دلت- مسلم اتحاد، پلٹ سکتا ہے بازی

اترپردیش کے سیاسی تخت پر یوگی، اکھلیش اور مایاوتی کے چہرے ہی دکھائی دے رہے ہیں۔ کانگریس اب بھی طوفان کی زد میں کھڑی دکھائی دے رہی ہے۔ 2019 کے لوک سبھا انتخابات اب زیادہ دور نہیں ہیں۔ابھی حال میں ہوئے دو ضمنی انتخابات میں سماج وادی پارٹی – بہو جن سماج پارٹی اتحاد کو ملی غیر متوقع جیت نے بوّا- ببوا میل کو تھوڑا زیادہ ہی متعلقہ بنا دیا، جبکہ جاننے والے جانتے ہیں کہ گورکھپور اور پھولپور میں بی جے پی کی ہار غیر متوقع نہیں بلکہ متوقع تھی۔یہ ہار پارٹی کے قومی صدر امیت شاہ، ریاستی تنظیم کے منتری سنیل بنسل اور ان کی منڈلی کے لئے منصوبہ بند پیغام تھا جو یوپی کے لیڈروں کو طاقتور ہونے سے روکنے کے لئے طرح طرح کے تکڑموں میں سرگرم رہے ہیں۔ سماج وادی پارٹی اور بہو جن سماج پارٹی کے بیچ ہوا تال میل، بی جے پی تنظیم کے علمبرداروں کے اسی تکڑم کا نتیجہ ہے ۔
بی جے پی کو یوگی کا ہی سہارا
مرکز کی حکومت اتر پردیش کے بل بوتے پر ہی کھڑی ہوتی ہے، ا سلئے سیاسی پارٹیاں اپنے تمام دائو ایک بار پھر آزما لینے کے لئے بے چین ہو رہی ہیں۔ اندر و باہر دونوں طرف سے پھنسی ہوئی بی جے پی کو اب پھر یوگی کا ہی بھروسہ ہے، اسی لئے یوگی سے صلاح کرکے چکر ویو رچے جارہے ہیں۔ بی جے پی کے دھرندروں کا تجزیہ ہے کہ یوگی یا تو بی جے پی کی رکاوٹیں کاٹیں گے یا خود کٹ جائیں گے۔
ضمنی انتخابات میں شکست کا پیغام ملنے کے بعد سرگرم ہوئی بی جے پی اور اس کی ذیلی تنظیموں نے دو ڈیمنشن سے پالیسی بنانے کا کام شروع کیا ہے۔ ایک طرف سماج وادی پارٹی -بہو جن سماج پارٹی تال میل میں کھٹاس ڈالنے اور مایاوتی کو اپنے حق میں کرنے کی کوشش شروع کی گئی ہے تو دوسری طرف ریاستی تنظیم کے ان لیڈروں کو حاشئے پر لے جانے کا عمل شروع ہوا ہے جو یو پی میں سرکار بننے کے بعد سے لگاتار متوازی سرکار رچنے اور اقتدار کی لگام اپنے ہاتھ سے آپریٹ کرنے کی کوشش میں لگے ہوئے تھے۔
متوازی حکومت بنانے میں بدعنوانی ایک اہم فیکٹر تھی، جو دھیرے دھیرے ٹاپ آرگنائزر سطح پر اجاگر ہوتی گئی ۔ ریاست کے لیڈروں اور کارکنوں سے سنگٹھن منتری سنیل بنسل کی سرعام بدسلوکی کے واقعات بھی ریاست سے لے کر قومی قیادت کو ناگوار گزرنے لگی تھی۔یہ تنظیم کی شبیہ اور کارکنوں کے حوصلہ پر منفی اثر ڈال رہا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ بی جے پی اپنے باوقار ریاستی مہا منتری سنیل بنسل جیسے لیڈروں سے نجات پانے کی کوشش میں لگی ہوئی ہے اور ریاست کے لیڈروں کو اہمیت دینے کا سلسلہ شروع کیاجارہاہے۔ تنظیم کے کئی سینئر ممبروں کا بھی ماننا ہے کہ اس کے بغیر پارٹی کی بھلائی نہیں ہونے والی ہے،کیونکہ پارٹی کچھ ریاستوں میں ملی جیت کی محور سے نہیں چل سکتی، بلکہ اپنے کارکنوں اور سینئروں کو ترجیح دینے سے چلے گی۔ اندرونی بدلائو کی اس قواعد میں سنیل بنسل کو سنگٹھن منتری سے ہٹا کر کسی مضبوط دلت لیڈر کو اس عہدہ پر بیٹھانے کی پالیسی بھی شامل ہے، جس سے مایاوتی کے دلت اینگل کو نیوٹل کیا جا سکے۔
مایاوتی کو این ڈی اے میں شمولیت کی دعوت
دوسری طرف مایاوتی کو ’راشٹریہ جن تانترک گٹھ بندھن (نیشنل ڈیموکریٹک الائنس ) میں شریک ہونے کی دعوت دے کر بی جے پی نے سماج وادی پارٹی- بہو جن سماج پارٹی میں سیندھ لگانے کا بیج ڈال دیا ہے۔ بی جے پی کی اتحادی ری پبلک پارٹی آف انڈیا کے چیف رام داس اٹھاولے نے پچھلے ہی دنوں لکھنو میں باقاعدہ پریس کانفرنس بلا کر مایاوتی کے سامنے یہ تجویز رکھنے کی بات کہی۔ مایاوتی کے بھائی آنند کمار کے خلاف انفورسمینٹ ڈائریکٹوریٹ اور سی بی آئی دونوں کی جانچیں زیر التوا ہیں، جس کا دبائو مایاوتی کو بی جے پی خیمے کی طرف کھینچ کرلے جا سکتاہے۔ ویسے آپ جانتے ہی ہیں کہ کبھی بھی کوئی بھی اچانک فیصلہ لینے میں مایاوتی کو مہارت حاصل ہے۔
سماج وادی پارٹی -بہو جن سماج پارٹی کا تال میل راجیہ سبھا الیکشن میں ایک سیٹ لینے کی شرط پر ہی ہوا تھا۔ دو پارلیمانی سیٹوں پر ہوئے ضمنی انتخابات میں ہارنے کے بعد محتاط ہوئی بی جے پی نے راجیہ سبھا میں ایسی بساط بچھائی کہ سماج وادی پارٹی -بہو جن سماج پارٹی تامل میل کی بنیادی شرط ہی کارگر نہیں ہو پائی۔ یہ مایاوتی کے لئے زبردست جھٹکا تھا، لیکن انہوں نے سیاسی پختگی دکھاتے ہوئے مستقبل میں بھی سماج وادی پارٹی کے ساتھ تامل میل جاری رکھنے کا اعلان کیا۔ اس کے برعکس بہو جن سماج پارٹی کے ہی اندرونی لوگ کہتے ہیں کہ ضمنی انتخابات میں سماج وادی پارٹی کو تو سیدھا سیدھا فائدہ ملا لیکن بہو جن سماج پارٹی کو کیا ملا۔ بلکہ اس کے برعکس سماج وادی پارٹی کو بہو جن سماج پارٹی کے ووٹ بینک میں سیندھ مارنے کا موقع بھی مل گیا۔ بہو جن سماج پارٹی کے سخت پیروکار سماج وادی پارٹی کے ساتھ تال میل سے خفا ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ کس طرح ملائم کے دور اور اکھلیش کے دور میں یادوئوں نے انہیں پریشان کیا لیکن بی جے پی کے خلاف وسیع سیاسی گول بندی کی لازمیت کے نام پر یہ پرانے بہو جن سماج پارٹی کے پیروکار خاموش ہو جاتے ہیں۔
راجیہ سبھا الیکشن میں اپنے 9 امیدواروں کو جیت دلا کر بی جے پی نے یہ ظاہر کیا کہ جوڑ توڑ اور تکڑم کے بل بوتے پروہ تال میل کی طاقت کو توڑ سکتی ہے۔ کیونکہ بی جے پی یہ جانتی ہے کہ اگر تال میل بنا رہ گیا اور اس میں کانگریس بھی شامل ہو گئی تب ووٹ کا سمیکرن بی جے پی کے کسی بھی جوڑ جگاڑ کو منہدم کر دے گا۔ لہٰذا گٹھ بندھن کو قیادت دینے کے مسئلے پر اور سیٹوں کی حصہ داری کے مسئلے پر دونوں ،تینوں پارٹیوں میں زیادہ سے زیادہ شخصیت کا بحران پیدا کرانا اور آپس میں تلخی پیدا کرانا بی جے پی کا ہدف ہے۔ راجیہ سبھا الیکشن اس کا واضح اشارہ ہے۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 

اپوزیشن کی نظر دلت -مسلم اتحاد پر
ایک دور تھا جب ملک بھر میں مسلمانوں کو ووٹ بینک کی شکل میں کیش کرنے کی پالیسی چلتی رہی۔ اسی طرح دلت ووٹ بینک بھی لیڈروں کو ووٹ کیش دیتا رہا لیکن 2014 کے بعد دلت ووٹ بینک کی سیاست تیز ہو گئی ہے۔ اپوزیشن ایک طرف دلتوں اور مسلمانوں کے عظیم اتحاد قائم کرنے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگائے ہوئے ہے تو دوسری طرف دلتوں کو اپنے کھاتے میں رکھنے کے لئے بی جے پی بھی پوری جدو جہد میں لگی ہوئی ہے۔ بابا صاحب بھیم رائو امبیڈکر کے بنیادی نام بھیم رائو رام جی امبیڈکر استعمال کرنے کا یوگی سرکار کا فیصلہ اور اس پر چلی مسلسل کھینچا تانی بھی اسی سیاست کا حصہ ہے۔
دلت ایکٹ کے بے جا استعمال کو لے کر سپریم کورٹ کا فیصلہ آنے کے بعد اس سیاست کو اور زور مل گیا۔ سیاسی پارٹیوں نے آئین اور سپریم کور ٹ کے وقار وغیرہ کے مسئلے کو طاق پر رکھ دیا اور فیصلے کو سیاسی مسئلہ بنا کر دلت پولرائزیشن کی طرف لے جانے کی کوشش کی۔سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف قائم ہوئے آندولن میں مسلمانوں نے بھی سرگرم کردار ادا کیا۔ بی جے پی ،سماج وادی پارٹی – بہو جن سماج پارٹی تال میل کو مفلوج کرنے کی کوشش میں لگی تھی، اب اسے دلت -مسلم پولرائزیشن کی طرف بڑھ رہی سیاست کو روکنے پر بھی دھیان دینا پڑ رہا ہے ۔
بہو جن سماج پارٹی کے ساتھ تال میل کرنے کے باوجود سماج وادی پارٹی دلتوں کو متاثر کرنے اور انہیں اپنی طرف سمیٹنے کی کوششوں میں جی جان سے لگی ہے۔ بہو جن سماج پارٹی کے لوگ اس سرگرمی کو شک و شبہ کی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جب بہو جن سماج پارٹی کے ساتھ تال میل ہو گیا ہے تو دلتوں کو رجھانے کی مزید کوششیں سماج وادی پارٹی کیوں کررہی ہے۔ دلتوں کو رجھانے کے لئے ہی سماج وادی پارٹی کے قومی صدر اکھلیش یادو نے امبیڈکر جینتی پر ریاست کے 90 جگہوں پر جینتی تقریت منعقد کرنے کا اعلان کردیا۔ اس پروگرام کو لے کر اکھلیش یادو نے بڑے جوش و جذبہ سے بیان جاری کیا اور ان کی پارٹی کے ریاستی صدر نریش اتم نے بھی دلتوں اور بابا صاحب کے تئیں انتہائی محبت کا اظہار کیا اور پریس کو بتایا کہ امبیڈکر جینتی پر سماج وادی پارٹی کے پروگراموں کو لے کر ضلع اور سٹی یونٹوں کو خاص ہدایتیں دی گئی تھیں۔
ایک سینئر سماج وادی پارٹی کے لیڈر نے ہی کہا کہ امبیڈکر جینتی پر تقاریب کا بہوجن سماج پارٹی کی طرف سے انعقاد ان کی روایت اور سماج وادی پارٹی کے لوگوں کی بے بسی ہے۔انہوں نے کہا کہ اس کے پہلے بھی تو بابا صاحب کی جینتی کی تواریخ گزرتی رہی ہیں، سماج وادی پارٹی نے پہلے اتنا احترام کبھی نہیں دکھایا ۔ اس بزرگ لیڈر نے کہا کہ سماج وادی پارٹی کے لوگوں کے لئے ڈاکٹر رام منوہر لوہیا آئڈنٹی شخص رہے ہیں اور بہو جن سماج پارٹی کے لوگوں کے لئے بابا صاحب۔ سماج وادی پارٹی کی طرف سے 90جگہوں پر امبیڈکر جینتی کا انعقاد سیاسی عزائم میں ڈاکٹرلوہیا کی اندیکھی کرنے جیسا ہے۔
دلتوں اور مسلمانوں کو گول بند کرنے کی جوپالیسی چل رہی ہے، اگر وہ کامیاب ہوئی تو وہ پالیسی لوک سبھا الیکشن میں بازی پلٹ دے گی۔ اترپردیش کے 49 اضلاع میں دلت اکثریتی ووٹرس ہیں۔ 20اضلاع میں مسلم ووٹر زیادہ ہیں۔ اترپردیش میں دلتوں کی تقریباً 70 ذاتیں ہیں اور ان کا اوسط ریاست کی کل آبادی کا 21.15 فیصد ہے۔ 21فیصد دلت اور 20 فیصد مسلم ووٹر سیاسی بازی الٹ پلٹ کر سکتے ہیں۔ لوک سبھا کے 545 سیٹوں میں سے بالترتیب 84 اور 47 لوک سبھا سیٹیں شیڈولڈ کاسٹ اور ٹرائبس کے لئے ریزرو ہیں۔ یعنی کل 131 سیٹیں ریزرو ہیں۔ اس میں اترپردیش میں 80 میں سے 17 سیٹیں شیڈولڈ کاسٹ کے لئے ریزرو ہیں۔ کل ریزروڈ 131 لوک سبھا سیٹوں میں سے 67 سیٹیں بی جے پی کے پاس ہیں۔ کانگریس کو 13 ریزرو سیٹیں حاصل ہیں۔ اس کے علاوہ ترنمول کانگریس کے پاس 12، انا ڈی ایم کے اور بیجو جنتا دل کے پاس ریزرو کوٹے کی سات سات سیٹیں ہیں۔دلتوں اور مسلمانوں کا گٹھ جوڑ آنے والے وقت میں سیاست کی حالت اور سمت بدل سکتا ہے۔ تمام سیاسی پارٹیاں اسی کوشش میں لگی ہوئی ہیں۔
تذبذب میں کانگریس
بھارتیہ جنتا پارٹی کے خلاف کانگریس بھی عظیم اتحاد کی حمایت کر رہی ہے لیکن واضح فیصلہ بھی نہیں کر پارہی ہے۔ گورکھپور اور پھولپور پارلیمانی ضمنی الیکشن کے درمیان بھی کانگریس عظیم اتحاد کی بات کرتی رہی لیکن سماج وادی پارٹی -بہو جن سماج پارٹی میل ملاپ سے خود کو دور رکھا۔ کانگریس نے دونوں سیٹوں پر اپنے امیدوار بھی اتارے۔ راجیہ سبھا الیکشن میں کانگریس نے سماج وادی پارٹی -بہو جن سماج پارٹی کا ساتھ دیاتھا لیکن سب جانتے تھے کہ تینوں مل کر بھی بہو جن سماج پارٹی امیدوار کو جیت نہیں دلا پائیں گے۔ کانگریس کے لیڈر کہتے ہیں کہ تال میل کے مقاصد میں سماج وادی پارٹی کو پہلی ترجیح بہو جن سماج پا رٹی امیدوار کو رکھنا چاہئے تھا لیکن سماج وادی پارٹی نے ایسا نہیں کیا اور جیا بچن کو جتانے کے بعد بچیہوئے ووٹ سے بہو جن سماج پارٹی کو پھسلانے کی کوشش کی۔ کانگریس کے لیڈر کہتے ہیں کہ احترام اور شفافیت والے تال میل پر مبنی گٹھ بندھن ہونا چاہئے جس میں دھوکہ کی جگہ نہ ہو۔ عظیم اتحاد کی بات کہنے والی کانگریس پارٹی اپنے تنظیمی ڈھانچے کو درست کرنے میں ہی سست ہے۔ کانگریس کے ریاستی صدر عہدہ سے راج ببر کے استعفیٰ کے بعد اب تک کانگریس اپنا کوئی ریاستی صدر طے نہیں کر پائی ہے۔ ریاستی صدر کے لئے کبھی جیتن پرساد کا نام دوڑنے لگتا ہے تو کبھی مشہور کانگریسی لیڈر پنڈت کملا پتی ترپاٹھی خاندان کی تیسری نسل کے نمائندہ للی تیش پتی ترپاٹھی کا نام چلنے لگتا ہے۔ کانگریس کی اترپردیش یونٹ میں صدر کے علاوہ چار صدور کی بھی نامزدگی ہونی ہے۔ لیکن اس میں تاخیر کیوں ہورہی ہے ،اس بارے میں ریاستی کانگریس کے لیڈر کچھ بھی نہیں کہتے۔
اتحاد کے نشیب و فراز
ریاستی کانگریس سے جڑے بزرگ کارکن کہتے ہیں کہ کبھی کانگریس نے ہی اپنی حمایت سے بہو جن سماج پارٹی اور سماج وادی پارٹی کی مشترکہ سرکار بنوائی تھی۔ آج پھر کانگریس اسی تاریخ کے دوہرانے کی دہلیز پر کھڑی ہے۔ جانکار بتاتے ہیں کہ اترپردیش میں گٹھ بندھن کے انضمام کی تاریخ پرانی ہے۔ کبھی اِس پارٹی نے اُس پارٹی کی حمایت کرکے سرکار بنوا دی تو کبھی پالا بدل کر دوسری پارٹی کی سرکار بنوا دی۔ گٹھ بندھن انضمام میں بی جے پی، سماج وادی پارٹی، بہو جن سماج پارٹی، کانگریس سب شریک رہی ہیں۔
1989 میں جب ملائم سنگھ یادو ریاست کے وزیراعلیٰ بنے تھے ،تب انہیں بی جے پی کی حمایت حاصل تھی۔ ملائم متحدہ مورچہ سے وزیراعلیٰ بنے تھے۔ اس کے بعد 1990 میں جب رام مندر آندولن کے دوران لال کرشن اڈوانی کا رتھ روکا گیا تب بی جے پی نے مرکز اور ریاستی سرکار سے اپنی حمایت واپس لے لی تھی۔ رام جنم بھومی آندولن کے تیز ہونے کے سبب 1991 میں یو پی میں بی جے پی کی مکمل اکثریت کی سرکار بنی لیکن 1992 میں بابری مسجد منہدم ہونے کے سبب کلیان سنگھ سرکار برخاست کر دی گئی تھی۔ 1993 کے الیکشن میں بہو جن سماج پارٹی اور سماج وادی پارٹی کا گٹھ بندھن ہوا۔اس میں وزیر اعلیٰ کا عہدہ چھ چھ مہینے کے لئے بانٹ لینے کا فارمولہ بنا۔
مایاوتی وزیراعلیٰ بنیں لیکن جب ملائم سنگھ کی باری آئی تو مایاوتی نے حمایت واپس کھینچ لی۔ اسی وجہ سے 2 جون 1994 کو گیسٹ ہائوس کا حادثہ واقع ہوا۔ اس کے بعد پھر بی جے پی کی حمایت سے مایاوتی دوبارہ وزیراعلیٰ بنیں۔ کچھ ہی وقت بعد بہو جن سماج پارٹی سے 22 ایم ایل ایز الگ ہو گئے اور ان کی حمایت سے ریاست میں دوبارہ کلیان سنگھ کی سرکار بنی۔یہ گٹھ بندھن بھی نہیں چل پایا اور سرکار جاتی رہی۔ 2001 میں راجناتھ سنگھ وزیر اعلیٰ بنے۔ اس دوران کانگریس بہو جن سماج پارٹی کے بیچ گٹھ بندھن وجود میں آیا لیکن اس گٹھ بندھن سے بہو جن سماج پارٹی کو کوئی فائدہ نہیں ملا۔ دوسری طرف کانگریس نے ملائم سنگھ کو حمایت دے کر سماج وادی پارٹی کی سرکار بنوا دی۔ پچھلے تین اسمبلی الیکشن بغیر کسی گٹھ بندھن کے ہوئے۔ 2007 میں مایاوتی کی قیادت میں بہو جن سماج پارٹی مکمل اکثریت سے آئی۔ 2012 میں اکھلیش کی قیادت میں سماج وادی پارٹی کی مکمل اکثریت کی سرکار بنی اور اب 2017 میں یوگی کی قیادت میں بی جے پی کی پوری اکثریت کی سرکار بنی ہوئی ہے۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

ایس پی -بی ایس پی اتحاد کا بی جے پی پر اثر
بھارتیہ لوک تنتر میں عدد کی ہی اہمیت ہے۔ گنتی کی بنیاد پر ہی کوئی پارٹی اقتدار تک پہنچتی ہے یا ناکام ہوتی ہے۔ گنتی حاصل کرنے کے لئے ہی پارٹیاں سارے غیر اخلاقی ہتھکنڈے استعمال کرتی ہیں۔ پچھلے انتخابات میں مختلف سیاسی پارٹیوں کو جتنے ووٹ ملے ان کی تعداد کی بنیاد پر تجزیہ کریں تو سماج وادی پارٹی -بہو جن سماج پارٹی گٹھ بندھن ،بی جے پی کے لئے پریشانی کا سبب بن سکتا ہے۔ اس میں اگر کانگریس بھی شامل ہو گئی تو گنتی اتنی بڑھ جاتی ہے کہ بی جے پی کا اقتدار تک پہنچنا مشکل ہو جائے۔
2014 کے لوک سبھا الیکشن میں بی جے پی 71سیٹوں پر جیتی تھی۔ ان میں سے 15 سیٹوں پر جیت و ہار کا فرق پچاس وپچپن ہزار کے دائرے میں تھا۔ لوک سبھا کی ایک درجن سیٹیں ایسی تھیں جہاں جیت کا فرق ایک سے ڈیرھ لاکھ تھا۔ اگر ان 15اور 12سیٹوں کا کمبینیشن ملا دیا جائے اور ان میں سماج وادی پارٹی اور بہو جن سماج پارٹی امیدواروں کو ملے ووٹ ملا کر دیکھا جائے تو وہ بی جے پی امیدوار کو ملے ووٹ سے کہیں اوپر کا گراف بناتے دکھائی دیتے ہیں۔ اس میں اگر کانگریس امیدوار کو ملے ووٹ بھی ملا دیئے جائیں تو پھر بی جے پی کی کشتی ڈوبتی ہوئی ہی دکھائی دے رہی ہے۔
حال میں ہوئے دو ضمنی انتخابات کے بعد اب سماج وادی پارٹی کے کھاتے میںلوک سبھا کی سات سیٹیں ہیں۔ 2014 میں سماج وادی پارٹی کو صرف پانچ سیٹیں ملی تھیں۔ اب ایک اور لوک سبھا سیٹ کے لئے ضمنی انتخاب ہونا ہے ۔ سینئر بی جے پی لیڈرحکم سنگھ کی موت سے کیرانہ لوک سبھا سیٹ خالی ہو گئی ہے۔ کیرانہ لوک سبھا سیٹ پر ہونے والے ضمنی انتخاب میں بی جے پی قیادت وہ غلطی نہیں دوہرائے گی جو گورکھپور اور پھولپور کے لئے امیدوار کے چننے میں جان بوجھ کر کی گئی۔ لہٰذا آنجہانی رکن پارلیمنٹ حکم سنگھ کی بیٹی مرگانکا کو امیدوار بنانے پر غور ہو رہاہے۔ مرگانکا کیرانہ اسمبلی سیٹ سے الیکشن لڑی تھیں لیکن سماج وادی پارٹی امیدوار ناہید حسن سے ہار گئی تھیں۔ دوسری طرف کیرانہ ضمنی انتخاب میں سماج وادی پارٹی -بہو جن سماج پارٹی گٹھ بندھن کی طرف سے امیدوار اتارے جانے کی تیاری ہے۔ اس میں موجودہ سماج وادی پارٹی کے ایم ایل اے ناہید حسن کی ماں سابق بہو جن سماج پارٹی رکن پارلیمنٹ تبسم بیگم کا نام چل رہاہے۔
2014 کے لوک سبھا انتخابات میں مودی لہر کے بیچ بی جے پی کو یوپی میں 42.6 فیصد ووٹ ملے تھے۔ ان انتخابات میں سماج وادی پارٹی کو 22.3 فیصد ووٹ ملے تھے۔ بہو جن سماج پارٹی کو 20 فیصد اور کانگریس کو 7.5 فیصد ووٹ ملے تھے۔ اگر سماج وادی پارٹی، بہو جن سماج پارٹی اور کانگریس کو ملے ووٹ فیصد ملا دیئے جائیں تو یہ 49.8 فیصد ہو جاتاہے۔ اس بنیاد پر یہ کہا جاسکتاہے کہ آنے والے لوک سبھا الیکشن میں بی جے پی کے خلاف سماج وادی پارٹی ، بہو جن سماج پارٹی اور کانگریس مل کر لڑی اور ان پارٹیوں کا پرانا ووٹ فیصد بحال رہا تو گٹھ بندھن بی جے پی کے لئے بھاری پڑے گا۔ راشٹریہ لوک دل یا ایسی دیگر پارٹیاں بھی ساتھ مل جائیں تو نتائج کے بارے میں اندازہ بخوبی لگایا جاسکتا ہے۔
آئندہ انتخابات کے اثرات
گنتی کے حساب کتاب اور ووٹ فیصد کی بنیاد پر نہ صرف اترپردیش بلکہ پورے ملک میں بی جے پی کو 2014 کے نتائج کی طرح بے فکر نہیں رہنا چاہئے ۔ 2014 کے لوک سبھا الیکشن کے بعد سے اب تک 15 ریاستوں میں اسمبلی انتخابات ہو چکے ہیں۔ اس سال کرناٹک ، راجستھان، مدھیہ پردیش اور چھتیس گڑھ میں بھی اسمبلی انتخابات ہونے ہیں۔ یہ انتخابات یقینی طور پر 2019 کے لوک سبھا انتخابات پر اثر ڈالیں گے۔ 2014 کے لوک سبھا انتخابات میں ان چار ریاستوں کو ملا کر بی جے پی کو 79 سیٹیں ملی تھیں۔
انتخابی ماہرین اسمبلی انتخابات میں ملے ووٹ فیصد کی بنیاد پر 2019 کے لوک سبھا انتخابات کا اندازہ لگاتے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ جن 15ریاستوں میں اسمبلی انتخابات ہوئے ہیں، وہاں 2014 کے لوک سبھا انتخابات میں بی جے پی کو 191سیٹیں ملی تھیں۔ لیکن اسمبلی انتخابات میں بی جے پی کے کھاتے میں جو ووٹ فیصد آئے، اس بنیاد پر بی جے پی کے لئے 146 لوک سبھا سیٹیں بنتی ہیں، یعنی 2014 کے مقابلے میں 45سیٹیں کم ۔ صاف ہے کہ بی جے پی کے لئے 2019 کا لوک سبھا الیکشن 2014جیسا نہیں ہونے والا ہے۔
راجیہ سبھا کے بعد لجسلیٹیو کونسل پر توجہ
اترپردیش میں 26اپریل کو ہونے جارہے لیجسلیٹیو کونسل الیکشن میں بھی راجیہ سبھا الیکشن کی طرح سماج وادی پارٹی -بہو جن سماج پارٹی گٹھ بندھن کو پٹخنی دینے کی بی جے پی کی تیاری ہے۔ اس بار بی جے پی نے دلت معاملے کو ہی مرکز میں رکھا ہے اور لیجسلیٹو کونسل الیکشن سے لے کر پورے ملک میں بی جے پی دلت کے مفاد کو لے کر مہم چھیڑنے کی شروعات کرنے جارہی ہے۔
اس مہم میں بی جے پی کے اہم دلت لیڈر شریک رہیں گے۔ اس میں مرکزی وزیر کرشن راج، شیڈولڈ کاسٹ ؍ شیدولڈ ٹرائبس کمیشن کے صدر رام شنکر کٹھیریا ، ریاستی بی جے پی کے شیڈولڈ کاسٹ سیل کے صدر اور رکن پارلیمنٹ کوشل کیشور سمیت تنظیم کے کئی اہم دلت لیڈروں کو شامل کیا گیا ہے۔ اس مہم کے تحت لجسلیٹیو الیکشن میں زیادہ دلت امیدوار اتارنے کے علاوہ تمام سرکاری اسکیموں مثلاً ’مدرا یوجنا، اٹل پنشن یوجنا، پردھان منتری بیمہ یوجنا، پردھان منتری آواس یوجنا ‘ وغیرہ میں دلتوں کو زیادہ سے زیادہ تعداد میں فائدہ دینے کی پالیسی بھی شامل ہے۔ بی جے پی ابھی سے اس بات پر غور وفکر میں لگ گئی ہے کہ یو پی اسمبلی میں 87فیصد دلت ایم ایل اے بی جے پی کے ہیں۔ صدر جمہوریہ رام ناتھ کووند کے بھی دلت ہونے کا سیاسی فائدہ اٹھانے سے بی جے پی نہیں چکنے والی۔
قابل ذکر ہے کہ اترپردیش 13 لجسلیٹیو کونسل سیٹوں کے لئے 26اپریل کو انتخاب ہورہاہے۔ یہ انتخاب اس لئے بھی اہم ہے کیونکہ اترپردیش کے سابق وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو سمیت 13 لجسلیٹو کونسل ممبروں کا دورِ کار 5 مئی کو ختم ہو رہاہے۔ لجسلیٹو کونسل سے ریٹائر ہو رہے لیڈروں میں اکھلیش کے علاوہ یوگی سرکار کے وزیر محسن رضا،ڈاکٹر مہیندر سنگھ، سماج وادی پارٹی کے ریاستی صدر نریش اتم پٹیل، ڈاکٹر مدھو گپتا، راجندر چودھری، امبیکا چودھری ، چودھری مشتاق، رام سکل گورجر ، ڈاکٹر وجے یادو، ڈاکٹر وجے پرتاپ، عمر علی خاں اور سنیل کمار چتور شامل ہیں۔ سابقہ اعلان کے مطابق اکھلیش یادو لجسلیٹو کونسل کا الیکشن نہیں لڑیں گے۔ اکھلیش پارلیمنٹ کا الیکشن لڑنے کی بات کہہ چکے ہیں۔
بی جے پی اپنے 11امیدواروں کو لجسلیٹیو کونسل بھیجنے کی تیاری میں ہے۔ اسمبلی میں بی جے پی ایم ایل ایز کی تعداد 324 ہے۔ تعداد کی بنیاد پر بی جے پی کے 11 امیدوار لجسلیٹو کونسل پہنچ سکتے ہیں جبکہ خالی ہونے والی 13سیٹوں میں سے صرف 2 سیٹیں ہی بی جے پی کے کھاتے کی تھیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *