عصمت دری وقتل کے خلاف لکھنؤ میں پرامن کینڈل مارچ

candle-march

نوابوں کے شہر لکھنؤکے حسین آباد گھنٹہ گھر پر انڈین نیشنل لیگ کے زیر قیادت کئی سیاسی وسماجی تنظیموں نے ضلع اناؤ اور کٹھوعہ کشمیر عصمت دری اور قتل واردات کی مخالفت میں پر امن طریقے سے کینڈل مارچ کیا ۔ جس میں خصوصی طور سے حاجی محمد فہیم صدیقی ، پی سی کر یل ، مولانا سید علی حسین قمی رضوی ، علی مشیر زیدی ، میر جعفر عبداللہ ، محمد آفاق ، ڈی کے یادو ، ڈاکٹر آفتاب احمد ، نعیم الر حمن ، قمر سیتا پوری، سلیم راعینی ، نسرین جاوید ، محمد اعظم خاں ایڈو کیٹ ، حامد آ زاد ایڈو کیٹ ، سید وقار احمد ایڈو کیٹ ، محمد عثمان ا نصاری ، کنیز فاطمہ ، حناخان ، متھلیش سنگھ ، نشاد پر وین ، حسنہ ایڈو کیٹ ، وغیرہ معزز لوگ مو جود تھے ۔

 

 

 

اناؤ میں بی جے پی کے لیڈر کے ذریعہ عصمت دری اور متائثرہ کے والد کا قتل ، کشمیر کٹھوا میں آٹھ سالہ بچی آصفہ کے ساتھ مندرجیسی پوجہ استھل جیسے مقام پراجتماعی عصمت دری اور قتل سے پورے ملک کو جھن جھوڑ کر رکھ دیا ۔ پورا ملک اس درد سے تڑپ اٹھا ۔ لیکن 56 انچ کا سینا رکھنے والے دو انچ کی زبان سے کچھ نہیں نکلا ۔ اب تو عوام یہ سوچنے پر مجبور ہو گئی ہے کہ بیٹی بچانے کا نعرہ کیا یہ ایک چیتاؤنی تھا ۔ کیوں کہ ان وارداتوں کے سامنے آنے کے بعد سورت میں عصمت دری کی واردات سامنے آئی ۔ دہلی میں گیارہویں کی طالبہ کا اغوا، سات دنوں تک قیدی بنا کر رکھا ۔اور عصمت دری ہو تی رہی ۔ کسی طرح بھاگ کر نکلی ۔ تب ایف آئی آر درج ہو ئی ۔ 16 اپریل کو ہی ایٹہ میں نوین غلہ منڈی کے پاس رہنے والی گڑریا سماج کی رہنے والی سالہ بچی کے ساتھ عصمت دری ، اور قتل کیاگیا ۔اس رام راج کی سرکار میں ہر دن عصمت دری ہو رہی ہے ۔ کیا یہ سمجھ لیاجائے کہ عوام خود اپنے بچوں کی حفاظت کرے۔ کیوں کہ ہمارے ملک اور صوبہ کی سرکار یں بے اولا د ہیں ۔ صوبہ کے حالات یہ ہو گئے ہیں کہ سیاہی سوکھنے نہیں پاتی کل کے اخبارکی ۔ کہ اس سے پہلے ایک اور خبر آجاتی ہے عصمت دری کی ۔ کیا یہی ہے مود ی جی کا نیو انڈیا ۔ محکمہ انتظامیہ مجرمین کو بچانے کی کوشش کر تی ہے ۔ ہندو یکتا منچ جیسی تنظیم ترنگا جھنڈہ لے کر کشمیر میں زناکاریوں کے مجرمین کو بچانے کے لئے نکلے تھے ۔ اس کو دیکھ کر کر کٹر وراٹ کوہلی نے کہا کہ مجھے شرم آتی ہے کہ میں ایسے سماج میں رہ رہا ہوں جہاں زناکرنے والوں کی حمایت کر تے ہیں ۔ وزیراعظم کا و عدہ تو میک ان انڈیا کا تھا ، ریپ ان انڈیا کا نہیں ۔ موجودشرکاء نے اور ملک کی امن پسند عوام نے یوگی اور مودی جی سے مطالبہ کیا ہے کہ مجرمین کو جلد سے جلد سزا دی جائے ۔ اورمتائثرین کے ساتھ انصاف کرو ، یو گی جی صوبہ نہیں سنبھل رہا ہے تو فوراً استعفیٰ دو ۔اسی ضمن میں یکتا اور انسانیت اور امن وامان و بھائی چارہ بنائے رکھنے کے لئے گھنٹہ گھر پر تمام مسلم طبقہ کے ساتھ مغرب کی نماز ادا کی ۔ اور امن وامان بنائے رکھنے کی دعا کی ۔ اس موقع پر کینڈل مارچ میں عزیز الحسن ، بہن زاہدہ ، فر حین خان ، زرینہ خان ، بیٹی آ فرین ، بیٹی مہ جبین ، محمد احمد، سمرین ، محمد انس ، سلوخان ، محمد سالم ، فیض علی ، سیف علی ، سرتاج ، سمیت کثیر تعداد میں لوگ مو جود تھے ۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *