نرمدا کی تیرتھ یاترا سے واپسی کے بعد دگ وجے پھر سے سیاسی طور پر سرگرم

مدھیہ پردیش کے سابق وزیراعلیٰ اور کانگریس کے سینئر لیڈر دگ وجے سنگھ کی 6 مہینے کی پرائیویٹ اور مذہبی یاترا ختم ہوچکی ہے۔ اس دوران انہوں نے مدھیہ پردیش کی لائف پارٹنر کہی جانے والی نرمدا کی پریکرما مکمل کرلی ہے۔ اب وہ ایک بار پھر سے مدھیہ پردیش کی سیاست میں لوٹنے کو بے قرار نظر آرہے ہیں۔ یاترا ختم کرنے کے فوراً بعد ان کا بیان آیا ہے کہ وہ سیاست داں ہیں اور اس مذہبی یاترا کے بعد وہ کوئی پکوڑا نہیں تلنے والے ہیں۔
دگ وجے سنگھ کی سیاست میں واپسی کے اعلان کے بعد مدھیہ پردیش میں سیاسی سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں، جہاں یکطرف کانگریسی ان کی اس یاترا کی کامیابی سے پُرجوش ہیں اور انہیں دگ وجے سنگھ میں اپنا نجات دہندہ نظر آنے لگا ہے تو دوسری طرف برسراقتدار بی جے پی ان کو اپنے نشانہ پر لینے کی پالیسی بنانے میں لگ گئی ہے۔ بہر حال سرخیوں میں چھانے والی اپنی اس غیر سیاسی یاترا سے دگ وجے سنگھ نے جہاں ایک طرف اپنی سیاسی شبیہ کو بدلنے کی کوشش کی ہی ہے، تو وہیں دوسری طرف ان کی سیاسی موقع پرستی کی خواہش بھی بڑھ گئی ہے۔
مدھیہ پردیش چھوڑنے کے بعد دگ وجے سنگھ مرکز میں سرگرم تھے اور وہاں انہوں نے اپنا خاصہ دخل بنا لیا تھا۔ راہل گاندھی کے ابتدائی دنوں میں ایک وقت ایسا بھی تھا کہ انہیں راہل کا گائڈ اور رہنمائی کرنے والا یہاں تک کہ سیاسی گروبھی کہا جانے لگا تھا۔ اس کے بعد دھیرے دھیرے پارٹی میں ان کا قد لگاتار چھوٹا ہوتا گیا۔ پارٹی کے باہر بھی ان کی شبیہ مسلم پرست اور بغیر سوچے سمجھے بولنے والے لیڈر کی بن گئی۔ اس یاترا سے ٹھیک پہلے گوا میں کانگریس کے سب سے بڑی پارٹی کی شکل میں ابھرنے کے باوجود سرکار نہیں بنا پانے کے سبب وہ نشانے پر تھے اور انچارج ہونے کے ناطے سب سے زیادہ کرکری انہی کی ہوئی تھی۔ اسے لے کر پارٹی ہی نہیں اپوزیشن بھی انہیں نشانہ بنارہے تھے۔ منوہر پاریکر نے ان پر طنز کرتے ہوئے کہا تھا کہ آپ گوا میں آرام سے گھومتے رہے اور ہم نے سرکار بنا لیا۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

پچھلے سال 30ستمبر کو سین پور ضلع کے برمان گھاٹ سے شروع ہوئی نرمدا پریکرما اس سال 9 اپریل کو برمان گھاٹ پر ہی اختتام پذیر ہوئی ہے جس میں وہ تقریباً 3ہزار 3سو 32 کلو میٹر پیدل چلے ہیں۔اس دوران انہوں نے تقریباً سوا سو سے ڈیڑھ سوکے قریب اسمبلی حلقوں کو کُوَر کیا ہے۔ یاترا شروع کرنے سے پہلے انہوں نے عہد لیا تھا کہ وہ سیاست سے جڑی کوئی بات نہیں کریں گے، جسے اپنی سطح پر انہوں نے نبھایا بھی۔ یہی وجہ رہی کہ یاترا کو خالصتاً مذہبی بتانے کے ان کے دعوے پر کوئی سوال نہیں اٹھا پایا۔
ایسا لوگوں کا عقیدہ ہے کہ نرمدہ کے درشن سے پاپ کٹ جاتے ہیں، اس لحاظ سے دیکھیں تو دگ وجے سنگھ نے تو پوری نرمدا کی پریکرما ہی کرلی ہے۔ اس یاترا سے انہوں نے اپنی ہندو مخالف لیڈر کی شبیہ سے بھی پیچھا چھڑا لیا ہے۔ آج ان کے سخت مخالفین بھی ان کی خوبیاں بیان کررہے ہیں۔ دگ وجے سنگھ کو مدھیہ پردیش کے اقتدار سے بے دخل کرنے والی اوما بھاریت نے انہیں ایک خط بھیجا ہے، جس میں انہوں نے نرمدا یاترا پوری کرنے کے لئے انہیں مبارکباد دی ہے اور نرمدا پریکرما سے ملنے والی خیر میں سے ایک حصہ اور آشیرواد مانگا ہے۔
1993 میں اسمبلی انتخابات سے پہلے بطور مدھیہ پردیش کانگریس صدر ،دگ وجے سنگھ نے ریاست کی یاترا کی تھی اور ہندوتو کے رتھ پر سوار ہوکر بی جے پی کو شکست دے دیا تھا۔ آج ایک بار پھر صورت حال ویسی ہی بن رہی ہے۔حالانکہ ابھی مدھیہ پردیش میں ا ن کی کوئی براہ راست ذمہ داری نہیں ہے، اس کے باوجود ریاستی کانگریس کی پالیسی انہیں کے ارد گرد سمٹتی ہوئی نظر آرہی ہے۔ مدھیہ پردیش میں اس سال کے آخر تک انتخاب ہونے والے ہیں اور آج بھی مدھیہ پردیش میں دگ وجے سنگھ ہی اکلوتے کانگریسی لیڈر ہیں ، جن کی پہچان پورے مدھیہ پردیش میں ہے۔
2003 میں اقتدار سے بے دخل ہونے کے بعد انہوں نے اگلے دس سال تک مدھیہ پردیش کی سیاست سے دور رہنے کا اعلان کیا تھا۔ آج اس اعلان کو ہوئے تقریباً 14سال گزر چکے ہیں۔ حالانکہ انہوں نے کہا ہے کہ اس بار وہ وزیر اعلیٰ عہدہ کے امیدوار نہیں ہیں اور کانگریس کو جتانے کے لئے پارٹی میں فیوکول کا کام کرنا چاہتے ہیں لیکن صاف دکھائی دے رہا ہے کہ ان کی خواہشات کلانچے مار رہی ہیں۔
فی الحال سب کچھ ان کے حق میں نظر آرہا ہے ۔پارٹی اعلیٰ کمان ابھی تک یہ طے نہیں کرسکا ہے کہ مدھیہ پردیش میں آئندہ اسمبلی انتخابات کس کی قیادت میں لڑی جائے گی۔درمیان میں کمل ناتھ اور جیوتی رادتیہ سندھیا کا نام خوب اچھلا تھا لیکن کچھ طے نہیں ہو پایا۔ دگ وجے سنگھ کی یاترا سے پہلے جو غیر یقینی صورت حال بنی ہوئی تھی، وہ آج بھی قائم ہے۔ اسی وجہ سے یاترا کے ختم ہونے کے فوراً بعد انہیں یہ دعویٰ کرنے کا موقع مل گیا کہ ریاست میں انتخابات کے لحاظ سے میں پارٹی کی نمائندگی کرنے کو تیار ہوں۔ فی الحال وہ بہت ہی محتاط طریقے سے آگے بڑھ رہے ہیں۔ وہ یہ کہنا نہیں بھول رہے ہیں کہ مستقبل میں کانگریس میں ان کا کیا کردار ہوگا،یہ صدر راہل گاندھی ہی طے کریں گے۔
نرمدا پریکرما کے بعد دگ وجے سنگھ اب مدھیہ پردیش کی سیاسی پریکرما کرنے کی تیاری میں ہیں۔ ایکتا یاترا کے نام سے نکالی جانے والی اس یاترا میں وہ ریاست کے ہر ضلع کا دورہ کریں گے اور الگ الگ دھڑوں میں بکھرے کانگریسیوں کو جوڑنے کا کام کریں گے۔ اگر دگ وجے سنگھ اپنی کہی ہوئی باتوں کے تئیں سنجیدہ ہیں اور ان کی یہ مجوزہ یاترا واقعی کانگریس کو متحد کرنے کے لئے ہی ہے تو پھر اس سے مدھیہ پردیش میں کانگریس کی قسمت بدل سکتی ہے۔
لیکن ان سب کے بیچ اصلی پہیلی یہ ہے کہ وہ خود کے لئے کیا چاہتے ہیں؟ حالانکہ وہ صاف کر چکے ہیں کہ ان کا ارادہ تیسری بار مدھیہ پردیش کا وزیرا علیٰ بننے کا نہیں ہے۔ اس کے ساتھ ہی آئندہ انتخابات کے لئے کانگریس کا چہرہ کون ہوگا؟ اس کے بارے میں وہ خاموش ہیں اور ساتھ ہی یہ جوڑنا بھی نہیں بھول رہے ہیں کہ میں اس کے بارے میں اپنی پسند صرف راہل گاندھی کو ہی بتائوں گا۔
انتخابی سال میں دگ وجے سنگھ کی واپسی کے بعد ریاستی کانگریس میں سمیکرن بدلنا طے ہے، آنے والے مہینوں میں وہ غیر اعلانیہ طور سے ہی سہی، اسمبلی انتخابات میں پارٹی کی کمان اپنے ہاتھ میں رکھنے کی ہر ممکن کوشش کریں گے۔ دگ وجے سنگھ نے پریکرما کے دوران یہ دیکھا کہ کبھی سال بھر نہیں خشک ہونے والی نرمدا کا یہ وردان بہت تیزی سے ختم ہو رہا ہے لیکن اسی نرمدا کی پریکرما سے دگ وجے سنگھ کی سیاسی زمین ضرور سیراب ہو گئی ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *