جموں کے بعد دہلی کی جھگیوں میں آگ زنی جائیں تو کدھر جائیں یہ روہنگیائی مہاجرین

ملک میں 40 ہزار روہنگیائی مسلمان مہاجر کی حیثیت سے دہلی حیدر آباد، میوات اور جموں میں آباد ہیں۔یہ مہاجرین معاشی اعتبار سے انتہائی بے دست و پا ہیں ہیں ۔ان میں تقریباً 15 ہزار مہاجروں کو حکومت نے رفیو جی کارڈ دے رکھا ہے اور بقیہ کو واپس ان کے ملک میانمار یعنی موت کے منہ میں دھکیلنے کی کوشش میں ہے۔حکومت کا ماننا ہے کہ یہ لوگ ملک کی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں۔مرکزی حکومت نے سپریم کورٹ میں دیئے گئے اپنے حلفیہ بیان میں کہا ہے کہ ان روہنگیائیوںکا رابطہ دہشت گرد تنظیموں کے ساتھ ہے اس لئے انہیں مزید رکنے کی اجازت نہیں دی جاسکتیجبکہ مشہور وکیل پرشانت بھوشن کا کہنا ہے کہ حکومت نے ان کے بارے میں عدالت میں اپنا جودعویٰ پیش کیا ہے،اس کی توثیق کے لئے اس کے پاس کوئی ثبوت نہیں ہے۔‘حکومت کے اس رویے پر حقوق انسانی کی تنظیموں نے ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ان پناہ گزینوں کو جبراً ملک بدر نہیں کیا جا سکتا اور ہندوستان اپنی انسانی ذمہ داریوں سے انحراف نہیں کر سکتا۔
دہلی میں روہنگیائیوں کا مسکن جلا
عالمی دبائو اور عدالتی سوالات کی وجہ سے ہندوستان کے لئے ان کو اس کسمپرسی کی حالت میں میانمار واپس کرنے کی راہیں بند ہوتی ہوئی نظر آرہی ہیں۔اس لئے اب کچھ شرپسند عناصر ناپاک سازش اور غیر انسانی رویہ اختیار کرکے انہیں ملک سے باہر نکالنا چاہتے ہیں ۔دہلی کے کالندی کنج سے کچھ فاصلہ پر کنچن کنج میں روہنگیائیوں کے تقریباً226 لوگ رہتے ہیں۔یہ لوگ یہاںتقریبا 10برسوں سے ایک خالی زمین پر بسے ہوئے ہیں۔حالانکہ حکومت نے ان کا رفیوجی کارڈ بھی بنا دیا ہے مگر وسائل نہ ہونے کی وجہ سے یہ کسمبپرسی کی زندگی جینے پر مجبورہیں ۔یہ لوگ رکشہ چلا کر،کوڑے کرکٹ چن کر یا ریڑی لگا کر اپنا پیٹ پالتے ہیں۔
گزشتہ ہفتہ رات کے تین بجے ان کی جھگیوں میں جو بھیانک آگ لگی ،اس آگ نے ان کا سب کچھ جلا کر خاکستر کردیا۔ان کی زندگی بھر کی کمائی چند پل میں راکھ کا ڈھیر بن گئی۔ایک 26 سالہ نوجوان شاکر کہتے ہیں کہ اس آگ نے اس کا سب کچھ یہاں تک کہ رفیو جی کارڈ،سرو سامان اور تمام دستاویز برباد کردیا۔اب اس کے پاس سوائے راکھ کے ڈھیر کے کچھ بھی نہیں بچا ہے۔شاکر مزید کہتے ہیں کہ جب سے سپریم کورٹ میں عرضی دائر کی گئی ہے تب سے ہی کچھ مقامی تنظیموںکی طرف سے یہ شبہ ظاہر کیا جارہا تھا کہ شر پسند عناصر کچھ انہونی کرسکتے ہیں۔ لہٰذا سیکورٹی کے پیش نظر گارڈ رکھے جائیں ۔شروع میں دو سیکورٹی گارڈ مقرر کئے گئے جو رات کے وقت گشت لگاتے تھے مگر مالی دشواریوں کی وجہ سے یہ عمل مسلسل قائم نہیں رہ سکا۔
ایک اور جوڑی فاطمہ اور نورمل کر ایک دکان چلاتے تھے۔ نور نے جب دیکھا کہ اس آگ نے اس کی زندگی بھر کی تمام پونجی خاک میں ملا دی ہے تو نور پر ہیجانی کیفیت طاری ہوگئی اور راکھ کی ڈھیر کی طرف دیکھ کر چیخ چیخ کر پکارنے لگا’ میں یقین نہیں کرسکتا کہ میری پوری زندگی کی کمائی راکھ کا یہ ڈھیر ہے‘۔غرضیکہ منظر بڑا دردناک تھا اور ہر طرف ماتم کا ماحول اپنا پائوں پسارے ہوا تھاکیونکہ ان مہاجروں نے پہلے اپنا وطن چھوڑا اور تنکا تنکا کرکے جوکچھ بھی جمع کیا تھا، اسے بھیانک آگ نگل گئی ۔
پہلی تفتیش میں پولیس کو یہ شبہ تھا کہ یہ آگ شارٹ سرکٹ سے لگی ہے۔یہ بھی کہا گیا کہ سیلنڈر پھٹنے کی وجہ سے آگ لگی ہے۔ مگر کچھ لوگوں کاخیال ہے کہ یہ آگ سازش کے تحت لگائی گئی ہے ۔اس شبہ کو اس لئے بھی تقویت ملتی ہے کہ نوید نام کے ایک آدمی نے ’نیوز کلک‘ کو بتایا کہ بی جے پی کا ایک حامی منیش چندیلا نے اپنے ٹویٹ میں یہ اعتراف کیا ہے کہ ’ ہاں میں نے روہنگیائی دہشت گردوں کا گھر جلایا ہے ۔‘منش چندیلا کو ایک دیگر موقع پر یوگی آدتیہ ناتھ کے ساتھ فوٹو گراف میں دیکھا گیا ہے ۔نوید کہتے ہیں کہ انہوں نے اس ٹویٹ کا اسکرین شاٹ محفوظ کرلیاہے اور ان کے خلاف شکایت کریں گے۔دراصل بی جے پی کاموقف ہمیشہ سے روہنگیائیوں کے خلاف رہا ہے۔ وہ سپریم کورٹ کے سامنے اپنا موقف واضح کرچکی ہے۔غالباً اسی موقف کو عملی جامہ پہنانے کے لئے اس کے حامی غیر انسانی عمل انجام دے رہے ہیں۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 

جموں میں بھی آگ لگی تھی
اس شبہ کو اس لئے بھی تقویت ملتی ہے کہ اس سے پہلے اسی سال فروری میں جموں کے اندر بھی کچھ شر پسند عناصرنے روہنگیائیوں کی جھگیاں جلانے کی کوشش کی تھی۔یہ واقعہ جموں کے مضافاتی علاقہ گاندھی نگر کے چھنی راما علاقہ میں پیش آیا تھا۔ ان شرارتی عناصر نے جھونپڑیوں کی طرف کچھ پوسٹر بھی پھینکے تھے جن پر لکھا ہوا تھا کہ روہنگیا پناہ گزینوں کو واپس بھیجا جائے۔ یہ شرارتی عناصرگاندھی نگر میں واقع سنجوان ملٹری اسٹیشن ( 36 بریگیڈ فوجی کیمپ) پر فدائین حملہ اور اسمبلی و اسمبلی کے باہر بھارتیہ جتنا پارٹی کے اراکین کی روہنگیا مسلمانوں سے متعلق متنازعہ بیان بازی کے پس منظر میں پیش آیا تھا۔
حیرت کی بات یہ ہے کہ سرکار کا رویہ روہنگیائی مسلمانوں کے تعلق سے عدالت کے اندر اور عدالت کے باہر بالکل الگ الگ ہے۔عدالت میں اس کا موقف یہ ہے کہ چونکہ اس نے اقوام متحدہ کے رفیوجی معاہدے پر دستخط نہیں کیا ہے ،لہٰذا انہیں پناہ دینے کی ذمہ داری ان پر عائد نہیں ہوتی ہے اور عدالت کے باہر سیاسی بیان دیتے ہوئے پولرائزیشن کی پالیسی پر عمل کرتی ہے اور سیاسی بیان دیتی ہے کہ ان روہنگیائی مہاجروں کے تار دہشت گردوں سے ملتے ہیں اس لئے انہیں پناہ نہیں دی جاسکتی ہے۔
حکومت کے اس رویے پر ملک میں عوامی اور تنظیمی سطح پر بڑی مخالفتیں ہورہی ہیں ۔ ابھی حال ہی میں السلامہ فائونڈیشن کی طرف سے کانسٹی ٹیوشن کلب میں منعقد ایک پروگرام میں کئی شخصیتوں نے شرکت کی اور حکومت کے اس رویے پر ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ سب کچھ محض اس لئے ہورہا ہے کہ روہنگیائی مہاجرین مسلمان ہیں۔ حکومت دوسرے ممالک سے آئے ہوئے دیگر تمام طبقوں کو لانگ ٹرم ویزا اور مکمل سہولت دیتی ہے مگر روہنگیا کے بارے میں اس کا رویہ الگ ہے اور یہ جانتے ہوئے بھی کہ میانمار کی حالت موافق نہیں ہے حکومت انہیں وطن واپس بھیجنے کے لئے بضد ہے۔ جبکہ روہنگیائی کسی بھی قیمت پر اپنے وطن واپس جانا نہیں چاہتے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ وہ اس موت کے کنواں میں نہیں جائیںگے جہاں جاتے ہی انہیں موت کی نیند سلا دیا جائے گا۔
اس پروگرام میں منش سسودیا نے کہا کہ ملکی آئین کے دفعہ 21 میں درج ہے کہ ملک کے اندر جتنے بھی لوگ رہتے ہیں ،انہیں لازمی سہولت پہنچانا حکومت کی ذمہ دایر ہے ۔اب اگر حکومت نے اقوام متحدہ کے رفیو جی معاہدے پر دستخط نہیں بھی کیا ہے تو بھی اس دفعہ کی رو سے اسے ان مہاجروں کی مدد کرنی چاہئے اور جب تک حالات نارمل نہیں ہوتے ،اس وقت تک وطن واپسی کی بات کرنا نہ صرف غیر انسانی ہے بلکہ غیر آئینی بھی ہے۔
ادھر کچھ دنوںسے ان مہاجروں کی وطن واپسی پر یہ دلیل دی جاتی ہے کہ میانمار حکومت کی طرف سے یہ اعلانکیا گیا ہے کہ نقل مکانی کرنے والوں کو واپس لانے کا عمل شروع کیا جارہا ہے ۔اس سلسلہ میں 7لاکھ خاندان جو کریک ڈائون کے پہلے مرحلہ میں نقل مکانی کرکے چلے گئے تھے ،انہیں واپس لانے کی کارروائی چل رہی ہے۔مگرسوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا حکومت اپنے اس اعلان پر عمل کرسکے گی؟جبکہ وہاں کے رائٹسٹ حکومت کے اس فیصلے پر سخت تنقید کررہے ہیں۔میانمار کا کہنا ہے کہ روہنگیا پناہ گزینوں کا پہلا کنبہ بنگلہ دیش سے ملک واپس آیا ہے جس کی باز آبادکاری کی گئی ہے۔ لیکن اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ فی الوقت میانمار روہنگیا پناہ گزینوں کی واپسی کے لیے بالکل محفوظ نہیں ہے۔ادھر مہاجرین کا بھی کہنا ہے کہ حکومت صرف اعلان کرتی ہے مگر جس طرح سے رائٹسٹ دھمکی دے رہے ہیں،اگر وہ واپس جاتے ہیں تو پھر ان کے ساتھ وہی ہوگا جو پہلے ہوچکا ہے ۔
قابل ذکر ہے کہ تقریبا7 لاکھ مہاجرین بنگلہ دیش کے عارضی کیمپوں میں رکے ہوئے ہیں۔ انہیں جہاں پر ٹھہرایا گیا ہے ۔اس خطہ کے بارے میں بنگلہ دیش کے رفیوجی کمشنر محمد عبد الکلام کہتے ہیں کہ ان روہنگیائی فیملی کو جہاں پر بسایا گیا ہے ،حقیت میں یہ زمین کسی کی ملکیت نہیں ہے بلکہ یہ میانمار اور بنگلہ دیش کا سرحدی علاقہ ہے۔یہی وجہ ہے کہ ڈھاکہ ان کی واپسی میں بہت کلیدی کردار ادا نہیں کرسکتا ہے‘۔ البتہ ڈھاکہ میانمار کی حکومت سے یہ اپیل ضرور کرتا رہا ہے کہ وہ اپنے شہریوں کو اس کسمپرسی کی حالت سے باہر لانے کے لئے واپسی کی راہ ہموار کرے۔بہر کیف جہاں بی جے پی کی حکومت ان روہنگیائیوں مسلمانوں کو موت کے منہ میں دھکیلنے کے رویے پر کوشاں ہے، وہیں کچھ شر پسند عناصر غیر انسانی طریقے پر انہیں اجاڑنے کی ناپاک سازش کررہے ہیں جو کہ ہماری روایت اور تاریخ کے بالکل خلاف ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *