پی ڈی پی – بی جے پی اتحاد تین برس میں کیا کھویا،کیا پایا؟

مخلوط سرکار کے تین سال
جموں کشمیر میں پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی ( پی ڈی پی )اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی ) کی مخلوط سرکار کے تین سال مکمل ہوگئے۔ جموںوکشمیر واحد ریاست ہے جہاں حکومت کی معیاد پانچ سال کے بجائے چھ سال ہوتی ہے۔ اس طرح سے کہا جاسکتا ہے اس مخلوط سرکار نے اپنی نصف معیاد پوری کرلی ۔ سیاسی نظریات کے لحاظ سے ایک دوسرے سے متصادم ان دو جماعتوں نے یکم مارچ2015کو مرحوم مفتی محمد سعید کی قیادت میں جموں وکشمیر کی حکومت سنبھالی تھی ۔ مفتی نے دونوں جماعتوں کے اس ’غیر فطری ‘ اتحاد کو ’’نارتھ پول اور سائوتھ پول کا سنگم ‘‘ قرار دیا تھا۔تاہم شاید اُنہیں اس بات اندازہ نہیں تھا کہ نارتھ پول اور سائوتھ پول کو ملانے کی اس کوشش کے نتیجے میں خود اُن کی اپنی پارٹی وادی میں عوامی ساکھ کھو بیٹھے گی ۔
ایجنڈا فار الائنس
کہنے کو تو دونوں پارٹیوں نے ’’ ایجنڈا فار الائنس‘‘ کے نام سے ایک دستاویز بھی مرتب کیا تھا۔ تاہم خود پی ڈی پی کے ایک بانی رہنما مظفر حسین بیگ اس دستاویز کو ’’محض کاغذ کا ایک ٹکڑا‘‘ قرار دے چکے ہیں۔ بیگ کی یہ بات بعد کے حالات سے درست ثابت ہوئی ۔ مثال کے طور پر اس دستاویز میں دونوں پارٹیوں نے طے کیا تھا کہ کشمیر کے حالات کو ٹھیک کرنے کیلئے مرکزی سرکارحریت اور پاکستان کے ساتھ بات چیت کرنے پر آمادہ کیا جائے گا۔ لیکن بعد میں ریاستی بی جے پی اور مرکز میں قائم اس کی سرکار نے اس بات کو ماننے سے صاف انکار کردیا ۔ اسی طرح دستاویز میں پی ڈی پی نے یہ بات بھی شامل کرائی تھی کہ نیشنل ہائیڈرو پاور کارپوریشن ( این ایچ پی سی ) کی تحویل میں ریاستی پائورپروجیکٹس کے مالکانہ حقوق جموں وکشمیر کو واپس دلائے جائیں گے۔ لیکن حکومت بننے کے بعد بی جے پی نے اس معاملے میں پی ڈی پی کے ساتھ کوئی تعاون کرنے سے بھی صاف انکار کیا ۔مخلوط سرکار کے قیام کے چند دن بعد ہی وزیر اعلیٰ مفتی محمد سعید نے سرینگر سینٹرل جیل میں قید علاحدگی پسند لیڈر مسرت عالم کو رہا کرنے کے احکامات دیئے ۔ لیکن بی جے پی نے اس معاملے پر اتنا ہنگامہ کیا کہ حکومت کو دوبارہ مسرت عالم کو گرفتار کرانا پڑا۔تب سے وہ جیل میں ہی ہیں۔حکومت بننے کے بعد پی ڈی پی کے 7 ممبران اسمبلی نے ایک مشترکہ بیان میں تہاڑ جیل میں دفن افضل گورو کے باقیات کی واپسی کا مطالبہ کیا۔ لیکن اس پر بھی پی جے پی نے پی ڈی پی کو’ شٹ اپ ‘کال دیکر خاموش کردیا۔ گزشتہ تین سال میں پی ڈی پی کے کسی رکن نے افضل گورو کے باقیات کی واپسی کا مطالبہ دوبارہ نہیں دہرایا۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 

پی ڈی پی قائدین کی تذلیل
8نومبر 2015کوسرینگر میں پی ڈی پی اور بی جے پی کے مشترکہ جلسے میں وزیر اعظم مودی کی موجودگی میں اُس وقت کے وزیر اعلیٰ مفتی محمد سعید نے اپنی تقریر میں جب مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کیلئے پاکستان کے ساتھ بات کرنے کی ضرورت پر زور دیا تو اس کے بعد مودی نے اپنی تقریر میں یہ کہہ کر مفتی کی تذلیل کی کہ ’’کشمیر کے بارے میں کسی کو مجھے مشورہ دینے کی ضرورت نہیں ہے۔‘‘ پی ڈی پی کے بانی لیڈران میں شامل طارق حمید قرہ نے اس واقعہ کے حوالے سے ’’چوتھی دُنیا‘‘ کو بتایا،’’ میرے خیال سے مودی کا یہ جملہ مفتی کے دل پر تیر کی طرح جالگا ۔ مودی کے اس جملے سے ہی مفتی کے چہرے کا رنگ فق ہوگیا اور میں سمجھتا ہوں کہ مفتی کی اُسی دن سیاسی موت ہوگئی اور اس دن کے بعد ان کی صحت کبھی ٹھیک نہیں ہوئی اور وہ دو ماہ بعد 7جنوری2017کو دہلی کے ایک اسپتال میں چل بسے ۔‘‘ یہ بات قابل ذکر ہے کہ وزیر اعظم مودی نہ ہی مفتی سعید کی عیادت کے لئے اسپتال گئے اور نہ ہی انہوں نے مفتی کی آخری رسومات میں شرکت کی ۔طارق حمید قرہ نے ستمبر 2017میں یہ کہہ کر پارلیمنٹ کی رکنیت اور پی ڈی پی دونوں چھوڑ دی کہ بی جے پی کے ساتھ پی ڈی پی کا اتحاد’’ غیر فطری بھی ہے اور غیر اخلاقی بھی ۔‘‘
بی جے پی کشمیر کی خصوصی پوزیشن کے خلاف
گزشتہ تین سال کے دوران بی جے پی لیڈران جموں وکشمیر کو خصوصی حیثیت فراہم کرنے والی آئین ہند کی دفعہ 370اور35A کو ختم کرنے کا مطالبہ کرتی رہی ہیں۔ لیکن پی ڈی پی اپنی جماعتوں کے لیڈروں کے ان بیانات پر کبھی بھی زبان کھولنے کی ہمت نہیں جٹا پائی۔ اتنا ہی نہیں ، مفتی محمد سعید نے وزارت اعلیٰ کا عہدہ سنبھالنے کے کچھ ہی دنوں بعد ایک حکم نامہ جاری کرتے ہوئے کہا کہ سب کو ریاستی پرچم کی تکریم کرنی چاہیے ۔ اس حکم نامے میں وزراء اور بیروکریٹوں سے کہا گیا کہ وہ ترنگے کے ساتھ ساتھ جموں وکشمیر کا پرچم پر اپنے دفاتر میں نمایاں طور پر رکھیں ۔ لیکن بی جے پی نے مفتی کو اس قدر دبائو میں لایا کہ انہیں یہ حکم نامہ صرف 24گھنٹوں کے اندر اندر واپس لینا پڑا۔
تین برس میں حالات بد سے بدتر
جموں وکشمیر میں پی ڈی پی اور بی جے پی سرکار کے قیام کے بعد ریاست کے حالات بد سے بد تر ہوگئے ۔اس ضمن میں صرف یہی بات کافی ہے کہ مخلوط سرکار جنوبی کشمیر کے اننت ناگ پارلیمانی سیٹ پر الیکشن نہیں کر پارہی ہے۔ یہ سیٹ رکن پارلیمنٹ محبوبہ مفتی کے وزیر اعلیٰ بننے کی وجہ سے خالی ہوگئی تھی ۔ گزشتہ دو سال سے زائد عرصے سے جنوبی کشمیر ، جو کبھی پی ڈی پی کا گڑھ مانا جاتا تھا، عملاً میدان جنگ بنا ہوا ہے۔ جولائی 2016 میں معروف ملی ٹینٹ کمانڈر برہان وانی کی فورسز کے ہاتھوں ہلاکت کے بعد پیدا شدہ صورتحال نے اس خطے میں پی ڈی پی کی ساکھ ختم کرکے رکھ دی ہے۔
برہان وانی کے بعد وادی میں 146لوگ فورسز کے ہاتھوں مارے گئے ۔9ہزار افراد زخمی ہوگئے ۔ فورسز کی جانب سے پیلٹ فائرنگ کے نتیجے میں درجنوں نوجوانوں کی بینائی چلی گئی ۔صرف گزشتہ دو سال میں ملی ٹنسی کا گراف غیر معمولی حد تک بڑھ گیا ۔ پولیس کے اعداد و شمار کے مطابق 126کشمیری نوجوانوں نے بندوق اٹھائی ہے۔حالانکہ سال 2017میں فورسز نے ’’آپریشن آل آئوٹ ‘‘ کے تحت 212جنگجوئوں کو مار گرایا لیکن اسکے باوجود جنگجوئوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ یہاں تک کہ برسوں بعد اب یہاں جنگجوئوں کے خود کش حملے دیکھنے کو ملے ہیں۔ 31دسمبر2017کو خود کش دستے نے جنوبی کشمیر میں پیرا ملٹری فورس کے کیمپ ہر دھاوا بول دیا اور جبکہ 10فروری 2018کو جموں کے ایک فوجی کیمپ پر خود کش حملہ کیا گیا۔ حالانکہ گزشتہ ایک دہائی سے زائد عرصے کے دوران جموں وکشمیر میں کبھی بھی جنگجوئوں نے خود کش حملہ نہیں کیا تھا۔اتنا ہی نہیں گزشتہ دو سال کے دوران جموں وکشمیر میں لائن آف کنٹرول اور بین الاقوامی سرحد پر ہندو پاک افواج کے درمیان فائرنگ اور گولہ باری کا تبادلہ غیر معمولی حد تک بڑھ گیا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق کنٹرول لائن اور سرحدوں پر ایک ہزار سے زائد بار جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی ہوئی ہے ، جو سال 2003میں ہوا تھا۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

اتحادیوں کا اختلاف رائے عیاں
قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے ) نے گزشتہ سال جون میں ’’دہشت گردی کی فنڈنگ‘‘ کے الزام میں کیس درج کرکے وادی میں چھاپوں اور گرفتاریوں کا سلسلہ شروع کیا۔ ایجنسی نے 24جولائی 2017کوسات حریت لیڈروں کو گرفتار کیا ۔ حالانکہ میڈیا رپورٹس کے مطابق پی ڈی پی کی لیڈر اور وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی ان گرفتاریوں کے خلاف تھی ، لیکن مرکز میں قائم بی جے پی سرکار کے سامنے اس کی ایک نہیں چلی ۔ یہاں تک کہ این آئی اے نے ریاستی پولیس کو اس معاملے میں الگ تھلگ رکھ دیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ریاستی پولیس نے حریت لیڈروں کی گرفتاری کے بعد سرینگر ائر پورٹ پر این آئی اے کی ٹیم کو ان لیڈروں کو دلی لے سے سے روکنے کی کوشش کی تھی لیکن مرکزی وزارت داخلہ کے احکامات کی وجہ سے پولیس بے بس ہوگئی ۔
اس سال 27جنوری کو جنوبی ضلع شوپیاں میں فوج کی اندھا دھند فائرنگ کے نتیجے میں تین عام شہریوں کی ہلاکت پر وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے وزیر دفاع کو فون کیا اور انہیں مطلع کیا کہ ریاستی پولیس متعلقہ فوجی افسر کے خلاف کیس درج کرے گی ۔ کیس درج بھی ہوا۔ لیکن بی جے پی نے کھل کر اسکی مخالفت کی ۔ بعد ازاں متعلقہ فوجی افسر کے والد نے سپریم کورٹ میں عرضی دائر کرکے پولیس کیس کو ختم کرنے کی مانگ کی ۔ سپریم کو رٹ نے اس درخواست پر کارروائی کرتے ہوئے ریاستی حکومت کو فوجی افسر کے خلاف کارروائی نہ کرنے کے احکامات صادر کئے ۔اس واقعہ کو رپی ڈی پی کے مقابلے میں بی جے پی کی جیت تصور کیا جاتا ہے۔
شوپیاں کے مقامی ممبر اسمبلی محمد یوسف بٹ نے اس ضمن میں کہا ،’’ اس واقعہ کی پولیس تحقیق ہوجانی چاہیے تھی تاکہ عوام کا پولیس پر اعتبار بحال رہتا۔‘‘ انہوں نے فوج کے خلاف پولیس ایف آئی آر کی مخالفت پر نراضگی کا اظہار کیا ۔ جنوبی کشمیر کے ایک اوررکن اسمبلی نے اُن کا نام شائع نہ کرنے کی گزارش کرتے ہوئے اس موضوع پر ’’چوتھی دُنیا‘‘ کے ساتھ ایک تفصیلی بات چیت میں کہا،’’ بی جے پی کی ضد اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے پی ڈی پی اپنے عوام میں رسوا ہورہی ہے۔ لوگ ہم سے ملنے بھی نہیں آتے ۔ یا تو وہ ہم سے ملنا نہیں چاہتے یاپھر وہ ہم سے ملنے سے ڈرتے ہیں۔ ان حالات کو بدلنے کے لئے ضروری ہے کہ عوام کے ساتھ نرمی کا سلوک کیا جائے ۔ طاقت کے استعمال سے عوام کو زیر نہیں کیا جاسکتا ۔‘‘ مذکورہ رکن اسمبلی اس بات پر بھی پریشان ہیں کہ جموں میں بی جے پی اپنی ساکھ بچانے اور ووٹروں کو خوش رکھنے میں کامیاب ہورہی ہے جبکہ پی ڈی پی ہر گزرنے والے دن کے ساتھ اپنے لوگوں سے دور ہوتی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا،’’ جنوبی کشمیر ہمار ا گڑھ مانا جاتا تھا۔ لیکن گزشتہ دو سال سے یہاں جس پیمانے پر تشدد ہوا اور لوگوں کے ساتھ جبر و زیادتیاں ہوئیں ، اس کو دیکھ کر ہم خود یہاں کے لوگوں میں ملنے سے ڈرتے ہیں۔ مجھے نہیں لگتا ہے کہ اگلے انتخابات میں ہم یہاں ووٹروں کو اپنی جانب راغب کرپائیں گے۔‘‘

پی ڈی پی اور بی جے پی کی کارڈی نیشن کمیٹی
مخلوط سرکار کے قیام کے کچھ ہی دنوں بعد پی ڈی پی اور بی جے پی نے اختلافی معاملات پر اتفاق رائے قائم کرنے کے لئے ایک کارڈی نیشن کمیٹی قائم کرلی تھی ۔ لیکن اس کارڈی نیشن کمیٹی کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ گزشتہ تین سال میں اس کے ممبران صرف تین میٹنگیں کر پائے ۔ ان میٹنگوں میں کسی قابل ذکر مسئلے پر دونوں جماعتوں کا اتفاق رائے نہیں ہوپایا ۔
بی جے پی کے برعکس پی ڈی پی کو زیادہ نقصان
صاف ظاہر ہے کہ پی ڈی پی اور بی جے پی کی مخلوط سرکار تین سال کے عرصے میں نہ ہی جموں وکشمیر کے سیاسی معاملات میں کوئی مثبت رول ادا کرپائی ہے اور نہ ہی یہ حکومت ریاست کے حالات میں کوئی بہتری لاپائی ہے۔ تاہم یہ بات طے ہے کہ اس ’’غیر فطری ‘‘ اتحاد کا خمیازہ بی جے پی کے برعکس پی ڈی پی کو زیادہ اٹھا نا پڑا۔ کیونکہ یہ اس اتحاد کی وجہ سے کافی حد تک اپنی ساکھ کھو بیٹھی ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *