فلسطینیوں کی شہادت کے بعد خطہ میں زبردست کشیدگی

فلسطین میں’یوم الارض‘ کے سلسلے میں مظاہروں کے موقع پر غزہ اور اسرائیلی سرحد کے قریب فلسطینی مظاہرین پر اسرائیل فوج کی فائرنگ میں 16 فلسطینیوں کی ہلاکت اور ایک ہزار سے زیادہ کے زخمی ہونے کے بعد غزہ اسرائیلی سرحد پر شدید کشیدگی پائی جارہی ہے۔ فلسطینیوں کی ہلاکت پر اسرائیل فوج کا کہنا ہے کہ مظاہرین میں شامل چند لوگوں کی طرف سے فائرنگ بھی کی گئی جب کہ کئی مظاہرین نے پتھراؤ کیا اور جلتے ہوئے ٹائر فوج کی طرف لڑھکائے۔
فلسطینی صدر محمود عباس نے اسرائیلی فوج کی فائرنگ میں ہلاک ہونے والے نوجوان کے غم میں یوم سوگ منانے کا اعلان کیا اور اس موقع پر غرب اردن میں مکمل ہڑتال کی گئی۔نیز غزہ میں ہزاروں افراد نے ہلاک ہونے والوں کے جنازوں میں شرکت کی اور احتجاج کرتے ہوئے سڑکوں پر مارچ کیا اور ’بدلے‘ کا نعرہ لگایا۔ ان جنازوں کے دوران لوگوں میں غصہ اس لیے بھی دکھائی دیا کیونکہ امریکہ نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اس مسودے کو بلاک کردیا ہے جس میں جھڑپوں کو روکنے اور ان کی تحقیقات کرنے کامطالبہ کیا گیا تھا۔
گزشتہ مارچ میں غزہ اور اسرائیل کے درمیان 65 کلو میٹر طویل سرحد کے سامنے دسیوں ہزار فلسطینی جمع ہوئے ۔ چھ ہفتوں تک ان مظاہروں کو جاری رکھنے کے لیے عارضی خیمے بھی لگا ئے گئے ہیں۔ فلسطینی مظاہر ین اسرائیل کے زیرِ قبضہ علاقوں میں اپنے آبائی گھروں میں واپس جانے کا حق مانگ رہے ہیں۔مظاہرے کی حساسیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ مظاہرے میں بہت سے فلسطینی خاندان اپنے ہمراہ بچوں کو بھی ان عارضی خمیوں تک لائے۔
حماس اور مختلف فلسطینی دھڑوں کی طرف سے منظم کیے گئے یہ مظاہرے 15 مئی تک چلیں گے۔قابل ذکر ہے کہ اس دن کو فلسطینی ’یوم نکبہ ‘یعنی قیامت کا دن کے طور پر مناتے ہیں ۔اسی دن 1948 میں لاکھوں فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے بے دخل کر دیا گیا تھا۔اسرائیل فلسطینیوں کی واپسی کے حق کو تسلیم نہیں کرتا کیونکہ اتنی بڑی تعداد میں فلسطینیوں کی اسرائیل کے زیرِ قبضہ اپنے علاقوں میں واپسی سے یہودی آبادی اکثریت سے اقلیت میں تبدیل ہو سکتی ہے۔اسرائیل کا کہنا ہے کہ یہ فلسطینی مہاجرین جن کی تعداد لاکھوں میں ہے ان کو مستقبل کی فلسطینی ریاست میں آباد کیا جاسکتا ہے۔قابل ذکر ہے کہ اسرائیل اور فلسطینی حکام کے درمیان 2014 کے بعد سے امن کا عمل تعطل کا شکار ہے۔غزہ میں حماس کے ساتھ جنگ کے بعد 2005 میں اسرائیلی فوج غزہ کی پٹی سے نکال لی گئی تھی لیکن اس کے اطراف اسرائیل نے سخت سیکیورٹی لگادیا ہے جبکہ مصر کے ساتھ غزہ کی سرحد پر بھی بہت سختی برتی جاتی ہے۔

 

 

 

 

 

 

 

 

صدر محمود عباس کا کہنا ہے کہ یہ مظاہرہ فلسطینیوں کی طرف سے بڑا واضح پیغام ہے کہ فلسطینیوں کی سرزمین ان کے جائز مالکان کو واپس کی جائیں اور اسرائیل کے قبضے کو ختم کیا جائے۔جبکہ اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ حماس ان مظاہروں کے پردے میں اسرائیل پر حملہ کرنا چاہتی ہے۔اسی لئے اسرائیلی فوج نے خبردار کیا ہے کہ وہ مبینہ دہشت گرد اہداف کو نشانہ بنانے کے لیے غزہ کی پٹی کے اندر کارروائی کر سکتے ہیں۔
اسرائیلی فوج کے برگیڈیئر جنرل رونن منیلس نے صحافیوں کو بتایا کہ غزہ میں قابض عسکریت پسند گروہ حماس فلسطینی مظاہرین کو استعمال کرتے ہوئے اسرائیل کے خلاف اپنے حملوں کو چھپا رہا ہے۔جبکہ فلسطینی رہنما محمود عباس نے کہا ہے کہ خون خرابے کی ذمہ داری اسرائیل پر عائد ہوتی ہے۔
حیرت کی بات ہے کہ ان ہلاکتوں کو اندیکھی کرتے ہوئے اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو نے اپنے فوجیوں کی تعریف کی کہ انھوں نے ملکی سرحد کا تحفظ کیا اور دیگر اسرائیلیوں کی چھٹی امن سے گزری۔جبکہ یہ وقت ان فلسطینیوں کے ساتھ ہمدردی کرنے اور ان فوجیوں کو سزا دینے کا تھا،جنہوں نے ان نہتھے مظاہرین پر گولیاں چلائیں۔
اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گٹریس نے اس واقعہ کی آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ حماس اس خونریزی کا الزام حماس پر ڈالتا ہے جبکہ اقوامِ متحدہ میں اسرائیلی سفیر ڈینی ڈینن نے اس خونریزی کا الزام حماس پر عائد کیا ہے۔یہی نہیں بلکہ اسرائیلی فوج کے برگیڈیئر جنرل رونن منیلس نے کہا کہیہ جو واقعہ پیش آیا ہے یہ ’مظاہرین کا احتجاج نہیں‘ بلکہ حماس کی جانب سے ’منظم دہشت گرد کارروائی‘ تھی۔اگر یہ سب جاری رہاتو ہمارے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہیں رہے گا کہ ہم غزہ کے اندر کارروائی کرکے ان دہشت گردوں کو نشانہ بنائیں جو ہمارے خیال میں ان واقعات کے ذمہ دار ہیں۔
ظاہر ہے یہ دھمکی کسی بھی وقت فلسطین اور اسرائیل کے درمیان اشتعال پیدا کرکے خونریزی کا راستہ کھول سکتی ہے ،یہی وجہ ہے کہ اقوام متحدہ کے جنرل سکریٹری چاہتے ہیں کہ جلد سے جلد اس کی تحقیق ہو اور جو قصوروار ہے اسے سزا ملے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *