معہد علی بن ابی طالب لتحفیظ القرآن الکریم سے 20 حفاظ کرام کی فراغت

mahad-ali-bin-abi-talib
نئی دہلی: جامعہ ابوبکر صدیق الاسلامیہ (رجسٹرڈ سوسائٹی) کے ماتحت جنوبی دہلی کے علاقہ جیت پور میں قائم معہد علی بن ابی طالب لتحفیظ القرآن الکریم اور شعبہ عربی کے طلباء کا عظیم الشان سالانہ اجلاس عام برائے تکریم حفاظ کرام و تقسیم اسناد و انعامات نہایت تزک و احتشام کے ساتھ منعقد ہوا۔اس تاریخی اجلاس کی صدارت جامعہ ابوبکر صدیق الاسلامیہ کے مدیر مولانا محمد اظہر مدنی نے کی۔اس موقع پر معہد علی بن ابی طالب سے تکمیل حفظ قرآن و تجوید کرنے والے بیس حفاظ کرام کو معزز مہمانوں کے ہاتھوں اسناد فراغت اور قیمتی انعامات سے نوازا گیا اور شعبہ عربی میں زیر تعلیم طلباء کی انجمن نادی الطلبہ کے زیر اہتمام عربی، اردو، ہندی اور انگریزی خطابت و صحافت کے مسابقہ میں مختلف زمرے میں اول ، دوم اور سوم پوزیشن حاصل کرنے والے طلباء کے درمیان معزز مہمانوں کے ہاتھوں قیمتی کتابیں بطور انعام تقسیم کی گئیں۔
اس عظیم الشان اجلاس عام کا آغاز معہد علی بن ابی طالب لتحفیظ القرآن الکریم کے طالب علم سعود عالم کی تلاوت کلام پاک سے ہوا، اس کے بعد ایک دوسرے طالب آصف کمال نے مہمانوں کے استقبال میں ایک نظم پیش کی۔ اس کے بعد سالانہ مسابقہ خطابت میں پوزیشن حاصل کرنے والے طلباء نے عربی، اردو، انگریزی اور ہندی زبانوں میں اسلامی و اصلاحی موضوعات پر تقریریں پیش کیں۔
اس موقع پر طلباء سے خطاب کرتے ہوئے مولانا رفیق احمد سلفی نے کہا کہ طلباء کی تقریریں ، قرأت اور نظمیں سن کر بڑی خوشی ہوئی۔ آپ سے بڑی توقعات وابستہ ہوئیں اور حیرت بھی ہوئی کہ ابھی چند مہینے پہلے دہلی میں اس ادارہ کا قیام عمل میں آیا ہے اور اس طرح اس ادارے نے جو حیرت انگیز ترقی کی ہے،وہ قابل صد مبارک باد ہے۔ مولانا نے مزید کہا کہ میں بردار عزیز مولانا محمد اظہر مدنی کا شکر گزار ہوں کہ انہوں نے اس شاندار پروگرام میں مدعو کیا اور ہمیں شریک ہونے کا موقع فراہم کیا۔
مولانا عبدالستار سلفی صاحب نے اس پر رونق بزم کے انعقاد پر رئیس جامعہ مولانا محمد اظہر مدنی کو مبارک باد پیش کی اور کہا کہ یہ انتہائی خوشی کی بات ہے کہ معہد علی بن ابی طالب لتحفیظ القرآن الکریم سے دوسرے سال بھی 20؍طلباء قرآن کریم کا حفظ مکمل کرکے فارغ ہورہے ہیں۔ میں اللہ سے دست بدعا ہوں کہ اللہ تعالیٰ اس ادارے کو مزید ترقیات سے نوازے اور اسے اوج ثریا پر پہنچائے۔
جامعہ اسلامیہ سنابل کے عمید مولانا نثار احمد سنابلی مدنی نے طلباء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آپ نہایت خوش نصیب ہیں کیونکہ آپ قرآن و حدیث کے علم کو حاصل کرنے والے ہیں، انہوں نے کہا کہ اگر آپ ترقی کرنا چاہتے ہیں تو قرآن و حدیث کو اپنی زندگی میں نافذ کریں۔
ناظم عمومی مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند مولانا محمد ہارون سنابلی نے جامعہ ابوبکر صدیق الاسلامیہ کا برانچ جنوبی دہلی کے علاقہ جیت پور دہلی میں قائم کرنے اور اپنی انتھک محنت و لگن سے اسے پروان چڑھانے کے لئے رئیس جامعہ مولانا محمد اظہر مدنی کی تعریف کی اور دینی ، تعلیمی، علمی اور وعصری علوم کی نشرو اشاعت کے لئے ان کے جد وجہد کو خراج تحسین پیش کیا۔مولانا نے مزید کہا کہ ایمان و عقیدہ اور تعلیم و تربیت ہونہار اور ایماندار اور بہترین شہری بنانے کا کام ان اداروں کے ذریعہ قرآن و حدیث کی روشنی میں انجام پایا ہے ، وہ لائق تحسین و تشجیع ہے۔
مرکزی جمعیت اہل حدیث کے میڈیا کورآڈینیٹر ڈاکٹر محمد شیث ادریس تیمی نے طلباء سے اپنے خطاب میں کہا کہ آپ قرآن کی اہمیت کو سمجھیں، اس کو اپنے سینے میں محفوظ رکھیں اور اس کی تعلیمات کے مطابق زندگی گزارنے کی کوشش کریں تو آپ کی دنیا و آخرت سنور جائے گی اور آپ کبھی ناکام نہیں ہوں گے۔ انہوں نے دینی تعلیم کے فروغ کے لئے رئیس جامعہ مولانا محمد اظہر مدنی کی کوششوں کو سراہا اور اس میدان میں ان کی جدوجہد کو خراج تحسین پیش کیا۔
اس موقع پر ایچ آر گروپ آف کمپنیز کے ڈائریکٹر جناب صفات عالم ، جامعہ سید نذیر حسین محدث دہلوی کے استاذ مولانا محمد عاصم، جیت پور میں قیام پذیر مولانا محمد مدنی اورمولانا معین الحق فیضی نے بھی طلباء سے خطاب کیا۔ اخیر میں اجلاس عام کے صدر اور رئیس جامعہ مولانا محمد اظہر مدنی نے تمام معزز مہمانوں کا دل کی گہرائیوں سے شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے ادارہ کے لئے قیمتی وقت نکال کر اس تاریخی اجلاس عام میں شرکت کی اور اپنے قیمتی تاثرات و مشوروں سے نوازا اور طلباء کے مابین اسناد و انعامات کی تقسیم کا فریضہ انجام دے کر ان کی حوصلہ افزائی کی اور ملک و ملت اور دین کی خاطر اس مشن کو آگے بڑھانے میں ہماری ہمت افزائی کی۔
اس اجلاس میں ملک کے مقتدر علمائے کرام ، شہرت یافتہ دعاۃ و خطباء و دینی مدارس کے ذمہ داران و اساتذہ، نامور تجارتی کمپنیوں کے سربراہان، قومی اخبارات کے نمائندوں اور سماجی کارکنان نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ ملک کی جن اہم شخصیات نے اس تاریخی اجلاس عام کو رونق بخشااور اپنے قیمتی تاثرات اور توجیہی کلمات سے نوازا، ان میں مولانا محمد ہارون سنابلی ناظم عمومی مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند، مولانا محمد رفیق سلفی باحث دارالدعوۃ الاسلامیہ نئی دہلی، مولانا عبدالستار سلفی امیرصوبائی جمعیت اہل حدیث دہلی،معروف ادارہ جامعہ اسلامیہ سنابل کے عمید مولانا نثار احمد سنابلی مدنی ، ڈاکٹر محمد شیث ادریس تیمی میڈیا کوآرڈینیٹر مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند، صفات عالم ڈائرکٹر ایچ آر گروپ آف کمپنیز، مولانا معین الحق فیضی ناظم اعلیٰ ضلعی جمعیت اہل حدیث گڈا جھارکھنڈ،قدیم ترین جامعہ سید نذیر حسین دہلوی پھاٹک حبش خاں کے استاذ مولانا محمد عاصم ، معروف تاجر محمد سعد اعظمی، معروف سماجی کارکن ایس او اعظمی، اکرام بلڈر، وفا اعظمی ایڈیٹر انچارج روزنامہ راشٹریہ سہارا اردو، غیاث الدین قریشی ، مولانا زہران عالیاوی، مولانا عبدالمحسن سنابلی، مولانا ضیاء الرحمن تیمی، عبداللہ سلفی، مولانا محفوظ عالم سنابلی، مولانا محمد رئیس فیضی، سعیدالرحمن نورالعین سنابلی اور سرتاج عالم میرٹھ کے نام خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔
اس اجلاس عام کی نظامت کے فرائض نادی الطلبہ کے مشرف اور شعبہ عربی کے استاذ اسد اللہ تیمی اور المرکز الاسلامی الثقافی الہندی للترجمۃ والتالیف کے رکن محمد فضل الرحمن ندوی نے مشترکہ طور پر انجام دیئے۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *