہائیوں تک کمیونسٹوں کے زیر قیادت رہی ہے جنہوں نے سیاست کو مذہب سے الگ رکھنے کی حتی المقدور کوششیں کیں۔ ہمارے روشن خیال تجزیہ نگاروں کے افکار اپنی جگہ مگر یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ حالیہ دنوں میں حکمراں جماعت ریاستی نظم و نسق کے معاملے میں پہلے سے چاق وچوبند نظر نہیں آرہی ہے جس کے نتیجے میں فرقہ پرستوں کو سر ابھارنے کا موقع مل رہاہے اور ان کے حوصلے بلند تر ہوتے جارہے ہیں ۔
ان حالات کے پیش نظر حکمران وقت کی یہ اخلاقی ذمہ داری ہے کہ فساد برپا کرنے والوں کے خلاف بلا تفریق مذہب و سیاست سخت سے سخت کارروائی کرے تاکہ بنگال کا سیکولر کردار داغدار نہ ہو۔ یہ اسلئے بھی ضروری ہے کہ وزیر اعلی ان دنوں فیڈرل فرنٹ کے قیام کے لئے ہم خیال رہنماؤں سے ملاقات کرکے مرکز میں ایک متبادل حکومت پیش کرنے کا خواب دکھا رہی ہیں ۔ لیکن کہیں ایسا نہ ہو کہ اس خواب کی تعبیر کے چکر میں ریاستی امور پر ان کی گرفت ڈھیلی پڑ جائے جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بھاجپائی اس ریاست میں بھی اپنی جڑیں مضبوط کرنے میں کامیاب ہوجائیں ۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *