انشن توڑنے کے بعد بھی انّا کا حوصلہ بلند

anna

بالآخر 29مارچ کو ساتویں دن رام لیلا میدان میں معروف سماجی رہنما انا ہزارے نے مرکزی حکومت کی مرکز میں لوک پال اور ریاستوں میں لوک آیوکتوں کی تقرری کے تعلق سے جلد اقدامات کرنے کی یقین دہانی کرائے جانے کے بعد اپنا انشن توڑ دیا۔ اس طرح انا اور حکومت کے درمیان تعطل کی جو فضا بن گئی تھی، وہ ختم ہوئی۔مگر سوال یہ ہے کہ اس سے انا کی تحریک مضبوط ہوکر اپنے مقصد کو حاصل کرپائے گی یا کمزور ہوکر ختم ہوجائے گی؟

 

 

 

 

دراصل اس تعطل کو ختم کرنے میں وزیراعلیٰ مہاراشٹر دیویندرفڑنیوس کا مرکز کے مذاکرات کار کے طور پر وزیر مملکت برائے زراعت گجیندر شیخاوت کے ساتھ خصوصی رول رہا۔ فڑنویس نے کہاکہ بی جے پی قیادت والی این ڈی اے حکومت نے انا ہزارے اور دیگر کسان تنظیموں کے مطالبات کے تعلق سے جلد مثبت پیش رفت کی یقین دہانی کرائی ہے۔ اس سلسلے میں شیخاوت نے پی ایم او میں وزیر مملکت جیتندر سنگھ کے مکتوب کو پڑھ کر سنایا جس میں یہ کہا گیا تھا کہ حکومت الیکشن کمیشن تک انتخابی اصلاحات کے تعلق سے انا کے ذریعے اٹھائے گئے ایشوز کو پہنچائے گی۔
انا ہزارے جو کہ گزشتہ 7دنوں سے اپنے موقف پر سختی سے جمے ہوئے تھے اور ٹس سے مس ہونے کا نام نہیں لے رہے تھے،کی صحت گرتی جارہی تھی۔ لہٰذا فڑنویس اور شیخاوت کے فعال رول سے انہوں نے انشن توڑنے کا اعلان تو کردیا اور حکومت کو فی الوقت راحت دے دی مگر حکومت کو یہ بھی دھمکی دے دی کہ وہ حکومت کو اگست تک وقت دے رہے ہیں اور اگر وہ اپنے وعدوں کے مطابق آگے نہیں بڑھتی ہے اور ان کے 11نکاتی مطالبات کو پورا نہیں کرتی ہے تو وہ ستمبر میں پھر احتجاج شروع کریں گے۔ اس سے محسوس ہوتا ہے کہ انا انشن توڑنے کے بعد بھی اپنی تحریک کے لئے پُر عزم ہیں اور ان کا حوصلہ بلند ہے۔

 

 

عیاں رہے کہ انا ہزارے نے اپنا انشن فڑنویس کے ذریعہ پلائے گئے ناریل کے پانی سے توڑا۔ اس موقع پر ریاست مہاراشٹر کے آبی ذرائع کے وزیر گریش مہاجن بھی موجود تھے۔ قابل ذکر ہے کہ گزشتہ کئی دنوں سے مہاجن انا ہزارے کو منانے میں لگے ہوئے تھے اور انا اپنے موقف سے ہٹنے کو قطعی تیار نہیں تھے اور گیارہ نکاتی مطالبات پر اڑے ہوئے تھے۔ جب کوئی راستہ نکلتا ہوا نہیں دکھائی دیا تو وزیر اعلیٰ مہاراشٹر فڑنویس اور مرکزی وزیر مملکت شیخاوت کو میدان میں کودنا پڑا۔ تب جاکر وزیر مملکت جتندر سنگھ کا مکتوب پی ایم او سے آیا اور یہ بہانہ بنا انا کو اعتماد میں لینے کا۔
قابل ذکر ہے کہ انا ہزارے کے ساتھ آندولن کی حمایت میں بھارتیہ کسان یونین سمیت اترپردیش، ہریانہ، مہاراشٹر، اتراکھنڈ، آندھرا پردیش اور دیگر ریاستوں کے کئی سو افراد انشن پر بیٹھے ہوئے تھے۔ لہٰذا انا ہزارے کے ناریل پانی پینے کے بعد ان سینکڑوں کسانوں و دیگر افراد نے بھی اپنا انشن توڑا اور غیر یقینی صورت حال کو ختم کرکے مرکزی حکومت کو وقتی طور پر اطمینان و سکون فراہم کیا۔

 

 

اب دیکھنا یہ ہے کہ مرکزی حکومت اپنی کرائی گئی یقین دہانی پر کتنا پابند رہتی ہے اور انا کے مطالبات کو پورا کرنے کے لئے کیا اور کب عملی اقدامات کرتی ہے ۔مسئلہ یہ ہے کہ حکومت کسی بھی حالت میں فصل کی لاگت اور ایم ایس پی طے کرنے والے اگریکلچرل کوسٹ اور پرائس کمیشن کو خود مختاری دینا نہیں چاہتی ہے۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو یہ کمیشن آزادانہ طور پر کسانوں کی لاگت کی بنیاد پر ایم ایس پی کا تعین کرے گا اور اس کی سفاراشات کو ماننا سرکار کی مجبوری ہوگی۔ ابھی تک اگریکلچرل کوسٹ اور پرائس کمیشن وزارت زراعت کے ماتحت ہے۔ اس کمیشن کی سفارش پر سرکار کے لئے پابند عمل ہونا ضروری نہیں ہے لیکن اسے خود مختار ادارہ بنا دینے کے بعد سرکار کو کسانوں کی فصل کے لئے ادائیگی پرائس کمیشن کے ذریعے طے کی گئی قیمت پر ہی کرنی پڑے گی۔
انا چاہتے ہیں کہ ایم ایس پی کے مقرر کرنے کے عمل میں سرکار کا کوئی رول اور عمل نہیں رہے ۔اسی طرح لوک پال اور انتخابی اصلاحات سے جڑی مانگوں پر سرکار کی یہ دلیل ہے کہ اسے پارلیمنٹ سے پاس کرانا ہوگا جس کے لئے لمبا وقت درکار ہوگا۔ ویسے یہ بھی حقیقت ہے کہ سرکار نے لوک پال کی تقرری کو لے کر کبھی بھی سنجیدہ کوشش نہیں کی مگر اسی کے ساتھ ساتھ لوک پال قانون کو کمزور کرنے میں یہ لگی رہی اور اس کے لئے دفعات 63 اور 44 میں ترمیم بھی کرایا۔لہٰذا انا کا یہ بھی مطالبہ ہے کہ اس ترمیم کو رد کیا جائے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *