آبروریزی معاملہ:آسارام کو عمرقید، دیگر قصورواروں کو 20 سال کی سزا

asaram
نابالغ لڑکی سے آبروریزی معاملہ میں جودھپور کی خصوصی عدالت نے آسارام کو عمر قید کی سزا سنائی ہے۔وہیں معاون ملزمین اس کے چھندواڑا واقع آشرم کی وارڈن شلپی شرد کو20-20سال کی سزاسنائی گئی ہے۔اس معاملے میں دومعاون ملزمین شیوا اورپرکاش کوبری کردیاگیاہے۔ایس سی، ایس ٹی کورٹ کے خصوصی جج مدھوسدن شرما کی عدالت نے نابالغ کی عصمت دری معاملہ میں آسارام باپو کو عمر قید کی سزا سنائی ہے۔بتایاجارہاہے کہ سزا سنتے ہی سزاسنتے سرپکڑآسارام رونے لگے اورہاتھ جوڑکر جج سے عمرکا لحاظ رکھتے ہوئے سزا میں کمی کرنے کا مطالبہ کیا۔زورزورسے روتے ہوئے آسارام نے سینے میں درد کی شکایت کی۔آسارام کی طبیعت بگڑنے پرجودھپورایمس کے ڈاکٹروں سے چیک اپ کرایاگیا۔آسارام کی عمر فی الحال تقریبا 78 سال ہے۔
سخت سیکورٹی کے درمیان مرکزی جیل میں بنائی گئی عارضی عدالت میں درج فہرست ذات و قبائل ایکٹ عدالت کے جج مدھو سودن شرما نے آسا رام اور اس کے دو خدمت گذاروں( سیواداروں) شلپی اور شرت چندر کو نابالغ کے جنسی استحصال کرنے کا قصوروار مانا۔واضح رہے اگست 2013 سے جاری مقدمے میں متاثرہ لڑکی اپنے بیان سے نہیں ڈگمگائی۔ اس معاملہ میں استغاثہ کی حمایت میں بیان دینے والے کرپال سنگھ کو مار ڈالا گیا۔ اس دوران بہت سے گواہوں کو اغوا کرکے قتل کرنے کے الزام بھی لگائے گئے۔
قابل ذکر ہے کہ اتر پردیش کے شاہجہان پور کی ایک نابالغ نے آسارام پر جودھپور کے آشرم میں جنسی استحصال کا الزام لگایا تھا۔ وہ چھندواڑہ کے گروکل میں پڑھتی تھی اور اسے دورہ پڑنے کے نام پر ٹیچر نے اسے 13 اگست 2013 کو جودھپور کے منائی آشرم میں بھیجا جہاں دو دن بعد رات دس بجے آسارام نے اس کا جنسی استحصال کیا۔اس وقت متاثرہ کی عمر 16 سال تھی۔اس نے دہلی کے کملا مارکیٹ تھانے میں یہ معاملہ درج کرایا تھا جسے بعد میں جودھپور پولیس کو ٹرانسفر کر دیاگیا۔متاثرہ کا باپ بھی آسارام کا بھکت تھا۔
بہرکیف کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لئیجودھپور کے دو اسٹیڈیموں کو عارضی جیل میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔اس کے علاوہ وزارت داخلہ نے بھی ریاستی حکومت کو سیکیورٹی نظام کو سخت رکھنے کا حکم دیا ہے۔ گجرات، راجستھان اور ہریانہ میں بھی سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے ہیں۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *