2019 کے انتخابات کا ایجنڈا: ایشو جذباتی یا بنیادی ؟

babri-masjid

اب اسے اچنبھا نہیں ماننا چاہئے کہ جیسے جیسے الیکشن نزدیک آرہے ہیں خاص طور پر لوک سبھا الیکشن، ویسے ویسے پورا الیکشن رام کے آس پاس سمیٹنے کی کوشش کی جارہی ہے۔اپوزیشن الیکشن جیتے گا یا نہیں، ایک ہوگا یا نہیں اور عوام اسے کتنی حمایت دیں گے،یہ ایک الگ سوال ہے ،جس کا جواب لازمی طور سے تلاش کیا جانا چاہئے لیکن کئی سوال ہیں ،جیسے کیا ملک میںنئے سرے سے رام لہر پیدا ہوگی؟،لوگ مندر بنانے کے لئے پھر سے بی جے پی کو ووٹ دیں گے، کیا عوام ان وعدوں کو یاد نہیں کریں گے، جنہیں 2014 کے انتخابی منشور میں بی جے پی نے لوگوں کے سامنے رکھا تھا یا پھر خود وزیر اعظم مودی نے ملک کی ترقی کے لئے پچاس سے زیادہ اعلانات کئے تھے۔ ان میں سے کتنوں میں ہم نے کامیابی حاصل کی،کتنوں میں ناکامی رہی ،کتنوں کی شروعات نہیں ہوئی اور کتنے فلاپ ہو گئے۔

 

 

 

ہم نے کچھ مہینے پہلے ’’چوتھی دنیا‘‘ کے ذریعے ملک کے لوگوں کو ایک جانکاری دی تھی۔ وہ جانکاری یہ تھی کہ موجودہ چیف جسٹس ممکنہ طور پر اپنے ریٹائرمنٹ سے پہلے رام مندر -بابری مسجد تنازع کو لے کر کوئی فیصلہ دیں گے۔وہ فیصلے دو ہوسکتے ہیں۔ پہلا ،یہ مذہب کا تنازع نہیں ہے، زمین کا تنازع ہے، جیسا کہ اب سپریم کورٹ کہہ رہا ہے، تو یہ زمین کس کی ہے؟ یہ زمین رام جنم بھومی کی ہے یا بابری مسجد کے حق میںمقدمہ لڑنے والے فریقوں کی ہے۔ جب اس کا فیصلہ آئے تو اس جگہ پر مندر بنانے کے لئے فورا ًایک آرڈیننس جاری کر کے اعلان کیا جائے۔لوک سبھا معطل کرکے ملک کے لوگوںکا بھروسہ حاصل کرنے کی بات کی جائے اور دسمبر سے پہلے عام انتخابات ہو جائیں۔یہ سب قیاس ہیں۔لیکن ان قیاسیوں کے پیچھے ایک ہی سچائی ہے کہ یہ ساری خبریں ہمیں برسراقتدار طبقے کے اندرونی ذرائع سے مل رہی ہیں۔ ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ ہمارے یہ ذرائع گپوڑی نہیں ہیں، جملہ باز نہیں ہیں۔

 

 

عدالت کا فیصلہ کیسا آئے گا؟اس کے بارے میںدو رائے ہیں۔ ایک رائے یہ ہے کہ عدالت ممکنہ طور پر یہ کہے گی کہ یہ زمین ان لوگوں کی ہے جو رام مندر بنانا چاہتے ہیں۔ اس کے برعکس جو فیصلہ آئے گا وہ مجھے کافی خطرناک لگتا ہے۔ وہ فیصلہ ہو سکتا ہے کہ یہ زمین ان کی ہے جو یہاںبابری مسجد بنانا چاہتے ہیں۔ ہم نے اپنے ذرائع کے ذریعہ جتنی جانچ پڑتال کی، ان سے یہی لگ رہا ہے کہ رام جنم بھومی کے حق میں فیصلہ آتا ہے تو اس سے بی جے پی کو کوئی بہت فائدہ نہیں ہوگا،لیکن اگر یہ فیصلہ بابری مسجد کے حق میں آتا ہے ، تب بی جے پی کو ملک میں بے مثال فائدہ ہو سکتاہے۔
وہ فائدہ یہ ہوسکتا ہے کہ ملک ایک بار پھر ہندو اور مسلم نظریات میں بٹ جائے ۔ عوام ان سارے سوالوں کو درکنار کردیں، جو روزی ،روٹی ، تعلیم ، مہنگائی،بے روزگاری، نوکری، ملٹی نیشنل کمپنیوں کے غلبہ ،کسانوں کی خودکشی ، کسانوںکو لاگت سے ڈیڑھ گنا زیادہ قیمت دینے کے وعدوں کو ایک کنارے چھوڑ دیں اور ملک میںرام مندر بننا چاہئے، صرف اس ایک نعرے کو لے کر الیکشن ہو جائے۔
مرکزی سرکار عدالت کے اس فیصلے کے خلاف اس زمین کو ایکوائر کرکے رام مندر بنانے کی بات کرسکتی ہے اور بابری مسجد کے لئے وہاں سے تھوڑی دور زمین دے سکتی ہے، جس کے لئے شیعہ وقف بورڈ پہلے ہی سرکار کے پاس تجویز بھیجتا رہا ہے ۔شیعہ وقف بورڈ بھی اس معاملے میں ایک فریق ہے۔ اگر بابری مسجد کے حق میں فیصلہ آتا ہے ،تو ملک کو دو خیمے میں بانٹنا بہت آسان ہو جائے گا۔ اس سے 2019 کا الیکشن 100 فیصد بی جے پی کے حق میں جاسکتا ہے۔ بی جے پی کے اہم پالیسی سازوں میں سے ایک آپسی بات چیت میں اس بات کو قبول کرتے ہیں۔
اس کے باوجود بی جے پی یہ مانتی ہے کہ اسے 2019 کے الیکشن میں اپنے دم پر پارلیمنٹ میں دو تہائی سیٹیں لانی ہیں۔ اب بی جے پی کو اپنی اتحادی پارٹیوں پر کوئی بھروسہ نہیں ہے، بھلے ہی اتحادی پارٹی شیو سینا ہو یا رام ولاس پاسوان جیسے دلت لیڈر ہوں۔ بی جے نے دیکھ لیا ہے کہ یہ سبھی لوگ تھوڑی مشکل کے وقت میں اپنا الگ راستہ تلاش سکتے ہیں۔بی جے پی کو اس بات کا بھی احساس ہے کہ اترپردیش میں اسے سیٹوں کا نقصان ہو سکتا ہے۔

 

 

 

نئے ملے اشاروں کے حساب سے اگر سماج وادی پارٹی اور بہو جن سماج پارٹی مل کر الیکشن لڑتی ہیں اور کانگریس الگ الیکشن لڑتی ہے تو بی جے پی کو نقصان ہو جائے گا۔ایسی صورت میں بی جے پی کو ملنے والے ووٹوں کا ایک حصہ کانگریس کی طرف چلا جائے گا۔ اس مشکل صورت حال کو دھیان میں رکھتے ہوئے بی جے پی جنوب میں اپنا پورا زور لگا رہی ہے۔ جنوب میں چاہے کیرل، کرناٹک یا آندھرا پردیش ہو، چاہے اڑیسہ۔ بی جے پی ہر جگہ مقامی ایشوز کے ساتھ نیشنل ایشوز کو اٹھانے کی کوشش کررہی ہے۔
کرناٹک میں الیکشن جیتنے کے لئے بی جے پی نے یدورپا کو لیڈر بنایا ، تاکہ لنگایت ووٹ ان کے ساتھ آئے۔ اسے بی جے پی لوک سبھا کے الیکشن میں بھی استعمال کرسکتی ہے۔پہلی بار کانگریس نے وہاں ایک ناقابل اعتماد چال چلی۔کانگریس نے لنگایت طبقہ کے لوگوں کو الگ پہچان دینے کی بات اٹھا کر ہندوئوں کے بیچ میں ہی تقسیم کرادیا۔ویسے یہ حیرت انگیز حقیقت ہے کہ لنگایت کوئی ذات نہیں تھی۔اس حقیقت سے شمالی ہندوستان کے لوگ بھی انجان ہیں۔ لنگایت ایک طرزِ زندگی تھی، جس میں بہت سارے دلت اور برہمن شامل ہوئے تھے۔ بعد میں لنگایت گروپ ذات میں تبدیل ہوگیا ۔لنگایتوں میں جو دلت اور بیک ورڈ شامل ہوئے تھے، انہیں تو ریزرویشن کا فائدہ ملا، لیکن جو اعلیٰ ذات شامل ہوئے تھے، انہیں ریزرویشن کا فائدہ نہیں ملا۔
اب انہیں بھی ریزرویشن کا فائدہ ملے، اس کا اعلان کانگریس نے کیا ہے۔ اس سے بی جے پی سکتے میں ہے۔ بی جے پی اس کی مخالفت نہیں کر پا رہی ہے، بلکہ یدورپا نے تو اس کی حمایت کی ہے۔ نیچے گرنے کی بھی اب کوئی حد نہیں رہ گئی ہے۔نہ کہیں ملک ہے،نہ سماج ہے،نہ بنیادی ایشوز ہیں۔مہنگائی، بدعنوانی ،بے روزگاری، نوکری، سڑک، اسپتال، اسکول اور کسانوں کو ان کی فصل کی مناسب قیمت ،اب یہ ایشو نہیں رہ گئے ہیں۔ اب ایشو بنیادی طورپر جذباتی ہوگئے ہیں اور ان ایشوز کو الیکشن میں کس طرح سے اپنے حق میں استعمال کیا جائے، یہی پالیسی اب سبھی پارٹیاں بناتی ہیں۔ کانگریس نے پہلی بار ایسی پالیسی بناکر بی جے پی کے ہندو -مسلم کارڈ کو ناکام کرنے کی کوشش کی ہے۔

 

 

 

 

 

کرناٹک کے ایک بڑے حصے میں لنگایت اور مسلمانوں کے بیچ میں کافی تنائو رہتا تھا۔ وہاں بڑے فساد ہونے کے امکان تھے، کیونکہ وہاں پہلے بھی فساد ہو چکے ہیں۔ لیکن سدھاربھیا کے فیصلے نے ہندو -مسلم فسادوں کو ایک کنارے کر دیا۔ اب وہاں ہندوئوں کے بیچ میں ہی دنگے ہونے کی صورت حال آگئی ہے۔ہندو بنام ہندو کا سوال کھڑا ہو گیاہے۔ آندھرا پردیش، اڑیسہ ، کیرل ، ان سب میں پارٹی نے یاترائیں نکالی ہیں اور رام راج یاترا شروع کیاہے۔2019 کی آہٹ میں یا انتخابی سال شروع ہونے کے دوران بی جے پی یا سنگھ کو جنوب میں رام راج یاترا کی ضرورت کیوں پڑی؟یہ سوال ہے اور یہی بنیادی سوال بھی ہے۔ ہم نے پہلے بھی کہا تھا کہ پورے ملک کو رام کے طریقے پر کرنے کی ایک کوشش نئے سرے سے شروع ہوئی ہے۔اندازہ ہے کہ یہ سبھی کوششیں مل کر ملک کو ایک فرقہ وارانہ گرائونڈ پر لے جائیںگی اور بنیادی ایشوز کو کوڑے کے ڈھیر میں پھینک دے گی۔
بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ نہ تو بی جے پی میں اب اٹل بہاری باجپئی جیسا کوئی لیڈر بچا ہے اور نہ ہی اپوزیشن میں ڈاکٹر لوہیا جیسا کوئی لیڈر ہے۔ ڈاکٹر لوہیا کو چھوڑ بھی دیں تو وی پی سنگھ، چندر شیکھر،ملائم سنگھ یا کاشی رام جیسی سطح کا کوئی لیڈر ہو۔ اس لئے سبھی پارٹی آسانی سے بی جے پی کی پالیسی میں الجھتے دکھائی دے رہے ہیں۔ اس میں مجھے کوئی شبہ نہیں ہے کہ جب اکھاڑہ بی جے پی کا ہوگا، تو جیت بھی بی جے پی کی ہی ہوگی۔اپوزیشن میں اپنا اکھاڑہ بنانے کیصلاحیت نہیں ہے، اپنے ایشو اٹھانے کیصلاحیت نہیں ہے اور سب سے بات کر کے سب کو ایک جگہ اکٹھا کرنے کی قوت ارادی نہیں ہے۔

 

 

 

2019 کاالیکشن ایک دلچسپ موڑ پر کھڑا ہے اور شاید اپنے ایشو طے کر رہا ہے، جن پر اس ملک کے عوام کو رائے دینی ہے۔یہیںپر عوام کے سامنے ایک راستہ جذباتی ایشو ز کی طرف جاتا ہے اور دوسرا راستہ ملک کے بنیادی نکات کی طرف جاتاہے۔ بدقسمتی کی بات ہے کہ ملک کی کوئی سیاسی پارٹی بنیادی نکات پر الیکشن لڑنے کا حوصلہ نہیں دکھا رہی ہے۔
ایسی حالت میں الیکشن غیر ملکی طاقتوں کے ہاتھوں کا کھلونابن جائے گا۔ بی جے پی نے سبھی سیاسی پارٹیوں کے لئے غیر ملکی چندوں کا راستہ کھول دیا ہے، تاکہ انتخابی تشہیر کرنے والی پی آر کمپنیوںکو بھی بڑی دولت ملے ۔اس پر اب کوئی روک ٹوک نہیں ہے اور کوئی سوال بھی نہیں اٹھایا جاسکتا ہے ۔یعنی بی جے پی نے یہ فیصلہ لیا ہے کہ اب ہندوستانی لفظ کو کوڑے دان میں ڈالو، صرف جنتا پارٹی رہنے دو۔ اس میں راشٹریہ سوئم سیوک سنگھ کی بھی رضامندی ہوگی،کیونکہ اس کے بغیر بی جے پی فیصلہ نہیںکرسکتی ہے۔
اگر بی جے پی نہیںچاہتی تو یہ فیصلہ ہو ہی نہیں سکتا تھا کہ سیاسی پارٹیوں کو غیر ملکی پیسے سے چندہ ملنے کی کوئی حد نہیں ہو اور اس پر کوئی سوال بھی نہیں اٹھائے جاسکیں۔ مجھے یہ کہنے میںکوئی ہچکچاہٹ نہیں ہے کہ ہم بازار میں بکنے کی چیز ہو چکے ہیں۔ غیر ملکی کمپنیوں یا غیر ملکی طاقتوں میں جو بھی ہماری اچھی بولی لگائے گا،ہم اسکے یہاں بکنے کے لئے تیار ہیں۔
پچھلے چار سالوں میں ہمارے سامنے ایک نئی صورت حال آکر کھڑی ہو گئی ہے۔ شاید اس سے ہندوستان کے عوام کو اور بدعنوان کرنے میں اور گمراہ کرنے میں ساری سیاسی پارٹیوں کو بہت زیادہ مدد ملے گی۔ آخر میں بھارت ماتا کی جے بولتے ہوئے ہم بات پوری نہیں کررہے ہیں، بلکہ مختصر اسٹاپ لگا رہے ہیں۔ بھارت ماتا کی جے بہت درد اور تکلیف سے بولا جارہاہے۔ جو ہم نے لکھا، اگر وہ سب سچ ہوتا ہے تو کہاں کا بھارت ، کہاں کی ماتا اور کہاں کی جے، پھر بھی بھارت ماتا کی جے۔

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
سنتوش بھارتیہ
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *