اردو اخبارات، رسائل و جرائد کا سماج کی تعمیر میں نمایاں مقام:سیّد خالد حسین

URDU-BOOK-REVIEW
دریاگنج، نئی دہلی میں اردو دنیا کے منفرد مجلہ ’اردو بک ریویو‘ سال 2018 کے پہلے شمارہ کااجرا کرتے ہوئے ممتاز و معروف صحافی سیّد خالد حسین نے کہا کہ اردو اخبارات، رسائل و جرائد کا سماج کی تعمیر میں نمایاں مقام ہے۔ انہوں نے کہا کہ الکٹرانک اور سوشل میڈیا کے یلغار کے باوجود پرنٹ میڈیا کی اہمیت آج بھی برقرار ہے۔ پہلے کے مقابلے لوگ کثرت سے سفر کرتے ہیں اور ظاہر ہے کہ سفر میں اردو اخبارات، رسائل و جرائد بہترین ساتھی کے طور پر کام آتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے گھروں میں دینی کتابوں کے علاوہ اردو اخبارات، رسائل و جرائد نہ صرف ہمارے لیے بلکہ بچوں کے لیے بھی زینت کا سامان ہوتے ہیں جس کے سبب تاعمر مطالعہ کا ذوق برقرار رہتا ہے۔ انہوں نے اس امر پر خوشی کا اظہار کیا کہ اردو بک ریویو 24 سال سے تسلسل کے ساتھ جاری ہے اور اپنے معیار پر قائم ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ دہلی سمیت جن صوبوں میں اردودوسری سرکاری زبان کا درجہ حاصل کرچکی ہے، وہاں کی صوبائی حکومتوں کی عدم توجہی کے سبب عوامی مقامات پر اردو تحریریں نظر نہیں آرہی ہیں جبکہ اردو رسم الخط کی بنیاد پر ہی اردو زبان زندہ و تابندہ رہے گی۔

 

یہ بھی پڑھیں  کاٹھمنڈوطیارہ حادثہ،50افرادہلاک

 

اس موقع پر اردو ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن کے کارگزار قومی صدر و سابق نیشنل کوآرڈی نیٹر قومی کمیشن برائے اقلیتی تعلیمی ادارہ جات، حکومت ہند ڈاکٹر سیّد احمد خاں نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ معیاری اردو اخبارات، رسائل و جرائدکی ہمیشہ ضرورت رہی ہے اور ان کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں اردو زبان کی بقا اور فروغ کے لیے تحریک ضروری ہے لیکن افسوس کہ جو ادارے اردو زبان کی بقا اور فروغ کی تحریک کے سبب وجود میں آئے تھے آج وہ محض چند لوگوں کے روزگار کا ذریعہ تو بن گئے ہیں مگر تحریک مرچکی ہے۔ لہٰذا ازسرنو اس پر غور و فکر ہونا چاہیے اور نئی تحریک کا آغاز بھی۔ اظہار خیال کرنے والوں میں ’اردو بک ریویو‘ کے مدیر محمد عارف اقبال، محمد اویس گورکھپوری، عدنان فہد اور محمد عمران قنوجی وغیرہ شامل ہیں۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *