ہرکردارمیں اجے دیوگن بے مثال

ajay-devgn

بالی ووڈ کے سب سے چہیتے اور مشہور اداکاروں میں اجے دیوگن کانام بھی شامل ہے۔انہوں نے بالی ووڈ کے کئی ادکار اوراداکاراؤں کے ساتھ سپرہٹ فلمیں کرکے پوری دنیا کے لوگوں کے دلوں پرراج کیا ہے اوراپنی دمدار ادا کاری سے بلندیوں کو چھورہیں اور متعددسپرہٹ فلمیں دے رہے ہیں۔ اسلئے وہ بالی ووڈ ٹاپ فائیواداکاروں میں سے ایک ہیں۔اتناہی انہیں یہ بے مثال اداکاری کی وجہ سے بھی جانے جاتے ہیں اورفلم انڈسٹری میں کئی لوگ ایسے ہیں جومانتے ہیں کہ اجے دیوگن اپنی آنکھوں سے ہی سارا رول اداکردیتے ہیں ۔فلم شائقین بتاتے ہیں ان کی آنکھوں میں ادا کاری کی ایک جادو ہے جوکسی اور ادا کارمیں نہیں ہے۔اجے کے بارے میں یہ بھی کہاجاتاہے کہ بالی ووڈ کے ایسے اداکارہیں جن کے پاس آمدورفت کیلئے اپنانجی جیٹ ہے۔

 

 

 

 

 

اجے دیوگن کی پیدائش2اپریل 1969 میں دہلی میں ہوئی۔ وہ بنیادی طورسے پنجاب کے امرتسرسے آتے ہیں۔اجے کا پیدائشی نام وشال دیوگن ہے۔ان کے والد ویرودیوگن ہندی فلموں کے اسٹنٹ مین اورایکشن فلم ڈائریکٹربھی تھے۔اجے کی ماں وینا دیوگن نے کچھ فلمیں بنائی تھیں۔ا ن کے ایک بھائی بھی ہیں جن کا نام انل دیوگن ہیں۔اجے نے گریجویشن کی پڑھائی ممبئی کے مٹھی بھائی کالج سے پوری کی ہے۔24فروری 1999کو اجے نے ادکارہ کاجول کے ساتھ سات پھیرے لئے۔پہلی بارجے اور کاجول کی جوڑی 1995میں فلم ’ہلچل‘ میں نظرآئی تھی۔ان کے دوبچے ہیں۔ بیٹی نیاسا جس کاجنم 20اپریل 2003 کوہواتھا اوربیٹایوگ جس کا جنم 13 ستمبر 2010کوہواتھا۔
ہندی سنیما میں اجے دیوگن ایک بہترین ادکارکے ساتھ ساتھ ڈائریکٹر اورپروڈیوسرہیں ۔وہ اب تک وہ سوسے زائد فلمیں کرچکے ہیں۔انہوں نے بہت ایوارڈز جیتے ہیں، جن میں دونیشنل فلم ایوارڈ اورچار فلم فیئرایوار بھی شامل ہیں۔سال 2016میں انہیں حکومت ہندکی جانب سے ہندوستان کے چوتھے سب سے بڑاایوارڈ پدم شری سے نوازا گیاہے۔
اجے دیوگن نے 1991 میں ڈائریکٹر سندیش کوہلی کی فلم ’’پھول اورکانٹے‘ ‘سے اپنے فلمی کریئرکی شروعات کی تھی اوراس کیلئے انہیں بیسٹ ڈیبیو کا فلم فیئرکا ایوارڈ بھی ملاتھا۔ ’پھول اورکانٹے ‘کی ایک سین آج تک سرخیوں میں ہے ۔ سین ہے دو موٹر سائیکل پر پیررکھ کر اجے دیوگن کے ذریعہ کی گئی انٹری۔فلم اجے کی انٹری والی سین کی اس وقت کی ہی نہیں بلکہ پرانی اورآج کی بھی نسلیں بہت تعریف کرتی ہیں۔اس کے بعدان کی فلم ’جگر‘1992،میں آئیں۔یہ فلم بھی باکس آفس پرہٹ ثابت ہوئی۔ ’ دل والے ‘ 1994، ’سہاگ‘ 1994، ’ ناجائز‘ 1995، ’دل جلے‘ 1996، اور’عشق‘ 1997 جیسی کامیاب اور سپرہٹ فلمیں کرتے گئے۔

 

 

 

 

 

سال 1998میں انہوں نے فلم سازمہیش بھٹ کی ناٹک فلم ’زخم ‘ کی، جس میں ان کی اداکاری کوکافی پسند کیاگیا اورفلم شائقین کے ذریعہ کافی تعریف بھی کی گئی تھی اوراس کیلئے انہیں بیسٹ اداکار کا نیشنل فلم ایوارڈ بھی ملا۔1999میں سلمان خان اورایشوریہ رائے کے ساتھ آئی ان کی ایک سپرہٹ فلم ’ہم دل دے چکے صنم‘ کیلئے اجے کافی سرخیوں میں رہے، یہ فلم ان کے کریئرکی ٹرننگ پوائنٹ رہی جس کیلئے انہیں کافی شہرت ملیں اورتعریفیں کی گئیں۔اس فلم میں انہیں ونراج نام کا رول اداکیا جواپنے پیار سے اپنی بیوی کولبھانے کی کوشش کرتاہے۔
سال 2000سے پہلے اجے نے رام گوپال ورما کی ممبئی ورلڈ کمپنی پرمبنی فلم میں کریٹیکل پسندیدہ رول کیاتھا۔اس فلم میں انہو ںنے ایک گینگسٹرکارول اداکیاتھا، اس کیلئے انہیں بیسٹ ایکٹر کا فلم فیئر بیسٹ کریٹکس ایوارڈ بھی ملا۔اسی سال انہو ںنے ایک پسندیدہ اداکاری کا مظاہرہ ’دیوانگی‘ فلم میں کیا،جس کیلئے انہیں فلم فیئربیسٹ ویلن کا ایوارڈ ملا تھا۔
2003میں راجکمار سنتوشی کی بھگت سنگھ پرمبنی فلم ’دی لیجنڈ آف بھگت سنگھ‘ میں ان کی اداکاری کیلئے انہیں بیسٹ ایکٹرکا دوسرا نیشنل فلم ایوارڈ ملاتھا۔ انہوں نے اب تک اپنے فلمی کریئر میں کئی کامیاب فلمیں دی ہیں جن میں اہم طورسے رینکوٹ2004، گنگاجل 2004 ، یووا 2004، اپہرن 2005، اومکارا 2006،کرینہ کپورکے ساتھ گول مال: فن ان لمٹیڈ 2006، گول مال ریٹرنس2008، آل دی بیسٹ :فن بگینس2009، ونس اپان اے ٹائم ان ممبئی 2010، گول مال 3(2010) ، راج نیتی 2010قابل ذکرہیں۔
2011میں آئی ان کی فلم ’’سنگھم ‘‘ سے وہ ایکدم بالی ووڈ میں ایکشن ہیرو میں شمارہوئے۔یہ فلم سپرڈوپرہٹ رہی تھی اورکاروباربھی اچھا کیاتھا۔ پھر اس کا اگلاپارٹ سنگھم ریٹرنس 2014 میں آیا۔حالانکہ یہ کہناغلط ہوگا کہ اجے دیوگن صرف ایکشن ہیروہیں، وہ تقریباً ہرقسم کی فلموں میں پرفیکٹ اداکاری کرتے ہیں۔ان کی ایکٹنگ کا اندازبالکل الگ ہے۔

 

 

 

 

سنگھم 2011، بول بچن 2012، سوناکشی سنہاکے ساتھ سن آف سردار 2012،درھشیم 2015، فطور 2016، اورشوائے 2016 شامل ہے ۔ اب تک وہ سوسے بھی زیادہ فلمیں کرچکے ہیںاوراس طرح انہوں نے اپنے آپ کو بالی ووڈ کا بہترین اورسب سے کامیاب اداکاروںمیں سے ایک بے مثال اداکار ثابت کیاہے۔اس کے ساتھ ساتھ اجے کی ایک پروڈکشن کمپنی اجے دیوگن فلم بھی ہے، جس کاقیام انہو ںنے سال 2000میں عمل میں لایاتھا۔ 2008 میں انہو ںنے اپنی فلم ’یو می اورہم ‘ سے اپنے ڈائریکٹرکے کریئرظاہرکیا تھا۔
اجے دیوگن کی سال 2017میں آئی فلم ’گول مال اگین‘نے پہلے ویکنڈ میں 87کروڑ 60 لاکھ روپے کا بزنس کیاتھا جبکہ ان کی ’بادشاہو‘ کوپہلے تین دنوں میں 43کروڑ 30لاکھ روپے کی کمائی ہوئی تھی۔ راجکمارراؤ کی ڈائریکشن والی آخری فلم ’گھن چکر‘نے پہلے تین دن میں 22کروڑ30لاکھ روے اور’نوون کلڈ جیسکا‘ نے 13کروڑ10لاکھ روپے کی کمائی تھی۔
اب اجے کی فلم ’ریڈ‘ آئی‘ہے جوباکس آفس پردھوم مچارہی ہے۔2018 میں ’پدماوت کے بعد فلم ’ریڈ‘ سب سے زیادہ کمائی کرنے والی بن گئی ہے۔ فلم میں اجے دیوگن نے ایماندار انکم ٹیکس آفیسر کا کردار نبھایا ہے جو ملک میں جاری کرپشن اور ٹیکس چوری کے نظام کو بدلنے اور کالے دھن کو واپس ملک میں لانے کیلئے اٹھ کھڑا ہوتا ہے۔ اور اس کوشش میں 7 سالوں کے دوران 49 تبادلے بھی ہوتے ہیں تاہم وہ اپنی کوششیں جاری رکھتا ہے۔ فلم کی کہانی لکھنؤ شہر کی ہے ۔ فلم 1981 میں مارے گئے ایک انکم ٹیکس چھاپے کی حقیقی کہانی پر بنائی گئی ہے جو دو سے تین دن میں ختم ہوتا ہے۔اْس وقت ملک میں اندرا گاندھی وزیراعظم تھیں جن کی جھلک بھی فلم میں دکھائی گئی۔فلم میں الیانا ڈ کروزاجے کی بیوی کے کردار میں ہیں اورسوربھ شوکلا، امیت سیال اورپوشپا جوشی کا بڑا رول ہے۔یہ فلم اجے دیوگن کے فینز کیلئے بنی ہے، ان پرستاروں کے لیے جو اجے دیوگن کے ایکشن اور اسٹنٹ کے نہیں بلکہ ان کی اداکاری کے دیوانے ہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *