اے ایم یو ، جامعہ ملیہ اسلامیہ و دیگر ادارے کی شناخت کو خطرہ لاحق

jmi-and-amu

ہندوستان کے مسلم تعلیمی اداروں کا ملک کی آزادی اور تعمیر نو میںخصوصی رول رہا ہے۔تحریک آزادی کے وقت دینی تعلیم کے مراکز مدارس اور ہم عصر تعلیم کے اداروں نے جو رول ادا کیا ، وہ تاریخ میںمحفوظ ہے۔ اس سلسلے میںدارالعلوم دیو بند کے ساتھ ساتھ جامعہ عثمانیہ حیدرآباد اور جامعہ ملیہ اسلامیہ نئی دہلی کے نام قابل ذکر ہیں۔ ان ممتاز تعلیمی اداروں نے دیگر علاقائی تعلیمی اداروں کے ساتھ آزادی کی لڑائی لڑی اور ملک کو آزاد کرایا۔ پھر آزادی کے بعد ملک کی تعمیرنو میںبھی ان تعلیمی اداروں نے اہم و کلیدی رول ادا کیا۔ ان مسلم تعلیمی اداروںکو آئین ہند نے بھی اہمیت دی اور خصوصی آرٹیکلز کے ذریعے ان کے وجود کو یقینی بنایا۔ اس ضمن میںتمام اقلیتی تعلیمی اداروں کو تحفظات و اختیارات اور سہولیات و مراعات حاصل ہوگئے۔ مگر آزادی کے بعد گزشتہ 70 برسوں میںان کی یہ حیثیت مختلف مقامات پر چیلنجوں سے گزری۔ بہرحال اس کے باوجود مجموعی طور پر آئینی تحفظ و عدالتی فیصلوں اور حقوق و اختیارات کے سبب یہ تعلیمی ادارے قائم رہے اورتعلیم کے شعبوں میں خدمات انجام دیتے رہے۔

 

 

 

ان مسلم و دیگر کمیونٹیوں کے تعلیمی اداروں کو آزادی سے قبل اور بعد بھی مختلف آزمائشوں سے گزرنا پڑا۔ مثال کے طور پر حیدرآباد کی معروف مسلم یونیورسٹی جامعہ عثمانیہ کو ہی لیجئے۔ یہ مسلمانوں کے ذریعے آزادی سے کافی قبل 1918 میں قائم کی گئی مگر آج یہ بغیر اقلیتی کردار یا حیثیت کے ہے اور ایک عام یونیورسٹی بنی ہوئی ہے اور زندہ ہے جبکہ اسی شہر میںمولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی (مانو) اقلیتی لسانی کردار کے ساتھ جنوری 1998 میںآئی کے گجرال حکومت کے وقت پارلیمنٹ کی قانون سازی سے بنائی گئی۔ اسی طرح ریاست بہار کے لہریا سرائے (دربھنگہ) میں1950 کی دہائی کے اواخر میںملت کالج وہاںکے مسلمانوں نے معروف معالج اور سماجی کارکن و مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے رہنما مرحوم ڈاکٹر عبدالحفیظ سلفی کی قیادت میںقائم کیا۔ ایمرجنسی کے سیاہ ایام میںریاست بہار کا یہ پہلا تعلیمی ادارہ مالی بحران کے سبب نامساعد حالات میں اپنی اقلیتی حیثیت کھوبیٹھا۔ تقریباً دس برس قبل جسٹس محمدسہیل اعجاز صدیقی کی سربراہی کے زمانے میںنیشنل کمیشن فار مائنارٹی ایجوکیشنل انسٹی ٹیوشنز (این سی ایم ای آئی)نے اس کے اقلیتی کردار کے حق میںپٹنہ ہائی کورٹ کے 1965 کے ایک فیصلے کی روشنی میںاپنا فیصلہ سنایا مگر نتیش کمار کی حکومت اس پر عملی قدم اٹھا نہیں پائی جس کے سبب ریاست بہار میںمسلمانوںکے ذریعے قائم کردہ پہلا اقلیتی کالج اپنی شناخت کے حق سے محروم ہے۔

 

 

 

ویسے یہ تلخ حقیقت ہے کہ آزادی کے بعد مختلف اقلیتی تعلیمی اداروں نے اپنے مخصوص کردار کو کھویا ہے۔ دراصل منموہن سنگھ حکومت نے اقلیتوں کے اسی دکھ و پریشانی کو محسوس کرتے ہوئے این سی ایم ای آئی کی تشکیل کی تھی اور جسٹس ایم ایس اے صدیقی کو اس کا اولین چیئرمین بنایا تھا اور انھوں نے سیکڑوں اقلیتی تعلیمی اداروں کو اقلیتی حیثیت دلائی تھی اور ان کے دیگر مسائل حل کرائے تھے۔ ویسے یہ الگ بات ہے کہ انھیں شکایت رہی کہ اقلیتی اداروںکے اقلیتی کردار کو بحال کرانے میںمسلمان بہت کم آگے بڑھے۔ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ دیگر مذہبی کمیونٹیوں کے تعلیمی ادارے این سی ایم ای آئی سے خوب مستفیض ہوئے جبکہ مسلم تعلیمی ادارے مسلمانوںکی غفلت کے سبب خسارے میںرہے۔
ویسے یہ بڑے افسوس کی بات ہے کہ جسٹس ایم ایس اے صدیقی کے ریٹائرمنٹ کے بعد این سی ایم ای آئی کا کوئی چیئرمین نہیں بنایا گیا اور یہ محض سکریٹری کے ذریعے چلایا جارہا ہے اور برائے نام زندہ ہے اور جسٹس صدیقی کے دور جیسا کوئی مفید کام انجام دے نہیںپارہا ہے۔ اقلیتی تعلیمی اداروں کی فلاح و بہبود کے لیے اس قومی کمیشن کا زندہ رہنا بہت ضروری ہے۔ مگر موجودہ حکومت نے اسے برسوں سے بغیر سربراہ کا بنا رکھا ہے۔ اقلیتی اداروں کو کانگریس کے دور میںبھی نقصان پہنچا ہے مگر موجودہ حکومت کے دور میں اقلیتی تعلیمی اداروں کی مزید اور بڑے پیمانے پر ہمت شکنی ہورہی ہے۔یہی وجہ ہے کہ مسلمانوں کی دو مشہور سینٹرل یونیورسٹیوں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اور جامعہ ملیہ اسلامیہ کے تعلق سے منموہن سنگھ کے زمانے میںیوپی اے سرکار نے جو موقف اختیار کیا تھا، پی ایم مودی کے وقت میںاین ڈی اے سرکار نے اس موقف کو واپس لے لیا ہے۔ اس کی صاف دلیل یہ ہے کہ ان دونوں تعلیمی اداروں کویونیورسٹی کا درجہ پارلیمنٹ میںقانون سازی سے ملاہے۔ یعنی یہ یونیورسٹی پارلیمنٹ کے قانون سے وجود میںلائی گئی ہیں۔

 

 

مر کزی حکومت نے الگ الگ ایفی ڈیوٹ میںصاف طور پریہ کہا ہے کہ یہ دونوں تعلیمی ادارے سینٹرل یونیورسٹیاں ہیں اورسرکار اس کی مکمل فنڈنگ کرتی ہے تو یہ اقلیتی درجوں کی دعویدار کیسے ہوسکتی ہیں؟ نیز یہ پارلیمنٹ کے قانون سے بنی ہیں۔ حکومت کا یہ موقف بڑا ہی عجیب و غریب ہے کہ یہ دونوں یونیورسٹیاں پارلیمنٹ کے قانون سے بنی ہیں۔ یعنی اے ایم یو 1920 اور جامعہ ملیہ اسلامیہ 1988 میںوجود میںآئیںجبکہ حقیقت یہ ہے کہ ان دونوںیونیورسٹیوں کی لمبی تاریخ ہے۔ یہ دونوں غیر سرکاری اداروں کے طور پر 1873 اور 1920 میںوجود میں آئیں اور انھیں1920 اور 1988 میںیونیورسٹی کا درجہ ملا۔ لہٰذا ان تعلیمی اداروں کی تاریخ انھیںیونیورسٹی کا درجہ ملنے سے شروع نہیں ہوتی ہے بلکہ کافی پہلے سے ہوتی ہے جب انھیںالگ الگ دور میںاس وقت کے مسلمانوںنے قائم کیا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ 1873 میںسرسید کے قائم کردہ اے ایم اے او اسکول کو اے ایم یو کی اساس مانا جاتا ہے او رسرسید کو اس کا بانی ۔ اسی طرح رئیس الاحرار اور سابق صدر انڈین نیشنل کانگریس مولانا محمد علی جوہر کے 1920 میںقائم کردہ تعلیمی ادارے کو بھی جامعہ ملیہ اسلامیہ کی اساس مانا جاتا ہے اور تاریخی طور پر یہ اس کے بانی تسلیم کیے جاتے ہیں۔ 1920 میںاس کے قیام کے وقت سے لے کر 1938 تک مولانا محمد علی جوہر اس کے بانی کے طور پر ہر سال کے دستورالعمل میںموجود ہیں۔ ان کی یہ حیثیت 1938 میںجامعہ کی انجمن کو سوسائٹیز ایکٹ 1860 سے رجسٹر کراتے وقت اس وقت کے وائس چانسلر ڈاکٹر ذاکر حسین نے ختم کردی۔ تب سے یہ بغیر بانی کے ہے۔ بعد میں ’بانیان‘ کی اصطلاح استعمال کرنے کی کوشش کی گئی مگر یہ حیثیت بھی 1988 میں بنے جامعہ ایکٹ سے ختم ہوگئی۔

 

 

 

اس ضمن میںاصل سوال یہ ہے کہ کیا کسی بھی سرکاری یونیورسٹی یا کالج کو مکمل سرکاری فنڈنگ دے کر اقلیتی کردار کے ساتھ برقرار رکھا جاسکتا ہے؟ دراصل جو لوگ اے ایم یو یا جامعہ ملیہ اسلامیہ کے اقلیتی کردار کو قائم رکھنے کی جدوجہد کر رہے ہیں،انھیں اس کی قانونی حیثیت کو پہلے معلوم کرنا چاہیے۔ اگر سرکاری فنڈنگ کسی تعلیمی ادارے کوخواہ وہ یونیورسٹی یا سینٹرل یونیورسٹی کیوںنہ ہو، حاصل ہے تو سوال یہ ہے کہ کیا وہ صرف اس بنا پر اپنے اقلیتی کردار سے محروم کردیا جائے گا؟ کیا ایسی حالت میںآئینی تحفظات اور اختیارات اسے بچا نہیںپائیں گے؟
اے ایم یو اور جامعہ ملیہ اسلامیہ دونوں کے معاملے میں اس اہم و بنیادی نکتے پر غورو فکر کرنا چاہیے۔اسی میںاقلیتی کردار کے مسئلے کا حل موجود ہے۔

 

 

 

 

سخت آزمائش میںمدارس اور ان کے اساتذہ
یہ کیسی عجیب و غریب بات ہے کہ ’سب کا ساتھ،سب کا وکاس‘ کا نعرہ دینے والی مودی حکومت نے اب مدارس اسلامیہ پر بھی اپنی نظریں ٹیڑھی کردی ہیں۔ حکومت کی اس ’خاص مہربانی ‘ سے ملک کے تقریباً 3 ہزار مدارس کے لگ بھگ 50 ہزار اساتذہ بھکمری کے دہانے پر پہنچ چکے ہیں۔ انھیں گزشتہ دو برس سے تنخواہ نہیںمل رہی ہے۔
مدارس میںاسکیل یعنی مہارت پر مبنی تعلیم فراہم کرنے کی غرض سے مرکزی اسکیم کے تحت 16 ریاستوں کے تقریباً تین ہزار مدارس میںکئی برس قبل اساتذہ کی تقرری کی گئی تھی۔ ان میںسے زیادہ تر مدارس اترپردیش، اتراکھنڈ، مدھیہ پردیش اور جھارکھنڈ جیسی بی جے پی کی حکومتوں والی ریاستوں میں ہیں۔یہ مدارس دارالعلوم دیوبند سے ملحق ہیں۔ ان کے اساتذہ کو تنخواہ مرکزی حکومت کی جانب سے دی جاتی ہے۔ کیونکہ ان کی تقرری ہی مرکز کی ایک خاص اسکیم کے تحت ہوئی ہے۔ لہٰذا ان کی تنخواہ کی ادائیگی مرکزی حکومت کے ذریعے کی جاتی ہے۔ اس اسکیم کا مقصد مدارس کو جدید و ہم عصر تعلیم سے جوڑنا ہے۔

 

 

 

یہ حیرانی کی بات ہے کہ مدارس کے ان اساتذہ کو تقریباً دو برس سے مرکزی حکومت ’تنخواہ گرانٹ‘ جاری نہیںکررہی ہے، جس سے 50 ہزار اساتذہ کے خاندان سڑکوں پر آگئے ہیں۔ اس معاملے میںحکومت کی دلیل ’شیخ چلیوں‘ جیسی محسوس ہوتی ہے۔ مرکزی حکومت یہ بہانہ کررہی ہے کہ یہ مدارس حکومت کے ذریعے پیرا میٹرس یا کرائٹ ایریا کو پورا نہیںکرتے ، لہٰذا ان کے اساتذہ کو تنخواہ دے پانا ممکن نہیںہے۔ اسی بنیاد پر حکو مت نے سال 2016-17 کی 296 کروڑ کی تنخواہ گرانٹ روک لی ہے۔
اہم نکتہ یہ ہے کہ اگر مدارس طے شدہ کرائٹییریا کو پورا نہیں کرتے ہیں تو اس کے لیے مدارس کا مینجمنٹ یا اسے تسلیم کرنے والا ادارہ ذ مہ دار ہوگا۔ اساتذہ کو اس معاملے میںقربانی کا بکرا کیوںبنایا جارہا ہے؟ حکومت کے اس اپروچ سے اکتاکر دنیا کی مشہور اسلامی تعلیمی گاہ دارالعلوم دیوبند نے سبھی مدارس سے کہا ہے کہ اب وہ کوئی سرکاری مدد نہ لیں اور مدارس کو مخیر حضرات کے مالی تعاون سے ہی چلائیں۔ تاکہ اس طرح ان تعلیمی اداروں کو سرکاری دخل اندازی سے بچایا جاسکے۔ مدارس کو دہشت گردی کی نرسری کہنے والوں کو بھی دارالعلوم دیوبند نے کرارا جواب دیا ہے۔ دارالعلوم دیوبند نے مدارس کو صلاح دی ہے کہ وہ دیگر کمیونٹیوں کے لوگوںسے ربط و ضبط بڑھائیں او رمدارس کے خاص پروگراموں میںایسے لوگوں کو مدعو کریں جس سے یہ وہم اور غلط فہمی دور ہو کہ مدارس ملک مخالف سرگرمیوں میںملوث ہیں۔

 

 

 

اترپردیش کی یوگی حکومت اس سے بھی ایک قدم آگے ہے۔ اس نے مدارس میںہونے والی 9 تعطیلات میںکٹوتی کردی ہے۔ اس کے علاوہ یوپی مدرسہ بورڈ سے ملحق 19 ہزار 108 مدارس میں سے 346 مدارس کا رجسٹریشن رد کر دیاہے اور2300 مدارس کو ان کے رجسٹریشن رد کرنے کا نوٹس بھیجا ہے۔ الزام ہے کہ ان مدارس نے حکومت کے ’پورٹل‘ پر طلباء / اساتذہ و دیگر کی تفصیلات اپلوڈ نہیں کی ہیں۔
اتنا ہی نہیں، یوگی حکومت نے مدارس کی حب الوطنی پر ہی سوال اٹھادیا ہے۔ حکومت نے ہدایات جاری کرکے کہا ہے کہ مدارس میں15 اگست اور 26 جنوری کو لازمی طور پر قومی پرچم پھہرایا جائے او ر اس کی ویڈیو فوٹو گرافی کرائی جائے۔ مطلب یہ ہے کہ مودی- یوگی حکومتیں مدارس کی ’کریڈیبلٹی‘ پر سوال کھڑا کرکے وہاں بھی اپنا ایجنڈا لاگو کرنا چاہتی ہیں۔

auasif asif

auasif asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔
auasif asif
Share Article

auasif asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *