ایک غیرمسلم نے مسلم خاتون کوپہنچایااس کے گھر

muslim-family
آگرہ : ضلع متھرا کا ایک ایسا گاؤں جہاں ٹرانسپورٹ کا کوئی بندوبست نہیں ہے ، وہاں گزشتہ دوسال سے ایک خاتون نامکمل طور پر زندگی گزار رہی تھی،گاؤں گاؤں میں گھر گھر جاکر بھیک مانگ کر اپنا دوو قت کی کھانے کا انتظام کرتی تھی، اور جہاں رات ہو جاتی تو وہی سوجاتی تھی، اس خاتوں کو کبھی لوگ بھگادیتے تھے اور کچھ کو لوگ ترس کھاکر اُس کو کھانا کھانے کو دے د یا کرتے تھے،اس خاتوں کے اہل خانہ کی تلاش سماجی کارکن نریش پارس نے سوشل میڈیا کی مدد سے کی ، اہل خانہ کے مل جانے پر خاتون کو گاؤں کمیٹی کی موجودگی میں سپرد کر وایا ،خاتون نے اپنے گھر میں قدم رکھنے کے بعد سب سے پہلے نماز ادا کی ،اس خاتون کا نام فرزانہ ہے ، اس کے اہل خانہ کی تلاش ایک غیر مسلم نریش پارس نے کی ۔ یہ واقعہ ہندو مسلم اتحاد کی مثال ہے،نریش پارس کے مطابق متھرا ضلع کے بلدیوتھانہ کے تحت صحت، نیرا، یمنا نگر، سرائے وغیرہ میں گرشتہ دو سال سے ایک خاتون پاگل جیسی حالت میں گھوم رہی تھی،وہ دووقت کے کھانے کے لئے گاؤں گاؤں جاکر بھیک مانگ کرکرتی تھی،اس خاتوں کوئی شخص کھانا دیتا تو کوئی بھگادیتا تھا ،گاؤں گاؤں گھومنا اس کا روز کا کام تھا ، کچھ لوگ اُس کا ناجائز فائدہ اُتھاتے تھے،جب اس خاتون کی حالت کو میں نے دیکھاتو مدد کا خیال دل میںآیا ، اس خاتون سے اُس کی معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی تو وہ اُٹھ کر چلی گئی ،دوبارہ معلوم کرنے پر اُس نے اپنا نام فرزانہ شوہر کا نام شہزاد بچوں کا نام تبسم،مسکان،ناظرین اور شانوبتایا ، فرزانہ نے کہا کہ اُسکی رہائش آگرہ میں اعتماد الدولہ کے قریب ہے،رہائش کی مزیدمعلومات اُس کو نہیں ہے،وہ گھر جانا چاہتی ہے، جب گاؤں کی عوام سے پوچھا تو ان کا جواب تھا کہ وہ پاگل ہے، دن رات گھومتی رہتی ہے،فرازانہ کی بات سُن کر اُس کی مدد کے لئے میں نے شوشل میڈتا کی مدد لی ،اُ س کی تصویر فیس بک کر لوڈ کر دی ، اس کے ساتھ پولیس محکمہ کو ٹوویٹ کے ذریعہ فرزانہ کی مدد کا مطالبہ کیا ، اس کے ساتھ وزیراعلی کے جن سنوائی پورٹل پر بھی فرزانہ کے گھر کی تلاس کرنے اور اُس کو گھر پہنچانے کی بات درخواست کی شکل میں پیش کی ،پولیس ہیڈآفس اور وزیراعلی کے جن سنوائی پورٹل سے فرزانہ کو گھر بھیجوانے کا حکم تھانہ بلدیو کو جاری ہوا، لیکن پولیس فرازانہ کو تلاش نہیں کر پائی ،شوشل میڈیا پر تصویر شائع ہونے پر عوام نے فرزانہ کے اہل خانہ کی تلاش شروع کردی ،نریش نے بتایا کہ ان کے فیس بک دوست سنجے کتیال نے فرزانہ کے اہل خانہ کو تلا ش کر لیا،جب میں نے فرزانہ کی بڑی بیٹی تبسم سے ملاقات کی تو اُس نے بتایا کہ دوسال قبل اُس کی والدہ فرزانہ اچانک غائب ہوگئی ،اس کی اطلاح تھانہ اعتمادالدولہ میں دی گئی لیکن کوئی کارروائی نہیں ہوئی ،وہ پانی کے پلانٹ میں کام کرکے اپنے بھائی بہن کی دووقت کی روٹی کا انتظام کر رہی ہے،والد بھی والد ہ کی تلاش میں در در گھومتے رہتے ہیں،والدہ کی تصویردیکھ کراُس کی آنکھ سے آنسو نکل آئے،

 

گزشتہ روز نریش تبسم اُسکی خالہ آسماں خالو صادق کو لیکر بلدیو پہنچے،کئی گاؤں میں تلاش کرنے کے بعد فرزانہ سرائے گاؤں کے اسکول میں بیٹھی ہوئی ملی،بیٹی تبسم کو دیکھ کر وہ کھڈی ہو گئی ،پوچھا تو یہاں کیسے آئی ؟تبسم اپنی والد کی حالت کو دیکھ کر رونے لگی ،بیٹی کو روتے دیکھ فرزانہ بھی رونے لگی ،دیکھتے ہی دیکھتے گاؤں کی عوام کو فرزانہ کے اہل خانہ دیکھنے کے لئے آگئی ،گاؤں کمیٹی کی موجودگی میں فرزانہ کواُ س کے اہل خانہ کے سپرد کیا گیا،نریش فرزانہ کو اُس کے گھر تک چھوڑ کر آئے،گھر پہنچ کر فرزانہ سب سے پہلے نماز اداکی اور نریش پارس کا شکریہ ادا کیا، فرزانہ نے نمائدہ سے کہا کہ امبیڈکر پل تعمیرکے وقت وہ وہاں مزدوری کر رہی تھی ،کچھ لوگو اُس کو بیٹھاکر لے گئے اور کیلاش مند کے پیچھے جنگل میں چھوڑ دیا،وہاں سے وہ پیدل پیدل بلدیو پہنچ گئی ،وہ وہاں بھیک مانگ کر پیٹ بھرتی تھی ،گھر آنا چاہتی تھی لیکن کوئی اُسکی مدد نہیں کر تا تھا،صرف پریشان کیا جاتا تھا،عالمی یوم خواتین کے مبارک موقع پر ایک مسلم خاتون کو اس کے گھر پہنچاکر نریش بہت خوش ہیں، ان کا کہنا ہے کہ انسانی خدمت سب سے بڑی عبادت ہے۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *