اترپردیش تاریخی واقعات کی چشم دید گواہ کٹھینا ندی کو بچانا ضروری

ساکھو کے جنگلوں کی ویرانی ہو یاجانوروں کی پناہ گاہ، یوروپی فن تعمیر کی مثال ہو یاالاہ اودل کی بیمثال بہادری، برٹش حکومت کے ظلم رہے ہوں یا اودھ کی بیگم حضرت محل کی سادگی۔ صدیوں سے تاریخ کی چشم دید گواہ رہی کٹھینا ندی اب خود اپنی ہی تاریخ تلاش کررہی ہے۔ اب کٹھینا ندی کا وجود مٹنے کے دہانے پر ہے۔ اس تاریخی اور افسانوی ندی کے تحفظ کے لئے انتظامیہ اور حکومت ذرہ برابر بھی سنجیدہ نہیں ہے۔ دانشوروں اور مورخین کو اس بات کا ملال ہے کہ مستقبل قریب میں ان کی آنے والی نسلیں اپنی تاریخی وراثت کو کھو دیں گی۔
سیتا پور کا مہولی قصبہ کٹھینا ندی کے کنارے بسا ہوا ہے۔ جانکار بتاتے ہیں کہ ساکھو کے جنگلوں سے سہ رخی بہنے ووالی لہریں کٹھینا ندی گومتی کی معاون ندی تھی۔ شاہ جہاں پور ضلع کے کھوٹار کے نزدیک واقع موتی جھیل سے جنم لے کر لکھیم پور میں جوان ہونے والی 145 کلو میٹر لمبی کٹھینا ندی سیتا پور ضلع کے مشرکھ بلاک کے بختولی گائوں میں گومتی ندی میں ضم ہو جاتی ہے۔ علاقے مین جب ندیوں کا زکر ہوتا ہے تو گومتی کے ساتھ کٹھینا ندی کی بھی بات ضرور ہوتی ہے۔ کٹھنا ندی علاقے میں گنگا گومتی کے بعد پاکیزہ سمجھی جانے والی ندی ہونے کے ساتھ ہی تین اضلاع کے ہزاروں کسانوں کو سینچائی کا پانی بھی مہیا کراتی رہی ہے۔ کٹھینا ندی کا کل آبی علاقہ 1180 مربع کلو میٹر ہے۔ اس کی زیادہ سے زیادہ آبی سطح 132.600 اور کم سے کم آبی سطح 129.880 میٹر ہے۔ اس کے آس پاس بسنے والے ہزاروں گائوں کی زمین کو آج بھی زرخیز مانا جاتا ہے۔ شاید اسی لئے پنجاب ریاسست کے سینکڑوں سکھ کٹھنا ندی کے کنارے بسے گائوں میں زمین خرید کر یہاں بس گئے۔
اتنا سب کچھ ہونے کے بعد بھی جب ندیوں کی صفائی اور سیکورٹی کی بات آتی ہے تو کٹھینا کے ساتھ ہمیشہ سوتیلا سلوک کیا جاتاہے جس کے سبب اس کی حالت ددن بدن خراب ہوتی جارہی ہے۔ کٹھنا ندی مولانی سے نکل کر جب محمدی اور میتولی ہوتے ہوئے مہولی پہنچتی ہے تو ایک گندے نالے کی شکل اختیار کرلیتی ہے اور مشرک پہنچتے پہنچتے گومتی میں مل جاتی ہے۔ مہولی میں کٹھینا ندی کانکنی مافیائوں کے ہاتھوں خراب ہوتی ہے اور اسے کھود کھود کر مافیا مالا مال ہوتے رہتے ہیں۔ دہائیوں سے یہاں جاری غیر قانونی کان کنی کا دھندہ کرنے والے مافیائوں نے اس ندی کو خراب کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ چچرا گھاٹ، چرہولا گھاٹ، پہاری، بانسی گھاٹ، رستم نگر، کلہورا میں جہاں کٹھینا ندی ابھی زندہ ہے ،وہاں پوک لینڈ مشین لگاکر اسے مارنے کا اور جہاں مرکر سوکھ چکی ہے وہاں زمین مافیا اس کی لاش نوچنے کا کام کر رہے ہیں۔ مہولی تحصیل کے علاقے کے کئی گائوں اس کے گواہ ہیں۔ یہاں سوکھی ندی کی زمین پر لوگ کھیتی کررہے ہیں۔ کٹھنا صدیوں پہلے کی ندی ہے۔ تب نہ ہم تھے نہ ہی ہماری سرکاریں لیکن اس کے کنارے گائوں میں بسے لوگوں پر تب بھی اس نے احسان کئے اور آج بھی وہ احسان ہی کررہی ہے۔ کٹھینا یہاں کے لوگوں کی عقیدت سے جڑی ہے۔ لیکن آج جب یہ ندی مر رہی ہے تو عقیدت کمزور اور اندھی عقیدت مضبوط ثابت ہورہے ہیں۔ اس میں ندی کا کوئی قصور نہیں ہے۔ قصور ان لوگوں کا ہے جو ندیوں کے تحفظ اور خوبصورتی کے ٹھیکہ دار ہوتے ہوئے بھی اس مردہ ندی کی اہمیت سے بے خبر ہیں۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

فن تعمیر کی انوکھی مثال
مہولی میں ہی تقریبا ایک کلو میٹر کی دوری پر اس ندی پر پانچ پل بنے ہوئے ہیں جو کہ نایاب ہیں۔لیکن کٹھنا ندی پر محمدی گولا مارگ کے لئے انگریزوں کے ذریعہ بنایا گیا پل یوروپی فن تعمیر کی انوکھی مثال ہے۔ اس ندی پر مغل اور برٹش حکومت کے ذریعہ کبھی لکڑی کے مستقل پل بھی بنوائے گئے تھے جو کہ اب ندارد ہو چکے ہیں۔
تاریخی و افسانوی اہمیت
کٹھینا ندی کی تاریخی اہمیت 1857 سے جوڑا جاتا ہے جو میتولی کے راجا لونے سنگھ اور اودھ کی رانی بیگم حضرت محل کے ذریعہ انگریزوں کے خلاف بغاوت سے شروع ہوتا ہے۔ ندی کے اس پار سے لچھمنیا توپ لگا کر راجا نے انگریزوں کی فوج کو کئی دن روکے رکھا تھا۔ ندی کے کنارے گھنے جنگلوں کی وجہ سے انقلابی یہاں ڈیرا ڈالتے تھے اور موٹی لکڑی پر تیر کر اس پار محفوظ پہنچ جاتے تھے۔ محمدی کا علاقہ جو راجا وراٹ کی اولادوں کا گڑھ رہا ہے ،اسی ندی کے کنارے بسا تھا۔ اورنگ زیب کے زیر کرم ایک راجا نے مسلم مذہب قبول کرکے یہاں دہشت کا ننگا ناچ کیا تھا۔ تاریخ کے مطابق پانڈوئوں کے دھنو وردھا کے گرو درونا چاریہ نے اسی کٹھینا ندی کے سنگم پر بختولی کے قریب آشرم بنا کر تپسیا کی تھی، جو قطب نگر کے جنوب مغرب میں آج بھی ’دونوا ‘سے مشہور ہے اور ہندوئوں کی عقیدت کا نمونہ ہے ۔ ویر یودھا الاہ اودل نے بھی اسی کٹھینا ندی کے کنارے ڈیرا ڈال کر مہولی کے سلہا پور میں سلہت دیوی کا قیام کیا تھا۔ ہولی بلاک کا الاہ گائوں بھی اس کا واضح نمونہ ہے۔ یہاں الاہ کی فوج رکی تھی۔ ہر آماسویہ کی رات ہزاروں عقیدت مند مہولی کے بیج ناتھ دھام، ٹیکشور دھام، کورے دیو اور بگیشور ناتھ دھام مندر میں درشن کرکے کٹھنا ندی میں ڈبکی لگتے ہیں۔
’م ‘سے شروع اور ’م ‘پر ختم
کٹھینا ندی کا ’’م ‘‘ لفظ سے انوکھا رشتہ ہے۔ موتی جھیل سے جنم لینے والی کٹھنا مولانی کے جنگلوں سے نکل کر محمدی پہنچتی ہے اور میتولی ہوتے ہوئے مہولی میں لوگوں کی عقیدت کا مرکز بنتی ہے۔ مشرکھ پہنچتے ہی وہ گومتی میں ضم ہو جاتی ہے۔ اس طرح کٹھنا ندی ’م ‘ سے شرع ہوتی ہے اور ’ م ‘ میں ہی ختم ہو جاتی ہے۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

کٹھنا کی پکار ،مجھے بچالو
علاقے کی اکلوتی کٹھینا ندی موجودہ وقت میں اپنی زندگی کے بہت برے دور سے گزر رہی ہے۔ ہزاروں برسوں سے جاری رہنے والی کٹھینا ندی موجودہ وقت میں خود کو آلودگی سے بچانے کے لئے لڑ رہی ہے۔ اس کی حالت کو دیکھ کر یہ کہا جاسکتاہے کہ اس کی عمر اب زیادہ نہیں بچی ہے۔ لوگوں کی عقیدت کا مرکز بنی اس ندی میں شہر کی گندگی بھی انڈیلی جارہی ہے۔ شرمناک بات تو یہ ہے کہ یہ سب کام سرکاری کی رضامندی سے کیا جارہا ہے۔
کٹھنا ندی اپنی مذہبی اہمیت کو لے کر ہزاروں لوگوں کی عقیدتوں سے جڑی ہے۔ لیکن 25ہزار کیآبادی والے شہر کا گندہ پانی اسی ندی میں گر کر اسے لگاتار آلودہ کررہا ہے۔ سیور کا بندوبست نہ ہونے کی وجہ سے لوگوں کے گھروں کی گندگی اسی ندی میں گرائی جارہی ہے۔
سماج وادی پارٹی کی سرکار میں ڈوڈا کے فنڈ سے ایک نالا بنوایا گیا تھا جو نیشنل مارگ پر آدرش نگر، کسائن ٹولہ نگر پنچایت کے اہم نالے سے جوڑ کر ریلوے کے پار تک بنا ہے۔ ندی کے قریب تک بنے نالے کی گندگی کٹھنا ندی میں پہنچتی ہے ۔ اس نالے کی تجویز کسنے رکھی تھی اور کس کے حکم پر کس کے ذریعہ پاس ہوا تھا، اب یہ بتانے کی کوئی تیار نہیں ہے۔ یہ نالا کتنی لاگت سے، کتنی لمبائی چوڑائی کا ،کب اور کس اسکیم کے تحت اور کس ٹھیکہ دار کے ذریعہ بنوایا گیا تھا،یہ جانکاری دینے کے لئے بھی کہیں کوئی بورڈ نہیں لگا ہے۔ آدھے سے زیادہ کھلے نالے کی حالت دیکھ کر ہی اس کے سرکاری معیار کی خوبیوں کا اندازہ لگایا جاسکتاہے۔ اس نالے کی گندگی ،محلے کی گندگی اور چکن و مٹن کی الائشیں کٹھنا ندی میں پہنچ رہی ہیں۔ حالت یہ ہے کہ اب لوگ ندی میں نہانا تو دور ،ہاتھ پیر دھونے سے بھی کتراتے ہیں۔یہاںبرسوں سے گرنے والی گندگی نے کٹھنا میں اس قدر زہر گھول دیاہے کہ ندیوں میں پنپنے ولے جانور تک ختم ہورہے ہیں۔ کٹھنا ندی علاقے کے ہزاروں کسانوں کی زندگی ریکھا بھی ہے۔ چھوٹے چھوٹے کسان اپنے کھیتوں کی سینچائی اسی ندی سے کرتے رہے ہیں۔
شہر کے سینئر آفیسر سرویش شکلا اور ڈپٹی کلکٹر برج پال سنگھ کو اس بات کی پوری جانکاری ہے۔ باجود اس کے آج تک ان نالوں میں واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ لگانے کی پہل ہی نہیں کی گئی،ایسے میں ندی کا پانی پوری طرح آلودہ ہو چکا ہے۔ بیدار شہری اب شہر میں جلد سے جلد سیور لائن یا ندی مٰں گرنے والے نالوں میں واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ لگنے کا انتظار کررہے ہیں۔ ایسا نہیں ہے کہ ان ندیوں کی درگتی کی جانکاری ایم ایل اے ، رکن پارلیمنٹ اور افسروں کو نہیں ہے لیکن سوال یہ ہے کہ وہ اس ندی کو بچانے کی پہل کیوں کریں۔ آزادی کے بعد سے اب تک کسی بھی سرکار نے اس ندی کی صفائی کے لئے نہ کوئی بجٹ دیا اور نہ ہی کوئی پہل کی۔ کٹھنا کسانوں کی زندگی کا بنیاد ہے۔ لیکن کھلے طور سے ندی میں گر رہی ندی گندگی کی وجہ سے اس ندی کا وجود ختم ہونے کے دہانے پر ہے۔
اس بارے میں مہولی کے ڈپٹی کلکٹر برج پال سنگھ نے کہا کہا گر نالے سے گندگی ندی تک پہنچتی ہے تو یہ سراسر غلط ہے۔ صاف ہوکر ہی پانی ندی تک جاسکتا ہے ۔ نگر پنچایت کو پلانٹ لگوانا چاہئے۔ اگر پلانٹ نہیں ہے تو ہم پروپوزل بنوائیںگے۔معاملے کی جانچ کرائی جائے گی۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *