اے ایم یو کے عبداللہ ہال میں’’سب رنگ۔2018‘‘ تقریب کا شاندار انعقاد

Abdullah-hall-function
علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے تاریخی عبداللہ ہال کے وسیع و عریض میدان میں طالبات کے لئے منعقدہ مختلف ادبی و ثقافتی مقابلوں کے اختتام کے موقع پر شاندار ’’سب رنگ۔2018‘‘ تقریب کا اہتمام کیا گیا ۔اس موقع پر وائس چانسلر کی اہلیہ اور معروف ماہر امراض اطفال ڈاکٹر حمیدہ طارق نے اپنے خطاب میں طالبات سے اپیل کی کہ وہ یہاں کی تعلیم و تربیت سے خود بھی فیض حاصل کریں اور یہاں سے نکل کر جہاں بھی جائیں اس سوسائٹی میں تعلیم کے فروغ میں تعاون کریں۔انھوں نے ۴۰؍ سال قبل ایس این ہال میں گزارے دنوں کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ آپ خوش قسمت ہیں کہ ہندوستان کی اہم ترین یونیورسٹیوں میں شمار کی جانے والی علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کرنے کا سنہرا موقع حاصل ہوا ہے۔زندگی پھولوں کی سیج نہیں ہے، مستقبل کو تابناک بنانے میں یہاں کی تہذیب و تربیت اہم کردار نبھاتی ہیں۔ اس لئے من لگا کر پڑھائی کریں اور اپنا اور اپنے والدین کے ساتھ یونیورسٹی کا نام روشن کریں جیسا کہ اس ادارہ سے نکلنے والی سابق طالبات کرتی رہی ہیں۔
مہمان اعزازی پرنسپل ویمنس کالج پروفیسر نعیمہ گلریز نے طالبات کو بہتر مستقبل کی دعائیں دیتے ہوئے کہا کہ طالبات ،شیخ عبداللہ اور اعلیٰ بی کے خوابوں کی تعبیر اس ادارے کے محفوظ اور توانائی سے بھر پور اقامتی زندگی کا لطف اٹھائیں ،یہاں سے ڈگریاں حاصل کرکے جس جگہ بھی جائیں وہاں علی گڑھ کے پیغام کو عام کرنے کی کوشش کریں۔شیخ عبداللہ نے 112 ؍سال پہلے اپنی کمیونٹی کی تعلیمی ضرورت کو سمجھ کر تعلیم نسواں کے فروغ پر خاص توجہ مرکوز کی تھی۔انھوں نے کہا کہ وقت بہت قیمتی ہے اس کو ضائع نہ کریں۔اس سے قبل تقریب کا آغاز ویمنس کالج کی طالبہ طوبی کی قرأت سے ہوا۔پرووسٹ عبداللہ ہال پروفیسر زیبا شیریں نے استقبالیہ کلمات پیش کرتے ہوئے کہا کہ ہال ہفتہ کے دوران طالبات نے مختلف مقابلوں میں شرکت کی اور باہر بھی اے ایم یو کی نمائندگی کرتے ہوئے متعدد کامیابیاں حاصل کیں۔انھوں نے تمام کامیاب طالبات کو مبارکباد پیش کی اور ہال میں بنیادی ڈھانچہ اورجدیدکاری کے لئے وائس چانسلر پروفیسر طارق منصور کے تعاون کو خوش آئند قرار دیا۔
سینئر ہال رابعہ عمر نے پروگریس رپورٹ پیش کرتے ہوئے گزشتہ سال کے پروگراموں کی تفصیل کے ساتھ ہال میں آنے والی خوش نما تبدیلیوں کا بھی تذکرہ کیا نیز کرکٹ،والی بال، باسکٹ وال وغیرہ کھیلوں میں طالبات کی عمدہ کارکردگی کو بیان کیا۔طالبہ زویا تسلیم اور ساکشی شرما نے نے مترنم لہجے میں نظم پیش کرکے حاضرین کو محظوظ کیا۔ اس موقع پر ہال کی مختلف رضاکاران و عہدیداران اور میگزین ایڈیٹوریل بورڈ وغیرہ سے وابستہ طالبات منتشا ایوب،شفاء نیر،ثنا آفرین،عظمیٰ سرور،سیدہ خدیجہ،آفرین خان،شہنیلا،عفت رئیس،اسنوہی راہی،انعم احمد،نور شمع شازیہ،ملکہ،مشاہدہ،فاریحہ،رابعہ عمر وغیرہ کو مہمان خصوصی ڈاکٹر حمیدہ طارق ،پرنسپل پروفیسر نعیمہ گلریز،مسز پی وی سی روبی اشرف، پرووسٹ زیبا شیرین ،پروفیسر قیصر جہاں نے ٹرافی دے کر اعزاز سے نوازا۔ ہال وارڈن پروفیسرقیصر جہاں،ڈاکٹر شوکت حسین، ڈائنگ ہال انچارج ڈاکٹربدر الزماں صدیقی، ڈاکٹر ناز مصطفی،ڈاکٹر غزالہ پروین،ڈاکٹر عرشیہ شفقت، ڈاکٹر زرین،ڈاکٹر شاہینہ مقبول،ڈاکٹر سنبل رحمن،ڈاکٹر خالدہ ترنم وغیرہ کو یادگاری نشانات پیش کئے گئے۔ تقریب کے اختتام پر حسب روایت ڈنر کا اہتمام کیا گیا۔سابق پرنسپل ویمنس کالج پروفیسر بلقیس نسیم وارث،پروفیسر نکہت تاج،ڈاکٹر عزیزہ رضوی،پروفیسر عمرانہ نسیم،پروفیسر روحی عابدہ،ڈاکٹر جمال احمد،ڈاکٹر بدر الزماں،ڈاکٹر عطاء الرحمن،ڈاکٹر فیاض احمد،ڈاکٹر علی عمران عثمانی،ڈاکٹر منصور عالم،ڈاکٹر ابرار احمد،ڈاکٹر فرقان سنبھلی،ڈاکٹر بلال احمد،ڈاکٹرمحمد مرتضی،ڈاکٹر محمدعمران،بختیار احمد وغیرہ بطور خاص شریک رہے۔نظامت کے فرائض ازکہ سعید نے انجام دئے۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *