انّا ہزارے کے انشن کی اندرونی کہانی

میرے سامنے سوال کھڑا کیا گیا کہ میںنے 23 مارچ کو رام لیلا میدان میں کیے گئے انّا ہزارے کے انشن کی اندر کی کہانی کیوںنہیںلکھی؟جن لوگوں نے یہ سوال اٹھایا ، وہ ساکھ والے لوگ ہیںاور ان میں سے کوئی بھی انّا کا مخالف نہیں ہے۔ سبھی انّا کے سماجی کاموں کے پرستار ہیں۔ ان لوگوں نے میرے سامنے ایک سوال تو کھڑا کر ہی دیا کہ اگر میںاس انشن کی کہانی نہیںلکھتاہوں تو میںسچ کی تلاش کرنے والے صحافیوں کے طور پر تو جانا جاؤں گالیکن ایک داغ لگ جائے گا۔
اس کے بعد جب میںنے انّا کے انشن کی کہانی لکھنی شروع کی تو مجھے پتہ چلا کہ اس بار انّا کے ساتھ ایک بالکل نئی ٹیم تھی۔ اس ٹیم نے انّا ہزارے کی میٹنگیںملک میںکئی جگہ کرائیں۔ جہاںجہاں یہ میٹنگیںہوئیں،وہاں وہاں بھیڑ بھی آئی۔ لیکن ان کے ساتھیوںکا یہ کہناتھا کہ اگر وزیر اعظم گزشتہ تین سال میںانّا کے خط کا صرف جواب دے دیتے تو شاید انّا ہزارے 23مارچ کا انشن نہیں کرتے۔ اب یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ23 مارچ کا انشن وزیر اعظم سے رشتہ جوڑنے کے لیے تو نہیںکیا گیا تھا؟ یہ سوال میرا نہیں ہے۔ یہ سوال انّا کے نزدیکی ساتھیوں کا ہے جو انھوں نے مجھ سے کیا۔ اس کا جواب بھی انھوںنے خود ہی دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ انھیںلگتا ہے کہ یہ انشن وزیر اعظم مودی سے رشتہ جوڑنے کے لیے ہی کیا گیا تھا۔ جب میں نے اور گہرائی سے جانچ کی تو پتہ چلا کہ مہاراشٹر سرکار کے کئی وزیر لگاتار انّا ہزارے کے رابطے میں تھے اور پچھلے تین مہینے سے وہ لگاتار انّا کے پاس جا رہے تھے اور بات کر رہے تھے۔ اتنا ہی نہیں، انّا سے لگاتار بات کرنے والوںمیںمہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ دیوندر پھڑنویس بھی تھے۔دیوندر پھڑنویس کو انّا اچھا آدمی مانتے ہیں اور پھڑنویس بھی انّا کو لگاتار یہ سمجھاتے رہے کہ آپ کسی بھی طرح انشن والی سیاست میںنہ پڑیں۔ لیکن انّا کو شاید لگا ہوگا کہ چونکہ میںنے 23 مارچ کے انشن کا اعلان کردیا ہے تو پھر میںانشن پر بیٹھوں گاہی ۔
ایک اور بات میرے سامنے کھل کر آئی کہ انھوںنے جن ایک وزیر، گریش مہاجن کے ساتھ گہرا رشتہ جوڑا ہواتھا، انھیںامت شاہ نے تنبیہ کی تھی کہ کسی بھی قیمت پر انّا کو دہلی نہیںآنے دینا ہے اور انشن تو بالکل نہیںکرنے دینا ہے۔ امت شاہ نے گریش مہاجن سے یہ بھی کہا تھا کہ انّا نے ا گر انشن کیا تو انھیںکابینہ سے نکالنے کا حکم دے دیں گے۔ یہ اتنی بڑی دھمکی تھی ، جس نے ان وزیر موصوف کی حالت خراب کردی۔ دیوندر پھڑنویس کو بھی لگا کہ اگر دہلی میںانّا کا انشن ہوا اور زیادہ بھیڑ آگئی تو ان کی بھی کرسی جاسکتی ہے۔ جب انّا دہلی آئے تو بھیڑ کم تھی۔ پہلے دن پانچ ہزار لوگ تھے اور پھر بھیڑ گھٹتی چلی گئی۔ یہ تعداد تین ہزار، دو ہزار تک آگئی۔ لوگوںکی کم تعداد نے انّا کے دل کو بھی تھوڑا ہلایاہوگا۔انّا کا مزاج بھی ہے کہ جہاں بھیڑ ہوتی ہے،وہاں تو وہ انّا ہزارے ہوتے ہیں لیکن جہاں بھیڑ نہیںہوتی ہے، وہاںپر وہ فوراً سماجی انقلابی لیڈر سے سیاستداں بن جاتے ہیں۔
لیکن اس سے بھی زیادہ اہم یہ ہے کہ انّا کے دلّی آنے سے پہلے وزیر موصوف (گریش مہاجن) رالے گن سدھی میںبیٹھے رہے اور جب انّا دلّی آئے تو وزیر موصوف 21 مارچ سے لگاتار دہلی میں واقع مہاراشٹر سدن میں براجمان رہے۔ اس دوران وہ لگاتار دیوندر پھڑنویس سے بات کرتے رہے۔ 23 مارچ کو جب انّا کا انشن شروع ہوا تب سے لے کر 26 مارچ تک ہر رات یہ وزیر موصوف انّا کے کیمپ میںجاتے تھے اور انّا کی بات دیوندر پھڑنویس سے کراتے تھے۔ کئی طرح کے فارمولے بنائے گئے۔ مثلاً مرکز کا کوئی وزیر آئے اور انّا کی مانگوںپر یقین دہانی والا کوئی خط انھیںسونپے کہ سرکار ان مانگوں پر غور کرے گی یا مانے گی اور پھر انّاانشن توڑ دیں۔ شاید انّا اور ان کے ساتھیوں کے دل میں شروع سے یہ بات تھی کہ وزیر اعظم مودی خود آئیںگے اور ان کا انشن تڑوائیںگے۔ لیکن انّا اور ان کے ساتھی وزیر اعظم کی نفسیات سے ناواقف ہیں۔ وزیر اعظم مودی کسی بھی ایسے شخص کو اہمیت نہیںدیتے جو ان کی طرف آنکھ اٹھاکر اپنی مانگ رکھتا ہے۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 

دیوندر پھڑنویس نے انّا کو تیار کیا کہ انّا کی مانگوں کو لے کر وزیر اعظم آفس کے وزیر مملکت جتندر سنگھ ایک خط لکھیںگے اور ایک ایسا جواب دیںگے تاکہ انّا کہہ سکیںکہ ہماری بات سرکار نے مان لی اور سرکار کہہ سکے کہ ہم نے ان کی ایک بھی بات نہیں مانی۔ روزانہ کے پر وگرام کے حساب سے جب دیوندر پھڑنویس سے بات چیت ہوئی تو انّا نے اس پر قبولیت دے دی۔ اس کے بعد دیوندر پھڑنویس نے جتندر سنگھ سے کہا کہ آپ اس طرح کا ایک خط لکھ دیںاور جتندر سنگھ اس کے لیے تیار ہوگئے۔
یہیںسے انّا کے خلاف ان کے حامیوں کا غصہ شروع ہوا۔ انّا کے ساتھ 25-30 سال سے جڑے ہوئے کارکن،جو اس انشن کی جگہ پر تھے،انھوں نے سوچا کہ ہم میڈیا کو اپنی غیر رضامندی اور اپنا غصہ بتائیں لیکن پھر انھیںلگا کہ اتنے سالوںکا پرانا تعلق ہے،ہم اپنا غصہ ظاہر کریںگے تو اس سے انّا کی شخصیت پر چھینٹیںپڑیںگی، اس لیے انھوںنے اپنا منہ بند رکھنا زیادہ اچھا سمجھا۔ انّا کے انشن میںکچھ ہی کسان تنظیمیںآئی تھیں۔ کسانوںنے بھی پہلے سے مان لیا تھا کہ یہ انشن ان کو کوئی فائدہ نہیںدینے والا ہے بلکہ یہاںان کی ساکھ کا استعمال کیا جائے گا۔ اس لیے کسان زیادہ تعداد میںنہیںآئے ۔ لیکن جو تھوڑے بہت کسان پنجاب سے آئے تھے یا کسان تنظیموں کے جو کارکن وہاں پر تھے، ان میں بہت غصہ پیدا ہوگیا۔
سب سے چونکانے والی خبر یہ ہے کہ کسانوں نے انّا سے سوال کیا کہ آپ یہ جو خط لے کر انشن توڑ رہے ہیں،اس میںکسانوں کے لیے کیا مانگ ہے اور کسانوںکو اس کا کیا فائدہ ملنے والا ہے؟ آپ نے کسانوںکا اتنا نام لیا، مستقبل میںکسان تحریک کو لے کسانوں کے دل میں شک پیدا ہوجائے گا۔ انّا ہزار کسان تنظیموں کی اس مانگ سے تنک گئے اور غصے میںبھر گئے۔ انھوںنے کہا کہ آپ کو اگر اپنی مانگیںرکھنی ہیں تو آپ میری جگہ یہاںانشن پر بیٹھ جائیے، میںختم کررہا ہوں۔ آپ یہاںانشن کو شروع کیجئے، میںپانی پی کر رالے گن چلا جاتا ہوں۔ یہ انّا کے حامیوںکے لیے ایک بڑا جھٹکا تھا۔ ا ن کے دل میںبنی انا کی تصویر چور چور ہوگئی۔ انّا ہزارے نے وہی کیا۔ انھوں نے اپنے کسی ساتھی سے رائے نہیںلی،کسی ساتھی سے مشورہ نہیںکیا۔ انھوں نے دیوندر پھڑنویس سے کہہ دیا کہ خط لے کر آپ خود آجائیے، میںانشن توڑ دوںگا۔
وہی ہوا، دیوندر پھڑنویس آئے۔ انھوں نے انّا کا انشن تڑوایا۔ انھیںایک خط دیا، جو جلیبی کی طرح ٹیڑھا تھا۔ اس خط کو لے کر انّا اور ان کے کچھ ساتھیوں نے کہا کہ ہماری جیت ہوگئی۔ اب ملک کے سارے مسائل اگلے کچھ سالوںمیںٹھیک ہو جائیںگے۔ سرکار خوش ہوگئی کہ ہم نے انّا کا کامیابی کے ساتھ استعمال کرلیا۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 

اس کے بعد مہاراشٹر کے سارے اخبار اور سماجی کارکن انّا کے خلاف ہوگئے۔ سارے اخباروں نے انّا کے خلاف ایڈیٹوریل اور مضامین لکھے۔ لوگوں نے یہ کہا کہ ہم شروع سے اندازہ لگا رہے تھے کہ انّا کی محبت راشٹریہ سوئم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے ساتھ ہے اور وہی اس انشن میںدکھائی دی۔ انّا نے جب پچھلا انشن توڑا تھا، جس میںان کے ساتھ اروند کجریوال تھے،اس وقت انھوں نے ایک غلطی کی تھی۔ وہ انشن ختم کرکے سیدھے رالے گن سدھی چلے گئے۔ اگر وہ اس کے بعد ملک میں گھومتے تو ان لوگوںکو سہارا ملتا، جنھوں نے ان کے ساتھ ایک مہینے تک دھرنا اور مظاہرہ کیا تھا۔ ملک بھر میںایک نئی امید جاگی تھی۔ انّا نے اس وقت جس طرح سبھی لوگوںکو اکیلا چھوڑا تھا،اسی طرح اس بار بھی سبھی کو اکیلا چھوڑا اور واپس رالے گن سدھی چلے گئے۔ ساری کسان تنظیموں کے لوگ ناراض ہوئے۔ وہاںتقریباً نعرے لگنے کی صورت حال پیدا ہوگئی۔ مزے دار بات یہ ہے کہ انّا اور ان کے ساتھی آپس میںبات کرتے تھے کہ ہم پچھلی بار جب یہاںانشن کررہے تھے تو کتنے کیمرے لگے تھے اور اس بار کیمرے نہیںلگے۔ انّا شاید یہ مانتے تھے کہ کیمرے لگیںگے، نشریات ہوںگی اور لوگ آئیںگے۔
اس میںکہیںپر بھی یہ چرچا نہیں ہوتا تھا کہ انشن کے لیے دلیل اور ساکھ کیسے بنتی ہے۔ انّا ہزارے نے مہاتما گاندھی کے انشن کی تاریخ کو شاید نہیںپڑھا۔ یتندر ناتھ داس نے بھگت سنگھ کے ساتھ جیل میںانشن کیا تھااور انشن کے دوران جیل میںہی ان کی شہادت ہوگئی۔ درشن سنگھ پھیرومان اکالی دل کے لیڈر تھے۔ انھوں نے انشن کیا تھا،جس میںان کی موت واقع ہوگئی۔ انّا یہ نہیںسمجھ پائے کہ انشن مذاق نہیںہے۔ انشن کو مذاق میںسیاسی پارٹیوںکے لوگ لیتے ہیں۔ لیکن جب آپ سماج کے لیے، ملک کے لیے اور ان لوگوںکے لیے انشن کرنے کا اعلان کرتے ہیں، جنھوں نے آپ کو اپنے دکھوںکو دور کرنے والے مسیحا کے طور پر دیکھا ہے، تو پھر وہ انشن جب تک اپنے آخری نتیجے تک نہیں پہنچتا، تب تک اسے ختم نہیںکرنا چاہیے۔ آخری نتیجے دو ہی ہوتے ہیں، یا تو جس حالت کے خلاف انشن کیا گیا ہے، وہ حالت سدھرے یا پھر انشن میںشہادت ہوجائے۔
افسوس کی بات یہ ہے کہ جس طرح سیاسی پارٹیوں نے انشن کا مذاق بنا دیا، انّا نے بھی تقریباً ویسا ہی کیا۔ یہی ان کے ساتھیوںکا دکھ ہے جو ان کے ساتھ انشن پر بیٹھے تھے۔ کچھ لوگوںکا مقصد تھا کہ ان کا سارے ملک میںنام ہو جائے اور وہ ملک میں نئے لیڈر کے طور پر ابھریں، جیسے اروند کجریوال ابھرے تھے۔ ان کی بھی امیدیںٹوٹ گئیں۔ انھیںکسی نے پہنچانا ہی نہیں۔ دوسری طرف کسان تنطیموں کے لوگ سر پیٹتے ہوئے باہر آئے کہ شاید اب مسقتبل قریب میںکوئی بھی تحریک کے اوپر یقین نہیںکرے گا۔
ایک اور اہم جانکاری مجھے ملی کہ جب انّا سے ان کے قریبی ساتھیوںنے پوچھا کہ آپ انشن ختم کرنے کے لیے کیوںمان رہے ہیں؟ تو انھوں نے جواب دیا کہ 2019 میںبھی ابھی کانگریس اقتدار میںنہیںآنے والی ہے۔ نریندر مودی ہی اقتدار میںآئیں گے۔ اس لیے مودی سے رشتہ کھنا چاہیے، تبھی یہ سب مانگیںمنوانے میں سہولت ہوگی۔ اس کا ایک مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ شاید رالے گن سدھی کے لیے دیہی ترقی کے نام پر کچھ سو کروڑ روپے مل جائیں۔ جن لوک پال سے گرام وکاس کا یہ سفر انّا کی تحریک کا شاندار نتیجہ مانا جاسکتا ہے۔
نظام میں یقین رکھنے والے لوگوں کے لیے انّا ہزارے کا یہ انشن ایک جھٹکے کی شکل میںسامنے آیا۔ دوسری طرف، انھیںاس کا فائدہ ملا، جو ملک میںظلم اور استحصال کر رہے ہیں۔چاہے وہ کسی بھی پارٹی کے ہوں۔ مسقتبل قریب میںکوئی بھی دلّی میںتحریک یا انشن جیسی بات کرنے کے بارے میںسوچے گا بھی نہیں۔ اس میںکس کی کامیابی اور کس کی ناکامی ہے، اس کااندازہ لگانا کوئی بہت بڑی بات نہیں ہے۔

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
سنتوش بھارتیہ
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *