کیس ڈائری کے گمشدہ صفحات ملنے کے بعد ہاشم پورہ معاملے میں نیا موڑ

ہاشم پورہ سانحہ کے گواہ رنبیر سنگھ بشنوئی نے تیس ہزاری کورٹ میںایک ڈائری سونپی ہے، جس میں پی اے سی کے سبھی ملزم جوانوں کے نام شامل ہیں ۔امید ہے کہ ڈائری کے سامنے آنے کے بعد فساد متاثرہ خاندان کے لوگوںکو انصاف مل سکے گا اور فساد کے ملزم جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہوںگے، جنھیں دہلی کے تیس ہزاری کورٹ نے ثبوتوں کے فقدان میںبری کردیا تھا۔
ہاشم پورہ فساد میںتیس سال سے لوگ انصاف کی امید لگائے ہوئے ہیں۔ 2015 میںملزم پی اے سی جوانوں کے رہا کرنے کے تیس ہزار ی کورٹ کے فیصلے کے بعد فساد متاثرین کے لواحقین کی ہمت ٹوٹ گئی تھی۔ وہ اب کورٹ سے بھی انصاف کی امید چھوڑ چکے تھے۔ ایسے میں امید ہے کہ اترپردیش سرکار کے ذریعہ گم ہوئی ڈائری کے کچھ صفحات کو کورٹ میں سونپنے کے بعد ان ثبوتوں کی بنیاد پر ہاشم پورہ فساد کی فائل پھر سے کھل سکے گی۔
بشنوئی نے تیس ہزاری کورٹ میں حاضر ہوکر ڈائری کے گم شدہ صفحات کو سونپا ہے۔ اس ڈائری میں 1987 میںمیرٹھ پولیس لائن میںتعینات سبھی پولیس اہلکاروں کے نام ہیں۔ دہلی ہائی کورٹ میںاین ایچ آرسی (نیشنل ہیومین رائٹس کمیشن) نے ڈائری میں سے گم ہوئے صفحات کو سونپنے کو لے کر عرضی داخل کی تھی۔ دہلی ہائی کورٹ نے اترپردیش سرکار کو ہاشم پورہ کے سانحہ سے جڑی پولیس ڈائری میں5741سے لے کر 5746 تک گم ہوئے صفحات کو سونپنے کا حکم دیا تھاجو ٹرائل کورٹ کے ریکارڈ سے غائب تھے۔
بشنوئی نے کورٹ کے سامنے قبول کیا کہ 22 مئی 1987 کو ساڑھے سات بجے پلوکھڑی اور لساڑی گیٹ تھانے میںپولیس فورس بھیجی گئی تھی۔ پلٹن کمانڈر سریندر لال سنگھ پلوکھڑی آؤٹ پوسٹ گئے تھے۔ اس وقت ان کے پاس 17 رائفل، 850 راؤنڈ، ایک ریوالور اور 30 راؤنڈ گولیاں تھیں۔ موکھم سنگھ ٹرک چلا رہا تھا۔ نو بجے کے آس پاس پی اے سی کی ٹیم پلوکھڑی سے پولیس لائن میرٹھ لوٹ آئی تھی۔ ریکارڈ کے مطابق 22 مئی 1987کو ان پولیس افسروں کو کوئی ڈیوٹی نہیں سونپی گئی تھی۔ اس کے بعد بشنوئی نے سبھی 17 پی اے سی جوانوں کے نام ایک ایک کرکے کورٹ کے سامنے لیے۔
یہ نئی حقیقت تب سامنے آئی ہے جب ٹرائل کورٹ کے فیصلے کو چیلنج کرتے ہوئے دہلی ہائی کورٹ میںعرضی دائر کی گئی ہے۔عرضی میںکہا گیاہے کہ سی بی سی آئی ڈی نے جان بوجھ کر پی اے سی سے جڑے ان ثبوتوں کو دباکر رکھا تھا۔
نیشنل ہیومین رائٹس کمیشن کی وکیل ورندا گروور نے بتایا کہ جب این ایچ آرسی نے عرضی دائر کی تھی تب اترپردیش سرکار نے ڈائری کی فوٹو کاپی سونپی تھی۔ جب میںنے پوچھا کہ یہ فوٹو کاپی کہاںسے آئی تو کوئی جواب نہیں ملا۔ ظاہر ہے کہ سرکار ان حقائق کو سامنے لانا نہیںچاہتی تھی۔ اب ہائی کورٹ کی سخت ہدایت کے بعد سی بی سی آئی ڈی کے ذریعہ 31 سال تک دباکر رکھی گئی یہ کاپی سامنے آئی ہے۔
ظاہر ہے کہ سرکار اور پولیس کے افسر ہی ملزموں کو بچانے کے گھناؤنے کھیل میںشامل تھے۔ فساد کے وقت غازی آباد کے ایس پی ویبھوتی نارائن رائے تھے، جنھوں نے بتایا کہ ہاشم پورہ میںہوئے قتل عام کے معاملے میںاس دور کی سرکار نے پی اے سی کی بغاوت کے ڈر سے کوئی کارروائی نہیں کی تھی۔ بعد کی سرکاروں نے بھی سنجیدگی کے ساتھ پہل کرنے کے بجائے اس معاملے کو دبانے کی کوشش کی۔ جب ہاشم پورہ سانحہ ہوا، اس وقت مرکز اور ریاست میںدونوں جگہ کانگریس کی سرکار تھی۔ ویبھوتی نارائن نے بتایا کہ تب دونوںسرکاریں اس کوشش میںتھیں کہ متاثرین کو انصاف نہ مل سکے۔

 

 

 

 

 

 

 

 

ڈائری کے گمشدہ صفحات کے سامنے آجانے کے بعد صورت حال تیزی سے بدلی ہے۔ 13 اپریل کو تیس ہزاری کورٹ میںمتاثرین کو اس وقت ایک بڑی کامیابی ملی جب 41 ویں پلٹن بٹالین کے سپاہی اور اس مقدمہ میںملزم سپاہی بدھی سنگھ نے اعتراف کیا کہ کیس ڈائری ان ہی کے ذریعہ لکھی گئی ہے۔ عدالت کے سامنے یہ بیان بدھی سنگھ نے سرکاری وکیل ایڈیشنل اسپیشل پبلک پروسیکوٹر کے ذریعہ سی آر پی کی دفعہ 294 میںہوئی جرح کے دوران درج کرائے۔ اب یہ معاملے سی آر پی کی دفعہ 313 میںدرج ہوں گے، جس کے لیے 13 اپریل کی تاریخ مقرر کی گئی ہے۔ اگر اس معاملے میںمزید گواہی نہیں ہوئی تب اس آخری جرح کے بعد مقدمہ کو دوبارہ ہائی کورٹ میںمنتقل کردیا جائے گا۔ 3 اپریل کو ہی تیس ہزاری کورٹ کی ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج نویتا کماری کی بینچ کے سامنے سرکاری وکیل ایڈیشنل اسپیشل پبلک پروسیکوٹر اکبر عابدی کے ذریعہ سی آر پی کی دفعہ 294 میں ہوئی جرح کے دوران ہاشم پورہ سانحہ کی ڈائری لکھنے والے پی اے سی کی پلٹون بٹالین میںشامل سپاہی بدھی سنگھ نے اعتراف کیا کہ ڈائری ان کے ذریعہ ہی لکھی گئی تھی۔
واضح ہوکہ 3 اپریل کو تیس ہزاری کورٹ کی ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج نویتا کماری کی بینچ کے سامنے کی دور کی ہوئی جرح کے دوران پی اے سی کے وکیل فیروز خاں غازی اور ایل ڈی موال کے ساتھ این ایچ آرسی کی وکیل برندا گروور اور سرکاری وکیل اکبر عابدی پیش ہوئے۔ کیس کی دوبارہ موجودہ سماعت ذوالفقار ناصر کی عرضی پر ہورہی ہے۔ متاثرین اور بچ جانے والوںکو سابقہ اکھلیش حکومت کے دور میں5-5 لاکھ دوبار میں معاوضہ کے طور پر دیے گئے ہیں۔ اس تعلق سے این ایچ آر سی کی وکیل برندا گروور نے پولیس کی جنرل ڈائری کے تعلق سے رٹ دائر کی تھی جبکہ یوپی سرکار نے بھی ہائی کورٹ میں اپیل کی تھی۔
دراصل بابری مسجد کا تالا کھولنے کے مرکزی سرکار کے حکم کے بعد ہی میرٹھ میںفسادات شروع ہوگئے تھے۔ پہلی فروری 1986 کو یہ فیصلہ آیا تھا اور اپریل 1987 تک میرٹھ میں فسادات پر قابو پانے کے لیے کئی مقامات پر کرفیولگانے پڑے تھے۔ پولیس، پی اے سی اور فوج کے جوان شہر میں سرچ مہم چلاتے تھے۔ مکانوں کی تلاشی لی جاتی تھی۔ اس دوران ہزاروں لوگوں کو گرفتار کر کے جیل بھیج دیا گیا تھا۔ ایسے فرقہ وارانہ ماحول میںہی 22مئی کو ہاشم پورہ کا واقعہ ہوا۔ میرٹھ کے ہاشم پورہ میںگلمرگ سنیما کے باہر مردوں کو سڑک پر نیل ڈاؤن کرایا گیا۔ پھر ان میںسے 41 نوجوانوں بشمول 80 سالہ یاسین کو پی اے سی ٹرک پر سوار کراکے غازی آباد کے مراد نگر لے جایا گیا۔ اس کے بعد وہاں گنگ نہر اور ہنڈن ندی کے پاس ان سبھی کو گولی مارکر پانی میںپھینک دیا گیا، جن میںسے پانچ افراد زندہ بچ گئے۔ ان ہی میںسے ایک ذوالفقار ناصر ہے، جن کی عرضی پر مقدمہ چل رہا ہے۔ اس کے بعد ملک بھر میںہنگامہ مچ گیا۔

 

 

 

 

 

 

 

قابل ذکر ہے کہ اپریل 1987 میں میرٹھ میںشروع ہوئے فسادات پر ایک بار پھر پولیس نے قابو بھی کرلیا تھا۔ 18 مئی 1987 کو پھر فساد بھڑک گئے۔ ان فسادوں کے دوران ہاشم پورہ اور آس پاس کے علاقوں میںکوئی تناؤ نہیں تھا۔ اسی بیچ 21مئی کو ہاشم پورہ میں ایک نوجوان کے قتل کے بعد یہاں کا ماحو ل اچانک گرماگیا۔
ہاشم پورہ فساد میںپولیس کی لاپرواہی بھی سامنے آئی تھی۔ ہاشم پورہ کے اس علاقے میںایک گنجان بستی میںکنوئیںپر پیاؤ بنانے کو لے کر پہلے سے تنازع چل رہا تھا۔ اگر پولیس ہوشیاری برتتی تو فساد پر قابو پایا جاسکتا تھا۔ جانچ میںیہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ میرٹھ میںکافی پولیس فورس تعینات نہیںتھی۔پولیس نے غیر قانونی اسلحوںکی برآ مدگی کی بھی جھوٹی اطلاع دی تھی۔ بعد میںایس ٹی ایف کے آئی جی آشیش گپتا نے بھی اقرار کیا تھا کہ پولیس علاقے میںسو فیصد غیر قانونی اسلحوں کو برآمد کرنے میںناکام رہی تھی ، اس لیے فساد کے دوران لوگوں نے اسلحے لہراتے ہوئے کھلے عام ایک دوسرے پر فائرنگ کی۔
اس قتل عام کے 16 ملزم پی اے سی جوانوں کو دہلی کی ایک عدالت نے 2015 میںبری کردیا تھا۔ فیصلے میںیہ کہا گیا تھا کہ استغاثہ مشکوک پولیس اہلکاروں کی نشاندہی کرنے میںناکام رہا ہے۔ تیس ہزاری کورٹ کا فیصلہ آنے کے بعد ہاشم پورہ میںمتاثرین فرقہ کے لوگ حیران رہ گئے۔ لوگوںکو امید ہی نہیںتھی کہ کورٹ ثبوت کے فقدان میں پی اے سی کے سبھی جوانوں کو بری کردے گا۔
ہاشم پورہ (میرٹھ)کو 1933میں مفتی ہاشمی نے بسایا تھا۔ یہاںکے 80 فیصد سے زیادہ خاندان بنکر طبقے سے ہیں۔ اب بھی ہاشم پورہ میںکئی ایسے بزرگ مل جائیںگے، جن کے جسم پر فساد کے نشان موجود ہیں۔ امید ہے کہ ڈائری کا سچ سامنے آنے کے بعد ہاشم پورہ فساد کے متاثرین کے لواحقین کو انصاف ملے گا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *